حضرت محسن علیہ السلام قرآن میں
حضرت محسن علیہ السلام قرآن میں

🔴 حضرت محسن علیہ السلام قرآن میں +

 

ایام محسنیہ کیوں؟

 

مفضل نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا:

"اے میرے مولا! آنسو بہانے میں کتنا ثواب ہے؟"

امام علیہ السلام نے فرمایا:

"اتنا زیادہ کہ شمار نہیں کیا جا سکتا، اگر وہ آنسو حق اور سچائی کے لیے بہائے جائیں۔"

 

پھر مفضل بہت دیر تک روتے رہے اور کہتے رہے:

"اے رسولِ خدا کے فرزند! آپ کے قصاص (یعنی گھر پر حملے اور اہلِ بیت کو ستانے) کے دن کی مصیبت زیادہ بڑی تھی یا کربلا کا دن؟"

 

امام علیہ السلام نے فرمایا:

"ہم پر جو مصیبت کربلا کے دن آئی، اس جیسی کوئی مصیبت نہیں۔ لیکن سقیفہ کا دن اور وہ دن جب امیرالمؤمنین، حسن، فاطمہ، حسین، زینب، اُم کلثوم، فضہ رضوان اللہ علیہم کے گھر کو آگ لگائی گئی اور حضرت محسن کو پیٹ پر ٹھوکر مار کر شہید کیا گیا — وہ دن اصل عذاب کا دن تھا، زیادہ سخت، زیادہ تلخ اور زیادہ دردناک تھا۔"

 

مفضل نے کہا:

"اے میرے مولا! ایک سوال ہے۔"

امام علیہ السلام نے فرمایا:

"پوچھو مفضل!"

مفضل نے کہا:

"اے میرے مولا! آپ اس آیت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں:

'وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ بِأَیِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ'

(جب زندہ دفن کی جانے والی سے پوچھا جائے گا کہ کس گناہ پر قتل کی گئی)؟"

 

امام علیہ السلام نے فرمایا:

"اے مفضل! عام لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت ان تمام بچوں کے بارے میں ہے جو رحمِ مادر میں مظلومانہ قتل کر دیے گئے۔"

مفضل نے کہا:

"جی ہاں، میرے مولا! زیادہ تر لوگ یہی کہتے ہیں۔"

 

امام علیہ السلام نے فرمایا:

"ان پر افسوس! یہ تفسیر انہوں نے خود سے گھڑ لی ہے۔ یہ آیت خاص طور پر ہمارے بارے میں ہے اور ہماری شان میں نازل ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

'وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ بِأَیِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ'

اور 'الموءودة' حضرت محسن علیہ السلام ہیں کیونکہ وہ ہم میں سے ہیں اور ہمارے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

'قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى'

(کہہ دو کہ میں تم سے اس رسالت پر کوئی اجر نہیں چاہتا، مگر اپنے قرابت داروں کی محبت)

 

پس 'الموءودة' کا لفظ 'المودّة' (محبت) سے ماخوذ ہے۔ تو پھر یہ کس طرح عام بچوں پر منطبق ہو سکتا ہے؟ کیا مودّت اور قرابت داری ہمارے علاوہ کسی اور کے لیے ہے؟"

 

کتب کے حوالے:

📗 الموسوعة الكبرى عن فاطمة الزهراء (ع)، جلد 11، صفحہ 263

📗 الهداية الكبرى، جلد 1، صفحہ 418

 

پیغامِ روایت:

 

1⃣ ایامِ محسنیہ کے واقعات — یعنی گھر پر حملہ، حضرت محسن علیہ السلام کی شہادت، اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا پر ڈھائے گئے مظالم — چونکہ جڑ اور بنیاد ہیں، اس لیے یہ واقعات کربلا سے بھی زیادہ تلخ ہیں۔

ایامِ محسنیہ ہمارے نزدیک "مقدسات" میں شامل ہیں۔ محسنیہ، شیعہ کے مقدسات میں سے ہے۔ لہٰذا ان مقدسات کی توہین نہ کی جائے۔

شعائرِ فاطمی اور شعائرِ محسنی کو زندہ رکھنا، شعائرِ حسینی کو زندہ رکھنے سے کم نہیں، بلکہ ان کی بنیاد ہونے کی وجہ سے ان کا احیاء زیادہ اہم ہے۔

امام صادق علیہ السلام نے ان آنکھوں پر لعنت فرمائی ہے جو ان مصیبتوں کو یاد کر کے بھی نہیں روتیں، جبکہ کربلا کے لیے رونے پر ترغیب دی گئی ہے۔ یہ لعنت اس بات کی علامت ہے کہ ایامِ محسنیہ کا مقام بہت بلند ہے۔

 

2⃣ آیتِ مودّت کے مطابق اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت اور ان کی مدد واجب ہے۔

یہ محبت صرف اور صرف اہلِ بیت علیہم السلام کے لیے مخصوص ہے۔ حضرت محسن علیہ السلام بھی اہلِ بیت میں شامل ہیں، جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا "وہ ہم میں سے ہیں"۔

لہٰذا حضرت محسن کی شہادت درحقیقت آیتِ مودّت کے اجر کو قتل کرنا ہے۔ رسالت کا اجر، حضرت محسن کی یاد کو زندہ رکھنے اور ان کے نام کو قائم رکھنے میں ہے۔

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#بدر_علی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2