Back to شہادت جناب محسن ابن علی ع

اہل سنت کے قدیم شافعی عالم اور زکرِ شہادتِ محسن ع

اہل سنت کے قدیم شافعی عالم اور زکرِ شہادتِ محسن ع
اہل سنت کے قدیم شافعی عالم اور زکرِ شہادتِ محسن ع
اہل سنت کے قدیم شافعی عالم اور زکرِ شہادتِ محسن ع

🔴 ایک سنی عالم کا اعتراف کہ حضرت محسن علیہ‌السلام کے سقط کی روایات جو حضرت فاطمہ زہراء سلام‌الله‌علیها کے شکم پر لگدی مارنے اور در و دیوار کے درمیان دبنے سے متعلق ہیں مشہور و معروف ہیں۔

 

یہ بات اہلِ سنت کے قدیم و بزرگ عالم

شرف‌الدین ابو محمد عمر بن شجاع‌الدین محمد بن الشیخ نجیب‌الدین عبدالواحد موصلی شافعی

نے اپنی کتاب

📚 النعیم المقیم لعترة النبأ العظیم

میں، امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کی اولاد کے ذکر میں لکھی ہے:

 

📜 "ان (علیہ‌السلام) کی اولاد میں سے جو حضرت فاطمہ (علیها‌السلام) سے ہیں وہ حسن، حسین، اور محسن ہیں 

اور محسن چھوٹی عمر میں لگدی سے شہید ہوا۔

اور کہا گیا کہ: دروازہ ان کے سینے پر لگنے سے یہ واقعہ پیش آیا۔ اور یہ واقعہ مشہور ہے، البتہ بعض لوگ اس کے پیش آنے کا انکار کرتے ہیں۔"

 

📚 کتابی حوالہ:

النعیم المقیم لعترة النبأ العظیم، ورق 50

مصنف: عمر بن محمد بن عبدالواحد (کاتب عثمان بن محمد بدلیسی)

تاریخِ کتابت: ذی‌الحجہ 676 ہجری

محفوظ مقام: لندن، انگلستان

 

🔴 مصنف کا تعارف ابو محمد عمر بن شجاع‌الدین موصلی شافعی

 

کتاب النعیم المقیم کے محقق عمری لکھتے ہیں:

 

📜 "وہ شیخ، علامہ، شرف‌الدین ابو محمد عمر بن شجاع‌الدین محمد بن الشیخ نجیب‌الدین عبدالواحد الموصلِی، عارف، صوفی اور شافعی تھے۔ وہ سنہ 646 ہجری تک زندہ تھے۔

 

انہوں نے ابو القاسم قثم بن سعید، ابو احمد طلحہ الزیدی، ابن الأتقی، ابو الحسن علی بن محمد الہمدانی،

شهاب‌الدین ریحان، کمال‌الدین حیدر بن محمد بن زید الحسینی، ابو العباس احمد الحورانی وغیرہ جیسے

معتبر علمائے دین سے علم حاصل کیا اور ان سے روایت کی۔"

 

📚 النعیم المقیم لعترة النبأ العظیم، مقدمۂ محقق، صفحہ 10

 

▪️ اسماعیل باشا بغدادی نے اپنی مشہور کتاب إيضاح المكنون 

جو علمائے شافعی کے حالات پر مشتمل ایک انسائیکلوپیڈیا ہے 

میں اس عالم کا تذکرہ کیا اور ان کی کتاب کو اہلِ سنت و شوافع کی تصنیفات میں شمار کیا ہے:

 

📜 "النعيم المقيم لعترة النبأ العظيم، تألیف: عمر بن محمد بن عبد الوهاب ...

