Back to کتاب سلیم بن قیس الہلالی

کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا

کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا
کتاب سلیم بن قیس پر شیخ حلی و تستری کا نظریہ  اور دیگر فقہ و اصول کے علماء کا کتاب سلیم کی طرف رجوع کرنا

🔴 کتابِ سلیم بن قیس 🔴

 

Post No 7⃣

 

⭕ آخری حصہ

 

اس میں شامل ہے:

 

▪️صدیوں کے دوران کتابِ سلیم کی شہرت

▪️فقہ اور اصول کے بڑے بڑے علماء کا کتابِ سلیم کی طرف رجوع کرنا

 

▪️شیخ مفید کا نظریہ

▪️شیخ تستری کا نظریہ

▪️شیخ حلی کا نظریہ

 

▪️کتاب سلیم قدیم اور مطبوعہ نسخہ

 

ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ کتاب کی شہرت اس کی سند سے بےنیاز کر دیتی ہے، خاص طور پر جب یہ کتاب مسلسل نقل ہوتی رہی، ہاتھوں ہاتھ چلتی رہی، اور مومنین اسے ائمہ علیہم السلام کے زمانے میں وصول کرتے رہے، یہاں تک کہ شیعہ ادب کتابِ سلیم پر مہر شدہ بن گیا۔ اور یہ سب اس کتاب اور اس کے مضامین کی صحت و اعتبار کے بارے میں ہمارے علماء کی گواہی ہے۔

 

⭕ شیخ نعمانی (متوفی 360ھ) کی گواہی:

 

جو تین صدیوں اور نصف کے دوران شیعہ کے متفقہ نظریے کی نمائندگی کرتی ہے، انہوں نے کہا:

 

📜 “تمام شیعوں میں جو بھی علم کے حامل تھے اور ائمہ (علیہم السلام) سے روایت کرتے تھے اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ سلیم بن قیس ہلالی کی کتاب ان بڑے اصولی مصادر میں سے ایک اصل (Fundamental Source) ہے جنہیں اہلِ علم اور اہلِ بیت (علیہم السلام) کی حدیث کے ناقلین نے روایت کیا ہے، اور یہ سب سے قدیم ہے۔ کیونکہ اس اصل میں جو کچھ ہے وہ رسول اللہ (صلى الله عليه وآله)، امیرالمؤمنین، مقداد، سلمان فارسی، ابوذر اور اُن جیسے لوگوں سے ہے جنہوں نے رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) اور امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کو پایا اور ان سے سنا۔ اور یہ اُن اصولوں میں سے ہے جن کی طرف شیعہ رجوع کرتے ہیں اور جن پر اعتماد کرتے ہیں۔”

 

📚 کتاب الغيبة، ص 103

 

⭕ مؤرخ مسعودی (متوفی 346ھ) نے کہا:

 

📜 “اور امامت پر قطعی یقین رکھنے والے، ان میں سے اثنا عشریہ، جن کی تعداد کے حصر کا اصل ماخذ وہ ہے جو سلیم بن قیس ہلالی نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔”

 

📚 التنبيه والإشراف، ص 198

 

⭕ شیخ ابن شہر آشوب (متوفی 588ھ) نے کہا:

 

📜 “سلیم بن قیس ہلالی، حدیثوں کے صاحب، ان کی ایک کتاب ہے۔”

 

📚 معالم العلماء، ص 93

 

⭕ سید ابن طاؤوس (متوفی 664ھ) نے کہا:

 

📜 “کتاب میں وہ باتیں شامل ہیں جو اس کی تعریف اور اس کی کتاب کی صحت پر گواہ ہیں۔”

 

📚 التحرير الطاووسي، ص 253

 

⭕ علامہ حلی (متوفی 726ھ) نے کہا:

 

📜 “کشّی نے وہ روایات نقل کی ہیں جو اس کی تعریف اور اس کی کتاب کی صحت پر گواہی دیتی ہیں، اگرچہ سند میں گفتگو ہے۔”

 

📚 خلاصة الأقوال، ص 163

 

⭕ شیخ حسن بن زین الدین عاملی (متوفی 1011ھ) 

 

انہوں نے کتاب کی صحت کے بارے میں کہا:

 

📜 “سلیم بن قیس کتاب میں وہ باتیں موجود ہیں جو اس کی تعریف اور اس کی کتاب کی صحت پر گواہ ہیں۔”

 

📚 التحرير الطاووسي، ص 252–253

 

⭕ فاضل تونی (متوفی 1071ھ) نے کہا:

 

“صدوقَین (کلینی اور صدوق ابن بابویہ) کا اس کتاب پر اعتماد کافی ہے اور یہ اصل میرے نزدیک ہے، اور اس کا متن ہی اس کی صحت کی دلیل ہے۔”

 

📚 تنقيح المقال، ج 2، ص 53

 

⭕ شیخ مجلسی (متوفی 1111ھ) نے کہا:

 

📜 “اور سلیم بن قیس کی کتاب انتہائی مشہور ہے، اگرچہ بعض لوگوں نے اس پر طعن کیا ہے، لیکن حق یہ ہے کہ یہ معتبر اصولی مصادر میں سے ہے۔”

 

📚 بحار الأنوار، ج 1، ص 32

 

https://lib.eshia.ir/71860/1/32

 

اور فرمایا:

 

📜 “اور حق یہ ہے کہ ایسی باتوں سے اس کتاب پر طعن نہیں کیا جاسکتا، جو محدّثین میں معروف ہے، جس پر کلینی، صدوق اور دیگر قدما نے اعتماد کیا ہے۔ اور اس کی زیادہ تر روایات اُن روایات کے مطابق ہیں جو صحیح اسناد کے ساتھ معتبر اصولی مصادر میں موجود ہیں۔ اور کم ہی کوئی اصولی کتاب ہوگی جو اس قسم کی چیزوں سے خالی ہو۔”

 

📚 بحار الأنوار، ج 30، ص 134

 

https://lib.eshia.ir/71860/30/134

 

⭕ محقق تفریشی (گیارہویں صدی ہجری) نے کہا:

 

“اور اس کتاب کی احادیث کے آغاز سے انجام تک صدق (درست ہونا) بالکل واضح ہے۔”

 

📚 نقد الرجال، ج 2، ص 355

 

⭕ مولى حیدر علی شیروانی نے کہا:

 

📜 “اور اس سے سلیم بن قیس ہلالی کی کتاب کی صحت معلوم ہوتی ہے، کیونکہ یہ کتاب متعدد نیک اور صحیح طرق سے ائمہ علیہم السلام کے ثقہ اور جلیل القدر اصحاب، جیسے عمر بن اُذَینہ وغیرہ کے ذریعے مروی ہے، اور اس کی روایات مختلف امور اور اہم مسائل میں بکثرت منقول ہیں۔ پھر یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ یہ بات ائمہ علیہم السلام سے مخفی رہ گئی ہو یا انہوں نے اس سے چشم پوشی کی ہو، اور اس کی صحت کے اعتقاد یا اس کی روایت سے منع نہ کیا ہو؟”

 

📚 رسالة في استنباط الأحكام في زمن الغيبة ، مخطوط؛ کتاب سلیم بن قیس، ص 37

 

⭕ شیخ حرّ عاملی (متوفی 1104ھ) نے کہا:

 

📜 “یہ سلیم بن قیس ہلالی کی وہ کتاب ہے جسے انہوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے زمانے میں تصنیف کیا، اسے لکھا اور ائمہ (علیہم السلام) پر پیش کیا۔ یہ کتاب مشہور اور معروف ہے، کتبِ رجال میں مذکور ہے، آج تک موجود ہے، اور ہمارے پاس اس کی دو نسخے ہیں۔ اس کے بہت سے نسخے اصفہان، قم، قزوین، کاشان، جبلِ عامل اور دیگر مقامات میں پائے جاتے ہیں۔”

 

📚 الفوائد الطوسية، ص 243

 

📚 سید ہاشم بحرانی (متوفی 1107ھ) نے کہا:

 

📜 “سلیم بن قیس نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے، اور یہ کتاب مشہور اور قابلِ اعتماد ہے، مؤلفین نے اسے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ وہ تابعی ہیں، انہوں نے علی، سلمان اور ابوذر کو دیکھا ہے۔ اور کتاب کے آغاز میں یہ عبارت موجود ہے: ‘یہ سلیم بن قیس ہلالی کی کتاب کا نسخہ ہے…’

 

📚 غاية المرام وحجة الخصام، ج 5، ص 313

 

⭕ محمد جعفر خراسانی کرباسی (متوفی 1175ھ) نے کہا:

 

📜 “ان کی کتاب اصحاب کے درمیان مشہور ہے، جیسا کہ غض میں ہے، بلکہ ہمارے زمانے میں چاروں کتب کے مقابلے میں زیادہ مشہور ہے۔ کلینی نے اس کی روایات نقل کی ہیں، جیسا کہ آپ جان چکے، اور شیخ صدوق نے بھی، اور دیگر نے بھی۔ اور سند میں جو اضطراب ظاہر ہوتا ہے، وہ مضر نہیں، کیونکہ ہمارے اصحاب کی بہت سی کتابوں کی اسناد میں بعض وجوہ کی بنا پر یہ چیز واقع ہوئی ہے۔”

 

📚 إكليل المنهج في تحقيق المطلب، ص 285

 

⭕ علامہ مامقانی نے کہا:

 

📜 “سلیم بن قیس کی کتاب انتہائی معتبر ہے۔”

 

اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا:

 

📜 “اس کی کتاب صحیح ہے۔”

 

📚 تنقيح المقال، ج 2، ص 52 اور 54

 

https://ar.lib.eshia.ir/10510/32/426

 

⭕ نوری طبرسی نے کہا:

 

📜 “اس کی کتاب معروف اصول میں سے ہے، اور اصحاب کے پاس اس تک پہنچنے کے بہت سے طرق موجود ہیں۔”

 

📚 خاتمة المستدرك، ج 6، ص 158

 

⭕ سید احمد صفائی خوانساری نے کہا:

 

📜 “ان کی کتاب قدیم اور بڑی اصولی کتابوں میں سے ہے، جس کے صحیح ہونے کا حکم دیا گیا ہے، اور اسے ائمہ علیہم السلام پر پیش کیا گیا، تو انہوں نے اس کی اور اس کی احادیث کی صحت کا فیصلہ فرمایا۔”

 

📚 كشف الأستار عن وجه الكتب والأسفار، ج 2، ص 130

 

⭕ علامہ امینی نے کہا:

 

📜 “سلیم کی کتاب قدیم زمانوں میں مشہور اور متداول اصول میں سے ہے، جس پر دونوں گروہوں کے محدثین اور تاریخی روایت کے حاملین اعتماد کرتے ہیں اور اس کتاب کے بارے میں قیمتی کلمات موجود ہیں، جنہیں ہم نے ایک مستقل رسالے میں جمع کیا ہے۔ ہم نے یہاں اجمالاً اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس کتاب پر اعتماد دونوں گروہوں میں مسلم ہے، اور یہی بات ہمیں اس سے نقل کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔”

 

📚 الغدير، ج 1، ص 195، حاشیہ

 

⭕ سید محمد صادق آل بحرالعلوم نے، جب اس کتاب کے بارے میں بعض اکابر کے اقوال نقل کیے، تو کہا:

 

📜 “ان بزرگوں نے تحقیق کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کتاب سلیم کی نسبت سلیم کی طرف صحیح ہے، اور یہ نہایت معتبر ہے، اور اس کی روایات صحیح اور قابلِ اعتماد ہیں لہٰذا کتاب میں کوئی شبہ نہیں اور اس پر کوئی شک وارد نہیں ہوتا۔”

 

📚 مقدمہ کتاب سلیم، ص 15، طبع نجف

 

⭕ سید المرعشی نجفی (متوفی 1411ھ) نے کہا:

 

📜 “یہ شیعہ کے ہاں سب سے قدیم اور سب سے زیادہ صحیح کتابوں میں سے ہے، بلکہ بعض اہلِ سنت نے بھی اس کی صحت کا حکم دیا ہے۔”

 

اور کہا:

 

📜 “یہ معروف کتاب ہے، طبع ہو چکی ہے، مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے، ہمارے اصحاب کے نزدیک اور اکثر اہلِ علم کے نزدیک معتبر ہے۔ ہمارے سرداروں، ائمہ معصومین علیہم السلام نے اس کی تعریف فرمائی ہے۔”

 

📚 احقاق الحق، ج 1 ص 55 اور ج 2 ص 421 حاشیہ

 

https://lib.eshia.ir/70632/1/40

 

⭕ شیخ عباس قمی نے کہا:

 

📜 “سلیم یعنی سلیم بن قیس کی ایک معروف کتاب ہے، اور یہ ان اصولی مصادر میں سے ایک اصل ہے جنہیں اہلِ علم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی حدیث کے حاملین نے روایت کیا ہے۔ یہ شیعہ کے ہاں ظاہر ہونے والی پہلی کتاب ہے، محدّثین میں معروف، اور کلینی، صدوق اور دیگر قدما نے اس پر اعتماد کیا ہے۔”

 

📚 الكنى والألقاب، ج 3، ص 293

 

🔴 فقہ و اصول کے بڑے علما اور کتابِ سلیم 🔴

 

کئی اکابر علما اور بڑے فقہاء نے شرعی مسائل کی تحقیق کے دوران کتابِ سلیم بن قیس پر اعتماد کیا ہے باوجود اس کے کہ وہ اسناد میں سختی کرتے ہیں اور انہوں نے اس کا ذکر کرتے ہوئے اس پر کوئی طعن نہیں کیا۔ بلکہ ان کا اس کی طرف رجوع خود اس کی وثاقت اور اعتماد کی دلیل ہے۔ ان میں سے:

 

⭕ فاضل ہندی (متوفی 1137ھ) نے کہا:

 

📜 “لیکن کتابِ سلیم بن قیس میں…”

 

📚 كشف اللثام، ج 2 ص 309، ج 1 ص 133

 

https://ar.lib.eshia.ir/search/10186/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8_%D8%B3%D9%84%DB%8C%D9%85_%D8%A8%D9%86_%D9%82%DB%8C%D8%B3?https://ar.lib.eshia.ir/10186/1/133

 

⭕ محقق بحرانی (متوفی 1186ھ) نے کہا:

 

📜 “اور کتاب سلیم بن قیس میں جو مشہور اصولوں میں سے ایک ہے، اور ہمارے محقق علماء کے نزدیک معتبر ماثور کتب میں شمار ہوتی ہے…”

 

📚 الحدائق الناظرة، ج 25، ص 372

 

https://ar.lib.eshia.ir/10013/25/372

 

⭕ شیخ علی کاشف الغطاء (متوفی 1253ھ) نے کہا:

 

📜 “اور کتابِ سلیم بن قیس سے منقول ہے…”

 

📚 النور الساطع في الفقه النافع، ج 1، ص 508

 

https://ar.lib.eshia.ir/10643/1/508

 

⭕ شیخ جوہری (متوفی 1266ھ)

 

انہوں نے کئی مقامات پر کتابِ سلیم سے نقل کیا ہے بغیر کسی طعن کے، فرمایا:

 

📜 “جیسا کہ کتابِ سلیم بن قیس میں ہے…”

 

📚 جواهر الكلام، ج 12 ص 4؛ نیز صفحات 91، 103، 141 دیکھیں

 

https://ar.lib.eshia.ir/search/10088/%D8%B3%D9%84%DB%8C%D9%85_%D8%A8%D9%86_%D9%82%DB%8C%D8%B3?https://ar.lib.eshia.ir/10088

 

⭕ شیخ آخوند خراسانی (متوفی 1329ھ)

 

انہوں نے کتابِ سلیم کی طرف اشارہ کیا اور کہا:

 

📜 “اُن روایات کی بنا پر جو توحید، رسالت اور ولایت کے علاوہ سب کی نفی کرتی ہیں جیسے سلیم بن قیس کی روایت اور دیگر روایات…”

 

📚 كفاية الأصول، ج 3، ص 520

 

⭕ اور محقق میرزا مشکینی نے اپنی حاشیہ میں وضاحت کی:

 

📜 “(مراد ہے) کتابِ سلیم بن قیس العامری”

 

👈 یعنی آخوند نے کتاب کی طرف حوالہ دیا تھا، صرف ایک روایت کی طرف نہیں۔

 

⭕ شیخ مرتضی حائری (متوفی 1406ھ) نے کہا:

 

📜 “اور کتابِ سلیم بن قیس ہلالی کے بارے میں…”

 

📚 صلاة الجمعة، ص 117

 

https://lib.eshia.ir/13195/1/117

 

⭕ مفسر محمد حسین طباطبائی (متوفی 1402ھ) نے کہا:

 

📜 “اور بے شک میری امت بہتر اور بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی…

میں کہتا ہوں: یہ روایت بھی مشہور روایات میں سے ہے، اور شیعہ نے اسے ایک اور طریقے سے نقل کیا ہے، جیسا کہ الخصال، المعانی، الاحتجاج، الأمالي اور کتاب سلیم بن قیس میں ہے…”

 

📚 تفسیر المیزان، ج 3، ص 379

 

https://lib.eshia.ir/50081/3/587

 

⭕ امام خمینی (متوفی 1410ھ) نے کہا:

 

📜 “اور کتابِ سلیم بن قیس ہلالی میں امیرالمؤمنین سے نقل کیا گیا ہے…”

 

📚 کتاب الطهارة، ج 2، ص 302

 

⭕ سید الخوئی نے کہا:

 

📜 “کہ کتابِ سلیم بن قیس جیسا کہ نعمانی نے ذکر کیا ہے معتبر اصولوں میں سے ہے بلکہ ان میں سے سب سے بڑی ہے، اور اس میں جو کچھ ہے وہ سب صحیح ہے، یا تو معصوم علیہ السلام سے صادر ہوا ہے یا ایسے سے جس کی روایت کو ماننا اور قبول کرنا لازم ہے۔

اور صاحبِ وسائل نے بھی اسے خاتمہ میں، فائدہ چہارم میں، ان معتبر کتابوں میں شمار کیا ہے جن کی ثابت ہونے پر قرائن قائم ہیں، اور جو اپنے مؤلفین سے تواتر کے ساتھ منتقل ہوئیں یا جن کی نسبت کی صحت معلوم ہے، یہاں تک کہ ان میں شک باقی نہیں رہتا۔

لیکن اس کتاب کی صحت پر چند اعتراضات کئے گئے:

پہلا: کہ یہ کتاب گھڑی گئی ہے…

اور یہ اعتراض ردّ ہوتا ہے…”

 

📚 معجم رجال الحديث، ج 9، ص 230

 

⭕ اور سید خوئی نے جب حر عاملی اور شیخ تفریشی کے وہ اقوال ذکر کیے جو کتابِ سلیم کے مضامین کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں، تو ان کی تائید میں فرمایا:

 

📜 “میں کہتا ہوں: اور ان باتوں کی صحت پر جو صاحبِ وسائل اور دونوں فاضل تفریشی اور استرآبادی نے ذکر کی ہیں، اس سے بھی دلیل ملتی ہے کہ نعمانی نے روایت کی ہے…”

 

📚 معجم رجال الحديث، ج 9، ص 231

 

⭕ سید محمد باقر صدر (متوفی 1400ھ)

 

اپنے اس درس کے تقریر میں جو سید کاظم حائری نے لکھا عنوان الطائفة الخامسة کے تحت کہا:

 

📜 “جس میں بعض احادیث کے نقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے

سلیم بن قیس ہلالی نے اپنی کتاب میں حسین بن علی علیہ السلام سے روایت کی ہے یہاں تک کہ فرمایا:

‘میں تمہیں خدا کے واسطے کہتا ہوں، اس حدیث کو صرف اسی کو بیان کرنا جس پر تم بھروسہ کرتے ہو۔’”

 

📚 مباحث الأصول، ج 2، ص 490

 

⭕ سید سیستانی

 

سید نے فقہِ خلافی کے بیان میں سلیم سے ابان کی روایت پر اعتماد کیا ہے، اور کہا:

