Back to امام علی رضا (ع)

ایک تاریخی غلط فہمی کا ازالہ

*ایک تاریخی غلط فہمی کا ازالہ!*

 

ابھی کچھ دن پہلے امام رضا ع کی شہادت کی تاریخ گزری ہے. عام طور پر امام رضا ع کی شہادت کے ساتھ ان کی بہن جناب معصومہ قم ع کے مصائب کا بھی ذکر کیا جاتا ہے. اس مقام پر اکثر و بیشتر عوام اور بعض خواص سے بھی ایک غلطی سرزد ہوتی ہے اور وہ یہ کہ جناب امام رضا ع کی شہادت کو جناب معصومہ ع کی رحلت سے پہلے بتایا جاتا ہے. جبکہ یہ تاریخی شواہد کے سراسر خلاف ہے.

 

اس حوالے سے ہم دو دلیلوں پر اکتفاء کریں گے: 

 

1. امام رضا ع کی تاریخ و سال شہادت شیخ کلینی کے مطابق ماہ صفر سن 2033 ھ اور شیخ مفید کے مطابق بھی آخر صفر سن 203 ھ ہے. 

 

(الکافی: ج1، ص 486/ الارشاد: ص 304)

 

اس کے علاوہ شیخ کلینی نے سال 202 ھ کی روایت بھی نقل کی ہے. 

 

(الکافی: ج11، ص 491، ح 11) 

 

طبری امامی بھی سال شہادت 202 ھ کو قرار دیتے ہیں. 

 

(دلائل الامامہ: ص 350) 

 

جو کچھ بیان ہوا اس کی بنا پر امام کا سال شہادت یا 202 ھ ہے یا 2033 ھ. 

 

 البتہ جناب معصومہ کی تاریخ رحلت کا ذکر یوں کیا گیا ہے. 

 

جناب معصومہ ع کی رحلت بدھ کے روز 10 یا 12 ربیع الثانی سن 201 ھ میں واقع ہوئی. 

 

(تاریخ قم: ص 213/ اعیان الشیعہ: ج8، ص 391/ ریاحین الشریعۃ: ج5، ص 32) 

 

 یوں یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ جناب معصومہ ع کی رحلت امام رضا ع کی حیات میں واقع ہوئی ہے. 

 

2. علامہ مجلسی بحار میں راقم ہیں: 

 

 امام رضا ع نے سعد سے کہا: تمہارے علاقے میں ہم اہلبیت ع میں سے ایک شخصیت کی قبر ہے. سعد نے کہا: میں آپ پر فدا کیا آپ کی مراد فاطمہ بنت موسی کاظم ع ہیں؟ امام نے فرمایا: ہاں! جو بھی اس کے حق کی معرفت کے ساتھ اس کی قبر کی زیارت کرے گا اس کے لیے جنت ہے. جب بھی تم ان کی قبر پر جاؤ تو ان کے سرہانے کھڑے ہو جاؤ اور رو بہ قبلہ ہو کر 34 بار اللہ اکبر، 33 بار سبحان اللہ اور 33 بار الحمد للہ پڑھو اس کے بعد کہو: السلام علی آدم صفوۃ اللہ.... (اس کے بعد امام رضا ع نے وہی زیارت نامہ تعلیم فرمایا جو زائرین حرم جناب معصومہ ع میں تلاوت کرتے ہیں) 

 

(بحار الانوار: ج102، ص 266)

 

 اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام رضا ع جناب معصومہ ع کی رحلت کے بعد بقید حیات تھے اور بی بی کا زیارت نامہ خود امام رضا ع نے تعلیم فرمایا ہے. 

ان دو دلیلوں کی بنا پر ہم کہتے ہیں: عوام الناس اور بعض خطباء کے یہاں یہ جو مشہور ہے کہ بی بی کی رحلت امام رضا ع کے بعد ہوئی یا ان کی شہادت کے صدمے سے ہوئی، تو یہ بات تاریخی شواہد کے خلاف ہے. یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: پھر اس روایت کا کیا ہو گا جو بتاتی ہے کہ جب بی بی قم میں داخل ہوئیں تو سوگ و عزا کا ماحول تھا ؟؟؟ 

 

جی یہ روایت اپنی جگہ لیکن اس سے جو معنی سمجھے گئے ہیں وہ غلط ہیں. بی بی اکیلی نہیں تھیں بلکہ ان کے ساتھ ان کے بھائی بھی تھے جن کی تعداد تین تک بتائی جاتی ہے. قم سے دس فرسخ کے فاصلے پر ایک مقام بنام ساوی ہے، بی بی کے قافلے پر یہاں حملہ کیا گیا جس میں ان کے بھائی شہید ہو گئے اور بعض روایات کے مطابق بی بی کو بھی مسموم کیا گیا. ان بھائیوں کی قبور آج بھی ساوی شہر میں موجود ہیں. لہذا بی بی کے قم میں داخل ہوتے وقت جو سوگ و عزا کا ماحول تھا وہ امام رضا ع کی شہادت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان بھائیوں کی شہادت پر تھا جنہیں ساوی میں شہید کر دیا گیا تھا. 

 

 نتیجہ یہ کہ جناب معصومہ ع امام رضا ع کی زندگی میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں اور بنا بر روایات آپ کی وفات کا سبب زہر تھا نہ کہ امام کی شہادت کی خبر پانا. 

 

(مزید مطالعہ کے لیے رجوع کیجیے کتاب شہیدہ غربت تالیف یوسف علی یوسفی/ در عصمت تالیف علی اشرف عبدی/ برگی از تاریخ قم تالیف دار التحقیق آستانہ مقدس قم)

 

سید سبطین علی نقوی امروہوی.