Back to شیعہ خیر البریہ

امام رضا علیہ السلام کی جانب سے اپنے شیعوں کیلیے کچھ اھم دستور العمل

*اَللّھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّد وآلِ مُحَمَّد وَعَجِّل فَرَجَھُم*

 

*موضوع حدیث: امام رضا علیہ السلام کی جانب سے اپنے شیعوں کیلیے کچھ اھم دستور العمل*

 

عن عبدالعظیم الحسنی قال الامام الرضا علیه السلام

یا عبدالعظیم!

أبلغْ عنّی أولیائی السلامَ و قل لهم: أن لا یجعلوا للشیطان على أنفسهم سبیلاً و مُرْهم بالصدق فی الحدیث وأداء الأمانة و مُرْهم بالسکوت وترک الجدال فیما لا یَعْنیهم، و إقبالِ بعضهم على بعض والمُزاوَرة، فإنّ ذلک قربة إلیّ. و لا یشغلوا أنفسهم بتمزیق بعضهم بعضاً فإنّی آلیتُ على نفسی أنّه مَن فعل ذلک وأسخط ولیّاً من أولیائی دعوتُ الله لِیعذّبه فی الدنیا أشدّ العذاب، وکان فی الآخرة من الخاسرین. و عرِّفْهم أنّ الله قد غفر لمحسنهم، وتجاوز عن مسیئهم، إلاّ مَن أشرک به أو آذى ولیّاً من أولیائی أو أضمر له سوءً

فإنّ الله لا یغفر له حتّى یرجع عنه، فإنْ رجع و إلاّ نُزع رُوح الإیمان عن قلبه، وخرج عن ولایتی، ولم یکن له نصیب فی ولایتنا، وأعوذ بالله من ذلک.

 

امام رضا علیہ السلام نے عبد العظیم حسنی سے فرمایا

اے عبد العظیم! میرے دوستداران کو میرا سلام پنچاو اور ان سے کہو کہ

شیطان کو اپنے دلوں کی طرف راہ نہ دے

اور ان کو گفتار میں سچائی، امانتداری، معنی دار خاموشی، اور بیھودہ و بے فائدہ کاموں میں جدال و بحث کو ترک کرنے کا حکم دو۔ اور صلہ رحمی، آپس میں آمدورفت،اور گرما گرم روابط کی طرف دعوت دے دو۔

کیونکہ ایسا کرنا مجھ(ولایت) سے قریب ہونے کا باعث بنے گا۔

ان(ہمارے دوستوں) کیلیے مناسب نہیں ہے کہ فرصت کے اوقات کو ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کرنے میں برباد کرے۔

میں نے اپنے ساتھ عھد کیا ہے کہ جو بھی ان کاموں میں مرتکب ہوجائیں یا ھمارے دوستوں میں سے کسی کے اوپر اپنا غصہ نکالے تو میں خدا سے چاہوں گا کہ اسے دنیا میں سخت ترین سزا دے اور آخرت میں بھی ایسے لوگ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہونگے۔

ہمارے دوستوں کی طرف متوجہ رہو کیونکہ خدا نےنیک کردار کے حامل ھمارے دوستوں کو بخش دیا ہے اور بدکردار دوستوں کو بھی بخش دے گا سوائے انکے جو شرک کرتے ہیں یا ہمارے دوستوں میں سے کسی کو تنگ کرتے ہیں یا ہمارے دوستان میں سے کسی کا کینہ دل میں رکھتے ہیں۔

ان تینوں گروہ کو اللہ اسوقت تک نہیں بخشے گا جب تک وہ لوگ ان کاموں سے منہ نہ موڑے اگر ان سے منہ موڑے(توبہ کرے تو ان کی بھی بخشش ہوگی) اگر توبہ نہ کرے تو خداوند ایمان کی روح کو ہمیشہ کیلیے اس کے دل سے چھین لے گا اور ہماری ولایت سے خارج ہوگا اور ہماری دوستی بھی اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا اور میں ان سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔

 

📚 اختصاص، شیخ مفید، صفحه 247