کرامات امام علی رضا علیہ السلام علمائے اھل سنت کی نگاہ میں
کرامات امام علی رضا علیہ السلام علمائے اھل سنت کی نگاہ میں..
عظمت و شان امام علی رضا علیہ السلام پر خوبصورت مضمون مستند حوالہ جات کے ساتھ
رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جناب حمیدہ کو خوشخبری دینا:
امام علی رضا رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دعا و برکت سے دنیا میں آئے تھے۔
اہل سنت کی روایات کے مطاب:
جب امام موسی کاظم علیہ السلام کی والدہ جناب حمیدہ نے نجمہ نامی ایک کنیز کو بازار سے خریدا تو ، اسی رات انھوں نے رات کو خواب میں رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھا کہ جو فرما رہے تھے کہ: اس کنیز کو اپنے بیٹے (امام کاظم) کو ہدیہ کے طور پر دے دو، بے شک اس سے ایک ایسا بیٹا دنیا میں آئے گا کہ جو تمام اہل زمین سے افضل ہو گا۔ حمیدہ نے بھی اس خواب پر عمل کیا اور امام نے نجمہ کا نام بدل کر طاہرہ رکھ دیا۔
روضة الاحباب، عطاء الله بن فضل الله شيرازي، ص43، استامبول، تركيه؛
مفتاح النجاة في مناقب آل العبا، محمد خان بن رستم بدخشي، مخطوط، ص176، به نقل از احقاق الحق، ج12، ص364؛
تاريخ الاسلام و الرجال، شيخ عثمان سراج الدين حنفي، ص369، مخطوط، به نقل از احقاق الحق، ج12، ص348.
حمل کے دوران معجزے کا ظاہر ہونا:
امام علی رضا علیہ السلام کی والدہ محترمہ نے فرمایا ہے کہ: جب میں حاملہ تھی تو اس مدت میں میں بالکل حمل کے وزنی ہونے کا احساس نہیں کرتی تھی اور رات کو سوتے وقت میں اپنے پیٹ سے تسبيح و تہليل و تقديس کی آوازوں کو سنا کرتی تھی۔
روضة الاحباب، ج4، ص43؛ مفتاح المعارف، مولوي عبد الفتاح حنفي هندي، مخطوط، ص79، بنقل از احقاق الحق، ج12،ص553.
امام علی رضا علیہ السلام کا دنیا میں آتے ہی مناجات کرنا:
امام علی رضا علیہ السلام کی والدہ محترمہ فرماتی ہیں کہ:
جب وہ دنیا میں آئے تو انھوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر رکھ کر سر کو آسمان کی طرف بلند کیا تو اس وقت انکے لب حرکت کر رہے تھے، گویا وہ اپنے خدا سے مناجات کر رہے تھے۔ اسی حالت میں انکے والد محترم آئے اور مجھ سے فرمایا کہ:
«هنيئا لك كرامة ربَّكِ عزّوجل،
خداوند کی طرف سے تم پر یہ عزت و احترام تم کو مبارک ہو۔
اسی وقت میں نے بیٹے کو انکے والد کو دیا تو انھوں نے بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور نہر فرات کے پانی کو گھٹی میں پلایا۔
احقاق الحق، شهايد قاضي نور الله شوشتري، ج12، ص343، به نقل از محمد خواجه پارسي بخاري، فصل الخطاب.
ہارون مجھ پر غالب نہیں آ سکتا:
صفوان ابن يحيی نے کہا ہے کہ:
امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت اور علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی امامت کے بعد، ہم ہارون کی طرف سے امام علی رضا علیہ السلام کے خلاف دوبارہ ڈر رہے تھے۔ اس بات کو ہم نے امام علی رضا علیہ السلام کو بتایا تو امام نے فرمایا کہ:
ہارون اپنی کوششیں جاری رکھے گا لیکن اسکو کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔
صفوان کہتا ہے کہ میرے لیے ایک قابل اعتماد بندے نے نقل کیا ہے کہ: يحيی بن خالد برمكی نے ہارون الرشید سے کہا کہ: علی ابن موسی علیہ السلام نے امامت کا دعوی کر دیا ہے ( وہ اس بات سے ہارون کو غصہ دلانا چاہتا تھا ) ہارون نے جواب دیا کہ: جو کچھ ہم نے اسکے والد کے ساتھ کیا ہے، وہ کافی ہے، کیا تم چاہتے ہو کہ ہم ان سب کو قتل کر دیں ؟!
