آبان بن ابی عیاش کی توثیق
آبان بن ابی عیاش کی توثیق
آبان بن ابی عیاش کی توثیق
آبان بن ابی عیاش کی توثیق
آبان بن ابی عیاش کی توثیق
آبان بن ابی عیاش کی توثیق
آبان بن ابی عیاش کی توثیق
آبان بن ابی عیاش کی توثیق

🔴 آبان بن ابی عیاش کی توثیق 🔴

 

⭕ آبان بن ابی عیاش کی توثیق متقدمین علما میں سے کس نے کی؟

 

🖋 تحریر:سید اسد عباس نقوی 

 

میرے بعض عزیزان کی طرف سے یہ اصرار کیا جاتا ہے آبان بن ابی عیاش کی توثیق متقدمین سے ثابت کی جائے تو کمال ہو جائے گا انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں 

 

▪️ہمارے متقدمین علماء میں سے غیبت صغری کے عالم دین تھے جوکہ محقق رجال تھے علامہ السید علی بن احمد العلوی العقیقی رح انکے بارے شیخ طوسی رح الفہرست میں انکی کتب کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں-

 

📜 علي بن أحمد العلوي العقيقي: له كتب، منها: كتاب المدينة، كتاب المسجد، كتاب بين المسجدين، كتاب النسب، كتاب الرجال-

 

یعنی انکی ایک کتاب الرجال بھی تھی-

 

📚 الفہرست الرقم424 ص162

 

▪️شیخ طوسی رح نے انکا ذکر اپنی کتاب الرجال میں بھی کیا ہے

 

📚 رجال طوسی رح الرقم 6217

 

▪️ السید علی بن احمد العقیقی رح کی کتاب الرجال یہ کتاب علامہ حلی رح تک پہنچی تھی اور علامہ حلی رح السید علی بن احمد العقیقی رح کے اقوال کو کثرت سے اپنی کتاب خلاصة الاقوال میں نقل کیا اور انکے اقوال پر اعتماد کیا ہے-

 

(1) آبان بن ابی عیاش کے بارے علامہ حلی رح السید علی بن احمد العقیقی رح کی کتاب سے قول نقل کرتے ہیں 

 

📜 وكان سبب تعريفه هذا الأمر سليم بن قيس

 

📃 ابان بن ابی عیاش کی تعریف کا سبب کتاب سلیم ہے(یعنی اسکا کتاب کو نقل کرنا)-

 

📚 خلاصة الاقوال ص325

 

▪️السید علی بن احمد العقیقی رح کے قول کو ہمارے بہت سارے علما نے نقل کیا اور اس قول کی بنا پر آبان کی توثیق کی ہے جیسے کہ

 

(2) علامہ صالح المازندرانی رح داماد علامہ مجلسی رح لکھتے ہیں:

 

📜 وقال السيد علي بن أحمد: إنه كان فاسد المذهب ثم رجع، وكان سبب تعريفه هذا الأمر سليم بن قيس-

 

📃 السید علی بن احمد العقیقی رح فرماتے ہیں:آبان بن ابی عیاش پہلے فاسد المذہب تھا(یعنی باطل عقیدے پر تھا)اور پھر پلٹ آیا(یعنی رجوع کرلیا حق پر آگیا)اسکی تعریف اور حق پر پلٹنے کا سبب کتاب سلیم بن قیس ہے(یعنی اس کتاب کا نقل کرنا ہے)-

 

📚 مازندرانی الملا صالح شرح اصول کافی ج2ص139

 

(3) الشیخ عبد النبی الکاظمی رح نے اسی قول کو نقل کرکے آبان کی توثیق کی ہے-

 

📚 تکمة الرجال ص1؛68

 

(4) علامہ الشیخ محمد تقی التستری رح نے اسی قول کو نقل کیا ہے اور اسکی بنا پر آبان کی توثیق کو نقل کیا ہے-

 

📚 قاموس الرجال ج1ص94

 

(5) الشیخ آقا محمد بن جعفر بن محمد نے اسی قول کی بنا پر آبان کی توثیق کو نقل کیا ہے-

 

📚 اکلیل المنہج ص284

 

(6) علامہ ابو علی محمد بن اسماعیل الحائری رح نے اسکو نقل کیا ہے اور ابان کی توثیق کی ہے-

 

📚 منتھی المقال فی احوال الرجال ج1ص132 الرقم9

 

(7) علامہ عظیم محقق الشیخ عبد اللہ مامقانی رح نے اس قول کو نقل کیا یے اور آبان کی توثیق کی ہے-

 

📚 تنقیح المقال الرقم14

 

(8) الشیخ علی نمازی شہرودی رح نے اس قول کو نقل کیا اور آبان کی توثیق کی ہے- 

 

📚 المستدرکات علم الرجال ج1ص84الرقم21

 

ابان بن ابی ایاش کے متعلق آیت اللّه ممقانی لکھتے ہیں کہ یہ ثقہ ہیں ان کی تضعیف اہل سنت کے ہاں سے آئی ہے (ہماری کتب میں) جیسے کہ [محقق ممقانی] نے کہا- 

 

اس کی وثاقت کے لیے یہ ہی کافی ہے کہ سلیم رح نے اس کو اپنی کتاب دی ہمارے لیے ان کا اعتماد ہی ان کی وثاقت پر قرینہ ہے--

 

🔴 عظیم محقق محیی الدین مامقانی رح لکھتے ہیں 

 

 📜 لا محيص لهم عن ذلك،لأنّ رجوع راو مشهور بالرواية و الوثاقة عن مذهبه،و تمسّكه بمذهب أهل البيت عليهم السلام،يحدث خللا في عقيدة أتباعهم، و يوجب تزلزلا في عقيدة مجتمعهم،فلا بدّ لهم من التمويه على الناس بالحطّ عن مقامه، و نبزه بكلّ ما يمكن من الإلصاق به،نصرة لمذهبهم،و حفظا لرعاع الناس من أتباعهم، و من تصفّح طيّات الكتب،و وقف على أحوال الرجال،وجد ما أشرنا إليه أمرا شائعا عندهم سائغا لديهم. فأبان بن أبي عياش بينما كان راويا جليلا،و ثقة كبيرا عندهم،يأخذون منه الحديث،و يسجّلون كلّما يلقي عليهم من السنّة الشريفة،قلبوا له ظهر المجن،فضعّفوه-

 

📃 انہیں ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، کیونکہ راوی کی واپسی اس کے مکتبہ فکر سے روایت اور معتبر ہونے کی وجہ سے اور ان کا عقیدہ اہل بیت علیہم السلام پر قائم رہنا مشہور ہے، ان کے پیروکاروں کے ایمان میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے اور ان سے ان کے معاشرے میں موجود عقیدے میں خلل آ جانا لازمی ہے، اس لیے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کے مقام کو پست کر کے لوگوں کو دھوکہ دیں اور اس پر قائم رہنے، ان کے نظریے کی تائید کے لیے ہر ممکن حد تک اسے اجاگر کرنے اور لوگوں کے ہجوم کو ان کے پیروکاروں سے بچانے کے لیے اور کتابوں کو کھنگالنے کے لئے، اس نے لوگوں کے حالات کو دیکھا اور وہ پایا جسے ہم ان کے لیے شائع اور ان کے لیے قابل قبول قرار دیتے ہیں۔

پس ابان بن ابی عیاش جلیل قدر راوی تھے انکے نزدیک اور راویوں کے درمیان ان کا بڑا مقام تھا۔ان سے حدیث لیتے ہیں اور جب بھی ان پر سنت مبارکہ سے کچھ دیا جاتا تو اسے قلمبند کرتےتھے ان سے منہ پھیر لینا انہیں ضعیف کر دیتا ہے

 

📚 تنقیح المقال بر حاشیہ ج3ص70

 

🔴 آیت اللہ العظمی الشیخ حسین مظاہری مدظہ العالی نے آبان بن ابی عیاش کو ثقہ قرار دیا ہے

 

📚 الثقات الاخیار من رواة الاخبار ص34 الرقم 4

 

🔴 الشیخ آصف محسنی اپنی کتاب * بحوث في علم الرجال * میں ایک راوي کے ذیل میں علامہ ابن غضائری کی کتاب الرجال کے متعلق لکھتے ہیں : 

 

ابن الغضائری کی جانب اس کتاب (رجال ابن غضائری) کی نسبت ہی باطل هے ۔۔

 

ایک اور مقام پر الشیخ آصف محسني لکھتے ہیں : 

 

📜 أن كتاب ابن الغضائري لم يحرز سنده و *إن كان مؤلّفه ممدوحا،*

 

📃 ابن الغضائری کی کتاب کی سند ہی ثابت نہیں گو کہ اس کا مؤلف ممدوح هے ۔

 

📚 بحوث في علم الرجال ، صفحہ ١٥٥،١٥٦

 

🔴 محدث نوری رح فرماتے ہیں 

 

أبان بن أبي عياش فيروز :

 

📜 راوي كتاب سليم بن قيس ، عنه. ضعّفه الشيخ في الرجال ، ونقل [في] الخلاصة عن الغضائري : أن أصحابنا نسبوا وضع كتاب سليم إليه؛والتضعيف موهون كنسبة الوضع بأُمور-الأول : ما قاله الشيخ الجليل أبو عبد الله النعماني في كتاب الغيبة : من أنّه ليس بين جميع الشيعة ممّن حمل العلم ورواه عن الأئمة عليهم‌السلام خلاف في أنّ كتاب سليم بن قيس الهلالي أصل من أكبر كتب الأُصول التي رواها أهل العلم من حملة حديث أهل البيت عليهم‌السلام. إلى أن قال : وهو من الأُصول التي ترجع الشيعة إليها ، ويعوّل عليها ، انتهى.وإذا انتهت أسانيد الكتاب إلى أبان ، فهذا الإجماع يكشف عن وثاقته جدّاً.الثاني : اعتماد البرقي ، والصفار ، وثقة الإسلام في الكافي ، والنعماني والصدوق ، والعياشي وغيرهم من المشايخ العظام عليه ، كما لا يخفى على من راجع جوامعهم.الثالث : رواية الأجلّة من أصحاب الإجماع وغيرهم عنه ، مثل : حماد بن عيسى ، وعثمان بن عيسى ، وعمر بن أُذينة، وإبراهيم بن عمر اليماني .الرابع : إنّه من رجال الصادق عليه‌السلام ولم يضعفه فيه ، ولا في أصحاب علي بن الحسين عليهما‌السلام وإنمّا ضعّفه في أصحاب الباقر عليه‌السلام ، ولم يعلم سببه ، ولعلّه تضعيف المخالفين.ففي التقريب : متروك ، من الخامسة ، وينبغي عدّه من مدائحه.

 

📃 خلاصہ:ان کی تصعیف کرنا کمزور ہے۔

جیسا کہ بعض امور کو وضع کرنے کی نسبت دینا ہے:

پہلا امر۔وہ جو شیخ جلیل نعمانی نے کتاب الغیبۃ میں کہا ہے کہ شیعیوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ان میں سے جس میں علم ہونے اور وہ روایات ہیں جو انہوں نے ائمہ صلوات اللہ علیہم سے نقل کیا ہے کتاب سلیم بن قیس سے جو کہ شیعوں کے ہاں اصولوں میں میں ایک اصل ہے یعنی بنیادی کتابوں میں سے ایک بنیادی کتاب ہے، جس کی اہل علم نے روایت کی ہے اور اہل البیت علیہم السلام کی حدیث پر مشتمل ہے ۔۔یہاں تک کہ کہا: یہ ان اصولوں میں سے ایک ہے جس کی طرف شیعہ رجوع کرتے ہیں اور اس پر اعتماد کرتے ہیں مزید صاحب مستدرک الوسائل نے کہا: اور اس کتاب کی اسناد کا ابان تک تمام ہونا ایسا اجماع ہے جس سے س کی وثاقت جدت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔

دوسرا امر: برقی، صفار، ثقة الاسلام کا کافی میں، نعمانی، صدوق ، اور عیاشی وغیرہ جو کہ بڑے بزرگوں کا اعتماد کرنا اس پر ان کی کتابوں کی طرف رجوع کرنے والوں کے لیے مخفی نہیں ہے۔۔۔الخ۔۔ان مصادرکی طرف رجوع کریں

 

📚 خاتمه المستدرك الوسائل ج7ص111

 

🔴 آیت اللہ عبد الحسین الامینی رح فرماتے ہیں

 

📜 وهذا أبان بن أبي عياش رجل صالح كان من العباد-

 

📃 ابان ایک صالح قابل بھروسہ بندوں میں سے تھا

 

📚 الغدیر ج5ص277

 

🔴 علامہ ابو علی محمد بن اسماعیل الحائری رح لکھتے ہیں  

 

📜 - أبان بن أبي عيّاش فيروز:

تابعي، ضعيف، ين، قر ، ق 

و كذا صه، و زاد: لا يلتفت إليه، و ينسب أصحابنا وضع كتاب سليم ابن قيس إليه، هكذا قال ابن الغضائري.و قال السيّد عليّ بن أحمد العقيقي في كتاب الرجال: أبان بن أبي عيّاش، كان سبب تعرّفه هذا الأمر سليم بن قيس الهلالي، حيث طلبه الحجّاج ليقتله- حيث هو من أصحاب أمير المؤمنين (عليه السلام)- فهرب.إلى أن قال: و الأقرب عندي التوقّف فيما يرويه، لشهادة ابن الغضائري عليه بالضعف، و كذا قال شيخنا الطوسي في كتاب الرجال، و قال: إنّه ضعيف ، انتهى.و قيل: الكتاب موضوع. و سيجيء تمام الكلام في سليم.و شيء ممّا ذكروا لا يقتضي الوضع، على أنّي رأيت أصل تضعيفه من المخالفين من حيث التشيّع ، فتدبّر.

 

📃 خلاصہ: میں نے اس کی تصعیف کو مخالفین کے ہاں پایا ہے شیعہ ہونے کی وجہ سے

 

📚 منتھی المقال فی احوال الرجال ج1ص132الرقم9

 

🔴 عظیم محقق ماہر رجال الشیخ عبد اللہ مامقانی رح فرماتے ہیں 

 

📜 عدّه الشيخ رحمه اللّه في رجاله من أصحاب السجّاد و الباقر و الصادق عليهم السلام ،مصرّحا باسمه و بلدته،و وصفه بأنّه:

تابعيّ.

و قد ضعّفه جمع منهم:الشيخ في رجاله ،و العلاّمة في الخلاصة ،و زاد أنّه:روى عن أنس بن مالك،و روى عن عليّ بن الحسين عليهما السلام، لا يلتفت إليه.و عن ابن الغضائري أنّه:ينسب أصحابنا وضع كتاب سليم بن قيس إليه.و عن السيّد عليّ بن أحمد العقيقي في كتاب الرجال:أبان بن أبي عياش كان فاسد المذهب،ثم رجع،كان سبب تعرّفه هذا الأمر سليم بن قيس الهلالي حيث طلبه الحجّاج ليقتله-حيث هو من أصحاب أمير المؤمنين عليه السلام-فهرب إلى ناحية من أرض فارس و لجأ إلى أبان بن أبي عياش،فلمّا حضرته الوفاة قال لأبان:إنّ لك عليّ حقّا،و قد حضرني الموت يا بن أخي!إنّه كان بعد رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله و سلّم كيت و..كيت،و أعطاه كتابا،فلم يرو عن سليم بن قيس أحد من الناس سوى أبان-و الأقرب عندي التوقّف فيما يرويه،لشهادة ابن الغضائري عليه بالضّعف، و كذا قال شيخنا الطوسي رحمه اللّه في كتاب الرجال،و قال إنّه:ضعيف .انتهى-و أقول:الجزم بضعفه مشكل؛بعد تسليم مثل سليم بن قيس كتابه إليه، و خطابه بابن الأخ.و من لاحظ حال سليم بن قيس مال إلى كون الرجل متشيّعا ممدوحا،و أنّ نسبة وضع الكتاب إليه لا أصل لها،و إذا انضمّ إلى ذلك قول الشيخ أبي عليّ في المنتهى :إنّي رأيت أصل تضعيفه من المخالفين من حيث التشيّع-تقوى ذلك،و العلم عند اللّه تعالى.بل بعد إثبات وثاقة سليم -كما يأتي إن شاء اللّه-تثبت وثاقة أبان هذا بتسليمه الكتاب المذكور إليه، فانتظر.[التمييز:] و كيف كان،فغالب روايات أبان هذا عن سليم بن قيس الهلالي، و الراوي عنه غالبا هو عمر بن أذينة،و إبراهيم بن عمر اليماني،و حمّاد ابن عيسى،و عثمان بن عيسى-

 

📃 انہیں شیخ نے اپنی کتاب رجال میں ان کے نام اور اور شہر کو صریحاً بیان کرتے ہوئے امام سجاد امام باقر اور امام صادق علیہم السلام کے اصحاب میں شمار کیا ہے اور ساتھ میں انہی تابعی بھی کہا ہے۔

اور بہت ساروں نے انہیں ضعیف بھی قرار دیا ہے ان میں سے جناب شیخ نے اپنی کتاب رجال میں اور علامہ نے خلاصہ میں ،اور اس میں یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ انہوں نے انس بن مالک اور علی بن حسین علیہما السلام سے بھی روایات نقل کیا ہے، اس بات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ہیں۔

اور ابن غضائری سے منقول ہے کہ ہمارے اصحاب نسبت دیتے کہ اس نے یعنی ابن ابی عیاش نے کتاب سلیم بن قیس خود سے گڑھ لیا تھا اور اس کی طرف نسبت دی تھی، 

اور سید علی بن احمد العقیقی اپنی کتاب رجال میں لکھتے ہیں: 

ابان بن عیاش باطل مذہب پر تھا، پھر اس نے اس سے رجوع کیا، اس کی سبب اس کے سلیم بن قیس ھلالی کا اس امر کا تعارف کرانا ہے کہ جب اسے حجاج نے اسے قتل کرنے کے لیے بلایا کیونکہ آپ جناب امیر المومنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے اس وقت وہ فارس کی ایک دیہات کی طرف بھاگ گئے اور ابان بن عیاش کی طرف متوجہ ہوئے، اور جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ابان سے کہا: تمہارے لیے میرے اوپر ایک حق ہے، اے میرے برادر زادے میری موت قریب ہے، وہ حق یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد جو کچھ ہوا اس کے حوالے سے اور کہکر ایک کتاب اس کے حوالے کیا اور ابان کے سوا لوگوں میں سے کسی ایک نے بھی سلیم سے کوئی روایت نقل نہیں کیا ہے۔

پس میرے نزدیک ان سے مروی روایات پر پر توقف کرنا ہے ہی قریب حق ہے۔

کیونکہ اس کے بارے ابن غضائری نے ضعف کی گواہی دی ہے، اور اسی طرح ہمارے بزرگ شیخ طوسی رح نے اپنی کتاب رجال میں کہا کہ وہ ضعیف ہے یہاں تک علماء رجال کی بات تمام ہو گئی۔

میں کہتا ہوں ( یعنی جناب مامقانی رح) سلیم بن قیس کی طرف سے کتاب کو اس کے حوالہ کرنے اور ان کو برادر زادہ کہکر خطاب کرنے کے بعد اس کے ضعف بارے یقین کرنا مشکل ہے،۔ 

اور جس نے سلیم بن قیس کے اس برتاؤ کا ملاحظہ کیا وہ اس بات کی طرف مائل ہوا ہے کہ وہ( یعنی ابان بن عیاش) شیعہ اور قابل تعریف شخص تھے، اور اس کی طرف اس کتاب کو گڑھنے کی جو نسبت دی گئی ہے اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے یعنی کوئی دلیل نہیں ہے، اور اس حقیقت کے ساتھ شیخ ابی علی کا اپنی کتاب منتھی کی اس عبارت کو ملا کر دیکھیں جس میں انہوں نے لکھا ہے: میں نے دیکھا کہ مخالفین کی طرف سے اس کی تضعیف کی وجہ اس کا شیعہ ہونا ہے، اللہ بچائے اس سے یقینا حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، بلکہ سلیم بن قیس کی وثاقت کے ساتھ ابان کی وثاقت بھی ثابت ہو جاتی ہے جس کے بارے میں ان شاءاللہ بعد میں بیان کیا جائے گا کیونکہ اس کی وجہ انہوں نے مذکورہ کتاب کو اس کے حوالے کیا، پس آپ انتظار کریں ۔۔پس جو بھی ہو اکثر روایات ابان سلیم بن قیس ھلالی سے ہی منقول ہیں، اور ان سے اکثر روایات عمر بن اذینہ اور ابراھیم بن عمر یمانی اور حماد بن عیسیٰ اور عثمان بن عیسیٰ نے نقل کیا ہے۔

 

📚 تنقيح المقال ج3ص64تا71الرقم 14

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8