Back to امام علی رضا (ع)

امام علی رضا (علیہ سلام) اور آپکے مختصر فضائل و کمالات

*امام علی رضا (علیہ سلام) اور آپکے مختصر فضائل و کمالات*

 

*حضرت سید ناامام علی رضا علیہ سلام اللہ عزوجل و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مولا علی المرتضیٰ علیہ سلام کے نور کا ٹکڑا، انکی رحمت کی خوشبو اور آئمہ طاہرین ؑ کی آٹھویں کڑی ہیں،*

*جن سے اللہ پاک نے رجس کو دور رکھا اوران کو اس طرح پاک وپاکیزہ رکھا جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ھے،*

 *مامون رشید نے آئمہ طاہرین ؑ کے متعلق اپنے زمانہ کے بڑے مفکر و ادیب عبداللہ بن مطرسے سوال کرتے ھوئے کہا:کہ*

*اہل بیت اطہار ؑ کے سلسلہ میں تمہاری کیا رائے ھے؟*

*عبداللہ نے ان سنہرے لفظوں میں جواب دیا:*

*کہ میں اس طینت کے بارے میں کیا کہوں،جس کا خمیر رسالت مآب کے پانی سے تیار ھوا اور وحی کے پانی سے اس کو سیراب کیاگیا؟*

*کیا اس سے ہدایت کے مشک اور تقویٰ کے عنبر کے علاوہ کوئی اورخوشبو آسکتی ھے؟۔۔*

*ان کلمات نے مامون کے جذبات پر اثرکیا اس وقت امام علی رضا ؑ بھی موجود تھے، آپ نے عبداللہ کامنھ موتیوں سے بھر دینے کا حکم صادر فرمایا،*

*[1]وہ تمام اصلی ستون اور بلند و بالا مثالیں جن کی امام ؑ عظیم سے تشبیہ دی گئی ھے، آپ ؑ کے سلوک، ذات اور دنیا کی زیب و زینت سے رو گردانی کرنا سوائے اُن ضروریات کے جن سے انسان اللہ سے لولگاتا ھے،یہ سب اسلام کی دولتوں میں سے ایک دولت ھے۔*

 

*🌹ان میں سے بعض خصوصیات اختصار کے طور پر بیان کی جاتی ہیں:🌹*

 

*آپ ؑ کی پرورش*

 

*امام علی رضا ؑ نےاسلام کے سب سے زیادہ باعزت وبلند گھرانہ میں پرورش پائی،* *کیونکہ یہ گھر وحی کا مرکز ھے ۔یہ امام موسیٰ بن جعفر ؑ کا بیت الشرف ھے،*

*جو تقویٰ اور پرہیزگاری میں حضرت عیسیٰ بن مریم عیہم السلام کے بیت الشرف کے مشابہ ھے،گویا یہ بیت الشرف عبادت اور اللہ کی اطاعت کے مراکز میں سے تھا، جس طرح یہ بیت الشرف علوم نشرکرنے ا ور اس کو لوگوں کے درمیان شائع کرنے کا مرکزتھا اسی بیت الشرف سے لاکھوں علماء ، فقہاء،اور ادباء نے تربیت پائی ھے*

*اسی بلند وبالا بیت الشرف میں امام رضا ؑ نے پرورش پائی اور اپنے پدر بزرگوار اور خاندان کے آداب سے آراستہ ھوئے،جن کی فضیلت ،تقویٰ اور اللہ پر ایمان کے لئے تخلیق کی گئی ھے،*

 

*🌷آپ ؑ کا عرفان اور تقوی🌷ٰ*

 

*ٰامام علی رضا ؑ کے عرفان کی خصوصیت یہ تھی کہ آپ حق پر پائیدار تھے،اور آپ نے ظلم کے خلاف قیام کیا تھا، اس لئے آپ مامون الرشید عباسی کو تقوائے الٰہی کی سفارش فرماتےتھے، اور دین سےمناسبت نہ رکھنے والے اس کے افعال کی مذمت فرماتے تھے،جس کی بناء پر مامون الرشید آپ کا دشمن ھوگیااور اس نے آپ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا*

*|گرامام ؑ اس کی روش کی مذمت نہ کرتےجس طرح کہ اس کے اطرافیوں نے اس کے ہرگناہ کی تائید کی تو آ پ کا مقام اس کے نزدیک بہت عظیم ھوتا ۔اسی بناء پرمامون نے بہت جلد ھی آپ کو زہر دے کر آپ ؑ کی حیات ظاہری کا خاتمہ کردیا۔،*

 

*آپ کے بلند وبالااخلاق*

 

*امام علی رضا ؑ بلند و بالا اخلاق اور آداب رفیعہ سے آراستہ تھے،اور آپ کی سب سے بہترین عادت یہ تھی کہ جب آپ دسترخوان پر بیٹھتے تھے تو اپنے غلام وںیہاں تک کہ اصطبل کے رکھوالوں اور نگہبانوں تک کو بھی اسی دستر خوان پر بٹھاتے تھے*

*[2]۔ ابراہیم بن عباس سے مروی ھے کہ میں نے علی رضا بن موسیٰ رضا ؑ کو یہ فرماتے سنا ھےکہ*

*ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: خدا کی قسم آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے ہیں ۔امام ؑ نے یہ فرماتے ھوئے جواب دیا:*

*اے فلاں! مت ڈر، مجھ سے وہ شخص زیادہ اچھا ھےجو سب سے زیادہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس کی سب سے زیادہ اطاعت کرے۔خدا کی قسم یہ آیت نسخ نہیں ہوئی ھے۔امام ؑ اپنے جد امجد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے آئمہ کے مثل بلند اخلاق پر فائز تھے،*