الفصول المهمي، ص245؛ نور الابصار، دارالكتب العلميه، بيروت، لبنان، چاپ اول1418ق، ص243؛ جامع كرامات الاولياء، ج2، ص311؛ الاتحاف بحب الاشراف، ص314.
میری اور ہارون کے دفن ہونے کی جگہ ایک ہی ہو گی:
موسی بن عمران نے کہا ہے کہ: ایک دن میں نے امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کو مسجد نبوی میں دیکھا، وہاں پر میں نے دیکھا کہ ہارون لوگوں سے خطاب کرنے میں مصروف تھا، امام نے مجھ سے فرمایا کہ: تم اس دن کو دیکھو گے کہ میں اور ہارون ایک ہی جگہ دفن ہوں گے۔
الفصول المهمه، ص246؛ نور الابصار، ص244؛ جامع كرامات الاولياء، ج2، ص312.
امام نے مکہ میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ کیا تھا۔ حمزه بن جعفر ارجانی نے کہا ہے کہ: ہارون الرشید ایک دروازے سے اور علی ابن موسی الرضا علیہ السلام دوسرے دروازے سے مسجد الحرام سے باہر نکلے۔ اس وقت امام علی رضا علیہ السلام نے ہارون کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ: ابھی ہم ایک دوسرے سے دور ہیں، لیکن ہم دونوں کی ملاقات نزدیک ہے، اے طوس ! بے شک تم مجھے اور اسکو ایک جگہ پر اکٹھا کر دو گے۔ ( یعنی میں اور ہارون ایک ہی جگہ دفن ہوں گے )
نورالابصار، ص244؛ جامع كرامات الاولياء، ج2، ص313؛ الاتحاف بحب الاشراف، ص315،316.
مأمون، امين کو قتل کرے گا:
حسين بن ياسر نے کہا ہے کہ: ایک دن امام علی ابن موسی الرضا نے مجھ سے فرمایا کہ: بے شک عبد اللہ (مامون) اپنے بھائی محمد (امین) کو قتل کرے گا۔ میں نے امام سے پوچھا کہ : یعنی عبد الله بن ہارون، محمد بن ہارون کو قتل کرے گا ؟ امام نے فرمایا: ہاں، عبد الله مأمون، محمد امين کو قتل کرے گا۔ امام کی پيشگوئی کے مطابق وہی واقع ہوا جو امام نے فرمایا تھا۔
الفصول المهمه، ص247؛ نورالابصار، ص243؛ الاتحاف بحب الاشراف، ص319.
تیری بیوی جڑواں بچوں کو جنم دے گی:
بكر بن صالح کہتا ہے کہ: میں امام علی رضا علیہ السلام کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ میری بیوی کہ جو محمد بن سنان کہ جو آپکا خاص محب ہے، کی بہن ہے، وہ حاملہ ہے، مولا آپ میرے لیے دعا فرمائیں کہ خداوند مجھے بیٹا عطا کرے۔ امام نے فرمایا: خداوند تمہیں دو بچے عطا فرمائے گا۔ جب میں امام کے پاس اٹھ کر جا رہا تھا، تو میں نے سوچا کہ ایک کا نام محمد اور دوسرے کا نام علی رکھوں گا۔ اسی وقت امام نے مجھے اپنے پاس بلایا اور مجھ سے فرمایا کہ: ایک کا نام علی رکھنا اور دوسرے کا نام امّ عمرو رکھنا۔ وہ کہتا ہے کہ جب میں کوفہ اپنے گھر پنچا تو معلوم ہوا کہ میری بیوی نے ایک بیٹے اور ایک بیٹی کو جنم دیا ہے، ان دونوں کے نام کو جیسے امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا تھا، ویسے ہی رکھا۔ میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ امّ عمرو کا کیا معنی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ: تیری نانی کا نام بھی امّ عمرو تھا۔
الفصول المهمه، ص246، نورالابصار، ص243؛ اخبار الدول و آثار الاول، بغداد، عراق، بي تا، ص114؛ جامع كرامات الاولياء، ج2، ص313، الاتحاف، بحب الاشراف، ص316.
