اہل سنت عالم شہر سستانی کی کتاب میں زکرِ شہادت محسن ع
🔴 اہل سنت عالم شہر سستانی (صاحب كتاب الملل والنحل) متعزلہ کے بہت بڑے اہل سنت عالم إبراهيم بن يسار بن هانئ کا قول لکھتے ہیں کہ
📝 حضرت عمر نے بیعت کے دن جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ پر ضرب لگائی جس سے انکے بیٹے محسن ان کے شکم میں ساقط ہوگے اور ان کے گھر کو آ گ لگائی حتی کہ اس وقت گھر میں مولا علی علیہ السلام اور مولا حسن حسین علیہ السلام اور جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ کے علاوہ کوئی نہ تھا
📚 الملل والنحل جلد 1 صفحہ 57
🔴 عالم شہر سستانی کے بارے میں اہلسنت موقف 🔴
▪️ تاریخِ بغداد از خطیب بغدادی (جلد 6، صفحہ 94)
اور إکمال الکمال از ابن ماکولا (جلد 7، صفحہ 357) میں نظّام کے بارے میں یہ الفاظ درج ہیں:
📜 "أحدُ فُرسانِ أهلِ النظرِ والكلام"
“اہلِ علم و کلام کے میدان کے ایک شیر اور نمایاں شخصیت تھے۔”
▪️ اہل سنت محدثین شہر سستانی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
📝 محمد بن عبدالکریم بن احمد الشہر سستانی *الشافعی الفقیہ* تھے
📚 معجم المولفین جلد 2 صفحہ 422
📝 ابو الفتح بن ابی القاسم عبدالکریم الشہر سستانی *صاحب کتاب الملل والنحل امام اور فقیہ تھے*
📚 ابجد العلوم جلد 3 صفحہ 112
📝 محمد بن عبدالکریم الشہر سستانی مصنف الملل والنحل تفقہ بمذھب الشافعی
📚 طبقات الشافعیة جلد 1 صفحہ 597
✅ اس سے ثابت ہوا کہ یہ اہل سنت کے امام تھے جو شافعی المذھب تھے
یہ کوئی شیعہ روایت نہیں ہے
بلکہ نظّام خود اہلِ سنت کے ایک بڑے عالم اور معتزلی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے،
نہ شیعہ تھے، نہ یہودی؛ بلکہ اہلِ سنت کے معتبر علماء میں شمار کیے جاتے ہیں۔
🔴 ابراھیم بن یسار بن ہانی پر اعتراضات کا جواب 🔴
⚠️ وہ اعتراضات جو مولوی حضرات صفدی اور شهرستانی سے لے کر اس روایت پر وارد کرتے ہیں اور روایت کو باطل قرار دینے کی ناجائز کوشش کرتے ہیں،
ہم وہ اعتراضات یہاں لا رہے ہیں تاکہ سب جان لیں کہ یہ کتنے بچگانہ اعتراضات ہیں، اور پھر ان کے جواب پیش کریں گے:
❌ روایت کا کاٹ دینا (تقطیع) یعنی مکمل نہ ہونا
❌ یہ کہنا کہ نظامِ معتزلہ رسول اللہ نے علی کو اپنے بعد امام مقرر کیا
❌ عمر کے نبوتِ رسول میں شک والی روایت
❌ تراویح عمر کی بدعت
❌ عمر کا متعہ حج سے منع کرنا
❌ صحابہ پر طعن
📚 الملل والنحل، ج 1، ص 57
✅ اب جواب پیش ہے
1️⃣ اعتراضِ اول کا جواب:
ہم کہتے ہیں یہ تقطیع نہیں، اس کی وجہ واضح ہے: صفدی و شهرستانی کے بے بنیاد الزامات اہل سنت کے باقی علماء کے طریق سے مخالف ہیں؛ کیونکہ جو اعتراضات انہوں نے کیے، خود اہل سنت کے کثیر علماء بھی ان مسائل کو نقل کرتے ہیں۔ ہر منصف پر واضح ہے کہ یہ حصہ محض الزام ہے، نہ کہ روایت رد کرنے کی دلیل۔ ہم نے احتجاج کے طور پر اسے پیش کیا ہے۔ اس لیے احتجاجاً روایت کے ایک حصے سے استدلال ممکن ہے، جیسا کہ اہل سنت کے کئی علماء بھی ایک روایت کے بعض حصوں پر عمل نہیں کرتے جب وہ کسی صحیح روایت یا قطعی دلیل کے خلاف ہو۔
2️⃣ اعتراضِ دوم کا جواب:
شہرستانی و صفدی نے اپنے دعوے پر کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ پھر وصایتِ امیرالمومنین کے بارے میں اقوال صرف نظام تک محدود نہیں بلکہ اہل سنت کے بڑے علماء نے بھی تصریح کی ہے، جن میں غزالی بھی شامل ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ آپ ہر اس راوی کو کیوں دشمنی میں گراتے ہیں جو امیرالمومنین کی فضیلت میں روایت کرے؟ کیا اب آپ غزالی کو بھی کافر کہیں گے؟
3️⃣ اعتراضِ سوم کا جواب:
عمر کے نبوت پر شک والی روایت بہت سے اہل سنت علماء نے نقل کی ہے، جن میں صحیح بخاری، مسلم، ذھبی، ابن حبان، اور عبدالرزاق صنعانی (استاد بخاری) شامل ہیں۔ یہ بات نظام کا خاصہ نہیں۔ کیا آپ بخاری و مسلم کو بھی کافر کہیں گے؟ اگر یہ روایت نقل کرنا جرم ہے تو بخاری و مسلم کی روایات بھی ترک کر دیں، کیونکہ انہوں نے بھی یہی روایت بیان کی ہے — اور خود مولوی نے بھی اسے قبول کیا ہے۔
4️⃣ اعتراضِ چهارم کا جواب:
شہرستانی کا کہنا کہ نظام نے تراویح کو عمر کی بدعت کہا یہ بھی نظام تک محدود نہیں، بلکہ تاریخ کا قطعی حصہ ہے، حتیٰ کہ صحیح بخاری میں بھی یہ موجود ہے۔ کیا بخاری کی روایات بھی ترک کریں گے؟
5️⃣ اعتراضِ پنجم کا جواب:
نظام پر یہ اعتراض کہ وہ کہتا تھا عمر نے سنتِ رسول کے خلاف متعہ حج کو حرام قرار دیا یہ بھی نظام کا خاصہ نہیں۔ بخاری و مسلم نے بھی اسے اپنے صحیحین میں روایت کیا ہے۔ یہ تاریخ کا قطعی امر ہے، جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔
6️⃣ اعتراضِ ششم کا جواب:
صحابہ پر طعن والی روایات بھی عوام اہل سنت کے علماء کی کتب میں موجود ہیں ارتدادِ صحابہ کی روایت صحیح بخاری میں ہے؛ اور دیگر روایات شراب نوشی، ز/نا، جھوٹ، عثمان کو "نعثل" کہنے، فدک غصب کرنے وغیرہ کی روایات بھی کتب اہلسنت میں موجود ہیں۔
ثانیاً صفدی و شهرستانی نے نظام پر جو الزامات لگائے، ان کے لیے کوئی سند پیش نہیں کی وجہ واضح ہے: رسول کی بیٹی کی شہادت کے اس تاریخی واقعے کو چھپانے کے لیے ان کے پاس بہتان ہی واحد راستہ تھا۔
✅ لہٰذا شهرستانی کے تمام اعتراضات باطل اور ناقابل قبول ہیں۔ اگر ان باتوں کا محض نقل کرنا کسی راوی کی روایات ترک کرنے کا معیار ہے، تو سب سے پہلی کتابیں جنہیں دیوار پر مارنا چاہیے وہ بخاری، مسلم اور اہل سنت کی پوری صحاحِ ستہ ہیں کیونکہ انہی باتوں کو وہ سب بھی نقل کرتے ہیں۔
☑️ وہ تضعیفات جو نظام کے لیے نقل کی گئی ہیں، صرف اور صرف ان حقائق کے اعتراف کی وجہ سے ہیں جن کا آشکار ہونا غاصبینِ خلافت کی مشروعیت کو چیلنج کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بہت سے علماء نے نظام کو موثق قرار دیا ہے۔
▪️خطیب بغدادی، جو اہل سنت کے بڑے علماء میں سے ہے، نظام کے بارے میں یوں بیان کرتا ہے:
📜 ابراہیم بن سیار ابو اسحاق نظام: وہ بغداد آیا، اور اہل نظر و کلام کے شہسواروں میں سے ایک تھا اور معتزلہ کے مسلک پر تھا۔ اس کے اس باب میں کئی تصنیفات ہیں۔ وہ باادب انسان بھی تھا، اور اس کی شاعری باریک معانی پر مشتمل تھی، جو متکلمین کے اسلوب پر تھی۔ ابو عثمان جاحظ اس کے بارے میں بہت سی حکایتیں نقل کرتے ہیں۔
ابراہیم بن سیار، معروف بہ نظام، علم کلام کے اصحابِ نظر میں سے تھا اور مسلک معتزلہ پر تھا۔ اس نے اس فن میں کئی کتابیں چھوڑی ہیں۔ نیز وہ ادیب اور باکمال شاعر بھی تھا، اور اس کی شاعری میں اس کا کلامی ذوق جھلکتا ہے۔ جاحظ ان لوگوں میں سے ہے جو اس سے نقلِ حکایات میں بہت کثرت رکھتے ہیں۔
📚 تاریخ بغداد، ج 6، ص 94
▪️ ابن ماکولا نے نظام کے ترجمہ میں لکھا ہے:
📜 اور جہاں "نظام" تشدید کے ساتھ ہو تو وہ ابراہیم بن سیار ابو اسحاق نظام ہے، جو بنی الحارث بن عباد کے موالی میں سے تھا، اور علم کلام کے شہسواروں میں سے تھا، اور لطیف و نرم اشعار کہتا تھا۔
نظام بنو قیس بن ثعلبہ میں سے ہے۔ وہ علم کلام کے میدان کا ایک طاقتور انسان اور اس فن کا ماہر تھا، اور نہایت لطیف اور رواں اشعار کہتا تھا۔
📚 الإکمال، ج 7، ص 274
▪️ خود صفدی کہتا ہے کہ ابراہیم بہت باهوش تھا:
📜 اور یہ ابراہیم نہایت شدید ذہین تھا۔
📚 الوافی بالوفیات، ج 6، ص 12
👈 جماعتِ عمر کے اصول کے مطابق اگر کسی راوی کے بارے میں ایک طرف توثیق اور ایک طرف تضعیف ہو، تو اس کی روایت مختلف فیہ ہوتی ہے، اور ایسی روایت حسن شمار کی جاتی ہے۔ اور اہل سنت کے علماء کے نزدیک روایتِ حسن حجت ہوتی ہے۔
▪️ ابن القطان:
📜 وہ صدوق ہے، اور اس کے بارے میں ایسا کچھ ثابت نہیں جو اس کی حدیث کو ساقط کرے، مگر چونکہ وہ مختلف فیہ ہے، اس لیے اس کی حدیث حسن ہے۔
📚 تهذیب التهذیب، ج 5، ص 260
▪️ ابن القطان:
📜 وہ صدوق ہے… مگر چونکہ مختلف فیہ ہے، اس لیے اس کی حدیث حسن ہے۔
📚 تهذیب التهذیب، ج 5، ص 228
▪️ ایک اور حدیث: اسے ترمذی نے روایت کیا…
📜 ابن القطان کہتا ہے: ابو معشر مختلف فیہ ہے؛ بعض اسے ضعیف کہتے ہیں، بعض اسے موثق کہتے ہیں، لہٰذا اس کے سبب یہ حدیث حسن ہے۔
📚 نصب الرایة، ج 4، ص 121
🔘 اور روایتِ حسن اہل سنت کے اصول میں صحیح کے حکم میں ہوتی ہے۔ نووی کہتا ہے:
📜 پھر حسن، احتجاج میں صحیح کی طرح ہے، اگرچہ قوت میں اس سے کمتر ہوتا ہے۔ اسی لیے بعض نے اسے صحیح کی ایک قسم میں داخل کیا ہے۔
✅ حسن احتجاج میں صحیح کی طرح ہے۔
📚 قواعد التحدیث، ص 106
⭕ یہ نظام جسکا عقیدہ بیان ہو رہا ہے معتزلیہ کے بڑے اماموں میں سے تھا۔
ابوبکر خطیب بغدادی (المتوفی ۴۶۳ھ) نے اسکے بارے میں یوں لکھا :
📜 إبراهيم بن سيار ، أبو إسحاق النظام : ورد بغداد وكان أحد فرسان أهل النظر والكلام على مذهب المعتزلة.
📝 ابراھیم بن سیار، ابو اسحاق کنیت، نظام۔ یہ بغداد ورد ہوا اور معتزلی مذہب کے اہل نظر اور کلام کے ماہرین میں سے تھا.
📚 تاریخ بغداد - خطیب بغدادی // جلد ۶ // صفحہ ۹۴ // رقم ۳۱۳۱ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔
اسی طرح ابن حجر عسقلانی (المتوفی ۸۵۲ھ) نے اسکا ذکر یوں کیا ہے :
📜 إبراهيم بن سيار بن هاني النظام أبو إسحاق البصري ، مولى بنى بحير بن الحارث بن عباد الضبعي من رؤس المعتزلة .
📝 ابراہیم بن سیار بن ہانی، نظام، ابو اسحاق بصری، مولی بنی بحیر بن حارث بن عباد الضبعی، یہ معتزلہ کے سرداروں میں سے تھا۔
📚 لسان المیزان - ابن حجر عسقلانی // جلد ۱ // صفحہ ۱۶۴ // رقم ۱۷۶ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔
✅ نتیجہ:
حداقل روایت حسن بنتی ہے، اور اہل سنت کے نزدیک روایتِ حسن حجت اور صحیح کے حکم میں ہے۔ اسی طرح صفدی اور شهرستانی کے اعتراضات بھی اس پر قابلِ قبول نہیں، اور اس کے اعتقادات کی بنا پر اسے تضعیف نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اہل سنت کے بہت سے بڑے علماء بھی انہی اعتقادات کے قائل رہے ہیں۔ جبکہ یہ لوگ اپنے دعووں پر کوئی دلیل بھی پیش نہیں کر سکے۔
#تعلیمات_اہلبیتؑ
Gallery
Tap any image to view full screen