 

📜 “تیسری بات: جو فقہِ خلافی میں لکھی گئی…

ان میں سے: وہ جو صدوق نے کتاب الاعتقادات میں روایتِ سلیم بن قیس ہلالی کے ذریعے اختلاف الحدیثین کے باب میں ذکر کی ہے۔

اور یہ روایت کئی اصول اور قواعد پر مشتمل ہے، جو دونوں فریقوں کی روایات میں اختلاف کے وقت اشتباہ دور کرنے کے لیے ہیں جیسے عام اور خاص میں فرق، ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ کے قواعد وغیرہ۔”

 

📚 الرافد في علم الأصول، ص 78 — تقریر بحث سید سیستانی از سید منیر الخباز

 

اور 

 

جس روایت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اسے شیخ صدوق نے اپنی کتاب الاعتقادات (ص 118) میں ذکر کیا ہے، اور اس کی سند شیخ صدوق ہی کی کتاب الخصال (ص 257) میں مذکور ہے، اور وہ (سند) اَبان بن ابی عیّاش سے، اور وہ سلیم سے روایت کرتے ہیں۔

 

⭕ شیخ ناصر مکّارم شیرازی نے کہا:

 

📜 “اسی طرح یہ بات کتاب سلیم بن قیس میں بھی وارد ہوئی ہے…”

 

📚 تفسیر نمونہ / الأمثل، ج 8، ص 28

 

🔴 شیخ مفید کا نظریہ 🔴

 

بعض اکابر علماء نے کتاب سلیم بن قیس کی اعتباریت تسلیم کرنے کے بعد یہ کہا ہے کہ اس کتاب میں دَس (دراندازی/شامل شدہ چیزیں) اور تَخلیط (ملی جلی باتیں) واقع ہوئی ہیں۔ 

 

ان میں سے شیخ مفید (متوفی 413ھ) ہیں، جنہوں نے فرمایا:

 

📜 “اور جہاں تک اُس حدیث کا تعلق ہے جسے ابو جعفرؒ نے سلیم کی حدیث سے لیا ہے، جس میں وہ اُس کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں جو اُس کی طرف منسوب ہے اور اَبان بن ابی عیاش اُس کی روایت کرتا ہے تو اس کا معنیٰ صحیح ہے، لیکن یہ کتاب قابلِ اعتماد نہیں، نہ ہی اس کے اکثر حصوں پر عمل جائز ہے۔ اس میں تخلیط اور تدلیس واقع ہوئی ہے، لہٰذا دیندار شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کی تمام باتوں پر عمل کرنے سے بچے، اس کی مجموعی روایتوں پر اعتماد نہ کرے اور نہ ہی اس کے راویوں کی تقلید کرے۔ بلکہ چاہئے کہ وہ جو احادیث اس کتاب میں ہیں ان میں سے صحیح اور فاسد کی پہچان کے لیے علماء کی طرف رجوع کرے۔ اور اللہ ہی صواب کی توفیق دینے والا ہے۔”

 

📚 تصحیح اعتقادات الامامیة، ص 149 ـ 150

 

👈 شیخ مفید کی عبارت کتاب کے وضع (جعلی ہونے) پر دلالت نہیں کرتی، نہ ہی وہ کتاب کے بارے میں توقف (مکمل تردّد) کے قائل ہیں۔

 

👈 وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ اس کتاب میں کچھ تخلیط اور تدلیس واقع ہوئی ہے، اور صحیح و غلط کی تشخیص کے لیے علماء کی طرف رجوع کیا جائے۔

 

▪️اس میں کوئی شک نہیں کہ کتاب سلیم کے نسخے مختلف شہروں اور ملکوں میں پھیلے ہوئے تھے، جیسے عراق، ایران، حجاز۔ اور یہ نسخے ان نسخوں سے نقل ہوئے تھے جو صحیح اور محفوظ تھے، خاص طور پر اگر وہ نسخے شیخ نعمانی (متوفی 360ھ) کے زمانے کے تھے یا اس سے پہلے کے۔ کیونکہ اگر ان میں دَس اور تخلیط ہوتی تو یہ بات ہمیں منقول ملتی، اور شیخ نعمانی اس کی طرف ضرور اشارہ کرتے۔

 

اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ شیخ مفیدؒ کتاب کے تمام نسخوں پر مطلع نہیں تھے جو مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے تھے، اس لیے کہ ان سب نسخوں کو جمع کرنا اور پرکھنا ناممکن تھا، خصوصاً جب ان کے مالکان کے بارے میں بھی معلوم نہ ہو۔

 

یہ بات ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ شیخ مفیدؒ کا حکم صرف ان نسخوں کے لحاظ سے تھا جو اُن کے پاس موجود تھے۔ اور اُن کا یہ کہنا کہ کتاب میں دَس ہوا ہے، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اُن کے پاس جو نسخہ تھا وہ تحریف کا شکار ہو چکا تھا اور شاید یہی وہ تحریف ہے جس کی طرف متعدد علماء نے اشارہ کیا ہے، جیسے ائمہ کی تعداد یا محمد بن ابی بکر کی اپنے باپ کو نصیحت وغیرہ…

 

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کتاب کو بالکل چھوڑ دیا جائے، خصوصاً جب کہ دَس کے جتنے مقامات بیان کیے گئے ہیں وہ محدود ہیں اور ان کے جواب دیے جا چکے ہیں۔

 

بہت سے علماء شیخ مفیدؒ کی رائے کے مخالف ہیں، اور وہ کتاب سلیم کو قابلِ اخذ اور قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں، اور ہم ان علماء کی شہادتیں پہلے ذکر کر چکے ہیں۔

 

شیعہ یہ نہیں کہتے کہ کوئی بھی کتاب شروع سے آخر تک سو فیصد صحیح ہے۔ شیخ مفیدؒ کے نظریے کے مطابق کتاب سلیم بھی دیگر کتب کی طرح ہے جس میں صحیح بھی ہے اور غیر صحیح بھی۔

 

اور شیخ مفیدؒ کے کلام میں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ وہ کتاب کے سند پر کوئی اعتراض نہیں کرتے۔ ظاہر یہ ہے کہ انہیں سند کے لحاظ سے کوئی اشکال نہ تھا۔ خصوصاً جب کہ خود شیخ مفیدؒ نے ایک فقہی مسئلے میں اسی کتاب سے روایت پر اعتماد کیا ہے اور ظاہر ہے کہ فقہی مسائل میں امامیہ بہت سختی کرتے ہیں اور صحیح سند کے بغیر دلیل نہیں لیتے۔

 

📚 المقنعة، ص 276 ـ 277

 

https://lib.eshia.ir/15114/1/277

 

🔴 شیخ تستری کی رائے 🔴

 

اور جن حضرات نے شیخ مفید کی رائے کو اختیار کیا، ان میں محمد تقی التستری بھی ہیں۔ انہوں نے کہا:

 

📜 “اور جواب میں صحیح بات وہی ہے جو ‘سلیم’ کے باب میں شیخ مفید سے منقول ہے: کہ کتاب میں دَس کیا گیا ہے، پس اس میں سے اس حصے پر عمل کرنا جس کی صحت پر کوئی دوسرا شاہد قائم نہ ہو، جائز نہیں۔”

 

📚 قاموس الرجال، ج 10، ص 500

 

👈 اور تستریؒ نے بھی کتاب سلیم سے استدلال کیا ہے۔

 

📚 النجعة في شرح اللمعة، ج 4، ص 179 ـ 180

 

👈 اور دیگر کتابوں میں بھی اس کتاب اور اس کے مضامین کی صحت پر شواہد قائم ہیں۔

 

🔴 علامہ حلی کی رائے 🔴

 

علامہ حلی نے کہا:

 

📜 “اور میری رائے میں صحیح بات یہ ہے کہ مذکورہ شخص یعنی سلیم بن قیس کو عادل قرار دیا جائے، اور اس کی کتاب کے فاسد حصے میں توقف کیا جائے۔”

 

📚 خلاصة الأقوال، ص 163

 

علامہ حلی کے کلام سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ کتاب پر اعتماد رکھتے ہیں، اور اس کے اس حصے میں توقف کرتے ہیں جو فاسد ہے یعنی وہ حصے جن میں تصحیف، تحریف، یا وہ باتیں ہوں جو طائفہ کے مسلّمات کے خلاف ہوں۔ اور یہ مقامات بہت کم ہیں، اور غالباً یہ نسّاخ یا بعض دوسرے فرقوں کے لوگوں کی وجہ سے ہوئے۔

 

تینوں اکابر شیخ مفید، تستری، اور علامہ حلی رحمہم اللہ کی رائے تقریباً یکساں ہے۔ یعنی یہ کتاب ان کے نزدیک معتبر ہے، لیکن اس میں کچھ تخلیط موجود ہے۔

 

شیخ مفید نے مشورہ دیا کہ کتاب سلیم کے بارے میں علماء کی طرف رجوع کیا جائے۔ 

 

اور یہ کتاب شیخ محمد باقر الانصاری کی تحقیق کے ساتھ طبع ہو چکی ہے۔ پس قاری کتاب کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور محقق کی ان وضاحتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جو انہوں نے بارہ سال کی تحقیق کے بعد درج کی ہیں۔

 

👈 یہ شیخ مفید کی رائے کے مطابق ہے۔

 

لیکن بعض اکابر علماء یہ رائے رکھتے ہیں کہ کتاب میں تحریف کا دخل ہی نہیں ہوا، اور یہ بات اس نظریے کی تائید کرتی ہے کہ جو نسخہ تحریف کا شکار تھا وہی نسخہ شیخ مفید تک پہنچا۔

 

⭕ شیخ مجلسی کی رائے

 

شیخ مجلسی نے کہا:

 

📜 “میں نے اس کتاب کے اس نسخے میں جو میرے تک پہنچا دیکھا کہ عبد اللہ بن عمر نے اپنے باپ کو موت کے وقت نصیحت کی۔

 

اور حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی چیزوں کی وجہ سے اُس کتاب پر طعن کرنا صحیح نہیں ہو سکتا جو محدّثین کے درمیان معروف ہے، اور جس پر کلینی، صدوق اور دیگر قدما نے اعتماد کیا ہے۔

 

اور اس کی اکثر روایات ان روایات کے مطابق ہیں جو اصولِ معتبرہ میں صحیح اسناد کے ساتھ منقول ہیں۔ اور مشکل سے ایسی کوئی کتاب ملے گی جو اس طرح کے امور سے خالی ہو۔”

 

📚 بحار الأنوار، ج 30، ص 133 ـ 134

 

اور انہوں نے کہا:

 

📜 “کیونکہ کتاب سلیم قدما کے نزدیک مقبول ہے۔ کلینی، صدوق اور دیگر نے اس پر اعتماد کیا ہے، اور وہ لوگ اُن افراد کے حالات کو اُن سے زیادہ جانتے تھے جو اُن کے بعد آئے۔

اور یہ کتاب امام محمد باقرؑ پر پیش کی گئی تھی، اور ہمارے پاس یہ کتاب موجود ہے۔”

 

📚 مرآة العقول، ج 3، شرح ص 291

 

محقق کے لیے شیخ کا یہ کلام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کتاب جسے تحریف نے نہیں چھوا اور جو امام باقرؑ پر پیش کی گئی تھی، ان کے پاس موجود تھی۔ اور انہوں نے اسے بحار الانوار میں درج کیا اور حر عاملی نے بھی اس سے نقل کیا، اور یہی نسخہ آج کل طبع ہے اور محقق نے بھی اسی پر اعتماد کیا۔

 

🔴 شیخ حر عاملی کی رائے 🔴

 

شیخ حر عاملی نے کہا:

 

📜 “اور جو نسخے ہمارے تک پہنچے ہیں، ان میں نہ کوئی فاسد چیز ہے اور نہ کوئی ایسی چیز جو اس کتاب پر وضع (جعلی ہونے) کے الزام میں دلیل بن سکتی ہو۔

اور غالباً وہ فاسد یا موضوع نسخہ کوئی اور تھا، اسی لیے وہ مشہور نہ ہوا اور ہمارے تک پہنچا بھی نہیں۔”

 

📚 وسائل الشيعة، ج 30، ص 385 ـ 386

 

⭕ شیخ مازندرانی کی رائے

 

انہوں نے کہا:

 

📜 “پھر جان لو کہ اس کتاب میں موجود اکثر احادیث دیگر معتبر کتابوں میں بھی موجود ہیں، جیسے التوحید، اصول کافی، الروضة، اکمال الدین وغیرہ۔

بلکہ نادر ہی ایسا ہے کہ اس کتاب کی کوئی حدیث دیگر مشہور اصول میں موجود نہ ہو۔”

 

📚 منتهى المقال في أحوال الرجال، ج 3، ص 381

 

🔴 نسخہ مطبوعہ اور قدیم 🔴

 

امامیہ اہلِ تشیع شیخ نعمانی (متوفی 360ھ) کے زمانے تک کتاب پر متفق تھے اور اسے اپنی اہم ترین اصولی کتب میں شمار کرتے تھے۔ بعد ازاں کتاب پر شک پیدا ہوا، اور اس سلسلے میں سب سے قدیم نصوص وہ ہیں جو شیخ مفیدؒ اور الغضائري کے پاس موجود تھیں۔

 

یہاں ہمارے سامنے سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قاری کیسے یقین کر سکتا ہے کہ موجودہ دستیاب نسخہ وہی ہے جس پر امامیہ نے پہلے تین صدیوں میں اعتماد کیا تھا؟

 

اور حقیقت یہ ہے کہ کتاب کی شہرت، اور علماء کی جانب سے غیر تحریف شدہ نسخوں کا وصول اور ان کی نگہداشت سب سے مضبوط دلیل ہیں جن پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ کتاب کو دوسرے اور تیسرے صدی ہجری کے دوران کئی بار نسخ کیا گیا، یہاں تک کہ وسط چوتھی صدی تک یہ کتاب اتفاق اور اجماع کا مرکز تھی، اور کسی نے اس میں عیب نہیں بتایا، جیسا کہ شیخ نعمانی کی متعدد مرتبہ کی گواہی میں ذکر ہوا۔

 

اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مشائخ نے اپنے طلبہ کو اس کتاب کی تلاوت کروائی، جیسا کہ اس زمانے میں معمول تھا، جس کی وجہ سے کتاب کے نسخے مختلف ملکوں میں پھیل گئے، جیسے عراق، ایران، اور حجاز۔

 

جن حضرات کے پاس کتاب کے نسخے تھے ان میں شامل ہیں:

 

کلینی (متوفی 329ھ)، صدوق (متوفی 381ھ)، ابن الولید، علی بن ابراہیم، الفضل بن شاذان (متوفی 26ھ)، ابن الندیم، الثقفی (متوفی 283ھ)، ابو جعفر الصفار (متوفی 290ھ)، العیاشی (تقریباً 320ھ)، الکشی (چوتھی صدی)، الطبری الامامی (چوتھی صدی)، المرتضی (متوفی 436ھ) اور دیگر۔

 