من کتب آیا صوفیا (استنبول کی قدیم لائبریریوں میں سے ایک)"

 

📚 إيضاح المكنون في الذيل على كشف الظنون، جلد 2، صفحہ 661

مصنف: اسماعیل باشا بغدادی دار إحیاء التراث العربی

 

▪️ ابن نجار نے اپنی کتاب ذیل تاریخ بغداد (جو زیادہ تر علمائے بغداد کے حالات پر مشتمل ہے) میں لکھا ہے:

 

📜 "عمر بن محمد بن شجاع بن ثابت السماک، ابو القاسم الوارق 

وہ دارالخلافہ (بغداد) کے رہائشی تھے۔

انہوں نے صحیح بخاری کا درس ابو الوقت عبدالأول بن عیسی سے لیا۔

وہ صالح، نیک طبع، زاہد اور اپنے ہاتھ کی کمائی سے زندگی گزارنے والے بزرگ تھے۔

ان کا انتقال ذی‌الحجہ 606 ہجری میں ہوا۔"

 

📚 ذیل تاریخ بغداد، جلد 5، صفحہ 105

 

▪️ ابن کثیر ان کے بارے میں لکھتے ہیں:

 

📜 "وہ 576 ہجری میں پیدا ہوئے، بہت علم حاصل کیا،

زہد و عبادت میں مشہور، نیک اور متقی عالم تھے،

ان سے بے شمار لوگوں نے علم حاصل کیا۔

وہ اپنے زمانے میں شیخ‌الشافعیہ کہلاتے تھے۔

ان کا انتقال پیر کے دن، 606 ہجری میں ہوا۔"

 

📚 البدایہ والنہایہ، جلد 13، صفحہ 382

 

لہذا یہ اہلِ سنت کے بڑے، ثقہ، صالح اور شافعی عالم تھے جنہیں امام، علامہ، شیخ صالح جیسے القابات سے یاد کیا گیا ہے۔

 

⭕ کچھ لوگوں کا اعتراض کرنا کہ یہ شیعہ تھا ، مشہور نہیں تھا ، روایت مشہور نہیں ، اسکا جواب

 

✅ اگر بالفرض (محال) وہ مشہور نہ بھی ہوں،

تو بھی یہ اعتراض درست نہیں،

کیونکہ اہلِ سنت خود بھی شیعہ کے مقابلے میں کمزور اور غیر معروف اقوال سے استدلال کرتے ہیں۔

 

جیسا کہ ذهبی (اہلِ سنت محدث) نے کہا:

 

📜 "ممکن ہے کہ کسی روایت کو قدما کے نزدیک شہرت یا تواتر حاصل ہو، لیکن وہ روایت آج ہم تک نہ پہنچی ہو۔

لہٰذا کسی معتبر عالم کا ایک قول نقل ہونا بھی اس روایت کے مشہور یا متواتر ہونے کے لیے کافی ہے۔"

 

📚 سیر أعلام النبلاء، طبع الرسالہ، جلد 4، صفحہ 200

 

▪️ان اقوالِ علما خاص طور پر ذهبی اور ابن کثیر سے یہ بات واضح ہے کہ

 

📜 شیخ عمر بن شجاع‌الدین موصلی شافعی اہلِ سنت کے بزرگ، معتبر اور امام‌الشافعیہ میں شمار ہوتے ہیں،

برخلاف ان جاہل مولویوں کے بے بنیاد دعووں کے۔

 

❌ اگلے مرحلے میں ایک مولوی (ویکی نور) نے یہ دعویٰ کیا کہ کتاب کے مصنف نے اپنی کتاب میں ایسی باتیں لکھی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شیعہ تھے، جیسے کہ:

 

📜 “ہر زمانے میں ایک معصوم امام کا ہونا ضروری ہے۔”

 

✅ جواب میں کہا جاتا ہے کہ:

 

اولاً، مصنف کی کتاب میں ایسے مضامین کا ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ خود شیعہ تھے۔ مصنف نے جہاں بھی ان مسائل کا ذکر کیا ہے، وہاں اپنے اساتذہ اور اہل سنت کے ماخذات سے نقل کیا ہے۔

اگر انہوں نے لکھا کہ “ہر زمانے میں ایک معصوم کا ہونا ضروری ہے”، تو یہ خود اہل سنت کا ہی عقیدہ ہے۔

 

👉 مشہور اہل سنت مفسر فخر رازی نے بھی اس بات پر صراحت کی ہے کہ اولی الامر معصوم ہونا ضروری ہیں:

 

📜 فثبت أن الله تعالى أمر بطاعة أولي الأمر على سبيل الجزم ، وثبت أن كل من أمر الله بطاعته على سبيل الجزم وجب أن يكون معصوما عن الخطأ.

 

📃 یعنی: یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اولی الامر کی اطاعت کو یقینی طور پر واجب قرار دیا، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ جس کی اطاعت اللہ نے واجب کی ہے، وہ خطا سے پاک (معصوم) ہونا لازمی ہے۔

 

📚 تفسیر فخر رازی، جلد 10، صفحہ 144

 

💥 اسی طرح جس سنی علما نے بھی حضرت مہدیؑ کو “خلیفۃ اللہ” مانا ہے جو کہ عصمت اور امامتِ الٰہی کے معنی میں آتا ہے۔

 

اہل سنت کے تمام صوفیاء “انسانِ کامل” کے قائل ہیں جو واسطۂ فیض اور معصوم مانے جاتے ہیں۔

 

تو کیا آپ یہ کہنے کی جرأت رکھتے ہیں کہ سب صوفی مولوی سب شیعہ ہیں؟

 

❌ پھر انہوں نے کہا کہ مصنف نے امام حضرت مہدیؑ، کو امامِ منتظر اور قائم کہا ہے۔

 

✅ جواب:

اہل سنت کے تمام علما نے حضرت مہدیؑ کا نام لے کر ان کی بشارت دی ہے۔

 

▪️ علامہ سیوطی نے تو حضرت مہدیؑ پر پوری کتاب لکھی ہے:

📗 العرف الوردی فی أخبار المهدی

 

تو کیا سیوطی بھی شیعہ تھے؟

یا پھر تم ناسبی ہو جو اہل بیتؑ کی سچائی برداشت نہیں کر سکتے؟

 

لہٰذا جن موضوعات کو یہ ناسبی اور جاہل اہل سنت کے نام۔

پر بولنے والے یہودی ایجنٹ دلیل بنا کر پیش کر رہے ہیں وہ تمام مضامین مصنف نے اپنے مشائخ اور اہل سنت کی کتب سے نقل کیے ہیں۔

پس ان کا کتاب میں ہونا، مصنف کے سنی ہونے کے منافی نہیں ہے۔

 

اہل سنت کے کئی بڑے علما نے بھی اہل بیتِ رسول ﷺ کے فضائل پر کتابیں لکھی ہیں۔

مثلاً:

 

بخاری نے حدیثِ ثقلین کو اپنی صحیح میں روایت کیا،

 

حاکم نیشاپوری نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل پر الگ کتاب لکھی،

 

ابن تیمیہ نے “رأس الحسینؑ” کے عنوان سے کتاب میں اہل بیتؑ کے فضائل لکھے۔

 

تو کیا یہ سب بھی شیعہ تھے؟

 

عجیب بات یہ ہے کہ اس مصنف نے خود اپنی کتاب میں جو اعترافات کیے ہیں، اُن کے باوجود کچھ “اہل سنتِ عمری” ابھی بھی باقی ہیں اور یہ بات نفاقِ دل کی علامت ہے۔

ایسے لوگ زبان سے تو رسول ﷺ کی اولاد کے علم و فضیلت کا اقرار کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر ثقلین (قرآن و عترت) سے جدا ہیں، حالانکہ یہی وہ وصیت ہے جو خود رسول ﷺ نے کی تھی۔

یہی افسوسناک تضاد پورے اہل سنت کے اندر پایا جاتا ہے۔

 

🔴 کتاب کے مندرجات سے ظاہر ہونے والی چند نشانیانِ تعصب و عمری مزاج:

 

1️⃣ مصنف نے اپنی کتاب میں جگہ جگہ ابوبکر، عمر، اور عثمان پر “ترضی” (رضی اللہ عنہ کہنا) لکھی ہے۔

