ابن حجر عسقلانی نے محمد بن مؤمل سے نقل کیا ہے کہ :
خرجنا مع إمام أهل الحدیث أبی بکر بن خزیمة. وعدیله أبی علی الثقفی مع جماعة من مشائخنا وهم إذ ذاک متوافرون إلی زیارة قبر علی بن موسی الرضی بطوس. قال فرأیت من تعظیمه یعنی بن خزیمة لتلک البقعة وتواضعه لها وتضرعه عندها ما تحیرنا
ھم امام اھل حدیث ابوبکر بن خذیمہ کے ساتھ نکلے اور اسکے ساتھ اسکا دوست ابو علی الثقفی بھی مشائخ کی ایک جماعت کے ساتھ شہر طوس علی بن موسی رضی کی قبر کی زیارت کو جاتے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ ابن خذیمہ انکی قبر کی بڑی تعظیم کیا کرتے ہیں اور وہاں نادم ہوتے۔ ھمیں انکے اس رویہ پر تعجب ہوتا۔
تہذیب التہذیب - ابن حجر عسقلانی // جلد ۳ // صفحہ ۱۹۵ // طبع الرسالہ العالمیہ بیروت لبنان۔
خطیب بغدادی نے بھی اپنی کتاب میں نقل کیا ہے کہ ابو علی حسن بن ابراھیم الخلال نے یوں کہا :
ما همنی أمر فقصدت قبر موسی بن جعفر فتوسلت به الا سهل الله تعالی لی ما أحب
جب بھی میں کسی کام کا قصد کرتا تو میں موسی بن جعفر الکاظمؑ (شیعوں کے ساتھوے امام) کیا توسل اللہ کو دیتا تو اللہ میرے لے وہ آسان کرتا جو میں چاھتا۔
تاریخ بغداد - خطیب بغدادی // جلد ۱ // صفحہ ۱۳۲ - ۱۳۳ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