یہ کہنا کہ اس زمانے میں ہر نسخہ تحریف اور دَس (دراندازی) کا شکار ہوا، عقلاً ناممکن ہے۔ 

 

اسی لیے بعض علماء نے یہ کہا کہ وہ نسخے جن کے پاس تھے، ان میں کچھ تحریف ہوئی، اور مثالیں دی گئیں، جیسے ائمہ کی تعداد اور محمد بن ابی بکر کی اپنے باپ کو نصیحت وغیرہ۔

 

اور ان میں بلا شک وہ نسخے شامل ہیں جو شیخ مفید اور الغضائري کے پاس تھے۔

 

دوسری طرف بعض علماء ان نسخوں میں دَس کو رد کرتے ہیں جو ان کے پاس تھیں، جیسے یہ ذکر کرنا کہ ان کے پاس کتاب میں صرف یہ ہے کہ عبد اللہ بن عمر نے اپنے باپ کو نصیحت کی نہ کہ محمد بن ابی بکر اور ائمہ کی تعداد بارہ ہے، نہ کہ تیرہ۔

 

یہ ظاہر کرتا ہے کہ جو نسخہ ان تک پہنچا وہ اصل صحیح نسخے سے نقل شدہ تھا، جس پر تحریف نہیں کی گئی تھی۔

 

اور ان صحیح نسخوں میں سے وہ نسخہ بھی ہے جو شیخ مجلسی کے پاس پہنچا، اور انہوں نے اسے بحار الانوار میں شامل کیا اور متعدد مواقع پر اس کا دفاع کیا، اور یہی نسخہ آج چھپی ہوئی ہے۔

 

محمد زنجانی، محقق کتاب سلیم بن قیس، نے کہا:

 

📜 “نسخہ ابن ابی عمیر، جو ہمارے پاس پہنچا، یہ شیخ طوسی کے ذریعے ہمیں ملا، اس کی اسناد متصل ہیں، جیسا کہ یہ علامہ شیخ حر عاملی اور علامہ مجلسی کے پاس بھی پہنچا۔ اور یہی نسخہ آج طبع شدہ اور مستعمل ہے۔”

 

📚 کتاب سلیم بن قیس، ص 67

 

👈 کتاب میں تاریخی واقعات ذکر ہوئے ہیں، اس لیے اس کے سند کی صحت پر اتنا سختی سے اصرار ضروری نہیں، جیسا کہ فقہی احکام کی روایات میں ہوتا ہے۔ بلکہ کافی ہے کہ ایسی شواہد موجود ہوں جو کتاب میں درج مطالب کی تصدیق کریں۔ اور یہ تاریخی تحقیق کا معمولی طریقہ ہے، اور اسی کی طرف شیخ تستری نے بھی اشارہ کیا، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا:

 

📜 “پس اس میں سے عمل کرنا جس کی صحت پر کوئی دوسرا شاہد نہ ہو، جائز نہیں۔”

 

👈 پس تاریخی خبر میں سند کی مکمل صحت شرط نہیں ہے۔ اگر خبر مشہور ہو اور کئی مؤرخ یا محدّث نے ذکر کیا ہو، اور اس کے سند میں کوئی گمشدگی یا جھوٹ نہ ہو، اور یہ قرآن یا متواتر خبر یا عقل کے بدیہیات کے خلاف نہ ہو، تو اسے قبول کرنا جائز ہے۔

 

جو شخص کتاب سلیم کی روایات کا موازنہ دیگر معتبر تاریخی و عقائدی کتابوں کے ساتھ کرے، وہ دیکھے گا کہ حرف بہ حرف مطابقت بہت زیادہ ہے۔ اور یہ نسخے کے صحت مند ہونے کی اہم دلیل ہے، کہ وہ دَس یا اضافہ و کمی سے پاک ہیں۔

 

کتاب سلیم کے متن کی صحت کے شواہد بہت زیادہ ہیں۔ اور میں کہہ سکتا ہوں کہ بعض نصوص کتاب سلیم حد درجہ متطابق ہیں ان نصوص کے جو بعض اہل سنت کے اکابر نے روایت کی ہیں۔ پس کتاب سلیم میں کوئی ایسی بات عجیب یا مشکوک نہیں جو شک پیدا کرے، بلکہ بہت سی دلائل موجود ہیں جو قاری کو اطمینان دلاتی ہیں کہ یہ نسخہ درست ہے۔

 

الحمد للہ رب العالمین۔

 

بدر علی

 

والسلام علی من اتبع الهدی

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28
Gallery Image 29
Gallery Image 30
Gallery Image 31
Gallery Image 32
Gallery Image 33
Gallery Image 34
Gallery Image 35
Gallery Image 36
Gallery Image 37
Gallery Image 38
Gallery Image 39
Gallery Image 40
Gallery Image 41
Gallery Image 42
Gallery Image 43
Gallery Image 44
Gallery Image 45
Gallery Image 46
Gallery Image 47
Gallery Image 48
Gallery Image 49
Gallery Image 50
Gallery Image 51
Gallery Image 52
Gallery Image 53
Gallery Image 54
Gallery Image 55
Gallery Image 56
Gallery Image 57
Gallery Image 58
Gallery Image 59