Back to کتاب سلیم بن قیس الہلالی

سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ

سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ
سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*

 

  سید ساجد بخاری و زولفقار مشرقی صاحب کی پوسٹ سے

 

🔴 *سند کتاب سلیم بن قیس الھلالی العامری الکوفیؓ صحابی امام علیؑ* 🔴

 

کتاب سلیم بن قیس کے اس مطبوع نسخے کی طرف رجوع کریں جسکی تحقیق شیخ باقر انصاری زنجانی (حفظہ اللہ) نے کی ہے۔ محقق نے یہ کتاب تین جلدوں میں طبع کروائی یے۔

 

پہلی جلد میں انہوں نے کتاب کے مختلف قلمی نسخوں، اسانید، متن میں ورد اشکالات پر بحث کی ہے۔

دوسرے جلد میں انہوں نے کتاب کے اصل متن کو نقل کیا۔

تیسرے جلد میں کتاب سلیم کی احادیث کی تخریج کی ہے جو مختلف کتب میں موجود ہے۔

 

محقق نے اسکی مختلف اسانید کے بارے میں ایک جدول (chart) بنایا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ *یہ کتاب ھم تک تواتر سے پہنچی ہے* سوائے اس بات کے کہ سلیم بن قیس سے اسکو صرف ابان بن ابی عیاش نقل کر رہا ہے۔

 

*ابان سے نقل کرنے والوں میں : ابراھیم بن عمر الیمانی، معمر بن راشد، ھمام بن نافع صنعانی، محمد بن ھارون سندی، حسن بن محمد ھاشمی، عبداللہ بن مسکان، ابو الحسن الازدی، نصر بن مزاحم، محمد بن مروان، عیسی بن ایوب ھمدانی، ابو الحسن علی بن یحیی، عمر بن اذینہ موجود ہے۔ اسکے بعد ان رواہ کے کثیر تعداد میں شاگردوں نے نقل کیا۔

 

📚 کتاب سلیم بن قیس - سلیم بن قیس الھلالی // جلد ۱ // صفحہ ۲۰۴ - ۲۰۵ // طبع قم ایران۔

 

علامہ باقر الانصاری کتاب سلیم بن قیس کے مقدمے میں ص ٢٥ پر لکھتے ہیں 

 

📜 أن مولفة من اعاظم اصحاب امیر المومنینؑ والامام الحسن ؑ والامام الحسین ؑ والامام زین العابدین ؑ وادرک حیاة الامام باقر ؑ و ھو التابعی الکبیر الذی ینبغی من اعاظم المحدثین و المورخین و محققیھم 

 

📚 کتاب سلیم الھلالی مقدمہ ص ٢٥ 

 

📝 علامہ باقر الانصاری کہتے ہیں مولف کتاب سلیم بن قیس عظیم اصحاب امیر المومنین امام حسن امام حسین امام زین العابدین ؑ میں سے تھے اور انہوں نے امام باقر ؑ کو بھی درک کیا وہ بزرگ تابعی اور عظیم محدثین و مورخین اور محقیقین میں سے تھے 

 

*امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا*

 

📜 من لم یکن عندہ من شیعتنا و محبینا کتاب سلیم بن قیس الھلالی فلیس عندہ من امرنا شئ ولایعلم من اسبابنا شیئا و ھو ابجد الشیعة و ھو سر من اسرار آل محمد ؑ 

 

📝 اگر کسی ہمارے شیعہ محب کے پاس یہ کتاب سلیم بن قیس الھلالی نہیں تو وہ ہمارے امر سے ناواقف ھے اور یہ شیعہ کی ابجد میں سے ھے اور یہ آل محمد ؑ کے رازوں میں سے ایک راز ھے 

 

📚 کتاب سلیم بن قیس الھلالی ص ٩٤

 

سعد بن عبداللہ بن ابی خلف رشدی قمی متوفی ٣٠١ ھجری 

اپنی کتاب میں لکھتے ہیں 

 

📜 قرا ابان بن عیاش کتاب سلیم علی سیدنا علی بن الحسین ع بحضور جماعة من اعیان اصحابہ منھم ابو الطفیل فاقراہ علیہ زین العابدین ؑ وقال ھذہ احدیثنا صیحة 

 

📝 ابان نے کتاب سلیم کو حضرت امام زین العابدین ؑ کی خدمت میں اس وقت پڑھی جب آپکی خدمت میں معتبر اصحاب کی ایک جماعت موجود تھی جن میں صحابی ابو طفیل عامر بن واثلہ ؓ بھی موجود تھے 

امام ؑ نے اس کتاب کو پڑھوا کر سنا اور فرمایا یہ ہماری صحیح احادیث ہیں

 

📚 بصائر الدرجات

 

*کتاب سلیم بن قیس عند المحدثین الامامیہ*

 

📜 قال المحدث الکبیر السید ہاشم البحرانی فی کتابہ غایة المرام 

و ھو کتاب مشھور معتمد نقل عندالمصنفون فی کتبھم و ھو من التابعین رای علیاً و سلمان و ابا ذر 

 

📝 سلیم بن قیس کی کتاب مشہور و معروف ھے اور قابل اعتماد ھے جس سے مصنفین نے اپنی کتب میں احادیث نقل کی ہیں ، سلیم تابعی ہیں جنہوں نے حضرت علی ؑ سلمان ؑ و ابوذر ؑ کو دیکھا ھے 

 

▪️جناب شیخ یعقوب کلینی متوفی 329 ھجری نے اپنی کتاب اصول کافی اور فروع کافی میں کتاب سلیم سے روایات نقل کی ہیں 

 

▪️شیخ کلینیؒ کے شاگرد شیخ ابن ابی زینب نعمانیؒ کا قول اس کتاب کے بارے میں نقل کرتا ہوں۔ وہ لکھتا ہے : 

 

📝 اس بات ہر شیعہ کے یہاں کوئی اختلاف نہیں کہ کتاب سلیم بن قیس الھلالی ایک اصل ہے بڑے اصولوں میں سے جنکو علماء و راویوں نے روایت کیا ہے اھل بیتؑ سے اور یہ ایک قدیم اصول ہے۔ سب کچھ جو اس میں نقل ہوا ہے وہ رسول اللہ ﷺ ، امام علیؑ، مقدادؓ، سلمان فارسیؓ، ابو ذرؓ اور ان جیسوں سے نقل ہوا ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور امیر المومنینؑ کو دیکھا اور ان سے روایات لی۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جس پر شیعوں کا انحصار ہے اور اسکی طرف رجوع کرتے ہیں۔

 

📚 کتاب الغیبہ - شیخ نعمانی // صفحہ ۱۰۳ // طبع قم ایران۔

 

▪️شیخ صدوق ؒ نے من لایحضروہ الفقیہ اور معانی الاخبار کمال الدین میں سلیم سے احادیث نقل کی ہیں

 

▪️شیخ طوسی ؒ نے کتاب التہذیب اور الغیبت میں کتاب سلیم سے روایات نقل کی ہیں 

 

▪️ثقة الجلیل فضل بن حسن طبرسی نے اپنی کتاب اعلام الوری میں کتاب سلیم سے روایات نقل کی ہیں

 

▪️ابو عبداللہ النعمانی ابن زینب نے کتاب غیبت نعمانی میں 

 

▪️ابو جعفر محمد بن الحسن نے کتاب بصائر الدرجات میں 

 

▪️شیخ محدث شاذان بن جبرائیل نے کتاب الفضائل میں 

 

▪️ابن شہر آشوب نے کتاب المناقب میں 

 

▪️شیخ محمد بن حسین بن عبدالصمد مولف کتاب الاربعین نے 

 

▪️شیخ ثانی شیخ زین العابدین بن علی عامل صاحن کتاب معالم الاصول میں 

 

▪️فاضل حسن بن علی بن حسین بن شعبة نے صاحب تحف العقول 

 

▪️شرف الدین علی الحسین استر آبادی نجفی صاحب کتاب آیات الباہرة فی فضائل عترة الطاہرة 

 

اسی طرح

 

▪️علامہ مجلسی نے پوری کتاب کو ہی بحار الانوار میں نقل کیا ھے

 

*کتاب کی اسناد* 

 

سلیم بن قیس الھلالی ☜ ابان بن عیاش 

 

ابان بن عیاش سے اس کتاب کو بیان کرنے والے جید محدثین ہیں جن میں 

 

ابان بن عیاش ☜ابراییم بن عمر الیمانی 

 

ابان بن عیاش☜ معمر بن راشد 

 

ابان بن عیاش☜ ھمام بن نافع السندي

 

ابان بن عیاش☜ الحسن بن الھاشمی 

 

ابان بن عیاش☜ عبداللہ بن مسکان 

 

ابان بن عیاش☜ ابو الحسن الازدی 

 

ابان بن عیاش☜ نصر ابن مزاحم المنقری 

 

ابان بن عیاش☜ محمد بن مروان 

 

ابان بن عیاش☜ عیسی بن ایوب الھمدانی 

 

ابان بن عیاش☜ ابو الحسن علی بن یحیی 

 

ابان بن عیاش☜ عمر بن اذنیہ 

 

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کتاب کو ابان سے نقل کیا ھے یہ سارے عظیم اور قدماء محدثین ہیں 

 

*جبکہ ان میں سے ابراہیم بن الیمانی نے سلیم بن قیس سے بھی اس کتاب کی سنا ھے* اور وہ اس کی سند میں شامل ہیں 

 

*اب ہم مکمل سند لگائیں گے*

 

1: الکلینی الکافی عن علی بن ابراہیم عن ابراہیم بن ھاشم عن عثمان بن عیسی عن حماد بن عیسی عن ابراہیم الیمانی عن ابان بن عیاش عن سلیم بن قیس 

 

2: المختصر اثبات الرجعة 

فضل بن شاذان عن اسماعیل بن یزیع عن عثمان بن عیسی عن حماد بن عیسی عن ابراہیم الیمانی عن ابان بن عیاش 

 

3: النجاشی والطوسی 

عن ابن ابی جید عن ابن الولید عن ماجیلویہ عن محمد بن علی الصیرفی عن عثمان بن عیسی عن حماد بن عیسی عن ابراہیم الیمانی عن ابان بن عیاش 

 

4: کمال الدین شیخ صدوق عن ابن الولید عن الصفار عن احمد بن محمد بن عیسی عن الحسین بن سعید عن عثمان بن عیسی عن حماد بن عیسی عن ابراہیم الیمانی عن ابان بن عیاش 

 

5: کمال الدین شیخ صدوق 

عن ابن الولید عن الصفار عن ابی بن زیاد عن محمد بن عیسی عن الحسین بن سعید عن عثمان بن عیسی عن حماد بن عیسی عن ابراہیم الیمانی عن ابان بن عیاش

 

6: طریق معمر بن راشد 

محمد بن صبیح بن رجاء بدمشق نسخة خطیة عن ابو عمرو عصمة بن ابی عصمة البخاری عن ابو بکر احمد بن المنذر الصنعانی عن عبدالرزاق بن ھمام عن معمر بن راشد عن ابان بن عیاش 

 

7: الکراجکی فی الااستنصار عن محمد بن عبداللہ البلدی عن النعمانی عن احمد بن عبید اللہ الھمدانی عن عمرو بن جامع الکندی عن عبداللہ بن مبارک عن عبدالرزاق بن ھمام عن معمر بن راشد عن ابان بن عیاش 

 

8: تاویل الایات ابن الحجام عن ابن عقدہ عن رجالھم عن عبدالرزاق بن ھمام عن معمر بن راشد عن ابان بن عیاش 

 

9: النعمانی فی الغیبة عن محمد بن ھمام بن سھیل و عبدالعزیز بن یونس و عبدالواجد بن یونس عن رجالھم عن عبدالرزاق بن ھمام عن معمر بن راشد عن ابان بن عیاش 

 

10: نسخة خطبئہ والحموینی فی منہاج الفاضلین عن الحسن بن ابی یعقوب الدینوری عن ابراہیم بن عمر الیمانی عن عبدالرزاق بن ھمام عن عبدالرزاق عن ھمام بن نافع الصنعانی عن ابان بن عیاش 

 

11: تفسیر فرات علی بن محمد بن عمر الزھری عن القاسم بن اسماعیل الانباری عن حفص بن عاصم و عبداللہ بن مغیرہ و نصر بن مزاحم و,محمد بن ھارون السندي عن ابان بن عیاش

 

12: شیخ صدوق عن ابیہ عن سعد بن عبداللہ عن یعقوب بن یزید عن حماد بن عیسی عن عبداللہ بن مسکان عن ابان بن عیاش

 

*جو طریق رجال شیخ نجاشی میں موجود ھے اس میں شیخ نے ابان بن عیاش کو سند سے گرایا ھے اور ابراہیم بن الیمانی کی سلیم بن قیس سے سند نقل کی ھے وہ سند بھی کامل و اکمل ھے*

 

ہم نے اوپر 12 اسناد نقل کی ہیں اور بھی کئ طریق سے اسناد ثابت ہیں جو محض تحریر لمبی ہونے کے ڈر سے چھوڑ دی ہیں 

 

📝 اس لیے اس کتاب کو بے سند کہنے والوں کے تمام استدلال باطل اور گمراہ کن ہیں

 

📚 کتاب سلیم بن قیس عندالائمة الھدی ؑ

 

*بشکریہ: سید ساجد بخاری و زولفقار مشرقی*

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28