مسعودی شافعی کی کتاب میں زکرِ شہادتِ محسن ع
مسعودی شافعی (وفات: 345 ہجری)
مسعودی اپنی کتاب إثبات الوصیة میں اس المناک واقعے کو یوں بیان کرتے ہیں:
📜 فانصرف عنهم فأقام أمير المؤمنين (ع) ومن معه من شيعته في منزله بما عهد إليه رسول الله (ص) فوجهوا الى منزله فهجموا عليه ، وأحرقوا بابه ، واستخرجوه منه كرها ، وضغطوا سيدة النساء بالباب حتى اسقطت ( محسنا ) وأخذوه بالبيعة فامتنع ، وقال : لا أفعل ، فقالوا : نقتلك ، فقال : ان تقتلوني فاني عبد الله وأخو رسوله ، وبسطوا يده فقبضها ، وعسر عليهم فتحها ، فمسحوا عليها وهي مضمومة ....
"انہوں نے (یعنی خلیفۂ وقت کے کارندوں نے) اُس کے گھر پر ہلہ بولا (حملہ کیا)،
درِ خانہ کو آگ لگا دی،
اور اسے (حضرت علی علیہ السلام کو) زبردستی گھر سے باہر نکالا۔
پھر سیدۂ نساء العالمین (حضرت فاطمہ زہراؑ) کو دروازے کے پیچھے اتنا دبایا کہ
ان کا بیٹا محسنؑ سقط (شہید) ہوگیا۔"
📚 کتاب: إثبات الوصیة
✍️ مؤلف: علی بن الحسین المسعودی
📖 جلد: 1
📄 صفحہ: 146
⭕ اعتراض اور اس کا جواب
بعض اہل سنت عمری مکتب کے لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ:
❌ "مسعودی رافضی (شیعہ) تھا، اس لیے اس کی بات حجت نہیں۔"
لیکن یہ دعویٰ باطل اور تاریخی طور پر غلط ہے، کیونکہ:
مسعودی دراصل شافعی المذہب تھے، نہ کہ امامیہ شیعہ۔
بزرگ محدث و فقیہ تاج الدین السبکی (متوفیٰ 771 ہجری) نے اپنی کتاب طبقات الشافعیة الکبرى میں
مسعودی کو صراحت کے ساتھ علمائے شافعیہ میں شمار کیا ہے اور
ان کے لیے یہ القاب ذکر کیے ہیں:
📜 "علی بن الحسین بن علی المسعودی، صاحب التواریخ، مروج الذهب،
ذخائر العلوم، الاستذکار، تاریخ الأمم، أخبار الخوارج، المقالات فی أصول الدیانات،
الرسائل وغیرہ۔
کہا گیا ہے کہ وہ عبداللہ بن مسعودؓ کی نسل سے تھے،
اصلاً بغداد کے رہنے والے تھے اور زیادہ تر مصر میں مقیم رہے۔
وہ اخباری، فتوٰی دینے والے، عالم، اور نادر معلومات رکھنے والے شخص تھے۔"
📚 طبقات الشافعیة الكبرى
✍️ تاج الدین بن علی بن عبد الکافی السبکی
📖 جلد 3
📄 صفحات 456–457
📘 رقم 225
🕌 ناشر: دار احیاء الکتب العربیة
اثبات الوصیة کے مولف ابو الحسن علی بن الحسین بن علی المسعودی فقہ الشافعیہ سے تعلق رکھتے تھے
📚 معجم المطبوعات العربیة جلد 2 صفحہ 1743
بعض نے انہیں معتزلی کہا ہے
جو کہ اہل سنت کی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں
📚 اسکین پیجز
#تعلیمات_اہلبیتؑ
Gallery
Tap any image to view full screen