Back to کتاب سلیم بن قیس الہلالی

بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا

بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا
بزرگ شیعہ علما کے نزدیک کتاب سلیم بن قیس ہلالی اور ابان کا معتبر ہونا

🔴 اعتبار کتاب سلیم بن قیس 🔴

 

⭕ سلیم بن قیس

 

1. نجاشی (وفات 450 ہجری):

 

📜 “ان کی ایک کتاب ہے۔”

 

📚 (رجال النجاشی، ص 4 و ص 8؛ معجم رجال الحدیث، ج 9، ص 226)

 

2. نعمانی (وفات 380 ہجری):

 

📜 “اس کی کتاب ان اصول (بنیادی مصادر) میں سے ہے بلکہ بڑے اصولی مصادر میں سے — جن کی طرف شیعہ رجوع کرتے ہیں اور جن پر اعتماد کرتے ہیں۔”

 

📚 (الغیبة، ص 102)

 

3. سید بن طاووس (وفات 673 ہجری):

 

📜 “اس کتاب میں وہ باتیں موجود ہیں جو اس کے مصنف کی تعریف اور اس کے متن کی صحت کی گواہی دیتی ہیں۔”

 

📚 (التحریر الطاووسی، ص 136 و 175)

 

4. شیخ حرّ عاملی (وفات 1101 ہجری):

 

📜 “جو نسخہ سلیم کا ہم تک پہنچا ہے، اس میں کوئی باطل یا غلط چیز نہیں ہے۔”

 

📚 (وسائل الشیعہ، ج 3، ص 386)

 

5. علامہ مجلسی (وفات 1111 ہجری):

 

📜 “حق یہ ہے کہ کتابِ سلیم معتبر اصول میں سے ہے۔”

 

📚 (بحار الانوار، ج 1، ص 32)

 

6. محقق مامقانی (وفات 1351 ہجری):

 

📜 “بے شک یہ شخص (سلیم) قابلِ تعریف ہے اور کتاب صحیح ہے۔”

 

📚 (تنقیح المقال، ج 2، ص 52، رقم 5157)

 

7. آیت اللہ خوئی (وفات 1413 ہجری):

 

📜 “بے شک اس کی کتاب معتبر اصول میں سے ہے، بلکہ ان میں سب سے بڑی ہے؛ اور اس میں جو کچھ ہے وہ سب صحیح ہے — جو معصوم سے صادر ہوا ہے یا ایسے افراد سے جو صدق و امانت میں قابلِ قبول اور ثقہ ہیں۔”

 

📚 (معجم رجال الحدیث، ج 8، ص 220، رقم 5391)

 

8. محقق تستری (وفات 1414 ہجری):

 

📜 “حق یہ ہے کہ اس کی کتاب کا اصل نسخہ صحیح تھا، اور اکابر مشایخ نے اس سے روایت نقل کی ہے۔”

 

📚 (قاموس الرجال، ج 5، ص 239، رقم 3356)

 

9. مرحوم قہبائی (مجمع الرجال) کے اقوال:

 

📜 “ابان نے کتاب سلیم کو علی بن الحسین علیہما السلام پر پڑھا تو امام نے فرمایا: سلیم نے سچ کہا، اللہ اس پر رحمت کرے۔ یہ وہ حدیث ہے جسے ہم سب جانتے ہیں۔”

 

📚 (مجمع الرجال، ج 3، ص 156)

 

10. قہبائی نے کشی سے یہ بھی نقل کیا:

ابان کہتا ہے:

 

📜 “امام علی بن الحسین علیہما السلام کی وفات کے بعد حج کے موقع پر میں امام ابو جعفر محمد بن علی علیہما السلام سے ملا اور میں نے پوری حدیث (یعنی پوری کتاب سلیم) انہیں سنائی، اور میں نے ایک حرف بھی نہیں چھوڑا۔

امام کی آنکھیں پُر نم ہوگئیں اور فرمایا:

سلیم نے سچ کہا۔

وہ میرے والد (امام سجاد) کے پاس میرے جد امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد آئے تھے، اور میں بھی وہاں موجود تھا۔

انہوں نے یہ پوری حدیث میرے والد کو سنائی۔

میرے والد نے فرمایا:

‘تم نے سچ کہا۔ میرے والد (امیرالمؤمنین) اور میرے چچا حسن علیہما السلام نے یہی حدیث ہمیں بیان کی تھی، اور ہم خود گواہ ہیں۔’

پھر انہوں نے بتایا کہ ان دونوں حضرات نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا۔”

 

📚 (مجمع الرجال، ج 3، ص 156)

 

مزید آپ اسکین پیجز و فتاویٰ ملاحظہ فرما سکتے ہیں 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28
Gallery Image 29
Gallery Image 30
Gallery Image 31
Gallery Image 32
Gallery Image 33
Gallery Image 34
Gallery Image 35
Gallery Image 36
Gallery Image 37
Gallery Image 38
Gallery Image 39
Gallery Image 40
Gallery Image 41
Gallery Image 42
Gallery Image 43
Gallery Image 44
Gallery Image 45
Gallery Image 46
Gallery Image 47
Gallery Image 48
Gallery Image 49
Gallery Image 50
Gallery Image 51
Gallery Image 52
Gallery Image 53
Gallery Image 54
Gallery Image 55
Gallery Image 56
Gallery Image 57
Gallery Image 58
Gallery Image 59
Gallery Image 60
Gallery Image 61
Gallery Image 62
Gallery Image 63
Gallery Image 64
Gallery Image 65
Gallery Image 66
Gallery Image 67
Gallery Image 68
Gallery Image 69
Gallery Image 70
Gallery Image 71
Gallery Image 72
Gallery Image 73
Gallery Image 74
Gallery Image 75
Gallery Image 76
Gallery Image 77
Gallery Image 78
Gallery Image 79
Gallery Image 80