جعفر بہت جلد مالدار ہو جائے گا:
حسين بن موسی نے کہا ہے کہ: بنی ہاشم کے بعض جوانان امام علی رضاعلیہ السلام کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ جعفر ابن عمر علوی فقیروں کی سی حالت میں ہمارے پاس سے گزرا۔ ہم میں سے بعض نے اسکو تمسخر آمیز حالت میں دیکھنا شروع کر دیا۔
امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: آپ لوگ بہت جلد دیکھو گے کہ اسکی زندگی کی حالت تبدیل ہو جائے گی، اسکا مال زیادہ، اسکے خدمت گذار بہت زیادہ اور اسکا ظاہری حلیہ بھی ٹھیک ہو جائے گا۔
حسين بن موسی کہتا ہے کہ ایک مہینہ گزرنے کے بعد مدینہ کا حاکم تبدیل ہو گیا اور اس نے نئے حاکم کے نزدیک ایک خاص مقام و منزلت حاصل کر لی اور اسکی زندگی جیسا کہ امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا تھا، تبدیل ہو گئی، پھر اسکے بعد ہم جعفر ابن عمر علوی کا احترام اور اسکے لیے دعا کیا کرتے تھے۔
نور الابصار، ص243؛ مفتاح النجاة، ص76؛ اخبار الدول و آثار الاول، ص114؛ الاتحاف، بحب الاشراف، ص318.
خود کو موت کے لیے تیار کرو:
حاكم نيشاپوری نے اپنی سند کے ساتھ سعید ابن سعد سے نقل کیا ہے کہ ایک دن امام علی رضا علیہ السلام نے ایک بندے کو دیکھ کر اس سے فرمایا کہ:
يا عبد الله اوص بما تريد و استعد لما لابد منه فمات الرجل بعد ذلك بثلاثة ايّام ،
اے بندہ خدا ! اپنے گھر والوں کو وصیت کرو اور اپنے آپکو اس چیز کے لیے کہ جس سے رہائی ممکن نہیں ہے، تیار کرو۔ راوی کہتا ہے کہ وہ بندہ تین دن کے بعد دنیا سے چلا گیا۔
الصواعق المحرقه، ابن حجر هايثمي، دارالفكر، بيروت، لبنان، ص122،
الفصول المهمه، ص247؛
نورالابصار، ص243؛
اخبار الدول و آثار الاول، ص114؛
جامع كرامات الاولياء، ج2، ص311؛
نتيج الافكار القدسيه، سيد مصطفي بن محمد العروس مصري، دمشق، سوريه، بي تا، ج1، ص80؛
الاتحاف، بحب الاشراف، ص318؛ الانوار القدسيه، ص39.
ابو حبيب کی خواب:
حاكم نيشاپوری نے اپنی سند کے ساتھ ابو حبیب سے نقل کیا ہے کہ: ایک دن میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خواب میں حجاج کے گھر میں دیکھا۔ میں نے انکو سلام کیا۔ انکے سامنے ایک برتن میں مدینہ کی صیحانی نام کی کھجوریں پڑی تھیں۔ انھوں نے مجھے 18 کھجوریں ان میں سے دیں اور میں نے انکو کھا لیا، نیند سے بیدار ہونے کے بعد ان کھجوروں کا مزہ میرے منہ میں تھا اور میں ہمیشہ آرزو کرتا تھا کہ اے کاش ان کھجوروں کو دوبارہ کھانا مجھے نصیب ہو۔
20 دن کے بعد امام ابو الحسن علی ابن موسی الرضا علیہ السلام مدينہ سے مكہ آئے اور اسی مکان میں قیام فرمایا۔ لوگ انکا دیدار کرنے کے گئے، میں بھی امام سے ملاقات کرنے کے لیے وہاں گیا، میں نے دیکھا کہ وہ اسی جگہ بیٹھے ہیں، جہاں رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم خواب میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور ان کے سامنے بھی ایک برتن میں مدینہ کی صیحانی نام کی کھجوریں پڑی تھیں۔ میں نے امام کو سلام کیا اور انھوں نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اپنے ہاتھ سے اس برتن سے مجھے کچھ کھجوریں دیں، میں نے انکو گنا تو وہ بھی 18 کجھوریں تھیں۔ میں نے امام سے عرض کیا، تھوڑی اور زیادہ کھجوریں مجھے دیں۔ امام نے فرمایا: اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سے زیادہ دی ہوتیں تو میں بھی تم اس سے زیادہ دیتا۔
حوالہ جات..
الصواعق المحرقه، ص122؛
الفصول المهمه، ص246؛
اخبار الدول و آثار الاول، ص114؛
مفتاح النجاة، ص376؛
وسيلة المال، ابن كثير حضرمي، مكتبه الظاهريه، دمشق، سوريه، بي تا، ص212؛
نورالابصار، ص243؛
جامع كرامات الاوليا، ج2، ص311؛
نتيج الافكار القدسيه، ج1، ص80؛
الاتحاف بحب الاشراف، ص316؛ وسيلة النجاة، محمد مبين هندي، الكهنو، هند، بي تا.
برمکیوں کی حکومت کا تختہ الٹنا:
مسافر کہتا ہے کہ: میں مکہ میں سرزمین منی میں امام علی رضا علیہ السلام کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک يحيی ابن خالد برمكی چہرے پر نقاب لگائے اور غبار آلود چہرے کے ساتھ اس مجلس میں داخل ہوا۔ امام نے ہم سے فرمایا: یہ ایسے بیچارے ہیں کہ انکو پتا ہی نہیں ہے کہ اس سال انکے ساتھ کیا ہو گا۔ مسافر کہتا ہے کہ:
اسی برمکیوں کی حکومت کا تختہ الٹ گیا اور امام کی پیشنگوئی سچ ثابت ہو گئی۔ مسافر نے مزید کہا کہ: امام نے فرمایا کہ: اور اس سے بھی عجیب تر میں اور ہارون ہیں کہ ہم دونوں میرے ہاتھ کی ان انگلیوں کی مانند ہیں۔ مسافر نے کہا کہ: مجھے امام کی اس بات کی سمجھ نہ آئی، یہاں تک کہ امام دنیا سے چلے گے اور انکو ہارون کے ساتھ دفن کیا گیا۔
حوالہ جات..
الفصول المهمه، ص245؛
نورالابصار، ص243؛
جامع كرامات الاولياء، ج2، ص312؛
الاتحاف بحب الاشراف، ص314.
میری ولیعہدی زیادہ طولانی نہیں ہو گی:
مدينی کہتا ہے کہ: جب امام علی رضا علیہ السلام ولیعہدی کے لیے بیعت کرنے کی محفل میں خاص لباس پہنے بیٹھے ہوئے تھے اور خطاب کرنے والے خطاب کر رہے تھے۔ امام نے دیکھا کہ ان کے اصحاب میں سے ایک صحابی امام کی ولیعہدی پر بہت ہی زیادہ خوش تھا۔ امام نے اسے اشارے سے اپنے پاس بلایا اور اسکے کان میں فرمایا کہ: اپنا دل میری اس ولیعہدی کے ساتھ نہ لگاؤ، کیونکہ میری ولیہعدی کی مدت زیادہ نہیں ہو گی۔
الفصول المهمه، ص256؛ مفتاح النجاة، ص178.
