🌹 *امام رضا (علیهالسلام) کو رضا کیوں کہتے ہیں*
〰〰〰〰🌟📜
✳️ احادیث اهل بیت علیهم السلام میں ایک صحیح حدیث امام جواد علیه السلام سے نقل ہوئی ہے کہ جس میں امام رضا علیہ السلام کو رضا کا نام دینے کی وجہ بیان کی ہے ۔
✳️قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ مُوسَى بْنِ بَابَوَیْهِ الْقُمِّیُّ الْفَقِیهُ مُصَنِّفُ هَذَا الْکِتَابِ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِی وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْمُتَوَکِّلِ وَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مَاجِیلَوَیْهِ وَ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ إِبْرَاهِیمَ بْنِ هَاشِمٍ وَ الْحُسَیْنُ بْنُ إِبْرَاهِیمَ [بْنِ] ناتَانَةَ وَ أَحْمَدُ بْنُ زِیَادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْهَمَدَانِیُّ وَ الْحُسَیْنُ بْنُ إِبْرَاهِیمَ بْنِ هِشَامٍ الْمُکَتِّبُ وَ عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالُوا حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاهِیمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَبِیهِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی نَصْرٍ الْبَزَنْطِیِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِی جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ مُوسَى ع إِنَّ قَوْماً مِنْ مُخَالِفِیکُمْ یَزْعُمُونَ أَبَاکَ إِنَّمَا سَمَّاهُ الْمَأْمُونُ الرِّضَا لِمَا رَضِیَهُ لِوِلَایَةِ عَهْدِهِ فَقَالَ کَذَبُوا وَ اللَّهِ وَ فَجَرُوا بَلِ اللَّهُ تَبَارَکَ وَ تَعَالَى سَمَّاهُ الرِّضَا لِأَنَّهُ کَانَ رِضًى لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فِی سَمَائِهِ وَ رِضًى لِرَسُولِهِ وَ الْأَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِهِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَیْهِمْ فِی أَرْضِهِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ أَ لَمْ یَکُنْ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْ آبَائِکَ الْمَاضِینَ عَلَیْهِمُ السَّلَامُ رِضًى لِلَّهِ تَعَالَى وَ لِرَسُولِهِ وَ الْأَئِمَّةِ ع فَقَالَ بَلَى فَقُلْتُ فَلِمَ سُمِّیَ أَبُوکَ مِنْ بَیْنِهِمْ الرِّضَا قَالَ لِأَنَّهُ رَضِیَ بِهِ الْمُخَالِفُونَ مِنْ أَعْدَائِهِ کَمَا رَضِیَ بِهِ الْمُوَافِقُونَ مِنْ أَوْلِیَائِهِ وَ لَمْ یَکُنْ ذَلِکَ لِأَحَدٍ مِنْ آبَائِهِ ع فَلِذَلِکَ سُمِّیَ مِنْ بَیْنِهِمْ الرِّضا
📒القمی، ابی جعفر الصدوق، محمد بن علی بن الحسین بن بابویه (متوفای381هـ)، عیون أخبار الرضا (ع)،ج1،ص 13،ح1، تحقیق: لاجوردى، مهدى، ناشر: نشر جهان - طهران، الطبعة : الأولى، سال چاپ: 1378 هـ .
📒الصدوق، ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین (متوفای 381هـ)، علل الشرائع ، ج1،ص 236 و 237، ح1، ناشر: منشورات کتاب فروشى داورى - قم، الطبعة: الأولى، الطبع: 1385 - 1966 م.
📒المجلسی، محمد باقر (متوفاى1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار،ج49،ص 4،ح 5، تحقیق: جمعى از محققان، ناشر: دار إحیاء التراث العربی- بیروت - لبنان، الطبعة: الثانیة المصححة، 1403هـ - 1983م.
✳️ احمد بن محمّد بن ابى نصر بزنطىّ سے روایت ہے کہ :
میں نے امام جواد علیه السّلام سے عرض کی کہ :
آپ کے بعض مخالفین یہ گمان کرتے ہیں کہ مامون نے آپ کے بابا کو رضا کا لقب دیا ہے کیونکہ مامون کی طرف سے ولی عہدی پر آپ کے والد راضی ہوگئے تھے۔
♻️حضرت جواد علیه السّلام نے فرمایا:
اللہ کی قسم جھوٹ بولتے ہیں اور فسق و فجور کے مرتکب ہوگئے ہیں ۔ اللہ نے ان کا نام رضا رکھا تھا کیونکہ اللہ کے لئے آسمان میں اور رسول اور آئمہ کے لئے زمین میں وہ مورد رضایت تھے
بزنطى نے کہا کہ :
کیا آپ کے سارے آباء خدا ،رسول اور آئمہ سے راضی نہیں تھے ؟
امام نے کہا کہ : کیوں نہیں ،
♻️میں نے کہا کہ :
پس پھر کیوں فقط آپ کے بابا کو رضا کا نام دیا گیا ہے۔؟
امام نے فرمایا :
وہ اس لئیے کہ جس طرح ان سے دوست اور طرفدار راضی تھے اسی طرح مخالفین نے بھی ان کو قبول کیا تھا اور ان سے راضی تھے جبکہ ان کے آباواجداد کے لئیے یہ موقع پیش نہیں آیا تھا۔
پس اسی وجہ سے فقط ان کو ہی رضا کا نام دیا گیا ہے۔
➖➖➖➖➖➖➖
💻 سید ابوعماد حیدری (مرحوم)