سوال یہ ہے: کون سا شیعہ عالم قاتلانِ دخترِ رسول ﷺ پر ترضی بھیجتا ہے؟

 

2️⃣ مصنف نے ابوبکر و عمر کی برائیاں (مطاعن) ذکر نہیں کیں بلکہ یہ کہا کہ امیرالمؤمنینؑ نے خواب میں فرمایا کہ لوگوں کی خوبیاں لکھو، برائیاں نہ لکھو۔

(صفحہ 562) یہ عجیب جھوٹ ہے جو اس عمری مصنف نے گڑھا۔

 

3️⃣ مصنف نے اہل بیتؑ کی طرف کچھ ایسی روایات منسوب کیں جو مضمون کے لحاظ سے جھوٹی ہیں، اور اہل سنت کے نظریات کو اہل بیتؑ کے نام سے پیش کیا جیسے کہ سعید بن عاص کا نماز جنازہ پڑھانا بر پیکر امام حسن مجتبیٰؑ۔

(صفحہ 276)

 

4️⃣ امام حسن مجتبیٰؑ کے باب میں، اہل سنت کی روش کے مطابق، تین خلفائے اول کا ذکر الگ سے کیا ہے۔

(صفحہ 268 تا 271)

 

یہ سب اس کے سنی تعصب کی نشانیاں ہیں۔

 

‼️ تو اب کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ شیعہ تھا؟

بالکل نہیں۔

 

بلکہ یہ دعویٰ کہ وہ شیعہ تھا بے بنیاد، بے سند، اور مدعی کی جہالت کا ثبوت ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اس نے اہل بیتؑ کے فضائل کا ذکر کیا، جیسا کہ بہت سے اہل سنت علما نے کیا۔

یہ وہی طرز ہے جو قریش کے کفار کا تھا وہ بھی رسول ﷺ کے فضائل کے معترف تھے، مگر ایمان نہیں لائے۔

 

اہل سنت کے بہت سے علما نے اہل بیتؑ کے فضائل پر کتابیں لکھیں۔

تو تم جو اہل بیتؑ کی محبت اور اتباع کا دعویٰ کرتے ہو، جب ایک سنی عالم اہل بیتؑ کے فضائل بیان کرتا ہے، تو تم فوراً اُسے “شیعہ” یا “رافضی” کیوں کہہ دیتے ہو؟

کیا ناسبی کے سروں پر کوئی سینگ یا دم ہوتی ہے؟

 

خود صحیح مسلم میں رسول ﷺ کی خطبۂ غدیر کے وقت حدیثِ ثقلین موجود ہے، جس میں آپ ﷺ نے قرآن و اہل بیتؑ دونوں کی پیروی کو لازم قرار دیا:

 

📜 “لوگو! میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں:

پہلی، کتابُ اللہ، جس میں ہدایت اور نور ہے،

اسے مضبوطی سے تھام لو۔

اور دوسری، میرے اہلِ بیت میں تمہیں خدا کی یاد دلاتا ہوں،

اہلِ بیت کے بارے میں، خدا کو یاد رکھو!

اہلِ بیت کے بارے میں، خدا کو یاد رکھو!”

 

📚 صحیح مسلم، جلد 4، صفحہ 1873، حدیث 2408 (طبع دار طیبہ)

 

تو کیا امام مسلم بھی شیعہ تھے؟

جب خود وہ حدیثِ ثقلین روایت کرتے ہیں جو شیعہ مکتبِ حقانیت کی سب سے بڑی دلیل ہے؟

 

لہٰذا صرف اہل بیتؑ کے فضائل بیان کرنا شیعہ ہونے کی دلیل نہیں۔

 

اب مصنفِ شافعی کی وہ مثالیں پیش ہیں جن میں اُس نے ابوبکر و عمر پر “ترضی” لکھی،

تاکہ واضح ہو جائے کہ وہ درحقیقت سنی تھا، شیعہ نہیں۔

 

#بدر_علی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3