Back to امام علی رضا (ع)

روضہ امام علی رضا (عليہ السلام) کي زيارت کي فضيلت کتب اھل سنت ميں

روضہ امام علی رضا (عليہ السلام) کي زيارت کي فضيلت کتب اھل سنت ميں

 

- حاکم نیشاپوری شافعی اپنی سند کے ساتھ حضرت امام رضا سے روایت نقل کرتے ہیں : 

 '' روی عن الامام علیٍّ الرضا عن آبائہ عن النبیّ ۖ انہ قال : ستُدفن بضعة منّی بخراسان ، مازارَھا مکروب ِالّانَفَّسَ اللّہُ کُربتَہ ولا مُذنِب اِلّا غفرَ اللہُ ذنوبَہ ''(١)

حضرت امام رضا سے روایت ہے کہ پیغمبراکرمۖ نے فرمایا : عنقریب میرے بدن کا ٹکڑا سرزمین خراسان میں دفن ہوگا ،جوکوئی مشکلوں میں گرفتار شخص اس کی زیارت کرے گا خداوندعالم اس کی مشکلوں کو برطرف فرمائے گا اور جو کوئی گنہ گار اس کی زیارت کرے گا خداوندعالم اس کے گناہوں کو بخش دے گا ۔

 

- حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ امام جعفر صادق سے، انہوں نے اپنے آباء و اجداد سے، انہوں نے امیر المؤمنین سے اور آپ نے پیغمبر اکرمۖ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور انورۖ نے ارشاد فرمایا:

  ''ستُدفنُ بضعة منّی بخراسان ، لایزورُھا مؤمن اِلّا اوجبَ اللّہُ لہ الجنّةَ و حرَّم جسدَہ علی النّارِ''۔(٢)عنقریب میرے بدن کا ایک ٹکڑا سرزمین خراسان میں دفن ہوگا جومؤمن بھی ان کی زیارت کرے گا خداوندعالم اس پر جنت کو واجب کردے گا اور اس کے بدن پر آتش دوزخ کو حرام کردے گا۔

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام

 

- حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ روایت نقل کی ہے کہ حضرت امام محمد تقی نے فرمایا: 

 ''من زارَقبرَ اَبی غَفرَ اللّہُ لہ ما تقدَّ مَ مِن ذنبِہِ و ما تأخَّرَ ، و اذا کان یومُ القیامةِ یُنصَبُ لہ منبر بحِذائِ منبرِ رسولِ اللہِ ۖ حتّی یَفرُغُ اللّہُ مِن حسابِ عبادِہِ''۔(٦)

جو شخص بھی میرے والد گرامی کی قبر اطہر کی زیارت کرے خداوندعالم اس کے گذشتہ اور آئندہ گناہوں کو بخش دے گا اور جب قیامت کا دن طلوع ہوگا تو اس کا مقام رسول خدا ۖکے منبر کے سامنے ہوگا یہاں تک کہ خداوندعالم تمام اہل عالم کے حساب سے فارغ ہوجائے ۔

 

حضرت امام علی نقی علیہ السلام

- حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنے اسناد کے ساتھ صقر بن دلف سے روایت نقل کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام علی نقی سے سنا کہ آپ نے فرمایا :

 '' مَن کانَت لہ اِلی اللّہِ حاجَة فلیزُرْ قبرَ جدِّی الرِّضا بِطوس ، و ھو علَی غُسلٍ ولیُصلِّ عندَ رأسِہِ رکعتینِ و یسألِ اللہَ تعالی حاجتَہُ فی قُنُوتِہِ ، فاِنَّہ یُستَجابُ لہ ما لم یسألہ فی مأثمٍ اوقطیعةِرحمٍ، و اِنّ موضعَ قبرِہ لَبُقعةمن بُقاعِ الجنّةِ، لا یزورُھامؤمن اِلّااعتقَہُ اللّہُ من النّارِ و اَدخلَہُ الدّارِ''۔(٧)

جس شخص کو کوئی حاجت پیش آئے وہ طوس میں میرے جدبزرگوار حضرت امام رضا کی قبر کی زیارت کرے ، اس حال میں کہ غسل کئے ہوئے ہو ، آپ کے سرہانے دورکعت نماز بجالائے اور نماز کے قنوت میں پروردگار سے اپنی حاجت طلب کرے ۔وہ دعاؤں کے مستجاب ہونے کا مقام ہے بشرطیکہ اس کی دعا قطع رحم یا گناہ کے سلسلے میں نہ ہو،جس مکان میں امام رضا مدفون ہیں وہ جنت کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا ہے ۔اس مقام کی جو مؤمن بھی زیارت کرے گا خداوندعا لم اس کو جہنم سے آزاد کرے گا اور جنت میں داخل کرے گا۔

 

حضرت امام علی رضا علیہ السلام

 

   جوینی شافعی اپنی اسناد کے ساتھ فضال سے روایت نقل کرتے ہیں : 

''سمعتُ علیَّ بن موسی الرضا علیہ التحیة والثناء ۔ و جائَہ رجل فقال لہ : یا بنَ رسولِ اللّہ رأیتُ رسولَ اللّہ فی المنامِ کاَنَّہ یقول لی : کیفَ اَنتم اذا دُفِنَ فی اَرضِکُم بَضعَتی و استَحفَظتُم ودِیعَتی و غُیِّبَ فی ثَراکُم لَحمی ۔ فقال لہ الرضا: اَنا المدفونُ فی اَرضِکُم واَنا بَضعَةُ نبِیِّکُم واَنا الوَدِیعَةُ و اللّحمُ ، مَن زارَنی وھو یعرِفُ ما اوجبَ اللّہُ مِن حقِّی و طاعَتِی ، فَاَنا وآبائی شفعاؤُہ یومَ القیامةِ ومَن کنَّا شفعائَہ نجا، ولوکانَ علیہ مثلُ وِزر الثَقلَین الجنِّ والِانسِ''۔(٨)

حضرت علی بن موسی الرضا علیہ التحیة و الثناء سے سنا کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور امام سے عرض کی: اے فرزند رسول میں نے حالت خواب میں پیغمبراکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ فرمارہے ہیں : تمہاری حالت کیا ہوگی جب میرے بدن کا ٹکڑا تمہاری سرزمین میں دفن ہوگا،میری امانت تمہارے سپردکی جائے گی اور تمہاری مٹی میں میرے گوشت کاٹکڑاغائب ہوگا؟۔ امام رضا نے جواب دیا : میں وہی شخص ہوں کہ جو تمہاری سرزمین میں دفن ہوگا اور میں تمہارے رسولﷺکے بدن کا ٹکڑا اور میں ہی وہ امانت ہوں کہ جو شخص بھی خدا کی طرف سے واجب کردہ میری اطاعت اور میرے حق کی معرفت کے ساتھ میری زیارت کرے گا تو میں اور میرے آباء و اجداد روز قیامت اس شخص کی شفاعت کریں گے اور جس شخص کی ہم شفاعت کریں وہ یقینا نجات پائے گا چاہے اس کے گناہ جن انس کے گناہوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

حضرت امام رضامذکورہ واقعہ کی تائید میں حضرت پیغمبراکرمۖ سے روایت نقل فرماتے ہیں :

''و لقَدحدَّثَنی اَبی، عن جدِّی، عن اَبِیہ، عن آبائہ اَنَّ رسولَ اللہِ ۖ قال: من رآنی فی منامہ فقد رآنی ، فَاِنّ الشیطانَ لا یتَمثَّلُ فی صورتی ولا فی صورةِ واحدٍ من اَوصیائی ، اَن الرُّؤیا الصادِقةُ جزئ من سبعین جزأ مِنَ النَّبُوَّةِ ''۔ (٩)

حضرت امام رضا نے اپنے اجداد طاہرین سے اور انہوں نے حضرت رسول اکرمۖ سے روایت نقل کی ہے کہ آپۖ فرماتے ہیں : جو کوئی بھی مجھے خواب میں دیکھے اس نے واقعاً مجھے خواب میں دیکھاہے چونکہ شیطان میری اور میرے اوصیاء کی صورت میں نہیں آسکتا، سچاخواب نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے ۔

اس روایت کی بنیاد پر تمام وہ خواب کہ جو اس قسم کے ہوں یعنی رسول اکرمۖ یا آپۖ کے کسی جانشین کو دیکھا ہو وہ حجیت رکھتے ہیں ۔

 

- حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے حضرت امام علی بن موسی الرضا نے فرمایا :

'' اِنِّی مقتُول مسمُوم مدفُون باَرضِ غربَةٍ ، اَعلم ذالک بعھدٍ عَھِدَہُ ِالیَّ اَبی عن اَبیہِ عن آبائہِ عن علیِّ ابنِ اَبی طالبٍ عن رسولِ اللہِ ۖ، اَلافَمَن زارَنی فی غُربَتی کنتُ اَناوآبائی شفعاؤَہ یومَ القیامةِ،ومَن کنّا شفعاؤَہ نَجا و لوکانَ علَیہ مثلُ وِزرِ الثَقلَینِ''۔(١٠)

میں زہر سے مقتول اور سرزمین غربت کا مدفون ہوں ، میں اس عہد سے واقف ہوں ، یہ مجھ سے میرے والد نے اور ان سے ان کے آباء واجدادنے، ان سے علی ابن ابی طالب نے اور آپ سے رسول اکرمۖ نے عہد کیا ہے، آگاہ ہوجاؤ کہ جو شخص بھی عالم غربت میں میری زیارت کرے گا میں اور میرے آباؤ اجداد اس کے شفیع ہوں گے اور جس کے ہم شفیع ہوں اس کی نجات یقینی ہے، چاہے اس کے گناہ جن و انس کے گناہوں کی برابر ہوں ۔

جوینی نے اس روایت کو بہت زیادہ تعجب کے ساتھ اس طرح یاد کیا ہے : ''کرامة یا لَھا من کرامةٍ باھرةٍ! و بشارة لشفاعةِ الذُنوبِ ماحیةٍ غافرةٍ ''۔(١١)

واہ ! کیا کرامت ہے ،نورانی کرامت اور بشارت ہے گناہوں کی بخشش کے لیے ۔

 

- حاکم نیشاپوری شافعی اپنی اسناد کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام رضا نے فرمایا :

''من زارَنی علَی بُعد داری أتیتُہ یومَ القیامةِ فی ثلاثةِ مواطِنَ حتّی اُخَلِّصَہُ مِن اَھوالِھا : اذا تطایرَتِ الکُتُبُ یمیناً و شمالاً ، و عندَ الصراطِ و عندَ المیزانِ ''۔(١٢)

جو شخص عالم غربت میں میری زیارت کے لیے آئے گا میں روزقیامت تین مقامات پر اس کی فریادرسی کو پہنچوں گا : اس وقت کہ جب نامہ اعمال دائیں و بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے ، پل صراط سے گذرتے وقت اور جب اعمال تولے جائیں گے۔

 

- اسی طرح حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ حضرت امام رضا کے خادم یاسر سے روایت نقل کی ہے، امام رضا نے فرمایا :

'' لاتَشُدُّ الرِّحالُ اِلی شیئٍ من القُبورِ اِلّا اِلَی قُبورِنا، ألا واَنّی مقتول بالسمِّ ظلماً و مدفون فی موضعِ غُربةٍ ، فَمَن شَدَّ رحلَہ اِلی زیارتی استُجِیبَ دعائَہ و غُفِرَذُنوبُہ ''۔(١٣)

ہم اہل بیت کی قبروں کی زیارت کے علاوہ کسی کی بھی قبر کی زیارت کے لیے رخت سفر باندھنا صحیح نہیں ہے ، آگاہ ہوجاؤ کہ میں زہر سے قتل کیا جاؤں گا اور عالم غربت میں دفن کیا جاؤں گا ، پس جو بھی میری زیارت کے لیے رخت سفر باندھے گا اس کی دعا مستجاب ہوگی اور اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔

 

- محمد خواجہ پارسای بخاری حنفی کہتے ہیں کہ جس وقت مامون عباسی نے دھمکی کے ساتھ امام رضا کو ولایت عہد ی کے قبول کرنے پر مجبور کیا تب امام رضا نے مامون سے مخاطب ہو کر فرمایا :'' واللّہِ ! لقد حدَّثَنی اَبی عن آبائہِ عن رسولِ اللہِ ۖ : اَنّی اُخرَجُ مِنَ الدنیا قبلَکَ مظلوماً ، تَبکی علیَّ ملائکةُ السمائِ والاَرضِ، و اُدفَنُ فی اَرضِ الغُربةِ ''۔(١٤)

خدا کی قسم ! میرے والد بزرگوار نے اپنے آباء و اجداد سے انہوں نے رسول خدا ۖسے نقل فرمایا ہے کہ میں تجھ سے پہلے اس دنیا سے مظلومیت کے عالم میں رخصت ہوجاؤں گا ، آسمان وزمین کے فرشتے مجھ پر گریہ کناں ہوں گے اور سرزمین غربت میں دفن کیا جاؤں گا ۔

 

1- سيد علي بن شہاب الدين ہمداني نے پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) سے نقل کيا ہے کہ آپ نے فرمايا : « ستدفن بضعة منّى بخراسان، ما زار مکروب الاّ نفّس الله کربته، و لامذنب الاّ غفر الله له « (1) - بہت جلد ميرے جسم کا ايک حصہ خراسان ميں دفن ہو گا ، جس کو بھي زيادہ غصہ آتا ہوگا اور وہ آپ کي زيارت کرے گا تو خداوند عالم اس کے غصہ کو دور کردے گا اور جو گنہگار بھي ان کي زيارت کرے گا خداوندعالم اس کے گناہوں کو بخش دے گا -

2- حمويني نے اپني سند کے ساتھ رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) سے نقل کيا ہے کہ آپ نے فرمايا : « ستدفن بضعة منّى بخراسان، لايزورها مۆمن الاّ أوجب الله له الجنّة، و حرّم جسده على النار« (2) -

بہت جلد ميرے جسم کے ايک حصہ کو خراسان ميں دفن کيا جائے گا - جو مومن بھي ان کي زيارت کرے گا اس پر خداوند عالم بہشت کو واجب کردے گا اور اس کے جسم پر جہنم کي آگ کو حرام کردے گا -

3- ابوبکر محمد بن مومل کہتے ہيں : ميں نے اہل حديث کے امام ،ابوبکر بن خزيمہ ، ابن علي ثقفي اور اساتيد کي ايک جماعت کے ساتھ علي بن موسي الرضا (عليہ السلام) کي زيارت کے قصد سے طوس کي طرف روانہ ہوا - ميں نے ابن خزيمہ کو ديکھا کہ وہ اس ضريح کي اس قدر تعظيم کررہے تھے اور اس کے سامنے اس قدر تواضع اور تضرع و زاري کررہے تھے کہ ہم حيران رہ گئے (3) -

4- ابن حبان

ابن حبان نے اپني کتاب «الثقات « ميں لکھا ہے : علي بن موسي الرضا کو طوس ميں مامون نے ايک شربت ديا جس کو پيتے ہي آپ کي شہادت واقع ہوگئي ... آپ کي قبر سناباد ميں نوقان کے باہر مشہور ہے ، لوگ ان کي زيارت کے لئے آتے ہيں - ميں نے بہت زيادہ ان کي زيارت کي ہے ، جب تک ميں طوس ميں رہا مجھ پر کوئي مصيبت نہيں پڑي اور اگر کوئي مصيبت پڑتي تھي تو ميں علي بن موسي الرضا (صلوات اللہ علي جدہ و عليہ) کي قبر کي زيارت کے لئے جاتا تھا اور خداوند متعال سے دعا کرتا تھا کہ ميري مصيبت کو دور کرے ، خداوند عالم بھي ميري دعا کو مستجاب کرتا تھا اور وہ مصيبت مجھ سے دور ہوجاتي تھي اور يہ بات ايسي ہے جس کا ميں نے بارہا تجربہ کيا ہے اور ہر مرتبہ ميري مصيبت دور ہوئي ہے - خداوند عالم ہميں مصطفي اور ان کے اہل بيت (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) کي محبت پر موت دے 

 

1- مودة القربى، ص 140; ينابيع المودة، ص 265.

2- فرائد السمطين، ج 2، ص 188، رقم 465.

3- تهذيب التهذيب، ج 7، ص 339.

4- الثقات، ج 8، ص 456 و 457.