کتاب سلیم بن قیس کے راوی ابان بن عیاش پر وارد جرح کا رد
🔴 کتاب سلیم بن قیس کے راوی ابان بن عیاش پر وارد جرح کا رد
🖋 بقلم : محترم سید ساجد بخاری النقوی
چند دن قبل کچھ تحریریں نظر سے گزری ہیں جن میں موصوف کتاب سلیم بن قیس کے خلاف لکھنے کی بھر ہور کوشش کی گئ ھے
یاد رھے کہ کتاب سلیم بن قیس تشیع کے نزدیک ایک معتبر علمی مصدر ھے جس کواصول اربعمائة میں شمار کیا گیا ھے
اس کتاب کو چونکہ جناب سلیم بن قیس حضرت ابان بن عیاش کے سپرد کر گئے تھے اس لیے بعض معترضین جناب ابان کو ایک مجروح راوی تصور کرتے ہیں
تو آئیے ان کو جواب ان کے اپنے ہی اصولوں کے مطابق دیتے ہیں
ابان پر بہت سے آئمہ نے جرح کر رکھی ھے مثال کے طور پر احمد بن حنبل یحیی ابن معین اور نسائ سمیت متعدد علماء نے ابان کو متروک الحدیث لکھا ھے
▪️متروک الحدیث سے مراد ساقط الحدیث ھے
📜 جرح کے مراتب میں وہ شخص جرح کے چوتھے درجے میں ہو گا جس پر کذاب یا ذاہب الحدیث کی جرح ہو یہی بات خطیب بغدادی نے الکفایہ میں لکھی ھے
📚 ملاحظہ ہو الکفایہ ص 23
ہم کہتے ہیں یہ موجودہ جرح جو کہ ابان پر کی گئ ھے یی قابل قبول نہیں ہوگی کیونکہ اس کی جرح کا سبب ہمیں علم نہیں ھے
کیونکہ یہ آئمہ جرح و تعدیل کے لیے لازم ھے کہ ان کی حدیث کو ترک کرنے کی وجہ بیان کی جاۓ
✅ جرح تو صرف مفسر ہی قابل قبول ھے
📜 سمعت القاضي ابا الطيب طاهر بن عبد الله بن طاهر الطبرى يقول لا يقبل الجرح
الامفسرا ، وليس قول أصحاب الحديث ، فلان ضعيف ، وفلان ليس بشيء مما
يوجب جرحه ورد خبره و انما كان كذلك لأن الناس اختلفوا فيما يفسق به فلابد
من ذكر سببه لينظر هل هو فسق أم لا ؟ وكذلك ( قال اصحا بنا (1) اذا شهد
رجلان بان هذا الماء نجس لم تقبل شهادتها حتى يبينا سبب النجاسة ، فان للناس
اختلفوا فيما ينجس به الماء ، و في نجاسة الواقع فيه .
قلت (٤) وهذا القول هو الصواب عندنا، واليه ذهب الأئمة من حفاظ الحديث
و نقاده مثل محمد بن اسمعيل البخاري ومسلم بن الحجاج النيسابوري وغيرهما .
فان البخاري قد احتج بجماعة سبق من غيره الطعن فيهم والجرح لهم كفكرمة
مولى ابن عباس في التابعين ، وكاسمعيل بن أبى أويس، وعاصم بن على ، وعمرو
ابن مرزوق في المتأخرين ، وهكذا فعل مسلم بن الحاج فانه احتج بسويد بن
سيد وجماعة غيره اشتهر عمن ينظر في حال الرواة الطعن عليهم .
📃 خطیب بغدادی لکھتے ہیں : میں نے قاضی ابوطیب طاہر بن عبداللہ بن طاہر طبری کو کہتے ہوئے سنا: جرح فقط مفسر ہی قبول ہوگی ۔ اصحاب حدیث کا " فلان ضعیف " اور " فلان لیس بشئ " کہنا کسی کی جرح اور اس کی حدیث کو رد کرنے کی وجہ نہیں بنتا۔ کیونکہ لوگوں نے اختلاف کیا ہے کہ کس وجہ سے کوئی فاسق ٹھہرتا ہے۔ پس سبب ذکر کرنا ضروری ہے تا کہ دیکھا جائے کہ وہ فاسق ہے یا نہیں؟ اسی طرح ہمارے اصحاب نے کہا ہے: جب دو آدمی گواہی دیں کہ یہ پانی نجس ہے تو ان کی گواہی اس وقت تک قبول نہیں ہوگی جب تک نجاست کی وجہ بیان نہ کرے ۔ کیونکہ لوگ ان چیزوں میں اختلاف رکھتے ہیں جو پانی کونجس کرتی ہے۔ میں کہتا ہوں: یہی قول ہمارے نزدیک درست ہے اور اسی قول کو محمد بن اسماعیل بخاری اور مسلم بن حجاج نیشاپوری وغیرہ سمیت حدیث کے حفاظ اور نقاد نے اپنایا ہے۔ بخاری نے ایسے گروہ کی روایات سے احتجاج کیا ہے جن پر اس سے پہلے دیگر لوگوں نے طعن اور جرح کی ہے۔ جیسے تابعین میں عکرمہ مولی ابن عباس ، متاخرین میں اسماعیل بن ابی اولیس، عاصم بن علی ، عمرو بن مرزوق ۔ اسی طرح مسلم بن حجاج نے بھی سوید بن سید اور دیگر افراد کی روایات سے احتجاج کیا ہے، احوال رواۃ کو دیکھنے والے کے ہاں مشہور ہے کہ ان پر طعن موجود ہے ۔ ابوداؤد سجستانی اور اس کے بعد دیگر کئی افراد نے یہی طریقہ اپنایا ہے۔ پس یہ دلالت کرتا ہے کہ ان محد ثین کے ہاں جرح وہی
ثابت ہو گی جس کی سبب اور وجہ بیان و مذکور ہو۔
📚 الکفایة فی علم الروایة ص 108 خطیب بغدادی
▪️ابن الہمام الحنفی کہتے ہیں
📜 أکثر الفقھاء و۔منھم الحنفیة والمحدثین علی أنہ لا یقبل الجرح إلا مبینا لا التعدیل
📃 اکثر فقھاء اور محدثین جن میں حنفیہ بھی شامل ہیں اس پر ہیں کہ وہی جرح مقبول ہو گی جس میں سبب جرح بیان کیا گیا ہو تعدیل میں شرط نہیں ھے
📚 تحریر الاصول بحوالہ الرفع والتکمیل
▪️ایسے حنفیہ کے علماء نے اسی قول پر اکتفاء کیا ھے
📜 أما الطعن من أئمة الحديث، فلا يقبل مجملا أي مبهما بان يقول : هذا الحديث غير ثابت، أو منكر، أو فلان متروك الحديث، أو ذاهب الحديث، أو مجروح، أو ليس بعدل، من غير أن يذكر سبب الطعن، وهو . هو مذهب عامة الفقهاء والمحدثين. (مصدر سابق)
📃 ائمہ حدیث کی جرح مبہم مقبول نہیں ہے مثلاً سبب جرح ذکر کیے بغیر کوئی یوں کہے: یہ حدیث غیر ثابت ہے ، یا منکر ہے ، یا فلاں متروک الحدیث ہے، یا ذاہب الحدیث ہے ، یا مجروح ہے، یا عادل نہیں ، ایسی جرح نا مقبول ہے یہی عامہ فقھاء و محدثین کا مذہب ہے۔“
▪️علامہ قاسم بن قطلوبغا "شرح مختصر المنار“ میں فرماتے ہیں:
📜 "لا يسمع الجرح في الراوي إلا مفسر ا بما هو قادح. (مصدر سابق)
📃 رادی کے بارے میں وہی جرح مسموع ہوگی جس میں سبب قادح کو بیان کیا گیا ہو۔
اس طرح اصول فقہ حنفی کی متعد د کتابوں میں یہ صراحت ہے کہ ہمارے ائمہ حنفیہ نے قول اول کو ہی اختیار فرمایا ہے
💯 لہذا ثابت ہوا کہ جرح وہی ھے جو مفسر ہو جس میں سبب جرح کو بیان کیا گیا ہو
▪️محمد ابراہیم بن بشیر الحسینوی نے اپنی کتاب جرح وتعدیل کے اصول و ضوابط میں بھی اس بات کا اقرار کیا ھے
⭕ شروط جارح و معدل
1 جارح متقی و پرہیز گار ہو سچا اور تعصب و تنگ نظری سے پاک ہو
2 اسباب جرح و تعدیل سے اچھی طرح واقف ہو
💯 لہذا اس بات سے واضح ہوتا ھے کہ جرح مفسر کا اعتبار ھے
❓اب ہم اسی قاعدے کو سامنے رکھتے ہوۓ منصافانہ سوال کرتے ہیں ایک تو ابان پر جرح کرنے والے ابان کے زمانہ کے نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی ابان سے ملاقات ثابت ھے سواۓ شعبہ بن الحجاج کے
❓تو ان کی ابان پر کی گئ جرح بغیر سبب کے کیا حثیت رکھتی ھے
👈 حقیقت تو یہ ھے کہ
ان کی کتابوں میں نقل شدہ عبارات سے یہ بات معلوم ہوتی ھے کہ ابان کی حدیث کو ترک کرنے کے جو اسباب اھلسنت کتب میں وارد ہیں وہ سب لغو اور بے معنی ہیں
حافظ ذھبی جو کہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں
میزان الاعتدال میں ایک قول لاتے ہیں
📜 وقال يزيد بن زريع : إنما تركت ابانا ، لانه روى حديثا عن انس . فقلت له :
عن النبي صلى الله عليه وسلم ؟ فقال : وهل بروي أنس إلا عن النبي صلى الله علیہ وسلم ؟
📃 یزید بن زریع سے نقل ھے کہ اس نے کہا میں ابان کی احادیث کو ترک کرتا ہوں کہ اس نے انس سے حدیث نقل کی ھے میں نے اس سے کہا نبی کریم ﷺ سے اس نے کہا کیا انس نبی کریم ﷺ کے علاوہ کسی سے نقل کرتے ہیں
📚 میزان الاعتدال ج 1 ص 11
❓ ان کے قول میں کیا اشکال ھے ہمیں علم نہیں ھے ؟
اگر یہ شخص اطمنان رکھتا ھے یعنی یزید بن زریع کہ انس کی مرویات تمام کی تمام نبی کریم ﷺ سے ہیں اگرچہ ان کی تصریح نہ بھی کرے تو کیا اس کی حدیث کو ترک کرنے کا سبب یہی بات ہوگی ؟
❓معتدل علماۓ اھلسنت سے ہمارا سوال ھے کیا یہ آپ کے اصول حدیث کے مطابق ھے
✅ اھلسنت کے اتفاق ھے کہ صحابی اگر حدیث بیان کرے اور علم ہو کہ اس نے نبی ﷺ سے بلا واسطہ نہیں سنی یا ایک ایسا واقعہ نقل کرتا ھے جسے اس نے نہیں پایا تو اس کی حدیث اتصال پر حمل ہو گی
کیونکہ صحابی صرف صحابی سے نقل کرتا ھے اور اھلسنت کے عقائد میں صحابی کلھم عدول ہیں
▪️دیکھتے ہیں ابن صلاح کیا کہتے ہیں
📜 ایسے صحابہ کرام جنہوں نے صغر سنی میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہو وہ اگر کسی روایت کو
رسول اللہ ﷺ سے نہ سننے کے باوجود بر اور آپ سے بیان کرتے ہیں تو اسے مرسل الصحابی کہتے ہیں۔ اس طرح کی روایات موصول کے حکم میں ہیں کیونکہ ان کی بیشتر روایات صحابہ کرام سے ہی مروی ہوتی ہیں اگر کسی صحافی کا نام روایت کرتے وقت بیان نہ کیا جائے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ محد ثین کے ہاں یہ قاعدہ ہے کہ الصحابة كلهم عدول یعنی صحابہ کرام سب کے سب راست باز اور دیانت دار ہیں۔
📚 تسھیل مقدمہ ابن صلاح ص 26
۔
🔴 شعبہ بن الحجاج اپنی جرح کے آئینہ میں
ابان بن عیاش پر کذب کی جرح صرف شعبہ بن الحجاج نے کی ھے جس نے ابان پر طعن اور حملے کیے ہیں
اور لوگوں کو منع کیا ھے کہ اس سے سماع اور تعلق بنائیں
ابن عدی الکامل میں نقل کرتے ہیں
1⃣ 📜 حدثَنَا أَحْمَد بْن مُحَمَّد بن شبيب، حَدَّثَنَا أَحْمَد بن أسد أبو جعفر، ثنا شعيب بن حرب ، قَالَ : سَمِعْتُ شعبة يَقُولُ : لأن أشرب من بول حمار حتى أَرْوَى أحب إلي من أن أقول : حَدَّثَنَا ] (٤) أبان بن أبي عياش
📃 ابن عدی جرجانی نے شعیب بن حرب سے نقل کیا ھے کہ میں شعبہ کو کہتے ہوۓ سنا میں گدھے کا پیشاب پینا ابان بن ابی عیاش کی حدیث کو نقل کرنے سے زیادہ پسند کرتا ہوں
📚 الکامل فی ضعفاء ج 2 ص 267
2⃣ 📜 تب إلي مُحَمَّد بْن أَيُّوب، أخبرني الحسن (٦) بن شعيب سَمِعْتُ - يزيد بن هارون يَقُولُ : قَالَ شعبة : لأن أزني سبعين مرة أحب إلي من أن أحدث عن أبان بن أبي عياش
📃 یزید بن ھارون سے نقل ھے کہ شعبہ نے کہا سترہ دفعہ زنا کرنا ابان بن ابی عیاش سے احادیث بیان کرنے سے زیادہ پسند کرتا ہوں
📚 الکامل فی ضعفاء ج 2 ص268
3⃣ 📜 حدثَنَا الْحَسَن بن سفيان، حَدَّثَنِي عَبْد العزيز بن سلام، ثنا رافع (۳) ، أخبرنا عبد الله بن إدريس، سَمِعْتُ شعبة يَقُولُ : لأن يفعل الرجل بالزنى خير له من أن يروي عن أبان
📃 عبداللہ بن ادریس سے نقل ھے کہ اس نے شعبہ کو کہتے ہوۓ سنا ایک شخص کا زنا کرنا اس کی ابان سے روایت نقل کرنے سے بہتر ھے
📚 الکامل فی ضعفاء ج 2 ص 268
4⃣ 📜 قَالَ الشَّيْخُ : حُدثت (۳) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ تَوْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْن هَارُونَ قَالَ : قَالَ شُعْبَةَ : إِزَارِي وَحِمَارِي فِي الْمَسَاكِينِ أَنَّ أَبَانَ يَكْذِبُ،
📃 ذہبی نے میزان میں اور ابن عدی نے الکامل میں یزید بن ھارون سے نقل کیا ھے کہ شعبہ نے کہا میرا گھر اور گدھا مساکین میں صدقہ ہو اگر ابان بن عیاش حدیث میں جھوٹ نہیں بولتا
📚 الکامل فی ضعفاء ج 2 ص 268
👈 بخاری اپنی تاریخ صغیر میں لکھتے ہیں کہ شعبہ ہی وہ پہلا شخص ھے جس نے ابان بن ابی عیاش کے متعلق نقد کی بنیاد رکھی ھے اور اسی ایک شعبہ سے یہ دشمنی اور جرح دور تک پھیلی ھے
بخاری لکھتے ہیں ابان بن عیاش فیروز ابو اسماعیل بصری کہا جاتا ھے کہ یہ عبدالقیس کا مولی ھے شعبہ کی اس کے بارے میں بری راۓ ھے
📜 وقال البخاري : كان شعبة سيئ الرأي فيه .
📚 تہذیب الکمال ج 2 ص20
📚 الکامل فی ضعفاء ج 2 ص269
📚 التاریخ الصغیر بخاری ج 2 ص 50
❌ یہ جروحات تھیں جو کہ شعبہ نے نے ابان بن عیاش پر کی ہیں
✅ اگر ہم تعصب سے ہٹ کر ان جروحات پر غور کریں تو کیا یہ جروحات اسلامی اقدار و روایات کے عین مطابق ہیں یا اس پر شعبہ کی انارکی شامل ھے کیا کبھی نے محدثین پر ایسی ناشائستہ اور دین اسلام کی مخالفت کرتی ہوئ جرح کی ہیں
▪️یعنی میں گدھے کا پیشاب پینا پسند کرتا ہوں
▪️سترہ مرتبہ زنا کرنا پسند کرتا ہوں
▪️اپنا گدھا اور گھر صدقہ کرتا ہوں
❓ایک شخص کا زنا کرنا بہتر ھے لیکن ابان سے روایت کرنا پسند نہیں ھے
👈 جبکہ یہی شعبہ بعد میں اسی ابان سے روایت کرتا ھے
وہ ہم آگے جا کے پیش کریں گے
⭕ اس سے پہلے ہم ان جروحات پر چند نقاط پیش کرنا چاہیں گے
1⃣ ہم نے پہلی تحریر میں ثابت کیا تھا کہ اھلسنت کے قواعد میں جرح صرف مفسر ہی ھے یعنی ایسی جرح جس کا سبب بیان کیا جاۓ جس پر ہم نے علماۓ اہلسنت کے اقوال بھی نقل کیۓ تھے
شعبہ کی ابان پر متہم بالکذب کی جرح کی کیا دلیل ھے ؟
💯 بلکہ کوئ دلیل ہی نہیں ھے شعبہ نے اگرچہ اللہ کی قسم کھائ ھے لیکن قواعد اھلسنت کے تحت شعبہ کے پاس ابان کے کذب کی کوئ دلیل نہیں ھے
اس نے صرف جرح کی ھے ایسا کوئ بھی مورد ذکر نہیں کیا ھے جس میں ابان نے جھوٹ اور کذب سے کام لیا ہو اب اگر اس کے کلام کو جرح مفسر بلا سبب میں لایا جاۓ تو تعدیل کے متعارض آ کے ساقط ہو جاۓ گا
جس سے شعبہ ہی منفرد ٹھرتے ہیں اس لیے یہ جرح بالکل ان کی ذاتی حثییت کی ھے جس کی انصاف پسند علماء کے درمیان کوئ حقیقت نہیں ھے
2⃣ شعبہ بن الجاج کے بہت سارے معاصر محدثین نے اس تہمت کا انکار کیا ھے
اور ابان بن عیاش پر شعبہ کے حملوں سے تعارض کیا ھے
❓حافظ ذھبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں
📜 وقال احمد بن حنبل قال عباد بن عباد أتیت شعبة أنا حماد بن زید فکامناہ فی أن یمسک عن أبان بن أبی عیاش قال فلقیھم بعد ذلک ماأرانی یسمنی السکوت عنہ
📃 احمد بن حنبل نے عباد بن عباد سے نقل کیا ھے کہ میں اور حماد بن زید شعبہ کے پاس آۓ تو ہم نے اس سے بات کی کہ وہ ابان بن ابی عیاش کے بارے میں خاموش رہے میں اس کے بعد ان سے ملا تو اس نے کہا میں اس کے بارے میں خاموش نہیں ہو سکتا
📚 میزان الاعتدال ج 1 ص 11
📜 وقال عبد الله بن أحمد بن شبويه (1) : سمعت أبا رجاء يقول : قال حماد بن زيد:
كلمنا شعبة في أن يكف عن أبان بن أبي عياش لسنه وأهل بيته ؛ فضمن أن يفعل ؛ ثم اجتمعنا في جنازة فنادى من بعيد : يا أبا إسماعيل ، إلى قد رجعت عن ذلك، لا
يحل الكف عنه ، لأن الأمر دين .
📃 عبد اللہ بن احمد بن شبو یہ سے نقل ہے کہ میں نے ابور جاء کو کہتے ہوئے سنا کہ حماد بن زید نے کہا: ہم نے شعبہ سے بات کی کہ وہ ابان بن ابی عیاش کے بارے میں اس کی عمر اور گھر والوں کی وجہ سے خاموش رہے تو اس نے خاموش رہنے کا وعدہ کیا، پھر ہم ایک جنازے میں جمع ہوئے تو اس نے دور سے ندا دی کہ اے ابو اسماعیل : میں اس موقف سے رجوع کرتا ہوں ، ابان کے متعلق خاموش رہنا جائز نہیں کیونکہ یہ دین کا مسئلہ ھے
📚 میزان الا عتدال ج 1 ص 11
▪️ ذھبی نقل کرتے ہیں
📜 وقال ابن إدريس : قات لشعبة : حدثنى مهدى بن ميمون ، عن سلم العلوى ، قال : رأيت أبان بن أبي عياش يكتب عن أنس بالليل ، فقال شعبة : سلم يرى الهلال
قبل الناس بليلتين
📃 ابن ادریس کہتے ہیں کہ میں نے شعبہ سے کہا تم مہدی بن میمون کے بارے میں کیا کہتے ہو اس نے کہا وہ ثقہ ھے اس نے مجھے سلم علوی سے حدیث نقل کی ھے کہ اس نے ابان کو انس کے پاس لکھتے ہوۓ دیکھا ھے
شعبہ نے کہا وہ سلم علوی وہی ھے جس نے لوگوں سے دو راتیں پہلے چاند دیکھا تھا
📚 میزان الاعتدال ج 1 ص 10
جو اقوال ہم نے اوپر پیش کیے ہیں واضح کرتے ہیں کہ شعبہ بن حجاج کے طعن جو اس نے ابان پر کیے ہیں بالکل بھی درست نہیں ہیں اور لوگ ان طعن کو درست نہیں مانتے تھے باوجود اس کے کہ لوگ اس کو رجال کے حوالے سے امام کہتے تھے
3⃣ تیسری بات یہ ھے کہ شعبہ بن الحجاج خود معترف ھے کہ ابان کے احوال کے بارے میں کوئ بھی چیز واضح نہیں ھے بلکہ سب ظن ھے
بلکہ یہی کہا جا سکتا ھے کہ شعبہ ابان کے بارے میں بری راۓ رکھتے تھے
اسی بات کو امام عقیلی نے اپنی کتاب میں نقل کیا علاوہ ازیں حافظ ذھبی نے بھی اس قول میزان الاعتدال میں نقل کیا ھے
امام عقیلی جو کہ اھلسنت کے جرح و تعدیل کے امام مانے جاتے ہیں
انہوں نے معاذ بن معاز سے شعبہ بن الجاج کا ابان کے متعلق ایک قول نقل کیا ھے
📜 حدثنا معاذ بن معاذ قال قلت لشعبة رأیت و قعتک فی أبان بن ابی عیاش شئ تبین لک او غیر ذلک قال ظن یشبہ الیقین
📃 معاذ بن معاذ نے کہا میں نے شعبہ سے کہا میں نے دیکھا ھے کہ ابان بن عیاش پر آپ جرح کرتے ہیں کیا آپ پر کوئ چیز آشکار ہوئ ھے یا کوئ اور بات ھے شعبہ نے کہا یہ ایک ظن ھے جو یقین سے مشابہ ھے
📚 ضعفاء عقیلی ج 1 ص 39 رقم 22