سازشیں کرنے والے رسوا اور ناکام ہوں گے:
جب مامون نے امام علی رضا علیہ السلام کو اپنا ولیہعد اور اپنے بعد خلیفہ مقرر کر دیا تو، مامون کے نزدیکی دوست اسکے اس کام سے ناراض تھے اور وہ ڈرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خلافت بنی عباس سے بنی فاطمہ تک منتقل ہو جائے۔
لہذا وہ امام علی رضا علیہ السلام کی نسبت اپنے دل میں کینہ و نفرت رکھتے تھے اور ہر وقت فرصت کی تلاش میں رہتے تھے کہ اپنے اس باطنی کینے کو ظاہر کریں۔ اسی وجہ سے انھوں نے آپس میں طے کیا کہ جب بھی امام رضا خلیفہ کے پاس آئیں گےاور جب خادمان پردے کو اٹھائیں گے کہ امام اس محفل میں داخل ہوں تو، اس وقت کوئی بھی امام کو سلام نہ کرے، کوئی انکا احترام نہ کرے اور کوئی بھی پردے کو اوپر نہ اٹھائے، اس ارادے و نیت کے بعد امام روزانہ کی عادت کے مطابق اس برآمدے میں داخل ہوئے تو انھوں نے اپنے طے شدہ ارادے کے بر خلاف اچانک پردے کو اوپر اٹھایا اور امام آرام سے اس محفل میں داخل ہو گئے۔
اسکے بعد وہ آپس میں ایک دوسرے پر ملامت کرنے لگے کہ پردے کو کیوں اوپر اٹھایا ہے۔ اسکے بعد انھوں نے پھر طے کیا کل کوئی بھی ایسا نہ کرے۔ دوسرے دن جب امام علی رضا علیہ السلام آئے تو انھوں نے سلام تو کیا لیکن کسی نے بھی پردے کو اوپر نہ اٹھایا۔ اسی وقت ایک تیز ہوا کا جھونکا آیا تو اس نے پردے کو اوپر اٹھایا
اور امام علی رضا علیہ السلام آرام سے محفل میں داخل ہو گئے اور واپسی پر بھی ایسا ہی ہوا اور امام آرام سے وہاں سے نکل کر واپس چلے گئے۔ اس ماجرا کے بعد وہ جان گئے کہ امام خداکے نزدیک ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے انھوں نے ارادہ کیا کہ آج کے بعد ہم سب امام کی ہمیشہ خدمت کیا کریں گے۔
حوالہ جات..
نور الابصار، ص244؛
جامع كرامات الاولياء، ج2، ص312؛
مطالب السؤول، ص297؛
الفصول المهمه، ص244 ـ 245؛
اخبار الدول و آثار الاول، ص114؛
الاتحاف، بحب الاشراف، ص313.
امام علی رضا (علیہ السلام) کے سامنے درندہ حیوانات کا رام ہو جانا:
زینب کذّاب کے واقعے کو بھت سارے علماء نے نقل کیا ہے اور یہ واقعہ امام رضا کی عظمت اور امام کے ولایت تکوینی رکھنے پر دلالت کرتا ہے۔ اس واقعے کو مختلف انداز سے نقل کیا گیا ہے زینب نامی نے علوی ھونے کادعوی کیا
تب وہ امام کے پاس لائی گئی تو امام نے اسکو دیکھ کر فرمایا کہ وہ علوی نہیں ہے۔ اس عورت نے امام کا مذاق اڑاتے ہوئے تمسخر آمیز لہجے میں کہا کہ تم میرے نسب کے بارے میں شک کرتے ہو تو میں بھی تمہارے نسب کے بارے شک کرتی ہوں۔ اس دور میں حاکم وقت کے محل میں ایک ایسی جگہ ہوتی تھی کہ جہاں پر درندہ حیوانات کو رکھا جاتا تھا، کیونکہ ان حیوانات کے ذریعے سے ظالموں اور مجرموں سے انتقام لیا جاتا تھا۔ امام علی رضا علیہ السلام نے اس عورت کو حیوانات کے نگہبان کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ: یہ ایک جھوٹی عورت ہے اور اس نے علی علیہ السلام اور سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا پر جھوٹی تہمت لگائی ہے اور یہ نسل علی سے نہیں ہے۔ اگر یہ عورت سچ بول رہی ہے اور علی و فاطمہ کے بدن کا ٹکڑا ہے تو، پھر اسکا بدن اور گوشت درندوں پر حرام ہے، پس اسکو درندہ حیوانات کے درمیان لے جاؤ، اگر یہ سچی ہوئی تو حیوانات اسکے نزدیک نہیں جائیں گے اور اگر جھوٹی ہوئی تو حیوانات اسکو چیر پھاڑ کر کھا جائیں گے۔
جب اس زینب کذاب نے امام کی اس بات کو سنا تو فوری امام سے بے ادبی کے انداز میں کہا کہ اگر آپ سچے علوی اور امام ہیں تو پہلے آپ حیوانات کے پاس جائیں۔ امام فورا حیوانات کے پنجرے میں داخل ہو گئے۔ سب لوگ اس خوفناک منظر کو دیکھ رہے تھے۔ جب امام علی رضا علیہ السلام حیوانات کے نزدیک گئے تو تمام درندے رام ہو گئے اور ایک ایک کر کے امام کے سامنے آ کر اپنی دم کو اطاعت و تسلیم ہونے کی نیت سے زمین پر رکھ دیا اور امام ہاتھوں اور پیروں کو چومنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد امام پنجرے سے باہر آ گئے اور نگہبان کو حکم دیا کہ اب اس عورت کو پنجرے میں ڈالو۔ اس عورت نے صاف انکار کر دیا۔ اس واقعے کے بعد شہر خراسان میں وہ عورت زینب کذّاب کے نام سے مشہور ہو گئی۔
الفرج بعد الشدۃ، قاضي ابو علي تنوخي، دارالصباعي المحمديي قاهره، مصر، چاپ اول 1375ق، ج4، 172ـ173؛ مطالب السؤول، ص297.
اہل سنت کے بعض بزرگان جیسے ابن حجر ہیثمی نے اس واقعے کو اہل سنت کے بعض حفاظ سے نقل کیا ہے۔
الصواعق المحرقه، ص205.
اور ابو علی عمر بن يحيی علوی نے بھی اس واقعے کو قطعی قرار دیا ہے اور اہل سنت کے واسطے سے اس واقعے کے نقل ہونے کی تائید کی ہے۔
الفرج بعد الشدۃ، ج4، ص173.
امام علی رضا (علیہ السلام) کی اپنی شہادت کے بارے میں پیشنگوئی:
جب مامون بیمار ہونے کی وجہ سے عید فطر کی نماز نہ پڑھا سکا تو، اس نے امام علی رضا علیہ السلام سے کہا کہ اس سال آپ عید کی نماز پڑھائیں۔ امام سفید لباس اور سفید عمامہ پہنے، ہاتھ میں عصا پکڑے اپنے گھر سے باہر نکلے اور راستے میں بلند آواز سے یہ کہہ رہے تھے:
السلام علي ابوي آدم و نوح، السلام علي ابوي ابراهيم و اسماعيل، السلام علي ابوي محمد و علي، السلام علي عباد الله الصالحين.
لوگ جوق در جوق امام کے پاس آ رہے تھے اور انکے مبارک ہاتھوں کو بوسے دے رہے تھے۔
اسی وقت مامون کو خبر دی گئی کہ اگر امام علی رضا علیہ السلام اسی حالت میں عید کی نماز پڑھانے میں کامیاب ہو گئے تو پھر حتمی طور پر خلافت تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے گی۔ مامون نے جیسے بھی ممکن ہوا، خود کو امام کے پاس پہنچایا اور انکو عید کی نماز پڑھانے سے منع کر دیا۔
اس وقت امام نے مامون کے خادم ہرثمہ ابن اعین، کہ جو اہل بیت کا محب تھا اور امام رضا کا خدمتگذار بھی تھا، کے لیے اہم مطالب کو بیان فرمایا۔ ہرثمہ کہتا ہے کہ: ایک دن میرے آقا ابو الحسن امام علی رضا علیہ السلام نے مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا کہ: اے ہرثمہ میں تم کو بعض باتیں بتانا چاہتا ہوں اور جب تک میں زندہ ہوں تم وہ باتیں کسی دوسرے کو نہ بتانا اور اگر ان باتوں کو تم نے کسی کو بتایا تو قیامت کے دن خدا کی بارگاہ میں، میں تمہارا دشمن ہوں گا۔
ہرثمہ نے کہا کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جب تک آپ زندہ ہیں، میں یہ باتیں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ امام نے فرمایا کہ:
اے ہرثمہ میرا سفر آخرت اور اپنے آباء و اجداد سے ملنے کا سفر بہت نزدیک ہے۔ بے شک میں زہر آلود انگور اور انار کھانے کی وجہ سے دنیا سے جاؤں گا۔ خلیفہ مامون میری قبر اپنے باپ ہارون الرشید کی قبر کے پیچھے بنانا چاہتا ہے، لیکن خداوند ایسا نہیں ہونے دے گا اور زمین بھی اس کام کی اجازت نہیں دے گی اور وہ اس کام کے لیے زمین کو کھودنے کی جتنی بھی کوشش کریں گے، بالکل اس کام میں کامیاب نہیں ہوں گے، اس کام کو تم بعد میں اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لو گے۔
اے ہرثمہ ! بے شک میرے دفن ہونے کی جگہ کسی اور طرف ہو گی۔ پس میری وفات اور غسل و کفن کے بعد مامون کو ان باتوں سے آگاہ کرنا، تا کہ وہ مزید اچھے طریقے سے پہچان لے اور مامون سے کہنا کہ جب بھی مجھے تابوت میں رکھیں اور نماز پڑھنے کے لیے تیار ہوں تو، کوئی بھی مجھ پر نماز نہ پڑھے، یہاں تک کہ ایک اجنبی عرب تیزی سے صحرا کی طرف سے میرے جنازے کی طرف آئے گا، اس حالت میں کہ اس عرب کا چہرہ غبار آلود ہو گا اور اسکی سواری گریہ کر رہہ ہو گی۔ وہ عرب میرے جنازے پر نماز پڑھائے گا۔ تم بھی اسکے ساتھ نماز کے لیے کھڑے ہو جانا اور نماز کے بعد مجھے اپنی معیّن جگہ پر دفن کر دینا۔ اے ہرثمہ ! تمہارے لیے ہلاکت ہو اگر تم ان مطالب کو میری وفات سے پہلے کسی کو بتاؤ تو۔
ہرثمہ کہتا ہے کہ: ابھی زیادہ عرصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ امام علی رضا علیہ السلام کی کہی ہوئی تمام باتیں اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ سچ ثابت ہو گئيں۔ اور امام نے مامون کے دربار میں زہر آلود انگور اور انار کھانے کی وجہ سے شھادت پائی۔ ہرثمہ کہتا ہے کہ: امام علی رضا علیہ السلام کی ہدایت کے مطابق انکی شھادت کے بعد میں مامون کے پاس گیا، میں نے دیکھا کہ وہ امام علی رضا علیہ السلام کے غم میں ہاتھ میں رومال لیے رو رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا: اے خلیفہ ! اگر تم اجازت دو تو میں نے کچھ باتیں آپکو بتانی ہیں ؟ مامون نے اجازت دے دی۔ ہرثمہ نے کہا کہ امام علی رضا علیہ السلام نے اپنی زندگی میں مجھے کچھ باتیں بتائیں تھیں اور مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ جب تک وہ زندہ ہیں، کسی کو نہ بتاؤں۔ اسکے بعد ہرثمہ نے تمام باتیں مامون کو بتا دیں۔
جب مامون نے ان تمام باتوں کو سنا تو حیران ہو گیا اور پھر حکم دیا کہ امام کے جنازے کو غسل و کفن دے کر نماز کے لیے تیار کرو۔ ہرثمہ کہتا ہے کہ میں مامون کے ساتھ امام پر نماز پڑھنے کے تیار ہو گیا۔ اسی وقت ایک اجنبی شخص ان علامات کے ساتھ کہ جنکا ذکر امام علی رضا علیہ السلام نے کیا تھا، صحرا سے جنازے کی طرف آیا ، اس نے کسی سے بھی کوئی بات نہ کی اور امام پر نماز پڑھا دی۔ مامون نے حکم دیا کہ پتا کیا جائے کہ وہ کون ہے اور اسکو میرے پاس لایا جائے، لیکن وہ شخص اور اسکا اونٹ ایک دم سے غائب ہو گئے۔
پھر خلیفہ نے حکم دیا کہ ہارون الرشید کی قبر کے پیچھے ایک قبر کھودی جائے۔ ہرثمہ نے مامون سے کہا کہ: کیا میں تم کو امام علی رضا علیہ السلام کی ساری باتوں سے آگاہ نہیں کیا ؟ مامون نے کہا: ہاں، لیکن میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا اسکی ساری باتیں ٹھیک بھی ہیں یا نہیں ؟
امام علی رضا علیہ السلام کے بتانے کے مطابق وہ وہاں قبر نہ کھود سکے، گویا وہاں زمین سخت چٹانوں سے بھی زیادہ سخت ہو گئی تھی، اس حد تک کہ وہاں پر موجود سب لوگ حیرت میں مبتلا ہو گئے۔ اس طرح سے مامون کو امام علی رضا علیہ السلام کی کہی ہوئی بات کے سچ ہونے کا یقین ہو گیا اور پھر اس نے مجھ (ہرثمہ) سے کہا کہ علی ابن موسی الرضا نے جس جگہ کا تمہیں بتایا ہے، وہ مجھے دکھاؤ۔ ہرثمہ نے اس جگہ کو مامون کو دکھایا اور جونہی ہم نے وہاں سے مٹی کو کھودا تو ایک پہلے سے تیار شدہ قبر ظاہر ہوئی، یہ قبر ان صفات کے ساتھ تھی کہ جن کا خود امام رضا نے پہلے مجھے بتایا تھا۔
جب مامون نے ان تمام حالات کو دیکھا تو حیرت زدہ ہوا۔ اچانک اس قبر میں کھڑا پانی زمین کی گہرائی میں چلا گیا اور وہ جگہ خشک ہو گئی، پھر امام کی میت کو قبر میں رکھا اور اس پر مٹی ڈال دی۔ اس واقعے کے بعد مامون نے جن چیزوں کو دیکھا تھا اور جو کچھ مجھ سے سنا تھا، ہمیشہ تعجب کے ساتھ اسکا ذکر کیا کرتا تھا، اور ساتھ ساتھ افسوس کا بھی اظہار کیا کرتا تھا اور جب بھی میرے ساتھ تنہائی میں بیٹھتا تھا تو ہمیشہ مجھ سے کہتا تھا کہ ان تمام باتوں کو دوبارہ اسکے لیے بیان کروں، مامون باتیں سنتا جاتا تھا اور ساتھ ساتھ کہتا تھا:
انا لله و انا اليه راجعون،
حوالہ جات....
الفصول المهمه، ص261؛
نورالابصار، ص244؛
مطالب السؤول، ص300؛
الكواكب الدريه، شيخ عبد الرؤوف مناوي، الازهريي، مصر، بي تا، ج1، ص256؛
مفتاح النجاة، ص82؛
الانوار القدسيه، ص39.