سبیکہ حضرت امام محمد تقیؑ کی والدہ[1] اور ماریہ قبطیہ کی نسل سے کنیز تھی[2].

 

دُرّہ، خیزران، ریحانہ[3] اور سکینہ[4] کے ناموں سے یاد کیا گیا ہے [5].امام رضاؑ نے اس کیلئے خیزران نام انتخاب کیا تھا[6].شیخ صدوق کی ایک روایت کا وہ حصہ جو احتضار کے وقت جابر اور حضرت امام باقر کے درمیان ہونے والی گفتگو سے مربوط ہے اور صحیفۂ فاطمہ سے جو جابر نے دیکھا وہ یہ ہے کہ اس میں امام جواد کی والدہ کا نام خیزران منقول ہے[7] .سبیکہ کی کنیت "ام الحسن" تھی[8].انہیں مریسی(مریسہ رائے مشدد کے ساتھ مصر کا ایک گاؤں ہے)یا قبطی(سر زمین مصر) یا مرسی (ر کو ضمے کے ساتھ تشدید کے بغیر پڑھتے ہیں جو اندلس کا ایک سر سبز شہر ہے)سے سمجھتے ہیں.[9]

 

حضرت امام جواد کی ولادت کے وقت حضرت امام رضا ؑ نے اپنی بہن "حکیمہ" کو ان کے پاس بھیجا [10].رسول اللہ کی ایک حدیث میں انہیں ایسی پاکیزہ دہن والی کنیز شمار کیا ہے جسکے رحم کو اللہ نے ایک امام کی ولادت کیلئے انتخاب کیا[11]. مسعودی نے بھی "اثبات الوصیہ " میں انکی تعریف کی ہے[12] .

 

حوالہ جات

 

1. بحارالانوار، ج ۵۰، ص ۱

2. اصول کافی، ج ۲، ص ۶۶۴

3. بحارالانوار، ج ۵۰، ص ۷

4. موسوعہ اہل البیت، ج ۱۶، ص ۱۴

5. اعیان الشیعہ، ج ۲، ص ۳۲

6. بحارالانوار، ج ۵۰، ص ۷؛ اعیان الشیعہ، ج ۲، ص ۳۲

7. موسوعہ اہل البیت، ج ۱۶، ص ۱۴

8. المناقب ابن شہر آشوب، ج ۴، ص ۳۷۹؛ دلائل الامامہ، ص ۲۰۹

9. بحارالانوار، ج ۵۰، ص ۷

10. بحارالانوار، ج ۵۰، ص ۱۰

11. الکافی، ج ۱، ص ۳۲۳، ح ۱۴

12. دیکھیں: اثبات الوصیہ للامام علی بن ابی طالب، ص ۲۱۶