📚 میزان الاعتدال ج 1 ص 11
آپ نے دیکھا کہ ابان پر جرح محض شعبہ کے گمان و ظن کا نتیجہ ھے جب ظن کے معنی ہی گمان ہیں تو اس کو یقین پر کیسے منطبق کیا جا سکتا ھے اس لیے کہ شعبہ کو خود کوئ ایسا سبب نہیں ملا جو کہ جرح مفسر کؤ ثابت کر سکتے ظن کبھی بھی یقین سے مشابہ نہیں ہوتا
4⃣ چوتھی بات
شعبہ نے جو جرح کی ھے وہ ہم نے پیچھے نقل کی ھے یعنی شعبہ نے کہا میں سترہ مرتبہ زنا کرنا بہتر سمجھتا ہوں
میں اپنا گھر اور گدھا صدقہ کرنا بہتر سمجھتا ہوں
گدھے کا بول پیشاب پینا بہتر سمجھتا ہوں کہ ابان حدیث میں جھوٹ بولتا ھے یا میں ابان سے روایت کروں
ان سارے اعتراضات جو کہ شعبہ نے ابان پر ہیں کے باوجود شعبہ پھر بھی ابان سے روایت نقل کرتا ھے اور اپنے اقوال کی شدت سے نفی کرتا ھے
جو کہ کسی بھی جارح کے لیے قابل مذمت ہیں
5⃣ پانچویں بات اب ہم یہاں ایک روایت اعلاءسنن مولانا ظفر احمد تھانوی کی کتاب سے پیش کرتے ہیں
جس کو مولانا نے حسن درجہ کی روایت قرار دیا ھے
📜 عن ابی حنیفة عن أبان بن عیاش عن ابراھیم عن علقمة عن عبداللہ بن مسعودعن ام عبداللہ رضی اللہ عنھہا قالت رآیت رسول اللہ ﷺ قنت فی الوتر قبل الرکوع
✅ وھذا حدیث حسن
شعبہ کا حدیث ابان بن عیاش پر صبر نہ کرنا بذات خود شعبہ پر سوال ھے
ملاحظہ ہو
📜 قال الذھبی فی المیزان قال یزید بن ھارون قال شعبہ داری و حماری المساکین صدقة ان لم یکن ابان یکذب فی الحدیث قلت لہ فلم سمعت منہ قال یصبر عن ذا الحدیث
📃 مولانا ظفر احمد تھانوی لکھتے ہیں کہ شعبہ کے علاوہ ابان کو کسی نے جھوٹا نہیں کہا لیکن اس کے باوجود حدیث قنوت سے صبر نہ کر سکے
▪️ ذھبی کہتے ہیں کہ
📜 یزید بن ھارون کہتے ہیں میں نے شعبہ سے کہا اگر ابان جھوٹا ھے تو آپ نے اس سے سماع کیوں کیا ؟ تو شعبہ نے کہا اس سے کون صبر کر سکتا ھے
📚 اعلاء السنن جلد 6 ص 83
ان تمام تر مطالب کو سامنے رکھیں تو واضح ہو جاتا ھے شعبہ نے ابان پر طعن اس کے جھوٹ یا وضع کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ اس کے طعن کا ایک ہی سبب تھا جس کو شعبہ نے مخفی رکھا یعنی ابان ایسے مذھب کا پیروکار تھا جو کہ شعبہ کے مذھب سے مختلف تھا
اور وہ معروف مذھب شیعہ ھے
✅ تحقیق سید ساجد بخاری النقوی
منقول
Gallery
Tap any image to view full screen