امام رضا کی ولی عہدی سے مامون کا حضرت امام علی رضا علیہ السلام کو اپنا ولی عہد بنانا مراد ہے۔ مامون نے امام رضا علیہ السلام کو مدینے سے مرو بلا کر اپنی ولی عہدی کی پیشکش کی جسے امام نے قبول نہیں کیا لیکن مامون کے اصرار اور مجبور کرنے کی وجہ سے اس عہدے کو چند شرائط کے ساتھ قبول کر لیا ۔
مرو کی طرف دعوت
تاریخ کے ابتدائی مآخذوں میں مذکور ہے کہ امام رضا نے مدینے سے بصرہ کی جانب سفر شروع کیا[1]۔لیکن متاخر منبعوں میں آیا ہے کہ آپ شروع میں مکہ گئے[2] نیز امام محمد تقی آپ کے ہمراہ تھے۔امام نے خانۂ خدا کو خدا حافظ کیا پھر بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بہرحال آپ کی بصرہ کی جانب روانگی کی تاریخ201 ق کے محرم 15 تاریخ کے قریب تھی۔
مامون کے دستور کے مطابق فضل بن سہل کا رشتے دار رجاء بن ضحاک امام رضا ؑ کو مدینہ سے خراسان لے کر آیا۔[3] شیخ مفید نے رجاء بن ضحاک کی بجائے جلودی کا نام ذکر کیا ہے ۔[4] مأمون نے ایسے راستے کا انتخاب کیا تھا کہ امام کو شیعہ نشین علاقوں سے نہ گزرنا پڑے کیونکہ اسے اسے اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں شیعہ ان کے ساتھ نہ ہوجائیں اسی وجہ سے اس نے حکم دیا تھا کہ امام کو کوفے کے راستے سے نہ لایا جائے بلکہ انہیں بصرے، خوزستان، فارس اور نیشاپور کے راستے سے لایا جائے۔[5]
اطلس شیعہ کے مطابق حضرت امام رضا ؑ کو خراسان لائے جانے کا راستہ یہ تھا:: مدینہ، نقره، ہوسجہ، نباج، حفر ابوموسی، بصره، اہواز، بہبہان، اصطخر، ابرقوه، ده شیر (فراشاه)، یزد، خرانق، رباط پشت بام، نیشاپور، قدمگاه، ده سرخ، طوس، سرخس، مرو.[6]
اس راستے کا مستند ترین اور اہم ترین واقعہ آپ کا حدیث سلسلۃ الذہب کو بیان کرنا ہے ۔[7]
ولی عہدی کی پیشکش
مرو میں امام رضا(ع) مستقر ہونے کے بعد مامون کا ایک قاصد امام رضا(ع) کے پاس آیا اور تجویز دی کہ "میں اپنے آپ کو خلافت سے معزول کرتا ہوں اور خلافت کو آپ کے سپرد کرتا ہوں"، آپ اس سلسلے میں مجھے اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ امام(ع) نے سختی سے اس تجویز کی مخالفت کی۔ اس کے بعد مامون نے آپ سے درخواست کی کہ اس کی ولیعہدی قبول کریں اور یہ کہ وہ اپنے بعد خلافت آپ کے سپرد کرے! امام(ع) نے پھر بھی سخت مخالفت کی۔ اس کے بعد مامون نے امام(ع) کو اپنے گھر بلوایا جہاں آپ(ع) اور مامون کے علاوہ فضل بن سہل ذوالریاستین بھی موجود تھا؛ مامون نے کہا: میں مسلمانوں کے امور آپ کے سپرد کرنا چاہتا ہوں اور یہ ذمہ داری اپنے کندھوں سے اٹھانا چاہتا ہوں اور آپ کے کندھوں پر ڈالنا چاہتا ہوں۔
امام رضا(ع) نے جواب دیا: اے امیرالمؤمنین تم کو خدا کی قسم دلاتا ہوں، تم کو خدا کی قسم دلاتا ہوں! میں نے یہ ذمہ داری برداشت کرسکتا ہوں اور نہ ہی اس کی قوت رکھتا ہوں۔ مأمون نے کہا: میں اپنے بعد ولیعہدی کا عہدہ آپ کو سونپ دیتا ہوں۔
امام (ع) نے فرمایا: مجھے اس امر سے معاف رکھو۔
یہاں مامون نے دھمکی کے انداز میں امام(ع) سے کہا: عمر بن خطاب نے شورا کو چھ افراد میں قرار دیا جن میں سے آپ کے جدّ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب تھے۔ اور شرط لگائی کہ ان میں سے جو بھی مخالفت کرے اس کا سر قلم کیا جائے۔ کوئی چارہ نہيں ہے اس کے سوا کہ آپ میری تجویز قبول کریں، میں اس کے سوا کوئی اور راستہ اپنے سامنے نہيں پاتا۔
امام(ع) نے جواب دیا: پس میں قبول کرتا ہوں بشرطیکہ "نہ فرمان جاری کروں، نہ کسی کو روکوں، نہ حکم جاری کروں اور نہ ہی کوئی فیصلہ کروں، کسی کا تقرر کروں نہ ہی کسی کو معزول کروں اور نہ ہی کسی کا منصب تبدیل کروں"۔ مأمون نے امام(ع) کی شرط قبول کرلی۔ [8]
یوں مامون نے روز دوشنبہ (سوموار) 7 رمضان سنہ 2011ہجری اپنے ولی عہد کے طور پر امام رضا(ع) کے ہاتھ پر بیعت کی اور لوگوں کو سیاہ لباس[9] پہننے کے بجائے سبز لباس پہننے پر آمادہ کیا۔[10]، کے بجائے سبز لباس پہننے پر آمادہ کرکے سبز پوش کردیا اور اطراف و اکناف کی طرف بھی احکامات بھجوائے اور امام رضا(ع) کے لئے لوگوں سے بیعت لی گئی اور آپ کا نام ہر منبروں پر خطبے پڑھوائے اور دینار و درہم پر آپ کا نام درج کروایا؛ اور کوئی بھی باقی نہ رہا جس نے سبز لباس نہ پہنا ہو سوائے اسماعیل بن جعفر بن سلیمان بن علی ہاشمی.[11]
مأمون نے خطباء اور شعراء کو دعوت دے کر امام رضا(ع) کی ولیعہدی کے سلسلے میں محفل جشن بپا کی۔ اس محفل میں موجود شعراء میں سے ایک دعبل بن علی خزاعی تھے جنہیں امام رضا(ع) نے انعام سے نوازا۔[12]
مأمون نے عیسی جلودی کو امام رضا(ع) کی بیعت کا فرمان دے کر مکہ روانہ کیا۔ مکہ اس وقت ابراہیم بن موسی بن جعفر کے زیر فرمان آچکا تھا جو خود لوگوں کو مامون کی طرف دعوت دے رہا تھا اور جب عیسی جلودی "سبز نعرہ"اور امام رضا(ع) کی بیعت کی دعوت لے کر مکہ میں وارد ہوا تو اہراہیم بن موسی بن جعفر نے اس کا خیر مقدم کیا اور اہلیان مکہ نے امام رضا(ع) کی بیعت کی اور سب نے سبز لباس زیب تن کیا۔[13]
ولی عہدی کا تجزیہ
مأمون نے عراقِ عرب کی ولایت حسن بن سہل کو سونپ دی تھی اور خود مرو میں تعینات رہا۔ علویوں کی ایک جماعت نے خلافت کی لالچ میں عَلَمِ بغاوت بلند کیا اور چونکہ عراقی عوام حسن بن سہل سے ناراض تھے ایک بڑی جماعت نے علویوں کی بیعت کی اور ان کی اطاعت اختیار کی۔ مأمون نے یہ خبر سنی تو خوفزدہ ہوا اور فضل بن سہل ذو الریاستین سے صلاح مشورہ کیا اور فضل کی تجویز پر امام رضا(ع) کو ولی عہد کے طور پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تا کہ شاید اس روش سے سادات اور علویوں کو اطاعت گزاری پر آمادہ کرسکے۔[14]
ولیعہدی کا مسئلہ امام رضا(ع) کی سیاسی حیات میں ایک اہم مسئلہ ہے۔ امام(ع) کی ولیعہدی کے واقعے کا جائزہ لینے کے لئے تاریخ اسلام، تاریخ خلفائے بنو امیہ نیز بنو عباس کے خلفاء کے بر سر اقتدار آنے کی کیفیت کے بارے میں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ امام رضا(ع) کی شہادت (سنہ 203ہجری) تک اسلامی خلافت کی سرزمینوں کی عمومی صورت حال کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا جاسکتا ہے: اموی حکمران عام طور ظالم اور ستمگر تھے اور خلافت سے ان کا مقصد حکومت کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ صرف عمر بن عبدالعزیز کا رویہ باقی اموی حکمراوں سے کسی قدر مختلف تھا جس کا دور حکومت چندان طولانی نہ تھا۔ این خلفاء کے ظلم و ستم کی وجہ سے اموی حکومت کے خلاف ہر طرف سے بغاوتوں اور بلؤوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ زیادہ تر بغاوتوں کا رنگ مذہبی اور دینی تھا۔ مسلمین دین اسلام اور دینی احکام کے احیاء کے لئے اسلامی سرزمینوں میں رہنے والے دیگر آسمانی ادیان کے پیروکار عدل و مساوات کے نفاذ کے لئے خاندان علی(ع) ـ جنہیں "اہل بیت" کہا جاتا تھا ـ سے امید لگائے بیٹھے تھے۔ عباسیوں نے مسلمانوں کی اس امید کو اپنے مقاد میں استعمال کیا۔ بنو عباس نے ابتداء میں نعرہ لگایا کہ وہ مسلمانوں کو بنو امیہ کے شر سے سے چھڑانے کے لئے آئے ہیں اور انھوں نے اپنی تحریک کئی مراحل میں اہل بیت(ع) کے حق میں تبلیغ اور تشہیر کرکے آگے بڑھائی؛ جس کے چند نمونے درج ذیل ہیں:
-ابتدا میں بنو عباس کا علویوں کے حق میں دعوت دینا؛
-اہل بیت اور عترت کے حق ميں دعوت دینا؛
-آل محمد کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے دعوت عام؛
-اپنے لئے میراثِ خلافت کا دعوی۔[15]
عباسیوں نے جب حیلہ گری اور فریبکاری کے ذریعے حکومت کو اپنے خاندان میں قائم کیا تو انھوں نے اپنے تمام وعدوں اور نویدوں کو پامال کردیا اور عوام الناس ـ بالخصوص علویوں کے ساتھ ـ بدسلوکی کا آغاز کیا اور ہر بہانے سے انہيں جہاں پایا آزار و اذیت کا نشانہ بنایا، قید کیا یا قتل کیا۔ عباسیوں نے اپنے بنی اعمام یعنی آل ابی طالب(ع) کے ساتھ جو بزدلانہ سلوک روا رکھا اس کی وجہ سے عوام الناس میں ناراضگی کی لہر دوڑ گئی اور اسی رو سے موجودہ نظام کے خلاف بھی بغاوتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ مأمون کے زمانے میں سابقہ عباسی خلفاء سے کہیں زیادہ بلؤوں، بغاوتوں اور تحریکوں کو فروغ ملا۔ مأمون جان گیا کہ مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے منجملہ:
-علوی شورشوں کو خاموش کرنا؛
-علویوں سے عباسی حکومت کو تسلیم کروانا؛
-خاندان علوی سے عوام کی روز افزوں محبت اور معاشرے میں ان کے احترام کا خاتمہ کرنا؛ مسلمانوں کے دلوں سے اس محبت و احترام کی جڑیں اکھاڑ پھینکنا اور اس کے لئے ایسی روشیں بروئے کار لانا کہ علویوں کو خبر ہوئے بغیر انہیں عوام کے اندر بےقدر و قیمت کیا جائے۔ مأمون نے خاص طور پر کہا تھا کہ وہ امام رضا(ع) کو عوامی رائے عامہ میں خلافت کے لئے نااہل بنا پر پیش کرنا چاہتا ہے۔
مأمون کو جب حمید بن مہران اور دوسرے عباسیوں کی طرف سے ملامت کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے کہا: "یہ مرد ہماری آنکھوں سے اوجھل تھا؛ وہ لوگوں کو اپنی جانب بلاتا تھا، اسی بنا پر ہم نے فیصلہ کیا کہ وہ ہمارا ولیعہد بنے تاک وہ ہر چند لوگوں کو اپنی جانب بلائے سب کچھ ہمارے حق میں تمام ہوجائے"۔[16]
امام رضا(ع) مأمون کے ارادوں سے واقف تھے چنانچہ آپ نے خود مأمون سے کہا: تم چاہتے ہو کہ لوگ کہنا شروع کریں کہ "علی بن موسی دنیا اور اقتدار کی طرف بےرغبت نہیں ہے بلکہ یہ دنیا ہے کہ اس کی طرف رغبت نہيں رکھتی؛ کیا تم نہيں دیکھتے کہ کس طرح اس نے اقتدار کی محبت میں ولیعہدی کا عہدہ قبول کیا ہے!"۔[17]
جب لوگوں نے امام(ع) سے ولی عہدی قبول کرنے کا سبب پوچھا تو آپ(ع) نے فرمایا: میں نے یہ عہدہ جبر و اکراہ کی بنا پر قبول کیا ہے۔[18]
امام(ع) نے ولیعہدی کا منصب سنبھالنے کے لئے جو شرطیں رکھ لیں وہ در حقیقت حکومت میں شرکت سے آپ کی بیزاری کے مترادف ہیں؛ کیونکہ امام(ع) نے فرمایا: میں ہرگز کسی کو کسی منصب پر متعین نہ کروں گا، کسی کو معزول نہ کروں گا، نہ کسی رسم و روایت کو توڑوں گا اور موجودہ حالت میں کوئی تبدیلی نہیں لاؤں گا؛ صرف دور سے حکومت کے معاملے میں مشیر کا کردار ادا کروں گا۔ اس شرط سے معلوم ہوتا ہے کہ امام(ع) نے یہ عہدہ بامر مجبوری قبول کیا تھا۔
علاوہ ازیں بعض منابع میں منقول ہے کہ امام(ع) نے فرمایا: یہ عہدہ انتہا تک نہ پہنچ سکے گا۔
ولایت عہدی کی سند کی پشت پر امام(ع) کے تحریر کردہ فقروں کو غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امام کو یہ سب کچھ ناپسند تھا اور آپ اس کے ناپسندیدہ انجام سے باخبر تھے۔
چنانچہ بہت تھوڑا عرصہ ہی گذرا تھا کہ بغداد میں عباسیوں نے مامون کے خلاف بغاوت کرکے ابراہیم بن مہدی کے ہاتھ پر بیعت کی؛ [مامون کے دھوکے میں آنے والے] علوی بھی سمجھ گئے کہ اس نے یہ کام ایمان کی رو سے انجام نہيں دیا تھا اور ایک بار پھر عباسیون کے خلاف تحریک شروع ہوئی چنانچہ مامون کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ امام رضا(ع) کو راستے سے ہٹا دے۔ [19]
حوالہ جات
1: یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۳، ص۱۷۶؛ کلینی، الکافی، ج ۲، ص ۴۰۷؛ ابن طقطقی، تاریخ فخری، ص ۳۰۰٫
2: عرفان منش، جغرافیای تاریخی ہجرت امام رضا، ص۲۸
3: یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ۱۳۷۸، ج۲، ص۴۶۵.
4: مفید، الارشاد، قم، ۱۴۲۸ق، ص۴۵۵.
5: مطہری، مجموعہ آثار، ج۱۸، ص۱۲۴.
6: جعفریان، حیات فکری سیاسی امامان شیعہ، ص۹۵.