 

*🌷آپ ؑ کا زہد و تقویٰ🌷*

 

*امام ؑ نے اس پرمسرت اور زیب و زینت والی زندگی میں اپنے آباء اجداد عظام کے مانند کردار پیش کیا، جنھوں نے دنیا میں زہد اختیار کیا،*

*آپ ؑ کے جد بزرگوار امام امیرالمومنین ؑ نے اس دنیا سے قطع تعلق ھو گئے جس کے بعد اس سےدوبارہ رجوع نہیں کیا*

*محمد بن عباد نے امام کے زہد کے متعلق روایت کی ھےکہ :امام علی رضاء ؑ گرمی کے موسم میں چٹائی پر بیٹھتے،سردی کے موسم میں ٹاٹ پربیٹھتے تھے،آپ سخت کھر درا لباس پہنتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ لوگوں سے ملاقات کے لئے جاتےتو پسینہ سے شرابورھوجاتے تھے*

*[3] ۔دنیا میں زہد اختیار کرنا امام ؑ کے بلند اور آشکار اور آپ کے ذاتی صفات میں سے تھا،تمام راویوں اور مورخین کا اتفاق ھے کہ جب امام ؑ کو ولی عہد بنایاگیا تو آپ ؑ نے سلطنت کے مانند کوئی بھی مظاہرہ نہیں فرمایا،حکومت و سلطنت کو کوئی اہمیت نہ دی،اسکے کسی بھی رسمی موقف کی طرف رغبت نہیں فرمائی، آپ کسی بھی ایسے مظاہرے سے شدید کراہت کرتے تھے،* *جس سے حاکم کی لوگوں پر حکومت و بادشاہت کا اظہار ھوتا ھے،*

*چنانچہ آپ فرماتے تھے:لوگوں کاکسی شخص کی اقتدا کرنا اس شخص کیلئے فتنہ ھے،*

*اور اتباع کرنے والے کیلئے ذلت ورسوائی ھے،*

 

*🌷آپ ؑ کے علوم کی وسعت🌷*

 

*سیدناامام علی رضا ؑ اپنے زمانہ میں سب سے زیادہ عالم اورفاضل تھے اور آپ نے ان (اہل زمانہ) کو مختلف قسم کے علوم جیسے علم فقہ، فلسفہ،علوم قرآن اور علم طب وغیرہ کی تعلیم دی*

*ہروی نے آپ کے علوم کی وسعت کے سلسلہ میں یوں کہا ھےکہ میں نے علی رضا بن موسی رضا ؑ سے زیادہ اعلم کسی کو نہیں دیکھا،* 

*مامون نے متعدد جلسوں میں علماء ادیان ،فقہاءشریعت اور متکلمین کو جمع کیا، لیکن آپ ان سب پر غالب آگئے یہاں تک کہ ان میں کوئی ایسا باقی نہ رہا جس نے آپ کی فضیلت کا اقرار نہ کیاھو،*

*|ور میں نے آپ ؑ کو یہ فرماتے سنا ھے: ’’میں ایک محفل میں موجود تھا اور مدینہ کے متعدد علماء بھی موجود تھے ،جب ان میں سے کوئی کسی مسئلہ کے بارے میں پوچھتا تھا تو اس کو میری طرف اشارہ کردیتے تھے اور مسئلہ میرے پاس بھیج دیتے تھے اور میں اس کا جواب دیتا تھا*

*[4] ‘‘۔ابراہیم بن عباس سے مروی ھے :میں نے امام علی رضا ؑ کونہیں دیکھامگریہ کہ آپ ؑ نے ہر سوال کا جواب دیا ھے [5]۔،میں نے آپ کے زمانہ میں کسی کو آپ سے اعلم نہیں دیکھااور مامون ہر چیز کے متعلق آپ سے سوال کرکے آپ کا امتحان لیتاتھا اورآپ ؑ اس کا جواب عطا فرماتے تھے*

*[6] ۔مامون سے مروی ھے :میں اُن (یعنی امام رضا ؑ) سے افضل کسی کو نہیں جانتا،*

*[7]۔بصرہ،خراسان اور مدینہ میں علماء کے ساتھ آپ کے مناظرے آپ کے علوم کی وسعت پر دلالت کرتے ہیں ۔دنیا کے جن علماء کو مامون آپ کا امتحان لینے کے لئے جمع کرتا تھا وہ ان سب سے زیادہ آپ ؑ پر یقین اور آپ کے فضل وشرف کا اقرار کرتے تھے، کسی علمی وفد نے امام ؑ سے ملاقات نہیں کی مگر یہ کہ اس نے آپ کے فضل کا اقرار کرلیا۔*

*مامون الرشید آپ کو لوگوں سے دور رکھنے پر مجبور ھوگیاکہ کہیں آپ کی وجہ سے لوگ اس سے بدظن نہ ھوجائیں۔،*

ا|ا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1] حیاۃالامام رضا ؑ ، جلد ۱،صفحہ ۱۰۔

[2] نورالابصار، صفحہ۱۳۸۔

[3] عیون اخبار الرضا ؑ ،جلد ۲صفحہ ۱۷۸۔مناقب ،جلد ۴،صفحہ ۳۶۱۔

[4] کشف انعمہ، جلد۳ صفحہ۱۰۷۔[5]نسخہ الاعلم

[6] حیاۃ الامام الجواد ؑ صفحہ۴۲۔

[7] اعیان ،جلد۴ صفحہ۲۰۰۔