زائرینِ امام رضا (ع) کی فضیلت
عبد السلام ابن صالح ہرویؒ امام علی رضا علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ حضرتؑ نے فرمایا: ’’وَ لَا تَنْقَضِی الْأَیَّامُ وَ الْلَیَالِی حَتّی تَصِیْرَ طُوْسٌ مُخْتَلَفَ شِیْعَتِی وَ زُوَّارِی أَلَا وَ مَنْ زارَنِی فِی غُرْبَتِی بِطُوْسٍ کَانَ مَعِی فِی دَرَجَتِی یَوْمَ الْقِیَامَةِ مَغْفُوراً لَهُ‘‘[1]
’’زیادہ شب و روز نہیں گزریں گے کہ شہرِ طوس میرے شیعوں اور میرے زائروں کی رفت و آمد کا مقام بن جائے گا۔ جان لو! جو شخص طوس میں میری عالَم غُربت میں زیارت کرے گا، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرا ہم مرتبہ ہو گا، جبکہ اُس کے گناہ بھی بخش دیئے گئے ہوں گے۔‘‘
بزرگ شیعہ محدِّث شیخ حر عاملیؒ ایک روایت پر اعتماد کرتے ہوئے آٹھویں امامؑ کی زیارت کو دوسرے ائمہ معصومین علیہم السلام کی زیارت پر ترجیح و برتری دیتے ہوئے مستحب قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: ’’رُوِیَ أَنَّ زُوَّارَالْأَئِمَّةِ یَقْعَدُونَ مَعَ الْأَئِمَّةِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَ أَنَّ أَعْلَاهُم دَرَجَةً زُوَّارُ الرِّضَا عَلَیْهِ السَّلَامُ‘‘[2]
’’منقول ہے کہ قیامت کے دن ائمہ طاہرین علیہم السلام کے زائرین ائمہؑ کے ہمنشین ہوں گے اور اِن میں سب سے بلند مقام زائرینِ امام رضاؑ کا ہو گا۔‘‘
🔷تین سخت مقامات پر امامؑ کی آمد
حمدان دیوانی امام رضا علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا: ’’مَنْ زَارَنِی عَلَی بُعْدِ دَارِی، أَتَیْتُهُ یَومَ الْقِیَامَةِ فِی ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ، حَتّی أُخَلِّصَهُ مِنْ أَهْوَالِهَا، إِذَا تَطَایَرَتِ الْکُتُبُ یَمِیْناً وَ شِمَالاً وَ عِنْدَ الصِّرَاطِ وَ الْمِیْزَانِ‘‘[3]
’’جوشخص پردیس میں میری زیارت کرے گا، میں قیامت کے دن تین مقامات پر اُس کے پاس آؤں گا یہاں تک کہ اُسے اِن تینوں مقامات کی سختیوں اور ہولناکیوں سے نجات دلاؤں گا؛ جب نامۂ اعمال دائیں اور بائیں سے دیئے جا رہے ہوں گے، صراط سے گزرنے اور اعمال کا وزن کیے جانے کے وقت۔‘‘
🍃🍃🍃🍃 حوالہ 🍃🍃🍃🍃
1⃣ عیون اَخبار الرضاؑ، محمد ابن علی ابن بابویہ قمی (شیخ صدوقؒ)، ج۲، ص۲۶۴؛ جامع الاحادیث الشیعہ، آقا حسین بروجردیؒ، ج۱۵، ص۴۸۷؛ وسائل الشیعہ، محمد ابن حسن شیخ حر عاملیؒ، ج۱۴، ص۵۵۸
2⃣ ہدایۃُ الاُمۃ، محمد ابن حسن شیخ حر عاملیؒ، ص۵۱۰؛ (نیز اسی مضمون کی روایات عیون اَخبار الرضاؑ، محمد ابن علی ابن بابویہ قمی (شیخ صدوقؒ)، ج۲، ص۲۹۵؛ کافی، محمد ابن یعقوب کلینیؒ، ج۴، ص۵۸۵ پر بھی موجود ہیں۔)
3⃣ الخصال، محمد ابن علی ابن بابویہ قمی (شیخ صدوقؒ)، ص۱۶۷؛ من لا یحضرہ الفقیہ، محمد ابن علی ابن بابویہ قمی (شیخ صدوقؒ)، ج۲، ص۳۵؛ بحار الانوار، محمد باقر مجلسیؒ، ج۱۰۱، ص۴۰؛ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ کامل الزیارات، ص۳۰۴
۔
۔
ایامِ امام علی ابنِ موسیٰ الرضا (علیہ السلام)
حضرت رسولِ خدا (صلیٰ اللہُ علیہِ وآلہِ وسلم) نے ارشاد فرمایا
میرے جسم کا ایک ٹکڑا خُراسانمیں دفن کیا جائے گا، غم و اندوہ میں مبتلا ہر وہ شخص جو اس کی زیارت کرے خدائے عز و جل اسکے غموں کو دور کردیگا، اور ہر گنہگار جو اسکی زیارت کو جائے خدااسکے گناہوں کو بخش دیگا۔۔۔!!!
وسائل الشیعه ج10 ص43
🔹♦🔸🔹♦🔸🔹♦🔸🔹♦🔸🔹♦🔸🔹
🔹سلام علیکم🔹
إمام محمد تقی عليه السلام نے فرمایا:
*مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبِي بِطُوسَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَ مَا تَأَخَّر*
جو شخص سرزمین طوس پر میرے پدر کی زیارت کرے گا خداوندعالم اس کے اگلے و پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔
📚کافی ج4 ص585
📚کامل الزیارات ص304
📚المزار للمفید ص195
📚جامع الاخبار ص32
📚المزار الکبیر لابن المشھدی ص40
🔹التماس دعا:العبد الفقیر 🔹
🔹🔸♦🔹🔸♦🔹🔸♦🔹🔸♦🔹♦🔸🔹
آقا امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت کی فضیلت!!
علی بن مھزیار سے روایت ہے کہ آپ نے امام محمد تقی سے سوال کیا کہ میں آپ پر قربان جاؤں، زیادت امام رضا افضل ہے یا زیادت امام حسین؟
امام نے فرمایا: میرے بابا امام رضا کی زیارت افضل ہے، کیونکہ امام حسین کی زیارت کو سب لوگ جاتے ہیں مگر میرے بابا کی زیارت کو فقط ہمارے خالص و خاص شیعہ جاتے ہیں
اصول کافی کلینی ج 4 ص584
وسایل الشیعہ ج14 ص 562