Back to کتاب سلیم بن قیس الہلالی

شیخ مفیدؓ کے حوالے سے کتاب سلیم بن قیس پر ایک آخری اعتراض

شیخ مفیدؓ کے حوالے سے کتاب سلیم بن قیس پر ایک آخری اعتراض
شیخ مفیدؓ کے حوالے سے کتاب سلیم بن قیس پر ایک آخری اعتراض

*کتاب سلیم بن قیس پر ایک آخری اعتراض*

 

*جواب*

 

شیخ مفید رحم اللہ کی کتاب تصیح اعتقادات الامیہ میں سے جو عبارت نقل کی جاتی ھے وہ کچھ یوں ھے

 

📜 و اما تعلق بہ ابو جعفر رحم اللہ من حدیث سلیم الذی رجع فیہ الی الکتاب المضاف الیہ بروایتہ ابان بن عیاش فالمعنی فیہ صحیح غیر ان ھذا الکتاب غیر موثق بہ و لا یجوز العمل علی اکثرہ 

 

یعنی وہ کہتے ہیں جہاں تک ابو جعفر ؒ کا تعلق ھے کہ *کتاب المضاف* میں سلیم کی حدیث جس کو ابان نے روایت کیا ھے اس کے معنی تو صحیح ہیں یہ کتاب غیر موثق ھے اور اس پر اکثر عمل کا جواز نہیں رکھتے 

 

📚 تصیح اعتقادات الامامیہ ص ١٤٩

 

عبارت کو پڑھنے سے بات واضح ہو جاتی ھے کہ یہاں کتاب مضاف کا ذکر ھے نہ کہ کتاب سلیم کا 

 

اگر بالفرض اس کو کتاب سلیم بھی مان لیا جاۓ تو شیخ فرماتے ہیں اس میں درج سلیم سے وہ روایت ہیں جن کو ابان نے روایت کیا ھے ان کے معنی صحیح ہیں لیکن کتاب غیر موثق ھے 

اور اس اکثر سے اس پر عمل کا جواز نہیں 

 

پہلی بات تو یہ ھے یہ کتاب المضاف ھے جس میں جناب سلیم سے ابان کی روایات کو تدلیس کے زمرے میں لیا گیا ھے نہ کہ کتاب سلیم کو 

 

کیونکہ اس کتاب میں ابان سلیم سے روایت کر رہے ہیں 

 

*جبکہ کتاب سلیم میں ابان نے کوئ روایت نقل نہیں کی بلکہ اوپر ہم نے ثابت کیا کہ سلیم نے لکھی ہوئ کتاب ابان کو عطاء کی لہذا تدلیس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا*

 

اس لیے شیخ مفید کی کتاب تصحیح اعتقادات سے کتاب سلیم پر مخالفین کا اشکال بھی رد ہو جاتا ھے

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2