🌷اخلاق امام رضا علیہ السلام🌷
ھمارے تمام آئمہ علیہم السلام لوگوں کےدرمیان رہتے اور انکے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ عملا" ان کو زندگی، پاکیزگی، عزت و شرافت کی تعلیم دیتے تھے۔ آئمہ علیہم السلام کی زندگیاں دوسروں کےلئے عملی نمونہ تھیں۔ اگرچہ امامت کی بلند و بالا منزلت آئمہ طاھرین کو دوسروں سے بالکل جدا اور ممتاز کر دیتی تھی اور یہ تمام حضرات خدا کے منتخب بندے اور زمین پر اس کی حجت تھے لیکن ان تمام خصوصیات کے باوجود ان حضرات نے کبھی بھی اپنے لئے دربان معین نہیں کیا، اور نہ کبھی لوگوں سے الگ ھوکر تنہائی کی زندگی بسر کی۔ جابر و ظالم حکمرانوں کی طرح اپنے لئے کوئی خاص روش انتخاب نہیں فرماتے تھے۔ لوگوں کو ہرگز اپنا غلام نہیں بناتے تھے اور نہ کبھی ان کو ذلیل و خوار کرتے تھے بلکہ ان کی عزت کرتے تھے اور ان کو حریت و آزادی کی تعلیم دیتے تھے۔
🔆ابراھیم بن عباس کا بیان ہے:
میں نے ہرگز نہیں دیکھا کہ امام رضا علیہ السلام نے گفتگو کرنے میں بھی کسی پر ظلم کیا ھو اور یہ بھی نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی کی بات تمام ہونے سے پہلے کاٹ دی۔ کسی ضرورت مند کی ضرورت اگر پوری کرسکتے ھوتے تو اس کو رد نہیں کرتے تھے- دوسروں کےسامنے پاؤں نہیں پھیلاتے تھے، کبھی بھی کسی غلام سے سختی سے بات نہیں کی- آپ کی ہنسی قہقہہ نہ ہوتی بلکہ مسکراہٹ ھوتی تھی، جس وقت دسترخوان چنا جاتا تھا اسوقت گھر کے تمام لوگوں کو جمع کرتے تھے یہانتک کہ خادموں کو بھی اپنے ساتھ دسترخوان پر بٹھاتے تھے اور وہ سب امام کے ہمراہ کھانا کھاتے تھے۔ رات میں جاگتے زیادہ تھے اور سوتے کم تھے۔ اکثر اوقات آپ صبح تک بیدار رہتے تھے، بہت زیادہ روزے رکھتے تھے اور ہر مہینہ کے تین روزے کبھی ترک نہیں فرماتے تھے۔
پوشیدہ طور سے زیادہ کارخیر کرتے تھے اور اکثر رات کی تاریکی میں مخفی طور سے فقیروں کی مدد فرمایا کرتے تھے۔
🌼 محمدبن ابی عباد کا بیان ہے:
حضرت کا بستر گرمیوں کے دنوں میں چٹائی تھا اور جاڑے کے موسم میں روئی کا--
حضرت گھر میں موٹا اور گاڑھا لباس زیب تن فرماتے تھے، لیکن جب آپ کسی اجتماع میں شرکت فرماتے تھے (تو عمدہ لباس زیب تن فرماتے تھے)، اور اپنے کو سنوارتے تھے۔
📕اعلام الوری، ص314، 315۔
🌼 ایک رات امامؑ کے گھر ایک آدمی مہمان تھا، گفتگو کے دوران چراغ میں کچھ خرابی پیدا ھوگئی، مہمان نےچاہا کہ ہاتھ بڑھا کر چراغ کو ٹھیک کردے لیکن امامؑ نے مہمان کو یہ کام نہ کرنے دیا بلکہ ہاتھ بڑھا کر خود چراغ ٹھیک کردیا، اور اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ:
"ھم ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنے مہمانوں سے کام نہیں لیتے ہیں--
🌼 ایک شخص نے امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ، قسم خدا کی، اس روئے زمین پر کوئی بھی عزت و شرافت میں آپ کے آباؤ اجداد کے برابر نہیں ہے--
امام علیہ السلام نے فرمایا:
تقوی اور پرہیزگاری نے انہیں شرافت عطا کی اور خداوندعالم نے انھیں باعزت قرار دیا--
🌼شہر بلخ کے رہنے والے ایک شخص کا بیان ہے کہ خراسان کے سفر میں امام رضاؑ کے ھمراہ تھا- ایک روز دسترخوان بچھا ہوا تھا، امامؑ نےاپنے تمام خادموں کواس دسترخوان پر جمع کرلیا تھا، یہاں تک کہ سیاہ فام غلام بھی اس دستر خوان میں شریک تھے تاکہ سب امامؑ کے ساتھ کھانا کھائیں--
میں نے امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ بہتر ھو گا کہ آپ ان لوگوں کے لئے دوسرا دسترخوان بچھوا دیں اور یہ لوگ وہاں کھانا کھائیں.
امام نے فرمایا:
''خاموش رہو! سب کا پروردگار ایک ہے، سب کے والدین ایک ہیں (سب ہی حضرت آدمؑ و حواؑ کی اولاد ہیں) اور ہرایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا.
🌼 امام کے خادم یاسر کا بیان ہے کہ امام رضاؑ نے ہم سے فرمایا تھا کہ اگر میں تمھارے سرہانے کھڑا ھوں (اور تم کو کسی کام کے لئے بلاؤں) اور اس وقت تم کھانا رہے ھو تو کھانا تمام کئے بغیر مت اٹھا کرو۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات ایسا ھوتا تھا کہ امامؑ ہم لوگوں کو بلاتے تھے اور ھم کہہ دیتے تھے کہ ہم کھانا کھانے میں مشغول ہیں- امامؑ فرماتے تھے کہ ان لوگوں کو کھانا کھانےدو --
📕 کافی ج6.ص298.
بشکریہ تحریر: 🌷اصغررضا🌷
۔
۔
آداب امام رضا عليه السلام
ابراهيم بن عباس فرماتے ہیں ميں نے ابا الحسن الرضا (عليه السلام) كو كبھی کسی شخص سے ايک لفظ پہ بھی جفا كرتے نہیں دیکھا اور كبھی نہیں ديكھا کہ وه كسى كى بات كرنے کے دوران اسكى بات كاٹ دیں جب تک وہ بات كرنے سے فارغ نا ہو جائے ، اور انہوں نے کبھی کسی کی حاجت كو رد نہیں کیا جس کو پورا کرنے پہ وہ قدرت ركھتے تھے ، اور انكے سامنے بیٹھے شخص كے سامنے وہ ٹانگیں کبھی نا پھیلاتے تھے ، اور نا اپنے سامنے بیٹھے شخص كے سامنے ٹیک لگا کر بیٹھتے ، اور ميں نے کبھی انکو اپنے موالين (شيعوں) يا غلاموں کو گالی دیتے نہیں سنا ، اور انہیں کبھی تھوکتے نہیں دیکھا ، اور انہیں کبھی ہنسنے کے دوران قہقہہ لگاتے نہیں دیکھا ، بلکہ انکا ہنسنا تبسم(مسكراہٹ) ہوتا تھا ، اور جب وه اكيلے ہو جاتے اور انکا کھانا لگایا جاتا تو وہ اپنے کھانے پہ اپنے غلاموں اور موالين (شيعوں) كو ساتھ بٹھاتے حتى كہ دربان جو جانوروں کی رکھوالی کرتا ہے تک کو ، اور وه عليه السلام رات كو بہت کم سوتے تھے اور زياده جاگتے تھے ، اپنی اکثر راتيں رات كے شروع سے صبح تک عبادت ميں گزارتے ، اور وه بہت زياده روزے رکھنے والے تھے تو انکے مہینے میں تين روزے نہیں چھوٹتے تھے ، اور وه كہتے تھے کہ یہ (تين روزے) صوم الدهر (پورے زمانے کا روزے رکھنے جيسے) ہیں ، اور وه عليه السلام بہت زياده اچھائی اور چھپ کے صدقہ کرنے والے تھے اور وه يہ زياده تر تاريک راتوں میں انجام ديتے تھے ، تو جس نے یہ زعم كيا كہ اس نے ان جيسا فضل ميں ديكھا ہے تو اسکو سچا مت سمجھنا (کہ کوئی ان جیسے فضل والا نہیں) ۔
(بحوالہ عيون اخبار الرضا عليه السلام ج ٢ ص ١٩٧)