کفایة الطالب کنجی شافعی کی کتاب میں شہادتِ محسن ع کا زکر
🔴 علامہ یوسف کنجی شافعی جو شیخ مفید علیہ الرحمہ کے اقوال کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں
📜 جمہور نے کہا ہے کہ جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ کے بیٹے کا نبی کریم کے بعد اسقطت ہوا جن کا نام نبی پاک نے محسن رکھا تھا
📚 کفایة الطالب ، صفحہ 413
📝 علامہ زر کلی لکھتے ہیں کہ محمد بن یوسف بن محمد ایوب عبداللہ ابن فخر الکنجی محدث من الشافعیہ اور کفایتہ الطالب ان ہی کی تصنیف ہے
📚 الاعلام ، جلد 6، صفحہ 150
📝 محمد بن یوسف کنجی ایوب عبداللہ الشافعی کفایة الطالب
📚 هدية العارفين إسماعيل باشا البغدادي ، جلد 2 ، صفحہ 127
📚 كشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون ، جلد 2 صفحہ 1497
اس سے ثابت ہوا کہ یہ اہل سنت کے امام اور عالم تھے
🔴 قاضی عبد الجبار معتزلی (عمریہ کے سخت مکتب سے) نے جو شیخ مفید کے معاصر تھے، فرمایا:
📜 "ابو جبله، جابر، ابوالفوارس، ابوالحسین، ابو محمد الطبری، ابوالحسن الحلبی اور دیگر، جو مصر، رمله، صور، عکا، عسقلان، دمشق، بغداد اور جبل السماق میں رہتے ہیں، سب محمد (ص) اور اہل بیت سے محبت کا دعوی کرتے ہیں اور حضرت فاطمہ اور ان کے فرزند محسن کے قتل پر روتے ہیں، جسے عمر نے قتل کیا۔"
📚 تثبیت دلائل النبوة ج۲ ص۵۹۴
✅ مطلب یہ ہے کہ عمریہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ شیخ مفید حضرت محسن علیہ السلام کے قتل اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت پر یقین رکھتے تھے اور ان کے لیے عزاداری کرتے تھے۔
#تعلیمات_اہلبیتؑ
Gallery
Tap any image to view full screen