Back to شہادت جناب محسن ابن علی ع

اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔

اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔
اہل سنت علما کے مطابق بھی حضرت فاطمہ زہراؐ کے فرزندوں میں ایک بیٹا اور بھی تھا جس کا نام محسنؑ تھا۔

❓ ناسبیوں سے سوال

 

🖍✏️ تمہارے اپنے علما کے اقرار کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فرزندوں میں ایک بیٹا بھی تھا جس کا نام محسن تھا۔

 

⁉️ ہمارا سوال یہ ہے:

اس پاک و مطہر مولود، حضرت محسن کا آخر کیا انجام ہوا؟

 

🔴 *روايات أهل السنة في إثباته محسن بن علی*

 

١: روى الإمام أحمد بن حنبل في مسنده قال : " حدثنا حجاج ، ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن هانئ بن هانئ عن على رضي الله عنه قال : لما ولد الحسن سميته حربا فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أروني ابني ما سميتموه قال قلت حربا قال بل هو حسن فلما ولد الحسين سميته حربا فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أروني ابني ما سميتموه قال قلت حربا قال بل هو حسين فلما ولد الثالث سميته حربا فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال أروني ابني ما سميتموه قلت حربا قال بل هو محسن قال سميتهم بأسماء ولد هارون شبر وشبير ومشبر " 

 

٢: ويقول ابن كثير في كتابه البداية والنهاية : " فأول زوجه تزوجها علي رضي الله عنه فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، بنى بها بعد وقعة بدر فولدت له الحسن وحسينا ويقال ومحسنا ومات وهو صغير وولدت له زينب الكبرى وأم كلثوم وهذه تزوج بها عمر بن الخطاب كما تقدم ولم يتزوج علي على فاطمة حتى توفيت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم "  

 

٣: وقال ابن حجر العسقلاني في كتابه فتح الباري " فعلى هذا فالابن المذكور محسن بن علي بن أبي طالب ، وقد اتفق أهل العلم بالأخبار أنه مات صغيرا في حياة النبي صلى الله عليه وسلم "

 

🔴 محسن بن علی بن ابی طالب کے بارے میں حافظ مزی کا اعتراف۔

 

سیدہ شھیدہ بنت رسول اللہ سلام اللہ علیہا کے فرزند حضرت محسن بن علی علیہ السلام اپنی والدہ کے حمل کے ساقط ہونے کی وجہ سے چل بسے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ عمر بن خطاب کے حکم پر ان کے غلام قنفذ نے سیدہ شھیدہ بنت رسول اللہ سلام اللہ علیہا کو نیام کے ساتھ تلوار کی ضرب لگائی تھی جس کی وجہ سے وہ مریض ہو گئیں اور ان کا حمل ساقط ہو گیا تھا اور بعض مخالفین سیدہ شھیدہ بنت رسول اللہ سلام اللہ علیہا کے حمل کے ساقط ہونے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں تو ہم اس سلسلہ میں ان کی کتابوں کے متعدد حوالے دے سکتے ہیں جن سے حمل کا ساقط ہونا ثابت ہوتا ہے تو ان میں سے حافظ مزی بھی ہیں جنہوں نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے اپنی کتاب تھذیب الکمال میں لکھتے ہیں:

محسن درج سقطا

ترجمہ:محسن ساقط ہوگئے تھے۔

 

📚 (تهذيب الكمال في أسماء الرجال،جلد:۲۰،صفحہ:۴۷۹،ذکر علی ابن ابی طالب

 

بدر_علی

 

*روايات أهل السنة في إثباته محسن بن علی*

 

١: روى الإمام أحمد بن حنبل في مسنده قال : " حدثنا حجاج ، ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن هانئ بن هانئ عن على رضي الله عنه قال : لما ولد الحسن سميته حربا فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أروني ابني ما سميتموه قال قلت حربا قال بل هو حسن فلما ولد الحسين سميته حربا فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أروني ابني ما سميتموه قال قلت حربا قال بل هو حسين فلما ولد الثالث سميته حربا فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال أروني ابني ما سميتموه قلت حربا قال بل هو محسن قال سميتهم بأسماء ولد هارون شبر وشبير ومشبر " 

 

٢: ويقول ابن كثير في كتابه البداية والنهاية : " فأول زوجه تزوجها علي رضي الله عنه فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، بنى بها بعد وقعة بدر فولدت له الحسن وحسينا ويقال ومحسنا ومات وهو صغير وولدت له زينب الكبرى وأم كلثوم وهذه تزوج بها عمر بن الخطاب كما تقدم ولم يتزوج علي على فاطمة حتى توفيت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم "  

 

٣: وقال ابن حجر العسقلاني في كتابه فتح الباري " فعلى هذا فالابن المذكور محسن بن علي بن أبي طالب ، وقد اتفق أهل العلم بالأخبار أنه مات صغيرا في حياة النبي صلى الله عليه وسلم "

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20