شہادتِ محسن بن علی ع کا زکر تیسری صدی کے اہل سنت عالم کی کتب میں
١: 👇
کتاب المقالات منسوب به "ابوعلی الجبائی"، عالم اهل سنت قرن سوم میں، یہ ذکر کرتا ہے:
شیعیان کے مطابق، جو قابل اعتماد افراد سے انہیں پہنچا، وہ روایت کرتے ہیں: ابوبکر نے فدک حضرت سے لے لیا، اور فدک غصب کرنے کے بعد، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیها باہر آئیں اور مسجد میں مهاجرین اور انصار کے درمیان خطبہ دیا۔ لوگوں نے حضرت کی حالت پر رویا، لیکن حضرت کے حق کو واپس دلوانے میں مدد نہ کی۔
شیعیان کا اعتقاد ہے کہ قنفذ، خلیفہ اول کا مامور، جب حضرت مسجد سے باہر آئیں تو انہیں لات مارا اور حضرت کو گھر کے در و دیوار کے درمیان محصور کر دیا، جس کی وجہ سے حضرت کا جنین، یعنی حضرت محسن سلام اللہ علیهما، سقط ہو گیا۔»
📚 کتاب المقالات، المنسوب إلى أبي علي الجبّائي (ت ۳۰۳ ق)، ص ۱۵۰، طبعة ترکی
۔
٢: 👇
ابن همام اسکافی، جو شیعہ کے معروف محدث اور راوی تھے اور تیسری اور چوتھی صدی ہجری (وفات: ۳۳۳ھ) میں زندگی گزار رہے تھے، نے صراحت کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ:
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو رات کے وقت خفیہ طور پر دفن کیا گیا، اور اس وقت صرف امیرالمؤمنین علی علیہ السلام، حسنین علیہم السلام اور عباس بن عبدالمطلب دفن میں موجود تھے۔
اسی طرح حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا بیٹا حضرت محسن علیہ السلام سقط ہوگیا۔
یہ بیان اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا پر ہونے والے مظالم اور حضرت محسن علیہ السلام کے سقط کا واقعہ اس دور کے شیعوں کے نزدیک ایک مسلمہ اور تسلیم شدہ حقیقت تھا۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت اور حضرت محسن علیہ السلام کے سقط کا عقیدہ کوئی نیا نظریہ نہیں بلکہ قدیم اور متواتر عقیدہ ہے، جو امامیہ شیعوں میں ابتدا ہی سے موجود رہا ہے۔
#بدر_علی
#التماس_دعا
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen