📜 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْهَمَدَانِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَبِي الصَّلْتِ الْهَرَوِيِّ قَالَ كَانَ الرِّضَا(ع)يُكَلِّمُ النَّاسَ بِلُغَاتِهِمْ وَ كَانَ وَ اللَّهِ أَفْصَحَ النَّاسِ وَ أَعْلَمَهُمْ بِكُلِّ لِسَانٍ وَ لُغَةٍ فَقُلْتُ لَهُ يَوْماً يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ إِنِّي لَأَعْجَبُ مِنْ مَعْرِفَتِكَ بِهَذِهِ اللُّغَاتِ عَلَى اخْتِلَافِهَا فَقَالَ يَا أَبَا الصَّلْتِ أَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ وَ مَا كَانَ اللَّهُ لِيَتَّخِذَ حُجَّةً عَلَى قَوْمٍ وَ هُوَ لَا يَعْرِفُ لُغَاتِهِمْ أَ وَ مَا بَلَغَكَ قَوْلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ(ع)أُوتِينَا فَصْلَ الْخِطابِ فَهَلْ فَصْلُ الْخِطَابِ إِلَّا مَعْرِفَةُ اللُّغَاتِ
📃 احمد بن زیاد بن جعفر ہمدانی (رضی اللہ عنہ) نے کہا: ہمیں علی بن ابراہیم بن ہاشم نے ابو الصلت ہروی سے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: امام رضا (علیہ السلام) لوگوں سے ان کی زبان میں گفتگو کیا کرتے تھے، اور خدا کی قسم! وہ سب سے زیادہ فصیح اور ہر زبان اور لغت کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔
میں نے ایک دن ان سے کہا: اے فرزندِ رسول (ص)! میں حیران ہوں کہ آپ اتنی مختلف زبانوں کو کیسے جانتے ہیں؟
تو امام (ع) نے فرمایا: اے ابو الصلت! میں اللہ کی مخلوق پر اس کی حجت ہوں، اور اللہ ایسا نہیں کہ کسی قوم پر اپنی حجت قرار دے جبکہ وہ ان کی زبانوں کو نہ جانتا ہو۔
کیا تم نے امیر المؤمنین (علیہ السلام) کا یہ قول نہیں سنا کہ: ہمیں "فصلِ خطاب" عطا کیا گیا ہے؟ تو کیا "فصلِ خطاب" زبانوں کی معرفت کے سوا کچھ اور ہے؟
📚 عیون الاخبار الرضا ، ج۲ ، ص۳۸۷
۔
۔
🔴 امام رضا علیہ السلام کی تمام زبانوں سے آشنائی 🔴
ائمہ طاہرین علیہم السلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ تمام انسانوں، جنّات، درندوں، پرندوں اور کائنات کی ہر مخلوق کی زبان اور بولیوں سے واقف ہیں؛ کیونکہ ان کی اطاعت تمام مخلوقات پر واجب ہے، اور یہ مقام اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سب مخلوقات ان سے رابطہ رکھیں اور ان کی اطاعت کریں۔
اگر ائمہ علیہم السلام ان کی زبانیں نہ جانتے ہوں، تو کیسے انہیں حکم دے سکتے ہیں؟
لہٰذا ان کی اطاعت، ان کی زبان و گویش کو جانے بغیر ممکن نہیں۔
یہ مقدمہ مدنظر رکھتے ہوئے، یہ بات صحیح روایات سے بھی ثابت ہے۔
شیخ صدوق (قدس سرہ) صحیح سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:
احمد بن زیاد بن جعفر ہمدانی نے بیان کیا: علی بن ابراہیم بن ہاشم نے، اور اس نے ابو الصلت ہروی سے روایت کی:
امام رضا علیہ السلام لوگوں سے ان کی اپنی زبان میں گفتگو فرماتے تھے،
خدا کی قسم! وہ سب سے زیادہ فصیح اور ہر زبان و بولی کے سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے۔
میں نے ایک دن عرض کیا: اے فرزند رسول! میں حیران ہوں کہ آپ کو اتنی مختلف زبانوں کا اتنا علم کیسے ہے؟
امام نے فرمایا: اے ابو الصلت! میں اللہ کی طرف سے اس کے بندوں پر حجت ہوں، اور اللہ کبھی بھی کسی قوم پر ایسی حجت مقرر نہیں کرتا جو ان کی زبان نہ جانتی ہو۔
کیا تم نے امیرالمومنین علی علیہ السلام کا یہ قول نہیں سنا: "ہمیں فصل الخطاب عطا ہوا ہے؟"
تو کیا "فصل الخطاب" کا مطلب ہر زبان کو جاننا نہیں؟
📚 عیون اخبار الرضا (ع): شیخ صدوق جلد: ۲، صفحہ: ۲۵۱
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
۔
۔
امام علی رضا ع کا ﺗﻤﺎﻡ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﻋﺒﻮﺭ
ﻣﺮﺣﻮﻡ ﺷﻴﺦ ﺻﺪﻭﻕ، ﺷﻴﺦ ﺣﺮّﻋﺎﻣﻠﻰ ﻭ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﮐﺎﺑﺮﯾﻦ ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﺍﺑﻮﺻﻠﺖ ﮨﺮﻭﻯ ﻧﻘﻞ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
ﺣﻀﺮﺕ امام علی رضا ع ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﻋﺒﻮﺭ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮨﯽ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻟﮩﺠﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻠﻤﺎﺕ ﻭ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻞ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻓﺼﯿﺢ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﺑﻮﺻﻠﺖ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ رضا ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﺗﻨﯽ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﻋﺒﻮﺭ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ؟
ﺍﻣﺎﻡ ﻉ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺍﮮ ﺍﺑﺎ ﺻﻠﺖ ! ﻣﯿﮟ ﺣﺠﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﯿﻔﺔ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭ ﺟﺎﻧﺸﯿﻦ ﻭ ﺭﺍﮨﻨﻤﺎ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺻﻄﻼﺣﺎﺕ ﺳﮯ ﺁﮔﮩﯽ ﺑﺨﺸﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﻋﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻥ ﮨﯽ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﭼﯿﺖ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺪﮔﺎﻥ ﺧﺪﺍ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ علی ﻉ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻗﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ انهوﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﮨﻢ ﺍﮨﻞ ﺑﯿﺖ ﻋﺼﻤﺖ ﻭ ﻃﮩﺎﺭﺕ ﭘﺮ ﻓﺼﻞ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ ﻋﻄﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﻓﺼﻞ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺻﻄﻼﺣﺎﺕ ﺳﮯ ﺁﮔﮩﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﮔﮩﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺷﻨﺎﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﺴﻞ ﺳﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﮔﻮﺷﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ۔
ﻋﯿﻮﻥ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﻟﺮّﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ : ﺝ 2 ، ﺹ 228 ، ﺡ 3 ، ﺍ ﺛﺒﺎﺕ ﺍﻟﮩﺪﺍﺓ : ﺝ 4 ، ﺹ 279 ، ﺡ 91 ، ﺍ ﻋﻼﻡ ﺍﻟﻮﺭﯼ ﻃﺒﺮﺳﯽ : ﺝ 2 ، ﺹ 70
۔
۔
امام رضاعلیہ السلام کی سندھی زبان میں گفتگو
ابو اسمائیل سندھی کہتا ہے کہ میں نے سندھ میں سنا کہ اللہ نے عرب میں اپنی ایک حجت کو بھیجا ہے میں نے اس حجت خدا کی زیارت کی غرض سے سفر کیا مجھے علی بن موسی رضا علیہ السلام کی طرف رہنمائی کی گئی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا عربی زبان نہ جاننے کی وجہ سے میں نے سندھی زبان میں ہی سلام کیا تو آپ نے سندھی زبان میں ہی مجھے سلام کا جواب دیا .
اور پھر میں نے سندھی زبان میں ہی سوالات کیے امام میرا اسی طرح ہی جواب دیتے رہے لہذا میں نے اپنے سفر کا مقصد آپ سے بیان کیا . آپ نے فرمایا : تو اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا ہے میں وہی حجت خدا ہوںکہ جس کی زیارت کے لیے تم نے سفر کیا ہے . رخصت ہوتے وقت میں عرض کیا کہ میں عربی زبان نہیں جانتا آپ میرے حق میں دعا کریں کہ خدا مجھہ پر عربی زبان الہام فرما دے . آپ نے اپنا دست مبارک میرے ہونٹوں پہ پھیرا اسی وقت میں عربی زبان میں گفتگو کرنے لگا.
امام رضا اہل سنت کی روایات میں ص ۲۹۹
کتب اھل سنت :شواہد النبوت ص ۳۸۸
, تاریخ حبیب السیر ج ۲ص ۸
Gallery
Tap any image to view full screen