7: فضل اللہ، تحلیلی از زندگانی امام رضا، ص۱۳۳.
8: مفید، الارشاد، صص 455-456.
9: عباسی سلطنت کے آغاز سے ہی سیاہ لباس کو سرکاری لباس قرار دیا گیا تھا اور یہ سلسلہ مامون کے دور امام رضا(ع) کے ہاتھ پر ارکان حکومت کی بیعت تک جاری تھا جس کی وجہ شاید یہ تھی کہ عباسی حکومت کی بنیاد رکھنے والے ایرانی سپہ سالار ابو مسلم خراسانی اور اس کے ساتھ سیاہ لباس پہنتے تھے جو یا تو رسول اللہ(ص) کے سیاہ پرچم کی تقلید کرتے ہوئے منتخب کیا گیا تھا یا پھر شہدائے اہل بیت(ع) کی عزاداری کی علامت تھا۔
10: دائرة المعارف تشیع، ج 1، 1366، صص 440-439.
11: یعقوبی، ایضا، ص 465.
12: مفید، الارشاد، صص 458-459.
13: یعقوبی، التاریخ، ص 466.
14: دهخدا، لغت نامہ ج 8، 1377، ص 12109، مدخل "رضا"۔
15: سید جعفر مرتضی حسینی عاملی، زندگی سیاسی ہشتمین امام، 1381، ص 20.
16: صدوق، عیون اخبار الرضا(ع) ج 2، 13733، صص 309
17: صدوق، عیون اخبار الرضا ج 2، 1373، صص 314-315.
18: رجوع کریں: صدوق، عیون الاخبار ج 2، 1373، صص 309، 312-313۔
19: زندگانی سیاسی ہشتمین امام، تالیف جعفر مرتضی حسینی عاملی، بحوالہ علی اکبر دہ خدا، لغتنامہ، (50 جلدی) ج 25، مدخل "رضا" صص 484 تا 486۔
.
🔴 روایت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی ولایتعہدی کے بارے میں ہے جو ریان بن صلت (رح) نے نقل کی ہے۔
ترجمہ (اختصار اور وضاحت کے ساتھ):
ریان بن صلت کہتے ہیں:
میں امام علی بن موسیٰ الرضا علیہما السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
"یا بن رسول اللہ! لوگ کہتے ہیں کہ آپ دنیا سے بے رغبتی اور زہد کا اظہار کرتے ہیں، لیکن پھر بھی مأمون کی طرف سے ولایتعہدی قبول کرلی ہے؟"
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
"اللہ جانتا ہے کہ میں اس کام کو کس قدر ناپسند کرتا تھا۔ لیکن جب مجھے دو راستوں میں سے ایک اختیار کرنا تھا ـ یا قبول کرنا یا قتل ہونا ـ تو میں نے قتل پر قبول کو ترجیح دی۔ افسوس ان لوگوں پر! کیا وہ نہیں جانتے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نبی اور رسول تھے، لیکن جب مجبوری پیش آئی تو انہوں نے عزیزِ مصر سے کہا: اجعلنی على خزائن الأرض إنی حفیظ علیم (مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کریں، میں حفاظت کرنے والا اور جاننے والا ہوں)۔
اسی طرح مجبوری نے مجھے بھی اس کام پر مجبور کیا۔ میں نے یہ عہدہ زبردستی اور ناپسندیدگی کے ساتھ قبول کیا جبکہ میری جان خطرے میں تھی۔ اور میں اس معاملے میں ایسے داخل ہوا ہوں جیسے کوئی باہر نکلنے والا داخل ہوتا ہے۔ اب اللہ ہی کی بارگاہ میں شکایت ہے اور وہی میرا مددگار ہے۔"
دوسری روایت میں ریان بن صلت بیان کرتے ہیں کہ:
لوگوں میں یہ بات پھیل گئی کہ امام رضا علیہ السلام کی بیعت (بطور ولی عہد) دراصل فضل بن سهل (وزیر مأمون) کی تدبیر سے ہوئی ہے۔ یہ خبر مأمون تک پہنچی، اس نے ریان کو رات کے وقت بلایا اور کہا:
"لوگ کہتے ہیں کہ یہ بیعت فضل بن سهل کی سازش سے تھی، کیا یہ درست ہے؟"
ریان نے کہا: "جی ہاں، امیر المؤمنین، لوگ ایسا ہی کہتے ہیں۔"
مأمون نے کہا:
"ہائے ریان! کیا کوئی خلیفہ اور خلیفہ کا بیٹا، جس کی رعایا اس کے تابع ہو، لشکر اس کے ساتھ ہوں اور سلطنت اس کے ہاتھ میں مستحکم ہو، اپنی خلافت چھوڑ کر کسی دوسرے کو دے سکتا ہے؟ کیا یہ عقل میں آتا ہے؟"
میں نے کہا: "نہیں، بخدا! یہ ممکن نہیں۔"
مأمون نے کہا:
"یہ ہرگز ایسا نہیں ہے جیسا وہ کہتے ہیں۔ بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ جب میرے بھائی محمد (امین) نے مجھے اپنے پاس آنے کا حکم دیا اور میں نے انکار کیا تو اس نے علی بن عیسیٰ کو مقرر کیا کہ مجھے بیڑیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر اس کے پاس لے جائے۔ ادھر ہَرسَمہ بن أعین بھی میرے خلاف گیا اور میرا معاملہ بگڑنے لگا۔ فوجیں ٹوٹنے لگیں، خزانہ ختم ہوگیا اور لشکر مایوس اور بزدل ہوگئے۔ میں نے سوچا کہ میں کابل کے بادشاہ کے پاس پناہ لوں، لیکن وہ کافر تھا اور میرے بھائی سے پیسہ لے کر مجھے اس کے حوالے کردیتا۔ ایسے میں میں نے اللہ کی طرف توبہ کی اور عہد کیا کہ اگر اللہ مجھے ان حالات سے بچالے اور یہ سلطنت مجھے دے تو میں اسے اس کے اہل کے حوالے کر دوں گا۔ اللہ نے میری دعا قبول کی، میرا دل مضبوط ہوا اور میرا حال بہتر ہوتا گیا، یہاں تک کہ حکومت میرے ہاتھ میں آگئی۔ اب جب اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا تو میں نے بھی عہد پورا کیا اور اس امر کو اس کے اہل (امام رضاؑ) کے سپرد کیا۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ امام نے یہ ولایتعہدی کس طرح اور کس مجبوری میں قبول کی۔"
ریان کہتے ہیں:
اس کے بعد (مامون کہتا ہے) میرا دل مضبوط ہوا اور میں نے طاہر کو علی بن عیسیٰ بن ہامان کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ جو کچھ ہونا تھا وہ ہوا۔ پھر میں نے ہرثمہ بن اعین کو محمد (امین) کے ایک سپہ سالار کے مقابلے میں بھیجا، اس پر غالب آیا، اسے قتل کیا اور اس کا سر میرے پاس لایا۔ پھر میں نے اس کے ساتھ صلح کرلی اور اسے کچھ مال دیا، وہ واپس چلا گیا۔ اس طرح میرا معاملہ دن بہ دن مستحکم ہوتا گیا یہاں تک کہ محمد کے قتل کا وقت آگیا اور اللہ نے خلافت میرے لیے مقرر کردی اور اسے میرے لیے برقرار کر دیا۔
پس جب اللہ تعالیٰ نے اس عہد کو پورا کر دیا جو میں نے اس سے کیا تھا، تو میں نے بھی چاہا کہ اپنے عہد کو پورا کروں۔ اور میں نے اس امر (خلافت) کے لیے کوئی شخص امام ابو الحسن علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے زیادہ لائق نہیں پایا۔ اس لیے خلافت کو ان کے سپرد کر دیا، لیکن انہوں نے جیسا تم جانتے ہو، اصل خلافت قبول نہیں کی بلکہ صرف ولیعہدی کو قبول کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ولیعہد قرار پائے۔
میں نے کہا: "اللہ امیر المؤمنین کو توفیق دے۔"
مامون نے کہا: "اے ریان! جب کل صبح لوگ جمع ہوں، تو لشکر کے سرداروں کے درمیان بیٹھنا اور ان کے سامنے امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے فضائل بیان کرنا۔"
میں نے کہا: "یا امیر المؤمنین! میں کوئی بات اس سے بہتر نہیں جانتا جو میں نے آپ سے سنی ہے۔"
مامون نے کہا: "سبحان اللہ! مجھے کوئی ایسا نہیں ملتا جو اس معاملے میں میری مدد کرے۔ میرا ارادہ ہے کہ میں اہلِ قم کو اپنا شعار اور دثار (یعنی قریبی اور مددگار) بناؤں۔"
میں نے کہا: "یا امیر المؤمنین! میں وہ احادیث آپ سے روایت کروں گا جو آپ سے سنی ہیں۔"
مامون نے کہا: "ہاں! میرے فضائل کو نقل کرو۔"
جب صبح ہوئی تو میں لشکر کے سرداروں کے درمیان بیٹھ گیا اور کہا: "امیر المؤمنین نے مجھ سے اپنے والد اور اپنے آباء و اجداد سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: 'جس کا میں مولا ہوں، علی اس کا مولا ہے۔'
اور فرمایا: 'علی میرے ساتھ ایسے ہیں جیسے ہارون موسیٰ کے ساتھ تھا۔'
اسی طرح میں نے مختلف احادیث بیان کیں۔ کبھی بعض کو بعض کے ساتھ ملا دیتا کیونکہ مجھے بعض اسانید یاد نہ رہتی تھیں، لیکن اصل حدیث معلوم ہوتی تھی۔ میں نے خیبر کی حدیث اور دیگر مشہور احادیث بھی ذکر کیں۔"
اتنے میں عبد اللہ بن ملک خزاعی نے کہا: "اللہ علی پر رحم کرے، وہ نیک آدمی تھے۔"
مامون نے ایک غلام بھیجا تھا جو یہ سب باتیں سن کر اسے خبر دیتا تھا۔ مامون نے مجھے بلایا اور کہا: "اے ریان! تم کتنی زیادہ احادیث بیان کرتے ہو اور کتنا علم یاد رکھتے ہو۔ لیکن مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ اس یہودی عبد اللہ بن ملک نے کہا: 'اللہ علی پر رحم کرے، وہ نیک آدمی تھے۔' خدا کی قسم اگر اللہ نے چاہا تو میں اسے قتل کر دوں گا۔"
ریان کہتے ہیں: "اسی وقت میں نے دیکھا کہ ہشام بن ابراہیم راشدی ہمَدانی، جو امام رضا علیہ السلام کے سب سے قریبی ساتھیوں میں سے تھے، وہ ان کے تمام کام سنبھالتے تھے، لیکن جب امام خراسان روانہ ہوئے تو وہ مامون اور فضل بن سهل (ذو الریاستین) سے جا ملے۔ اس طرح وہ ان کے مقرب ہوگئے اور امام کے تمام حالات کی خبر ان تک پہنچاتے۔ حتیٰ کہ مامون نے اسے امام رضا علیہ السلام کا دربان بنا دیا تاکہ ہر کوئی امام تک نہ پہنچ سکے۔ اس نے امام پر تنگی کی اور صرف انہی کو ملنے دیتا جنہیں وہ چاہتا تھا۔ امام کے گھر میں ہونے والی باتیں بھی وہ مامون اور ذو الریاستین کو پہنچاتا۔"
مامون نے اپنے بیٹے عباس کو بھی اس کے پاس تعلیم کے لیے بھیج دیا اور اسی نسبت سے اسے "ہشام عباسی" کہا جانے لگا۔
راوی کہتا ہے: "ذو الریاستین نے امام رضا علیہ السلام سے سخت عداوت کی اور حسد کرنے لگا، کیونکہ مامون امام کو عزت دیتا تھا۔ پہلا جھٹکا اسے اس وقت لگا جب مأمون کی چچازاد بہن، جو خود مأمون کو بھی عزیز تھی، امام رضا علیہ السلام سے محبت کرنے لگی اور فضل (ذو الریاستین) کی شکایت مأمون کے سامنے کرنے لگی۔ اس پر مأمون نے اس کے کمرے کا وہ دروازہ بند کرنے کا حکم دیا جو اس کے دربار میں کھلتا تھا۔"
جب امام رضا علیہ السلام وہاں گئے اور دروازہ بند پایا تو فرمایا: "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، یہ فضل کا کیا کام کہ امیر المؤمنین کے حرم کے معاملے میں مداخلت کرے؟" پھر فرمایا: "میری رائے ہے کہ دروازہ دوبارہ کھول دیا جائے اور امیر المؤمنین اپنی چچازاد کے پاس جا سکیں۔ فضل کی بات کو قبول نہ کریں، کیونکہ یہ کوئی شرعی رکاوٹ نہیں ہے۔"
مامون نے حکم دیا کہ دروازہ دوبارہ کھولا جائے اور اپنی چچازاد کے پاس گیا۔ یہ خبر جب فضل تک پہنچی تو وہ غمگین اور رنجیدہ ہوگیا۔
📚القمی، ابی جعفر الصدوق، محمد بن علی بن الحسین بن بابویه (المتوفى381هـ)، عیون أخبار الرضا (ع)، ج2،ص 151 - 154،ح22،تحقیق: لاجوردى، مهدى، ناشر: نشر جهان - طهران، الطبعة : الأولى، سال چاپ: 1378 هـ .
📒بررسی سندی:
أحمد بن زیاد بن جعفر الهمدانی أبو علی:
قال مصنف هذا الکتاب رضی الله عنه لم أسمع هذا الحدیث إلا من أحمد بن زیاد بن جعفر الهمدانی رضی الله عنه بهمدان عند منصرفی من حج بیت الله الحرام و کان رجلا ثقة دینا فاضلا رحمة الله علیه و رضوانه.
الصدوق، ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین (المتوفى381هـ)، کمال الدین و تمام النعمة،ج2،ص369، ناشر: اسلامیة ـ تهران، الطبعة الثانیة، 1395 هـ .
علی بن إبراهیم بن هاشم أبو الحسن القمی : ثقة فی الحدیث، ثبت، معتمد، صحیح المذهب.
النجاشی الأسدی الکوفی، ابوالعباس أحمد بن علی بن أحمد بن العباس (المتوفى450هـ)، فهرست أسماء مصنفی الشیعة المشتهر ب رجال النجاشی،ص 260، تحقیق: السید موسی الشبیری الزنجانی، ناشر: جماعة المدرسین فی الحوزة العلمیة بقم، مؤسسة النشر الإسلامی، الطبعة: 1365 ش.
إبراهیم بن هاشم القمی ،أبو إسحاق : أقول: لا ینبغی الشک فی وثاقة إبراهیم بن هاشم، و یدل على ذلک عدة أمور .....
الموسوی الخوئی، السید أبو القاسم (متوفاى1411هـ)، معجم رجال الحدیث وتفصیل طبقات الرواة،ج1،ص 291، الطبعة الخامسة، 1413هـ ـ 1992م.
5293- 1 الریان بن الصلت،
بغداذی (بغدادی)، ثقة، خراسانیّ.
الطوسی، الشیخ ابوجعفر، محمد بن الحسن بن علی بن الحسن (المتوفى460هـ)، رجال الطوسی،ص 357، تحقیق: جواد القیومی الأصفهانی، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامی ـ قم، الطبعة: الأولى، 1415هـ .
