چوتھی صدی اور شیعوں کا شہادت محسن بن علیؑ کا عقیدہ
✅ تاریخی قدیم میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیها اور حضرت محسن کی شہادت کے بارے میں شیعیان کا عقیدہ، اہل سنت عالم کی روایت میں 🔻{چوتھی صدی تا ساتویں صدی}🔻، روایت عزّالدین ابن شداد سے
📝عزّالدین ابن شداد، متوفی ۶۸۴ قمری، مؤلف کتاب الأعلاق الخطيرة في ذكر أمراء الشام و الجزيرة، جو مورخ اہل سنت ہیں، مشہد الدکّه کی داستان بیان کرتے ہیں، جو حلب میں محسن کے سقط ہونے کی جگہ کے طور پر مشہور ہے۔
یحییٰ بن ابی طیّ اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں: سال ۳۵۱ میں مشہد الدکّه آشکار ہوا۔ سیف الدولہ علیّ ابن حمدان ایک مقام پر جا رہے تھے اور بار بار وہاں سے روشنی نمودار ہوئی۔ انہوں نے وہ جگہ کھود کر دیکھا اور لکھا ہوا پتھر پایا: "یہ قبر محسن بن حسین بن علی بن ابی طالب ہے"۔ سیف الدولہ علویوں کو جمع کیا اور پوچھا کہ کیا حسین کا کوئی بیٹا محسن کے نام سے تھا؟ انہوں نے کہا نہیں، بلکہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ فاطمہ حاملہ تھی اور پیغمبر ﷺ نے فرمایا: "تمہارے پیٹ میں محسن ہے"۔ بیعت کے دن ان کے گھر پر حملہ ہوا اور اس وجہ سے ان کا بچہ ضائع ہو گیا۔
📚الأعلاق الخطيرة في ذكر أمراء الشام والجزيرة، مصنف: محمد بن علی بن ابراہیم ابن شداد عز الدین المحقق: یحی زکریا، صفحہ ۱۴۷
✅یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیها کے گھر پر حملے اور حضرت محسن علیہ السلام کے سقط ہونے کا واقعہ، اور ان کے لیے مجلسِ عزا کا انعقاد، سیف الدولہ کے دور میں (چوتھی صدی) علویوں کے لیے مسلمہ امر تھا۔
اس سند کے مطابق یہ واضح ہوتا ہے کہ چوتھی صدی تا ساتویں صدی کے شیعیان کا اعتقاد تھا کہ حضرت زهرا سلام اللہ علیها اور حضرت محسن علیہ السلام کو شیخین نے شہید کیا، اور وہ ان حضرات کے لیے عزاداری کرتے تھے۔
❓مولوی حضرات اور جاہل ملحد حضرات سے سوال: کیا یہ سند انقلاب کے بعد کی ہے یا صفوی دور کی!!؟؟ کب تک جھوٹ اور حقائق کی پوشیدگی؟
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen