بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
🔴 اعتبار کتاب سلیم بن قیس 🔴
⭕ سلیم بن قیس
1. نجاشی (وفات 450 ہجری):
📜 “ان کی ایک کتاب ہے۔”
📚 (رجال النجاشی، ص 4 و ص 8؛ معجم رجال الحدیث، ج 9، ص 226)
2. نعمانی (وفات 380 ہجری):
📜 “اس کی کتاب ان اصول (بنیادی مصادر) میں سے ہے بلکہ بڑے اصولی مصادر میں سے — جن کی طرف شیعہ رجوع کرتے ہیں اور جن پر اعتماد کرتے ہیں۔”
📚 (الغیبة، ص 102)
3. سید بن طاووس (وفات 673 ہجری):
📜 “اس کتاب میں وہ باتیں موجود ہیں جو اس کے مصنف کی تعریف اور اس کے متن کی صحت کی گواہی دیتی ہیں۔”
📚 (التحریر الطاووسی، ص 136 و 175)
4. شیخ حرّ عاملی (وفات 1101 ہجری):
📜 “جو نسخہ سلیم کا ہم تک پہنچا ہے، اس میں کوئی باطل یا غلط چیز نہیں ہے۔”
📚 (وسائل الشیعہ، ج 3، ص 386)
5. علامہ مجلسی (وفات 1111 ہجری):
📜 “حق یہ ہے کہ کتابِ سلیم معتبر اصول میں سے ہے۔”
📚 (بحار الانوار، ج 1، ص 32)
6. محقق مامقانی (وفات 1351 ہجری):
📜 “بے شک یہ شخص (سلیم) قابلِ تعریف ہے اور کتاب صحیح ہے۔”
📚 (تنقیح المقال، ج 2، ص 52، رقم 5157)
7. آیت اللہ خوئی (وفات 1413 ہجری):
📜 “بے شک اس کی کتاب معتبر اصول میں سے ہے، بلکہ ان میں سب سے بڑی ہے؛ اور اس میں جو کچھ ہے وہ سب صحیح ہے — جو معصوم سے صادر ہوا ہے یا ایسے افراد سے جو صدق و امانت میں قابلِ قبول اور ثقہ ہیں۔”
📚 (معجم رجال الحدیث، ج 8، ص 220، رقم 5391)
8. محقق تستری (وفات 1414 ہجری):
📜 “حق یہ ہے کہ اس کی کتاب کا اصل نسخہ صحیح تھا، اور اکابر مشایخ نے اس سے روایت نقل کی ہے۔”
📚 (قاموس الرجال، ج 5، ص 239، رقم 3356)
9. مرحوم قہبائی (مجمع الرجال) کے اقوال:
📜 “ابان نے کتاب سلیم کو علی بن الحسین علیہما السلام پر پڑھا تو امام نے فرمایا: سلیم نے سچ کہا، اللہ اس پر رحمت کرے۔ یہ وہ حدیث ہے جسے ہم سب جانتے ہیں۔”
📚 (مجمع الرجال، ج 3، ص 156)
10. قہبائی نے کشی سے یہ بھی نقل کیا:
ابان کہتا ہے:
📜 “امام علی بن الحسین علیہما السلام کی وفات کے بعد حج کے موقع پر میں امام ابو جعفر محمد بن علی علیہما السلام سے ملا اور میں نے پوری حدیث (یعنی پوری کتاب سلیم) انہیں سنائی، اور میں نے ایک حرف بھی نہیں چھوڑا۔
امام کی آنکھیں پُر نم ہوگئیں اور فرمایا:
سلیم نے سچ کہا۔
وہ میرے والد (امام سجاد) کے پاس میرے جد امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد آئے تھے، اور میں بھی وہاں موجود تھا۔
انہوں نے یہ پوری حدیث میرے والد کو سنائی۔
میرے والد نے فرمایا:
‘تم نے سچ کہا۔ میرے والد (امیرالمؤمنین) اور میرے چچا حسن علیہما السلام نے یہی حدیث ہمیں بیان کی تھی، اور ہم خود گواہ ہیں۔’
پھر انہوں نے بتایا کہ ان دونوں حضرات نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا۔”
📚 (مجمع الرجال، ج 3، ص 156)
مزید آپ اسکین پیجز و فتاویٰ ملاحظہ فرما سکتے ہیں
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen