Back to امام علی رضا (ع)

امام علی رضا علیه السلام کی زیارت صحیح روایات کی روشنی میں

امام علی رضا علیه السلام کی زیارت صحیح روایات کی روشنی میں 

 

تحریر و تحقیق : جبران علی

 

الشیخ الصدوق ؒ نے اپنی کتاب " الامالي " میں بسند صحیح ابو نصر بزنطي سے روایت نقل کی ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے امام رضا علیه السلام سے سنا کہ آپ ؑ نے فرمایا : 

 

 ما زارني أحد من أوليائي عارفا بحقي إلا شفعت فيه يوم القيامة .

 

جو شخص بهی میرے اولیاء و عارفین میں سے میری زیارت کرے گا اور میرے حق کی معرفت رکهتا ہو گا تو ہم قیامت کے دن اس کی شفاعت کریں گے ۔۔

 

الأمالي - الشيخ الصدوق - الصفحة ١٨١

 

الشیخ الصدوق ؒ نے اپنی کتاب " الامالي " میں بسند صحیح ایوب بن نوح سے روایت نقل کی ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے امام محمد تقي صلوات الله علیه کو فرماتے ہوئے سنا : 

 

من زار قبر أبي (عليه السلام) بطوس غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر، فإذا كان يوم القيامة نصب له منبر بحذاء منبر رسول الله (صلى الله عليه وآله) حتى يفرغ الله تعالى من حساب عباده ۔

 

جو شخص میرے والد محترم کی قبر زیارت طوس میں کرے گا خدا اس کے گزشتہ و آئندہ تمام گناہ معاف کر دے گا اور جب قیامت کا دن ہو گا تو رسول اکرم ؑ کے منبر کے ساتھ اس کا منبر نصب کیا جائے گا اور وہ زائر اس منبر پر تشریف رکهے گا یہاں تک کہ الله اپنے بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا ۔۔۔

 

الأمالي - الشيخ الصدوق - الصفحة ١٨٣

 

الشیخ الصدوق ؒ نے اپنی کتاب " الامالي " میں بسند صحیح ابو نصر بزنطي سے روایت نقل کی ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے امام رضا علیه السلام کا ایک نامہ پڑها جس میں یہ تحریر تها : 

 

أبلغ شيعتي أن زيارتي تعدل عند الله ألف حجة.

 

میرے شیعوں کو اس کی خبر دے دو کہ میری زیارت الله کے نزدیک ایک ہزار حج کے برابر ہے ۔

 

راوی کہتا ہے میں نے آپ ؑ کے فرزند امام تقي ؑسے عرض کیا : مولا ؑ! ایک ہزار حج کے برابر ہے ؟؟

 

تو امام محمد تقي علیه السلام نے فرمایا : 

 

إي والله وألف ألف حجة لمن زاره عارفا بحقه .

 

ہاں، خدا کی قسم! جو آپ کے حق کی معرفت کے ساتھ آپ کی زیارت کرے گا خدا اس کو دس لاکھ حج کے برابر ثواب عطا کرے گا ۔۔

 

الأمالي - الشيخ الصدوق - الصفحة ١٨١

 

الشیخ الصدوق ؒ نے اپنی کتاب " الامالي " میں بسند معتبر حمزہ بن حمران سے روایت نقل کی ہے وہ کہتا ہے امام ابو عبدالله علیه السلام نے فرمایا : 

 

يقتل حفدتي بأرض خراسان في مدينة يقال لها طوس، من زاره إليها عارفا بحقه أخذته بيدي يوم القيامة وأدخلته الجنة، وإن كان من أهل الكبائر.

 

میرا ایک پوتا خراسان کی زمین طوس کے شہر میں قتل کیا جائے گا (اور یہاں پر دفن کیا جائے گا) جو شخص ان کے حق کی معرفت رکهتے ہوئے اس کی زیارت کرے گا تو میں خود اس کے ہاتھ کو پکڑ کر اس کو جنت میں داخل کروں گا اگرچہ وہ گناہ کبیرہ کا ہی مرتکب کیوں نہ ہو ۔

 

راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا : ان کے حق کی معرفت سے کیا مراد ہے ؟؟ 

 

امام ابو عبدالله علیه السلام نے فرمایا : 

 

يعلم أنه إمام مفترض الطاعة، غريب شهيد، من زاره عارفا بحقه أعطاه الله عز وجل أجر سبعين شهيدا ممن استشهد بين يدي رسول الله (صلى الله عليه وآله) على حقيقة .

 

وہ یہ جانتا ہو کہ یہ امام ہے اور اس کی اطاعت کو الله کی طرف واجب قرار دیا گیا ہے. یہ غریب و شہید ہے جو شخص اس کے حق کی معرفت کے ساتھ زیارت کرے گا تو خدا اس زائر کو ستر شہیدوں کے برابر ثواب عطا کرے گا، ایسے شہید جو جو رسول الله (صلى الله عليه وآله) کے سامنے جنگ میں شہید ہوچکے ہیں ۔۔۔

 

الأمالي - الشيخ الصدوق - الصفحة ١٨٣

 

جو روایت ذکر کی گئی ہے اس کی سند میں " الحسين بن إبراهيم بن ناتانه " ہے جو شیخ صدوق ؒ کے مشائیخ میں سے ہیں اور شیخ نے اپنی کتاب میں ان کے اسم کے ساتھ کئی مقامات پر لفوظ ترحم کا ذکر کیا جو ان کے " حسن الحال " ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔۔۔

 

اور دوسرا اس روایت کی سند میں محمد ابن ابي عمیر تک سند معتبر ہے پس اگر حمزہ بن حمران کی توثیق نہ بهی وارد ہوئی ہو تو محمد بن ابي عمیر کی وجہ سے سند معتبر ہی کہلائے گی کیوںکہ ان کا شمار اصحاب الاجماع میں سے ہوتا ہے اور اصحاب الاجماع جس روایت کو نقل کریں وہ روایت ان کے ہاں صحیح ہی ہوا کرتی ہے (رجال الکشي) ۔۔۔

 

عن أحمد بن محمد بن أبي نصر البزنطي قال: قرأت كتاب أبي الحسن الرضا علیه السلام أبلغ شيعتنا أن زيارتي تعدل عند الله ألف حجة، قال: فقلت لأبي جعفر علیه السلام ابنه: ألف حجة؟ قال: إي والله ألف ألف حجة لمن زاره عارفا بحقه

 

احمد بن ابی نصر بزَنطی نے کہا: میں امام رضا علیہ السلام کا خط پڑھ رہا تھا، جس میں حضرت نے فرمایا تھا: میرے شیعوں کو یہ پیغام پہنچا دو کہ میری قبر کی زیارت ہزار حج سے برتر ہے۔ بزنطی کہتے ہیں: میں تعجب میں پڑ گیا اور امام جواد علیہ السلام کے پاس گیا اور عرض کیا: آپ کے والد فرماتے ہیں کہ ان کی قبر کی زیارت ہزار حج سے برتر ہے؟! حضرت جواد علیہ السلام نے فرمایا: ہاں، بخدا! بلکہ جو ان کی معرفت رکھتا ہو اور جانتا ہو کہ وہ امام ہیں، اس کے لیے یہ ایک لاکھ حج سے بھی برتر ہے!

 

 عیون أخبار الرضا ؛ 1/287

 

التماس دعا