کیا آیت اللّه خوئی اور دیگر شیعہ مدثین نے ابان بن ابی عیاش پر ضعیف کا حکم لگایا ؟
⁉️ کیا آیت اللّه خوئی اور دیگر شیعہ مدثین نے ابان بن ابی عیاش پر ضعیف کا حکم لگایا ؟
ابان بن ابی عیاش کے متعلق آیت اللّه خوئی اپنی کتاب معجم الرجال میں 👈 *ابن غضائری* کا قول لکھتے ہیں کہ
📝 ابان تابعی ہے ضعیف ہے
📜 تابعی روی عن انس بن مالک روی عن علی بن الحسین ؑ ضعیف وضع کتاب سلیم بن قیس الیہ رجال ابن غضائری
▪️اسی طرح گیارویں صدی ہجری کے ماہر رجال سید مصطفی بن الحسین الحسینی القرشی کی *کتاب نقد الرجال* میں بھی ابان بن ابی عیاش کے متعلق لکھا گیا کہ
📜 تابعی ضعیف من اصحاب علی بن الحسین والباقر والصادق ؑ رجال شیخ
تابعی روی عن انس بن مالک روی عن علی بن الحسین ؑ ضعیف وضع کتاب سلیم بن قیس *الیہ رجال ابن غضائری*
انہوں نے بھی یہ بات 👈 ابن غضائری کے رجال سے نقل کی ھے
اسی طرح علامہ حلی نے *خلاصة الاقوال* میں 👈 *ابن غضائری* سے یہ عبارت نقل کی
اس کے بعد یہی عبارت 👈 *رجال ابن غضائری* کے حوالے سے تقی الدین ابی داود الحلی نے اپنی *کتاب الرجال* میں نقل کی ھے
اور یہی عبارت 👈 *اردبیلی نے ابن غضائری سے نقل کی۔*
▪️اسی طرح عبارت *مجمع الرجال علامہ عبداللہ القھپائ* کی کتاب سے نقل کی ھے
اب *مجمع الرجال* سے عبارت نقل کرتے ہیں
صاحب مجمع الرجال عبداللہ القھپائ نے بھی ابان بن عیاش کے بارے میں وہی عبارت نقل کی ھے 👈 *جو رجال ابن غضائری میں ھے*
آگے لکھتے ہیں
📜 و سیذکر ان شاء اللہ فی سلیم بن قیس الھلالی
کہ ہم اس کا ذکر سلیم بن قیس کے تذکرہ میں کریں گے
📚 مجمع الرجال ج ١ ص, ٢٦
https://lib.eshia.ir/11789/1/16/%D8%B3%D9%84%DB%8C%D9%85_%D8%A8%D9%86_%D9%82%DB%8C%D8%B3
⭕ لیکن یہی عبداللہ القھپائ اپنی کتاب مجمع الرجال میں کتاب سلیم کی دو اسناد نقل کر رہے ہیں
📜 *نمبر 1* سلیم بن قیس یکنی ابا صادق اخبرنا بہ ابن ابی جید عن محمد بن الحسن الولید عن محمد بن القسم الملقب بما جیلویہ عن سلیمان محمد بن علی الصیرفی عن حماد بن عیسی و عثمان بن عیسی عن ابان بن عیاش عن سلیم بن قیس الھلالی
📜 *نمبر 2* سلیم بن قیس الھلالی یکنی ابا الصادق أخبرنی علی بن احمد القمی قال حدثنا محمد بن الحسن بن الولید قال حدثنا محمد بن ابی القاسم ما جیلویہ عن محمد بن علی الصیرفی عن حماد بن عیسی و عثمان ب عیسی قال حماد بن عیسی و حدثنا ابراہیم بن عمر الیمانی عن سلیم بن قیس بالکتاب
▪️پہلی سند میں کتاب سلیم بن قیس کو ابان بن عیاش کی سند سے نقل کیا ہے
▪️جبکہ دوسری سند عمر الیمانی کے واسطہ سے سلیم بن قیس سے نقل ھے
❌ *لہذا یہ بھی معترضین کا استدلال باطل ہوا*
✅ کیونکہ صاحب مجمع الرجال خود اس کتاب کی توثیق کے قائل ہیں کیونکہ انہوں نے خود کتاب سلیم بن قیس کو ابان بن ابی عیاش کی سند کے علاوہ دوسری سند سے نقل کیا ہے۔
📚 مجمع الرجال عبداللہ القھپائ ج ٣ ص ١٥٨
https://lib.eshia.ir/11789/3/158
👈 *اگر مکمل تحقیق کی جاۓ تو ابان بن ابی عیاش پر سب سے پہلے اعتراض رجال ابن غضائری سے نظر آتا ھے*
💯 *کیونکہ جس نے بھی ابان بن عیاش کو ضعیف لکھا ہے اس نے اسی رجال ابن غضائری کے حوالے سے لکھا ھے*
۔
🌹 *اب رجال ابن غضائری کی حقیقت پیش کرتے ہیں*
⭕ *رجال ابن غضائری کی روایت اور کتاب پر ایک نظر*
اصل روایت جو آیت اللّه خوئی اور دیگر محدثین نے ابان بن ابی عیاش کے متعلق لکھی وہ یہ ہے
رجال ابن غضائری میں لکھا ہے کہ
📜 أبانُ بنُ أبي عيّاش، واسمُ أبي عيّاش: فَيْرُوز. تابعيٌّ، روى عن أنس بن مالك. وروى عن عليّ بن الحُسَيْن عليهما السلام. ضَعِيفٌ، لا يُلْتَفَتُ إليه. وَيَنسِبُ أصحابُنا وَضْعَ كتاب سُلَيْم بن قَيْسٍ إليه.
📃 ابان بن ابی عیاش، ابو عیاش کا نام فیروز تھا تابعی تھا۔ اس نے انس بن مالک سے روایت کیا ہے اور اس سے علی بن حسینؑ نے روایت کیا ہے۔ یہ ضعیف ہے۔ اس کی طرف توجہ نہ دی جائے اور ھمارے صحا ساتھیوں نے اسکی طرف کتاب سلیم بن قیس کو وضع کرنے کی نسبت دی۔
📚 رجال - منسوب بہ ابن غضائری // صفحہ ۳۶ // طبع دار الحدیث قم ایران۔
✅ جواب ✅
کتاب سلیم بن قیس اور ابان بن ابی عیاش پر اعتراض کرنے والے ایک ایسی کتاب سے اعتراض کرتے ہیں جو کہ خود مشکوک ھے
اور اس میں بھی ابان بن عیاش پر ضعیف کی جرح ھے نا کہ کذب کی اس پر مزید بات کریں گے
علماء و محققین کی ایک کثیر تعداد رجال ابن غضائری کو معتبر نہیں مانتی
نقل ہوا ہے کہ سب سے پہلے اس کتاب کا تذکرہ اور اسے ابن غضائری سے منسوب کرنے والے احمد بن طاووس حلی (673 ھ) ہیں۔
یعنی احمد بن طاووس حلی بے ابن غضائری کی وفات کے 100 سال بعد اس کو ابن غضائری سے منسوب کیا اور اس کی سند انکو نہیں مل سکی
📚 الذریعہ الی تصانیف الشیعہ بزرگ تہرانی ج ١٠ ص ٨٩
بعض شیعہ محدثین جیسے علامہ مجلسی و محدث نوری انہیں معتبر نہیں مانتے ہیں۔
اس لئے کہ اس کتاب میں کچھ شیعہ راویوں کو جنہیں علمائے رجال و دیگر علماء شیعہ نیکی کے ساتھ یاد کرتے ہیں، ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
اس کتاب میں ایسے راویوں کو جنہوں نے ائمہ (ع) سے کرامات نقل کی ہیں ضعیف شمار کیا گیا ہے
اس لیے بہت سے شیعہ متکلمین اس کتاب کی وثاقت کے قائل نہیں
بعض علمائے رجال نے اس کتاب کو مخالفین شیعہ کی تالیف قرار دیا ہے۔ جس میں انہوں نے جھوٹے مطالب شامل کرکے شیعہ بزرگان کے چہرے کو مسخ کرنا چاہا ہے۔
ان کے مطابق چونکہ ابن غضائری احمد بن علی نجاشی کے دوست اور ساتھی تھے، اگر ابن غضائری نے رجال میں کوئی کتاب تالیف کی ہوتی تو نجاشی اس کا تذکرہ کرتے۔
📚 ابو القاسم الخوئ معجم رجال الحدیث ج ١ ص ٩٥،٩٦
▪️اسی طرح سے احمد بن طاووس کے اس قول کو کہ وہ اس کتاب کی ابن غضائری تک متصل سند دریافت نہیں کر سکے ہیں
📚 تحریر طاووسی ابن طاووس ص ٥
▪️مشہور شیعہ ماہر رجال السید ابوالقاسم الخوئ ؒ نے اس کتاب پر مکمل جرح کی ھے لکھتے ہیں
📜 واما الکتاب المنسوب لابن غضائری فھو لم یثبت و لم یعترض لہ العلامة فی اجازاتہ و ذکرہ طرقہ الکتب بل ان وجود ھذا الکتاب فی زمان النجاشی والشیخ الیضاً مشکوک فیہ
📝 کہتے ہیں کہ کتاب ابن غضائری سے جو منسوب ھے یہ ثابت نہیں ھے اور اس کا وجود شیخ نجاشی اور طوسی کے زمانہ تک مشکوک ھے کیونکہ یہ معاصر ہیں اور نجاشی و طوسی نے کہیں بھی اس کتاب کا ذکر اپنی کسی کتاب میں نہیں کیا
📚 معجم الرجال الحدیث ص ,٩٥
صحفہ 96 پر لکھتے ہیں
📜 ان الکتاب المنسوب الی ابن غضائری لم یثبت بل جزم بعضھم بانہ بالموضوع و ضع بعض المخالفین و نسبہ الی ابن الغضائری مما یوکد عدم صحة نسبة ھذا الکتاب الی ابن غضائری
📝 یہ کتاب جو ابن غضائری سے منسوب ھے ثابت نہیں لیکن یہ ھے کہ اس کو مخالفین نے وضع کر کے ابن غضائری سے منسوب کر دیا ھے جو کہ اس کی عدم صحت کو ثابت کرتی ہے
📚 معجم رجال الحدیث ج ١ ص ٩٦
💯 قارئین محترم ہم نے ثابت کر دیا کہ جس کتاب سے ابان بن عیاش کے حوالے سے کتاب سلیم بن قیس پر وضع ہونے کا الزام ھے اسکی اپنی کوئ سند نہیں ھے لہذا معترضین کے تمام اختلافات باطل ہو جاتے ہیں
⭕ علامہ ذیشان حیدر جوادی نے اس کتاب کے بارے میں یوں کہا :
📜 ابن غضائری کی ایک تالیف "کتاب الضعفاء" کے نام سے ہے جس کا سب سے پہلے سراغ جمال الدین ابن طاوس حلیؒ نے لگایا تھا اور اسے اپنی کتاب "حل الاشکال فی معرفۃ الرجال" میں نقل کر دیا تھا جس کی تالیف ۶۴۴ھ میں ہوئی تھی اور سید ابن طاوس کے بعد انہیں کی کتاب سے علامہ حلیؒ اور ابو داودؒ نے نقل کیا ہے۔ اور اسکے بعد انھیں دونوں حضرات کی کتابوں سے نقل ہوتا رہا۔ ورنہ اصل کتاب کا کہیں دور دور پتہ نہیں ہے اور ابن طاؤسؒ کا بھی اپنی کتاب میں شامل کرلینا اسکے اعتبار اور استناد کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ انکا منشا یہ تھا کہ سارا مواد جمع کردیا جائے تاکہ جب انکے بارے میں یا کتاب کے بارے میں کوئی تحقیق کی جائے تو اس کا ایک حوالہ مل جائے۔
📚 علم الرجال - ذیشان حید جوادیؒ // صفحہ ۴۵ - ۴۶ // طبع تنظیم المکاتب لکھنؤ ھندوستان۔
💯 لہذا ثابت ہوگیا کہ ابن غضائری کی کتاب الرجال جو آج ھمارے ہاتھوں میں ہے اسکی کوئی سند نہیں مولف تک۔ ابن غضائری ۴۵۰ ھجری سے پہلے وفات پاگئے تھے اور ابن طاوس کی وفات ۶۴۴ ھجری میں ہوئی لہذا انکے درمیان کم سے کم ۲۰۰ سال کا فاصلہ ہے
👈 اب تک نہ صرف کتاب تو صرف کتاب سلیم بن قیس کی توثیق پیش کی جا چکی ہے
بلکہ
👈 ابان بن ابی عیاش پر شیعہ کتب میں وارد ہوئی ضعیف کی جرح کا جواب بھی دیا جا چکا ہے
کہ ضعیف کی جرح سب سے پہلے ابن غضائری نے کی جو کتاب خود مشکوک ہے یعنی اپنے مولف سے ثابت نہیں ہے
لہذا شیعہ کتب الرجال میں ابان بن ابی عیاش کے بارے میں کہیں ایسا نہیں ملتا ہے کہ وہ کذاب یا وضع کرنے والا تھا جس سے ان لوگوں کا رد ہوتا ہے جو ابان پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ اس نے اس کتاب کو خود وضع کیا۔
اسکے علاوہ صرف شیخ طوسی نے ابان کے لئے "ضعیف" کا لفظ استعمال کیا ہے جو کذب پر دلالت نہیں کرتا۔
ایک راوی پر جب ضعف کا حکم لگتا ہے تو وہ دو صورتوں میں ہو سکھتا ہے :
1️⃣ جب راوی کے مذھب میں ضعف ہوگا (فاسد مذھب) -
(اس کا دارومدار راوی کی روایات پر ہوتا ہے۔ ابان کے بارے میں یقیناً یہ بات ثابت ہے کہ اس سے صرف شیعی روایات ہی منقول ہے لہذا شیخ طوسیؒ کی اس جرح کا تعلق انکے مذھب سے ہرگز نہیں ہے۔)
2️⃣ جب راوی کے حافظہ یا ضابطہ میں ضعف ہوگا -
(عام طور ہر جب راوی پر ضعف کی جرح ہوتی ہے تو وہاں یہی مراد ہوتا ہے۔)
لہذا ابان پر جرح اگر صحیح مان بھی لی جائے تو یہ اسکے حافظے کی وجہ سے ہے
⚖️ ھماری دلیل اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ جب ھم دیکھتے ہیں کہ اھل سنت علم الرجال میں بھی ابان پر صرف اسکے حافظے یا ضابطے کی وجہ سے جرح ہوئی ہے۔
عقیلی نے اپنی سند سے یوں نقل کیا ہے :
📜 قُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ: مَا لَكَ لَا تُحَدِّثُ عَنْ أَبَانَ؟ أَوْ مَا لَكَ قَلِيلُ الْحَدِيثِ عَنْ أَبَانَ؟ فَقَالَ: كَانَ أَبَانُ نَسِيًّا لِلْحَدِيثِ.
📝 میں نے سفیان الثوری سے پوچھا : تم ابان سے کوئی روایت کیوں نہیں لیتے ہو یا اس سے بہت کم کیوں لیتے ہو؟ تو اس نے کہا : ابان احادیث کو بھول جاتا تھا (حافظہ کمزور تھا)۔
📚 کتاب الضعفاء الکبیر - عقیلی // جلد ۱ // صفحہ ۴۰ // رقم ۲۲ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔
اگر ھم اھل سنت کی باقی کتب الرجال کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں ابان کو ایک نیک و عبادت گزار شخص کہا گیا ہے۔
شمس الدین ذھبی کہتا ہے :
📝 اور حماد بن زید نے کہا : سلم العلوی نے ھم سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابان بن ابی عیاش کو انس بن مالک سے کچھ لکھتے ہوئے دیکھا۔ اسکے بعد سلم نے مجھ سے کہا : میرے بیٹے۔ تم بھی ابان سے نقل کیا کرو۔ تو میں ایوب السختانی سے اسکا ذکر کیا تو اس نے کہا ؛ ھم اسکو اچھا ہی سمجھتے تھے اس دن سے جب وہ ھمارے ساتھ تھا۔
ابن حبان نے کہا : ابان عبادت گزار تھا جو رات کو نمازیں پڑھتا تھا ور دن کو روزہ رکھتا تھا۔
📚 میزان الاعتدال - ذھبی // جلد ۱ // صفحہ ۱۲۷ // طبع مکتبہ رحمانیہ لاھور پاکستان۔
واضح رہے اھل سنت میں سے شعبہ بن حجاج کی طرف سے ابان پر سخت جرح آئی ہے لیکن جب ھم نے اسکے پیچھے وجہ دیکھی تو ھم حران ہوگئے۔
عقیلی نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ :
📜 حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ: قُلْتُ لِشُعْبَةَ: رَأَيْتُ وَقْعَتَكَ فِي أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ شَيْءٌ تَبَيَّنَ لَكَ أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ؟ قَالَ: ظَنٌّ يُشْبِهُ الْيَقِينَ.
📝 معاذ بن معاذ العنبری نے شعبہ سے پوچھا : میں نے آپکو ابان پر جرح کرتے دیکھا ہے۔ کیا ایسی کوئی بات ہے جو آپکی نکاہ سے گزری یا کوئی اور وجہ ہے؟ تو اس نے کہا : ایک گمان کی وجہ سے جو یقین کے مشابہ ہے۔
📚 کتاب الضعفاء الکبیر - عقیلی // جلد ۱ // صفحہ ۴۹ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔
*محض ایک "گمان" کی وجہ سے شعبہ ابان بن ابی عیاش پر جرح کیا کرتا تھا۔ کیا صرف اس گمان کے بنا ہر ھم ابان کو کذاب وغیرہ کہنا شروع کردیں؟*
لہذا ثابت ہوگیا ابان بن ابی عیاش کا حافظہ یا ضابطہ کمزور تھا جسکی وجہ سے اھل تشیع و اھل سنت محدثین نے اس پر جرح کی۔
*کیا ابان بن ابی عیاش کے شاگردوں نے اس سے یہ کتاب اسکے حافظے سے لی؟*
*جسکا جواب واضح ہے کہ ؛نہیں*
*لہذا اگر ابان کا حافظہ ضعیف بھی ہو تو کتاب کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا*
*کیوں کہ*
*سلیم بن قیس نے مکمل کتاب کو ابان بن ابی عیاش کے حوالے کیا تھا*
▪️علامہ حلی نقل کرتے ہوۓ لکھتے ہیں
📜 وقال السید علی بن احمد العقیقی فی کتاب الرجال ابان بن عیاش کان سبب تعریفة ھذا الامر سلیم بن قیس حیث طلبہ الحجاج لیقتلہ حیث ھو من اصحاب علی ؑ فھرب الی ناحیة من ارض فارس و لجا ابان بن عیاش فلما حضرتہ الوفاء قال لابن عیاش ان لک حقاً و قد حضرنی الموت یا ابن اخی انہ کان من الامر بعد رسول اللہ ﷺ کیت وکیت و عطاء کتاباً فلم یرو عن سلیم بن قیس احد من الناس سوی ابان
وذکر ابان فی حدیثہ قال شیخ متعبداً لہ نور یعلوہ
علامہ حلی لکھتے ہیں
کہ
📝 سید علی بن احمد العقیقی متوفی ٢٨٠ ھجری نے لکھا
کہ جب حجاج کے زمانہ میں سلیم بن قیس جو کہ علی ؑ کے اصحاب میں سے تھے قتل کے خوف سے ایران میں پناہ گزین ہوۓ تو اس وقت ابان بن عیاش کے پاس ٹھہرے اور اپنی موت کے وقت کہا اے میرے بھائ کے بیٹے ایک امر ھے میرے پاس رسول اللہ ﷺ کے بعد اور انہوں نے اس کو کتاب عطاء کی اور اس کو سلیم بن قیس سے سواۓ ابان کے کسی نے روایت نہیں کیا
ابان نے اپنی حدیث میں ان کا ذکر کرتے ہوۓ لکھا ھے کہ وہ عبادت گزار تھے اور ان کا چہرہ منور تھا
اب یہاں علامہ حلی نے سید علی بن احمد جو کہ قدماء تشیع علماء میں سے ییں ان کا قول نقل کر کے سلیم بن قیس کی تو کتاب کی توثیق کی کہ انہون نے ابان بن عیاش کو کتاب دی ھے
کتاب کا سلیم سے منسوب ہونا اور ابان کو عطاء ہونا مسلمہ حقائق سے ھے
📚 خلاصة الاقوال فی معرفة الرجال حلی ص ٣٢٥
⭕ کتاب سلیم بن قیس کے اول صفحہ پر عمر بن اذینہ (ابان کا شاگرد) کچھ اس طرح لکھتا ہے :
📜 اسکے بعد ابان بن ابی عیاش نے کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری کو میرے حوالے کیا اور ابان اسکے بعد ۱ مہینے سے زیادہ زندہ نہ رہا۔ یہ وہی نسخہ ہے کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری کا جو ابان نے مجھے دیا ہے اور اس نے مجھے یہ سنایا بھی۔
📚 کتاب سلیم بن قیس الھلالی - سلیم بن قیس // جلد ۲ // صفحہ ۵۶۴ // طبع قم ایران۔
عمر بن اذینہ کی اس عباعت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابان کے پاس سلیم بن قیس کا اصل نسخہ موجود تھا جو بعد میں ابان کے شاگردوں نے لے لیا۔
الحمدللہ اس پوری بحث سے یہ بات عیان ہے کہ یہ کتاب اپنے مولف سے ثابت ہے اقر ابان کے ضعف کی وجہ سے کتاب پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
ذولفقار مشرقی بھائی کی پوسٹ کی مدد سے
Gallery
Tap any image to view full screen