Back to امام علی رضا (ع)

امام علی الرضا کے لقب " الرضا " کا معنی

امام علی الرضا کے لقب " الرضا " کا معنی
امام علی الرضا کے لقب " الرضا " کا معنی

امام علی الرضا کے لقب " الرضا " کا معنی 

 

🖋علی بن ابراھیم قمی

 

📜 حدثنا احمد بن علی بن ابرهيم ـ رضى الله عنه ـ قال : حدثنی ابي ، عن جدی ابرهيم بن هاشم ، عـن احمد بن محمد بن ابی نصر البزنظى ، قال : قلت لابي جعفر محمد بن على الثاني لقاء : ان قوماً من مخالفيكم يزعمون ان اباك ـ صلوات الله عليه ـ انما سماه المأمون الرضا ، لما رضيه لولاية عهده فقال : كذ--بوا والله وفجر--وا بل الله تعالى سماه الرضا ، لانه كان البلا رضى الله ـ تعالى ذكره ـ في سمائه ورضى لرسوله والائمة بعده ع فی ارضه ، قال : فقلت له : الم يكن كل واحد من آبائك الماضين ع رضی الله عز وجل ولرسوله والائمة بعده ؟ فقال : بلى ، فقلت له : فلمسمى اباك الا من بينهم الرضـا الا قال : لانه رضى به المخالفون من اعدائه كما رضى الموافقون من اوليائه ، ولم يكن ذلك لاحد من آبائه ﷺ ، فلذلك سمى من بينهم الرضا ع۔

 

📃 بزنطی کہتے ہیں میں نے امام محمد تقی ع سے کہا کہ آپ کے مخالفین کا ایک گروہ کہتا ہے چونکہ آپ کے والد امام الرضا ع نے مامون عباسی کا ولی عہدہ کا عہدہ قبول کیا تھا اس لئے مامون نے ان کو الرضا ع کا لقب دیا ، آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اللہ نے ان کو یہ لقب دیا تھا ۔ اس لیے کہ آپ اللہ کی رضا پر راضی تھے اور رسولِ خدا ﷺ اور آئمہ طاہرین کی رضا پر بھی راضی تھے ۔ میں نے کہا آپ کے آباء طاہرین میں سے ہر ایک بھی تو اللہ اور رسول ص کی رضا پر راضی تھا پھر یہ لقب امام علی الرضا ع کا خاصا کیوں ہوا ؟ آپ نے فرمایا اس لیے کہ امام علی الرضا ع کے دوستوں کے ساتھ ساتھ ان کے مخالفین بھی ان کی ولایت پر راضی ہوئے اور یہ بات ہمارے اجداد میں سے کسی کو حاصل نہیں تھی کہ ان کے دوستوں کے ساتھ ساتھ ان کے مخالف بھی ان کی ولایت پر راضی ہو جائیں ۔

 

📚 علل الشرائع ۱/۳۱۷ ، وسندہ صحیح

 

تعلیماتِ اہلبیتؑ

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2