💥🔥 ربیع الاول کے مہینے میں مبارک باد دینے کی بدعت
🌀 بدقسمتی سے ایک گروہ (بَتریہ) حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا اور حضرت محسن سلام اللہ علیہما کی شہادت کے اصل واقعے کو مسخ کرنے کے لیے، ماہِ صفر کے اختتام اور ماہِ ربیع الاول کے آغاز پر "مبارک باد" دینے کا موضوع پیش کرتے ہیں۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا اس "حدیث" کی کوئی اصل ہے یا نہیں؟
📖 جعلی روایت
ایک مشہور لیکن غلط روایت اس طرح بیان کی جاتی ہے:
> رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"جو شخص مجھے ماہِ صفر کے ختم ہونے کی بشارت دے، اُس پر جنت واجب ہے۔"
⚠️ یہ حدیث شیعہ کی کسی معتبر حدیثی کتاب میں موجود نہیں اور سراسر جعلی ہے۔
حتی کہ اہل سنت کے بڑے علماء نے بھی اس حدیث کو من گھڑت اور موضوع قرار دیا ہے۔
من بشرني بخروج صفر بشرته بالجنة
📜 قاری نے "الموضوعات" میں صغانی کی پیروی کرتے ہوئے کہا: اس کی کوئی اصل نہیں۔
📚 کشف الخفاء، ج2، ص309
📜 صغانی اور عراقی دونوں نے کہا: یہ حدیث جعلی ہے۔
📚 الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة، ج1، ص438
🔻 اصل شیعہ روایت
شیعہ کتب میں جو روایت آئی ہے، وہ اس طرح ہے:
باب: "نبی صلی اللہ علیہ وآلہ کا یہ فرمان کہ: جو مجھے ماہِ آذار کے ختم ہونے کی بشارت دے، اُس کے لیے جنت ہے"
حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں:
ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد قُبا میں اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے تھے۔
آپ نے فرمایا:
> "ابھی جو سب سے پہلے شخص تمہارے پاس داخل ہوگا، وہ اہلِ جنت میں سے ہوگا۔"
یہ سنتے ہی کچھ صحابہ اٹھ کر مسجد سے باہر چلے گئے تاکہ واپس آ کر پہلے داخل ہونے والے بن جائیں اور جنت کے مستحق ٹھہریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے یہ سمجھ کر باقی بیٹھے ہوئے اصحاب سے فرمایا:
> "ابھی ایک گروہ تمہارے پاس داخل ہوگا جو ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا ہوگا، تو جو مجھے "ماہِ آذار" کے ختم ہونے کی بشارت دے گا، وہ جنتی ہے۔"
پھر وہ لوگ واپس آئے اور ان کے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے پوچھا:
> "ہم اس وقت رومی مہینوں کے حساب سے کس مہینے میں ہیں؟"
حضرت ابوذر نے عرض کیا:
> "آذار ختم ہو گیا ہے، یا رسول اللہ!"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:
> "اے ابوذر! مجھے معلوم تھا، لیکن میں چاہتا تھا کہ میرے اصحاب کو بھی پتا چلے کہ تم اہلِ جنت میں سے ہو۔ اور یہ کیسے نہ ہو، جب کہ تم میرے بعد میرے اہل بیت کی محبت کی وجہ سے میرے حرم سے نکال دیے جاؤ گے، اکیلے زندگی گزارو گے، اکیلے مرو گے، اور خوش نصیب لوگ تمہیں غسل و کفن دیں گے اور دفن کریں گے۔ وہی لوگ جنت کے میرے ساتھی ہوں گے۔"
📚 معانی الأخبار، شیخ صدوق، جلد 1، صفحہ 205
❓ ماہِ آذار کیا ہے؟
کتاب کے محقق استاد غفاری وضاحت کرتے ہیں:
آذار، رومی تقویم کا مہینہ ہے، جو شباط کے بعد اور نیسان سے پہلے آتا ہے۔
اس کے 31 دن ہوتے ہیں اور یہ شمسی سال کا تیسرا مہینہ ہے۔
تقریباً 10 اسفند سے 10 فروردین (تقریباً مارچ کے مہینے) تک ہوتا ہے۔
⭕ نتیجہ:
1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے جنت کی بشارت ماہِ آذار کے ختم ہونے پر دی، نہ کہ ماہِ صفر کے ختم ہونے پر۔
2. آذار ایک رومی مہینہ ہے، عربی نہیں۔
3. اس واقعے کا تعلق ایک خاص وقت اور زمانے سے تھا، اور اس کا ماہِ صفر یا ربیع الاول کے آغاز سے کوئی تعلق نہیں۔
نصیحت:
لہٰذا تمام محبین اور عاشقانِ اہل بیت علیہم السلام سے درخواست ہے:
اپنی عقیدت کو جعلی روایات پر نہ بنائیں۔
ربیع الاول کے آغاز پر مبارک باد دینا جو بعض لوگ رسول اللہ کی طرف نسبت دیتے ہیں، یہ جھوٹ ہے۔
اہل بیت علیہم السلام اب بھی غم اور مصیبت میں ہیں، لہٰذا ہمیں بھی ان کے حال سے ہم آہنگ رہنا چاہیے۔
📨 اس پیغام کو تمام شیعہ بھائیوں اور بہنوں تک پہنچانا ضروری ہے۔
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen