جب صوفیاء نے امام رضا علیہ السلام پر دنیاوی نعمتوں کے استعمال کا اعتراض کیا
خراسان میں کچھ صوفی امام رضا علیہ السلام کے پاس آئے اور کہنے لگے:
"امیرالمؤمنین مامون نے جس خلافت کو اللہ نے اسے سونپی ہے، اس میں غور کیا تو پایا کہ آپ اہل بیت، لوگوں کی امامت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ اور اس نے آپ کو اہل بیت میں سب سے افضل پایا، اسی لیے اس نے خلافت آپ کو سونپنے کا ارادہ کیا۔
لیکن امام کو تو ایسا ہونا چاہیے جو سخت غذا کھائے، خشن (کھردرا اور سادہ) لباس پہنے، گدھے پر سوار ہو، اور مریضوں کی عیادت کیا کرے۔"
یہ ایک طرح سے امام کی شخصیت اور زندگی پر اعتراض تھا۔
امام رضا علیہ السلام اُس وقت ایک تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، فوراً سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا:
"حضرت یوسف علیہ السلام اللہ کے نبی تھے، لیکن وہ ریشمی لباس پہنتے تھے، جس میں سونے کی زینت بھی تھی۔ وہ آلِ فرعون کے مخملی تختوں پر بیٹھتے تھے اور وہی حکومت بھی کرتے تھے۔
امام سے یہ تقاضا نہیں کیا جاتا کہ وہ فقیری ظاہر کرے، بلکہ امام سے تو عدل اور انصاف کی توقع ہوتی ہے۔
جب وہ بات کرے تو سچ کہے،
جب فیصلہ کرے تو انصاف کرے،
اور جب وعدہ کرے تو پورا کرے۔
اللہ تعالیٰ نے نہ کسی کھانے کو اور نہ کسی لباس کو (جب تک حرام نہ ہو) ناپسند قرار دیا ہے۔"
اس کے بعد امام نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
"کہہ دو: کس نے اللہ کی زینت کو، جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہے، اور پاکیزہ رزق کو حرام کر دیا؟"
(سورہ اعراف، آیت 32)
خلاصہ:
صوفیاء نے امام رضا علیہ السلام پر دنیاوی نعمتوں کے استعمال کا اعتراض کیا، لیکن امام نے دلیل سے واضح فرمایا کہ نبی بھی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے تھے، اصل چیز عدل، صداقت اور وعدے کی وفا ہے، نہ کہ فقیری کا ظاہری لباس۔
📑 بدر علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
#التماس_دعا #بدر_علی #talimaat_e_ahlbait
Gallery
Tap any image to view full screen