۔
🔴 امام رضا علیہ السلام کی جبری ولایت عہدی معمر بن خلاد کی روایت میں
تاریخ کے اہم موضوعات میں سے ایک مسئلہ امام رضا علیہ السلام کی ولایت عہدی ہے جو مأمون عباسی (لعنة الله علیه) کے زمانے میں پیش آیا۔
📕 یہ مسئلہ نہ صرف حالیہ دور میں بلکہ پوری تاریخ میں شیعوں اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کے خلاف ایک شبہے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اسی لیے شیخ صدوق رحمۃ الله علیہ نے اپنی قیمتی کتاب «عیون اخبار الرضا (ع)» کا ایک باب اسی شبہے کے جواب میں اہل بیت علیہم السلام کی روایات کے جمع کرنے کے لیے مخصوص کیا ہے۔
📗 معتبر روایت میں معمر بن خلاد سے یوں نقل ہوا ہے:
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: ایک دن مأمون نے مجھ سے کہا: "اے ابوالحسن! دیکھو، کسی ایسے شخص کو نامزد کرو جس پر تم بھروسہ کرتے ہو تاکہ ہم اسے ان شہروں کی حکومت دیں جو ہمارے خلاف بگڑ چکے ہیں۔"
میں نے کہا: "اے امیر! تم اپنے کیے ہوئے عہد پر قائم رہو، اور میں بھی اپنے کیے ہوئے وعدے پر باقی رہوں گا۔ میں نے ولایت عہدی صرف اس شرط پر قبول کی تھی کہ میں ان امور میں مداخلت نہ کروں، نہ حکم دوں، نہ کسی کو روکو، نہ کسی کو معزول کروں، نہ کسی کو مقرر کروں اور نہ کسی کام میں مشورہ دوں، یہاں تک کہ اللہ مجھے تم سے پہلے دنیا سے اٹھا لے۔ بخدا! خلافت ایسی چیز ہے جس کے بارے میں میں نے کبھی اپنے دل میں خیال تک نہیں کیا، اور نہ ہی اسے اپنے ارادے میں لایا۔
میں مدینہ میں تھا، اپنی سواری پر اس کی گلیوں میں آتا جاتا تھا، اور وہاں کے لوگ اور دوسرے لوگ اپنی حاجتیں مجھ سے مانگتے تھے، اور میں اپنی بساط کے مطابق انہیں پورا کرتا تھا۔ وہ میرے لیے عموؤں کی طرح ہو گئے تھے۔ میرے خطوط مختلف شہروں میں نافذ ہوتے تھے اور قبول کیے جاتے تھے۔ تم نے مجھے وہ نعمت نہیں دی جو میرا رب پہلے ہی مجھے دے چکا تھا۔"
مأمون نے جواب میں کہا: "میں بھی تمہارے ساتھ کیے ہوئے عہد پر وفا کروں گا۔"
📚 عیون اخبار الرضا (ع)، ج2، ص166-167، ح29
📗 روایت کے سندی جائزے میں تمام راوی (علی بن الحسین بن موسی بن بابویه قمی، احمد بن ادریس، محمد بن احمد بن یحییٰ اشعری، معاویہ بن حکیم، معمر بن خلاد) اہل علم کی نظر میں معتبر اور ثقہ ثابت ہیں۔
۔
🔴 ابو الصلت ہروی سے امام رضا علیہ السلام اور مأمون عباسی کے درمیان ہونے والے مکالمے کا اردو ترجمہ ہے:
مأمون نے امام رضا علیہ السلام سے کہا:
اے فرزندِ رسول خدا! میں نے تمہارا علم، فضیلت، دنیا سے بے رغبتی، پرہیزگاری اور عبادت کو دیکھا ہے۔ میں تمہیں خلافت کے لیے اپنے سے زیادہ سزاوار پاتا ہوں۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
میں اللہ کی بندگی پر فخر کرتا ہوں، دنیا سے بے نیازی کے ذریعے دنیا کے شر سے نجات چاہتا ہوں، گناہوں سے پرہیز کے ذریعے کامیابی کی امید رکھتا ہوں، اور دنیا میں تواضع کے ذریعے اللہ کے نزدیک بلندی کا امیدوار ہوں۔
مأمون نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ خود کو خلافت سے الگ کر دوں اور تمہیں خلیفہ بنا دوں اور تمہارے ساتھ بیعت کروں۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
اگر خلافت تمہارا حق ہے اور اللہ نے تمہیں یہ عطا کی ہے تو جائز نہیں کہ تم وہ لباس جو اللہ نے تمہیں پہنایا ہے اتار کر کسی اور کو پہنا دو۔ اور اگر خلافت تمہاری نہیں ہے تو تمہارے لیے جائز نہیں کہ کسی اور کو دو۔
مأمون نے کہا: اے فرزندِ رسول خدا! تمہارے لیے اس کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: میں یہ کبھی اپنی مرضی سے نہیں کروں گا۔ مأمون کئی دن اصرار کرتا رہا، مگر جب مایوس ہوگیا تو کہا: اگر خلافت قبول نہیں کرتے تو ولیعہدی قبول کرو تاکہ خلافت تمہارے بعد ہو۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
اللہ کی قسم! میرے والد نے، ان کے آباء نے، امیرالمؤمنین نے، اور رسول خدا ﷺ نے خبر دی ہے کہ میں تم سے پہلے دنیا سے جاؤں گا، زہر کے ذریعے مظلومانہ شہید کیا جاؤں گا، فرشتے میرے اوپر گریہ کریں گے، اور مجھے دیارِ غربت میں ہارون الرشید کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔
مأمون رونے لگا اور کہا: اے فرزندِ رسول خدا! تمہیں کون قتل کرے گا جب کہ میں زندہ ہوں؟
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اگر چاہوں تو بتا سکتا ہوں کہ میرا قاتل کون ہے۔
مأمون نے کہا: تم یہ سب اس لیے کہہ رہے ہو تاکہ لوگ کہیں کہ علی بن موسیٰ دنیا سے بے رغبت ہیں اور خلافت کے خواہشمند نہیں۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی قسم! میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ میں نے دنیا کو دنیا کے لیے ترک نہیں کیا۔ اور میں جانتا ہوں کہ تم کیا چاہتے ہو۔
مأمون نے کہا: وہ کیا؟
امام نے فرمایا: تم چاہتے ہو کہ لوگ کہیں علی بن موسیٰ دنیا کے خواہشمند تھے، اسی لیے ولیعہدی قبول کی تاکہ خلافت تک پہنچ سکیں۔
مأمون کو غصہ آیا اور کہا: تم ہمیشہ ایسی بات کرتے ہو جو مجھے پسند نہیں۔ خدا کی قسم! یا تو ولیعہدی قبول کرو ورنہ تمہیں قتل کر دوں گا۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اللہ نے مجھے منع کیا ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالوں۔ اگر معاملہ یہی ہے تو جو چاہو کرو، میں ولیعہدی قبول کرتا ہوں، مگر اس شرط پر کہ نہ کسی کو معزول کروں گا، نہ کسی کو مقرر کروں گا، نہ کسی رسم و سنت کو بدلوں گا، بلکہ صرف دور سے مشورہ دوں گا۔
مأمون نے یہ شرط مان لی اور امام کو ولیعہد بنایا، حالانکہ امام رضا علیہ السلام نے اسے مجبوری اور کراهت کے ساتھ قبول کیا۔
📚القمی، ابی جعفر الصدوق، محمد بن علی بن الحسین بن بابویه (متوفای381هـ)، عیون أخبار الرضا (ع)، ج2،ص 139 و 140،ح3،تحقیق: لاجوردى، مهدى، ناشر: نشر جهان - طهران، الطبعة : الأولى، سال چاپ: 1378 هـ .
الصدوق، ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین (المتوفى 381هـ)، علل الشرائع ،ج1ص 318و319،ح1، تحقیق : السید فضل الله الطباطبائی الیزدی،المطبعة : العلمیة - قم، الطبعة : الثانیة، 1367 ش.
الصدوق، ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین (المتوفى381هـ)، الأمالی،ص 60و61،ح3، ناشر: مؤسسة الأعلمی،الطبعة: الأولى،1430 هـ - 2009 م.
⭕ بررسی سندی روایت
لم یذکروه. و قد اکثر الصدوق من الروایة عنه مترحّما و مترضّیا علیه ...
الشاهرودی، الشیخ علی النمازی (المتوفى1405هـ)، مستدرکات علم رجال الحدیث،ج3،ص75، ناشر: ابن المؤلف، چاپخانه: شفق – طهران، الأولى1414 هـ .
علی بن إبراهیم بن هاشم أبو الحسن القمی : ثقة فی الحدیث، ثبت، معتمد، صحیح المذهب.
النجاشی الأسدی الکوفی، ابوالعباس أحمد بن علی بن أحمد بن العباس (المتوفى450هـ)، فهرست أسماء مصنفی الشیعة المشتهر ب رجال النجاشی،ص 260، تحقیق: السید موسی الشبیری الزنجانی، ناشر: جماعة المدرسین فی الحوزة العلمیة بقم، مؤسسة النشر الإسلامی، الطبعة: 1365 ش.
إبراهیم بن هاشم القمی ،أبو إسحاق : أقول: لا ینبغی الشک فی وثاقة إبراهیم بن هاشم، و یدل على ذلک عدة أمور .....
الموسوی الخوئی، السید أبو القاسم (متوفاى1411هـ)، معجم رجال الحدیث وتفصیل طبقات الرواة،ج1،ص 291، الطبعة الخامسة، 1413هـ ـ 1992م.
643 عبد السلام بن صالح أبو الصلت
الهروی روى عن الرضا علیه السلام، ثقة، صحیح الحدیث. له کتاب وفاة الرضا علیه السلام.
النجاشی الأسدی الکوفی، ابوالعباس أحمد بن علی بن أحمد بن العباس (المتوفى450هـ)، فهرست أسماء مصنفی الشیعة المشتهر ب رجال النجاشی،ص 245، تحقیق: السید موسی الشبیری الزنجانی، ناشر: جماعة المدرسین فی الحوزة العلمیة بقم، مؤسسة النشر الإسلامی، الطبعة: 1365 ش.
📌 خلاصہ:
مأمون نے اپنی سیاست اور خلافت کو مشروعیت دینے کے لیے امام کو ولیعہد بنایا۔
امام رضا علیہ السلام نے خلافت قبول نہ کی اور ولیعہدی بھی زبردستی اور مجبوری میں قبول کی۔
امام نے پہلے ہی اپنی شہادت اور قاتل کی حقیقت کی طرف اشارہ کر دیا تھا۔
#اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد #تعلیمات_اہلبیت #talimaat_e_ahlbait #PlzShare #imam #امام #رضا #Raza #ImamRaza #امام_رضا #التماس_دعا #بدر_علی #تبدیلی_ممنوع
Gallery
Tap any image to view full screen