🔵 ابن ابی دارم متوفی ۳۵۲ھ 🔵
وہ مظلوم محدث جنھیں *شہادت سیدہ ص* معتقد ہونے پر انتہائی تنقید کا سامنا کرنا پڑا 💔
👈🏼 ابن ابی دارم کا تعلق اہل سنت محدثین سے ہے اور انہوں کی تمام زندگی اہل سنت حلقہ احباب میں گزری بخاری میں روایت نقل ہوئی ہیں اسکی ۔ شیعہِ علم رجال و حدیث میں کسی جگہ ابن ابی دارم کا تذکرہ نہیں ملتا۔
ابن ابی دارم اہل سنت کے اتنے بڑے محدث ہیں اتنے بڑے احادیث کے عالم ہیں کہ امام حاکم جب ان سے روایت نقل کر ہیں تو انکے نام کے ساتھ انکا لقب *امام* و *الحافظ* و *فاضل* بھی لکھتے ہیں۔
📚 حاکم نیشاپوری، محمد بن عبد اللہ، المستدرک علی الصحیحین، ج ۴، ص ۵۱۱۔
📚 حاکم نیشاپوری، محمد بن عبد اللہ، المستدرک علی الصحیحین، ج ۳، ص ۳۵۱۔
👈🏼 یاد رہے امام حاکم نے اپنی مستدرک میں شرط بخاری و مسلم پر روایات نقل کی ہیں۔
اسی طرح اہل سنت کے علامہ ذھبی ابن ابی دارم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
📜 الإمام الحافظ الفاضل...كان موصوفا بالحفظ والمعرفة...وقال محمد بن حماد الحافظ كان مستقيم الأمر عامة دهره
📃 امام ،حافظ ،صاحب فضیلت ۔حفظ اور علم و معرفت کے لحاظ سے مشہور اور جانی پہچانی شخصیت تھی ۔ ۔
📚 سیر أعلام النبلاء ج 15ص576و577و578
ابن ابی دارم نے جن شخصیات سے احادیث نقل کی ہیں ان میں ایک اہم شخصیت *محمد بن عبد اللہ بن سلیمان حضرمی متوفی ۲۹۷ھ* جن کی وثاقت پر تمام اہل سنت کا اتفاق ہے۔ ابن ابی دارم خود کہتے ہیں میں نے حضرمی سے ۱۵۰ ہزار احادیث لکھی ہیں۔
⭕ ان سے مروی ایک اعلیٰ سند یہ ہے:
📜 حسن بن علی جعفر بن منیر ابو طاہر السلفی قاسم بنالفضل ابو زکریا المزکی ابو بکر بن ابی دارم (کوفہ) احمد بن موسیٰ بن اسحاق ابو ... زکریا شعبی نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:
رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
📃 “حلال واضح ہے، اور حرام واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔
جو شخص شبہات سے بچے، اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ رکھا،
اور جو ان میں پڑ گیا، وہ حرام میں پڑنے والا ہے،
جیسے چرواہا جو ممنوعہ چراگاہ کے قریب اپنے جانور چراتا ہے، جلد وہ اس میں داخل ہو جائے گا۔”
(حدیث متفق علیہ)
📚 تذکرة الحفظ ج۳ ص۶۸
📚 بخاری کتاب الایمان باب 39 (غالباً اب موجود نہیں)
⭕ ذہبی کا اصول ہے:
📜 "جب کسی شخص کی امامت اور فضیلت ثابت ہو جائے، تو اس پر کی گئی جرح قبول نہیں۔"
📚 سیر اعلام النبلاء، ج7، ص409
👈 مگر جیسے ہی ابن ابی دارم کے آخری ایام میں انکی محافل میں ایک سچ بولا جاتا تھا کہ
📜 إن ___ رفس فاطمة حتى أسقطت بمحسن
📃 فلاں نے فاطمہ (علیہا السلام) کو لات ماری جس کی وجہ سے جناب محسن سقط کر گئے۔
📚 ذہبی، محمد بن احمد، میزان الاعتدال، ج ۱، ص ۱۳۹۔
ذہبی کی مکمل روایت:
📜 وقال محمد بن أحمد بن حماد الكوفي الحافظ - بعد أن أرخ موته: كان مستقيم الأمر عامة دهره، ثم في آخر أيامه كان أكثر ما يقرأ عليه المثالب، حضرته ورجل يقرأ عليه: إن ____ رفس فاطمة حتى أسقطت بمحسن.؛
📃 محمد بن احمد بن حمال کوفی حافظ نے ابن ابی دارم کی تاریخ وفات ذکر کرنے کے بعد کہا: ابن ابی دارم ایک طویل عرصہ سیدھی راہ پر رہا لیکن اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اس کے سامنے صحابہ کے نقائص بیان کیے جاتے تھے، میں ایک مرتبہ ابن ابی دارم کے پاس حاضر ہوا، تو وہ ایک شخص اس کے سامنے اس طرح تذکرہ کر رہا تھا: فلاں شخص نے فاطمہ (علیہا السلام) کو لات ماری جس کی وجہ سے جناب محسن سقط کر گئے۔
▪️ بس یہ کہنا تھا کہ ابن ابی دارم کو ان حقائق کے اعتراف میں شدید لعن طعن اور سخت الفاظ میں جرح کو برداشت کرنا پڑا۔ جیساکہ ذہبی نے امام حاکم کی نظر یہ بیان کی ہے کہ ابن ابی دارم رافضی اور غیر ثقہ ہیں۔ ذہبی نے اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکم لگایا: شَيْخٌ ضالّ مُعَثَّر؛ گمراہ پراگندہ اعتبار سے گرا ہوا شیخ ہے۔
جبکہ دوسری جگہ ابن ابی دارم کو کذاب کہا ہے۔
ایک اور محقق نے تمام حدود پار کر دیں اور اخلاق سے گری ہوئی زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ابن ابی دارم حدیثیں گھڑنے والا کذاب خبیث ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ابن ابی دارم ایک عظیم شخصیت، فنِ حدیث میں حافظ اور معرفت شناس اور حقائق کا اعتراف کرنے والا وہ عظیم محدث ہے جس نے دنیا میں لعن طعن اور سب و شتم قبول کر لیا لیکن آخرت میں اللہ اور اس کے رسول ؐ کے سامنے سرخرو ہو گیا۔ ❤
👈🏼 نوٹ: اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ اپنے آخری میں رافضی ہو گئے تھے ، تو یاد رہے رافضی ہونا کوئی جرح نہیں ، بخاری و مسلم بھری پڑی ہیں رافضی راویوں سے۔ جب کہ ایسا نہیں ہے انہیں رافضی و کذاب کہا ہی اسی لئے گیا کیوں کہ انہوں نے قاتل سیدہ ص و محسن ابن علی ع کا پول کھولا
⚖️ ظاہر ہے اہل سنت کے نزدیک ہر وہ شخص کذاب ہے جو شہادت سیدہ ص بیان کرے پھر چاہے وہ ان کا اپنا محدث حافظ ابن ابی دارم ہوں یا آج کا شیعہ
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen