امام حسینؑ کا سورۂ حجرات کی آیات سے استدلال، جب عائشہ نے امام حسنؑ کو رسول اللہ ص کے پہلو میں دفن کرنے سے روکا
امام حسینؑ کا سورۂ حجرات کی آیات سے استدلال، جب عائشہ نے امام حسنؑ کو رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن کرنے سے روکا!
✍🏻 امام حسین علیہ السلام نے عائشہ سے فرمایا:
◾️ اس سے پہلے تم اور تمہارے والد نے رسول اللہ ﷺ کا پردہ چاک کیا اور آپ ﷺ کے گھر میں ایسے شخص کو داخل کیا جس کی قربت رسول اللہ ﷺ کو پسند نہیں تھی، اور اللہ تم سے اس معاملے کے بارے میں سوال کرے گا۔
◾️ میرے بھائی امام حسنؑ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں انہیں ان کے والد، رسول اللہ ﷺ کے قریب لے جاؤں تاکہ وہ ان سے تجدیدِ عہد کریں۔
◾️ جان لو کہ میرے بھائی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو سب سے زیادہ جاننے والے اور کتابِ خدا کی تأویل سے سب سے زیادہ آگاہ تھے۔ وہ ہرگز رسول اللہ ﷺ کا پردہ چاک نہیں کر سکتے تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> "اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، مگر یہ کہ تمہیں اجازت دی جائے۔"
جبکہ تم نے رسول اللہ ﷺ کے گھر میں مردوں کو بغیر اجازت داخل ہونے دیا!
◾️ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
> "اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔"
◾️ میری جان کی قسم! تم نے اپنے والد اور اس کے فاروق کے لیے رسول اللہ ﷺ کے کان کے قریب کدالیں چلائیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> "بے شک جو لوگ رسول اللہ کے پاس اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے آزما لیا ہے۔"
✨ امام حسین بن علی علیہما السلام نے عائشہ سے فرمایا:
> "اس سے پہلے تم اور تمہارے والد نے رسول اللہ ﷺ کا پردہ چاک کیا اور آپ ﷺ کے گھر میں ایسے شخص کو داخل کیا جس کی قربت رسول اللہ ﷺ کو پسند نہیں تھی، اور اللہ تم سے اس بارے میں سوال کرے گا، اے عائشہ! میرے بھائی نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں انہیں ان کے والد، رسول اللہ ﷺ کے قریب لے جاؤں تاکہ وہ ان سے تجدیدِ عہد کریں۔
اور جان لو کہ میرا بھائی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو سب سے زیادہ جاننے والا اور کتابِ خدا کی تأویل سے سب سے زیادہ آگاہ تھا؛ وہ رسول اللہ ﷺ کا پردہ ہرگز نہیں چاک کر سکتا تھا، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:
'اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، مگر یہ کہ تمہیں اجازت دی جائے۔'
جبکہ تم نے رسول اللہ ﷺ کے گھر میں مردوں کو بغیر اجازت داخل کیا۔
اور اللہ عزوجل نے فرمایا:
'اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔'
میری جان کی قسم! تم نے اپنے والد اور اس کے فاروق کے لیے رسول اللہ ﷺ کے کان کے پاس کدالیں چلائیں، حالانکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے:
'بے شک جو لوگ رسول اللہ کے پاس اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے آزما لیا ہے۔'"
📚 الکافی، جلد ۱، صفحہ ۳۰۲، حدیث ۳
Gallery
Tap any image to view full screen