⚡️ امام حسن مجتبیٰؑ کا معاویہ کو ایک کھجور کے درخت پر موجود کھجوروں کی تعداد بتانا
داود بن کثیر رقی بیان کرتے ہیں کہ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
جب امام حسن بن علیؑ نے معاویہ کے ساتھ صلح کی تو دونوں نُخَیلہ کے مقام پر بیٹھے۔ معاویہ نے کہا:
> اے ابو محمد! مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھجور کے درخت کی کھجوروں کی مقدار کا اندازہ بتایا کرتے تھے۔ کیا اس علم میں سے کچھ علم تمہارے پاس بھی ہے؟ تمہارے شیعوں کا خیال ہے کہ زمین و آسمان میں کوئی چیز ایسی نہیں جس کا علم تم سے پوشیدہ ہو۔
امام حسنؑ نے فرمایا:
> رسول اللہ ﷺ کھجوروں کی مقدار پیمانے کے ذریعے بتاتے تھے، جبکہ میں گنتی کے ذریعے یہ کام کرتا ہوں۔
معاویہ نے پوچھا:
> اس کھجور کے درخت پر کتنی کھجوریں ہیں؟
امام حسنؑ نے فرمایا:
> چار ہزار چار (۴۰۰۴) کھجوریں۔
سید ابن طاووس کہتے ہیں:
مجھے معلوم ہوا کہ اس مختصر حدیث میں کچھ الفاظ ساقط ہوگئے ہیں۔ پھر مجھے وہ الفاظ ابن عیاش جوہری کی روایت میں ملے، جو اس طرح ہیں:
معاویہ نے حکم دیا کہ درخت کی کھجوریں توڑ کر گنی جائیں۔ جب گنا گیا تو چار ہزار تین (۴۰۰۳) کھجوریں نکلیں۔
امام حسنؑ نے فرمایا:
> خدا کی قسم! نہ میں نے جھوٹ بولا ہے اور نہ مجھے غلط خبر دی گئی ہے۔
مزید تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ ایک کھجور عبداللہ بن عامر بن کریز کے ہاتھ میں تھی، جو جنگِ جمل میں عائشہ کے ساتھ تھا۔
اس وقت امام حسنؑ نے فرمایا:
> خدا کی قسم، اے معاویہ! جان لو، اگر تم کفر نہ کرتے تو میں تمہیں ان کاموں کے بارے میں بھی خبر دیتا جو تم کرنے والے ہو؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایسے زمانے میں تھے کہ آپ کی تکذیب نہیں کی جاتی تھی، جبکہ تم میری تکذیب کرتے ہو اور کہتے ہو: یہ کم سن ہے، پھر اپنے نانا سے حدیث کیسے سن سکتا ہے؟
پھر امام حسنؑ نے فرمایا:
> اے معاویہ! خدا کی قسم، تم دعویٰ کرو گے کہ زیاد بن ابیہ، ابوسفیان کا بیٹا ہے، تم حُجر بن عدی کو قتل کرو گے، اور مختلف شہروں سے لوگوں کے سر تمہارے پاس لائے جائیں گے۔
راوی بیان کرتا ہے کہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ معاویہ نے زیاد کو ابوسفیان کا بیٹا قرار دے دیا، حُجر بن عدی کو قتل کروایا اور عمرو بن حَمِق خزاعی کا سر بھی اس کے سامنے لایا گیا۔
📚 فرج المهموم في تاريخ علماء النجوم، ص ۲۲۵-۲۲۶
۔
۔
🔹 امامؑ کا تمام موجودات اور اشیاء کی تعداد، حتیٰ کہ چیونٹیوں اور ان کی جنس تک کا علم
✍️ شیخ طوسی کتاب مصباح الأنوار میں بیان کرتے ہیں:
امیرالمؤمنین علیؑ کی عجیب و غریب نشانیوں اور معجزات میں سے ایک روایت ابوذر غفاریؓ نے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں:
✨ ہم امیرالمؤمنین علیؑ کے ساتھ ایک وادی میں پہنچے، جو چیونٹیوں سے اس طرح بھری ہوئی تھی جیسے کوئی بہتا ہوا سیلاب ہو۔ یہ منظر دیکھ کر میں حیران ہوا اور کہا:
> ’’اللہ اکبر! کتنا بلند و برتر اور عظیم ہے وہ ذات جو ان سب کو شمار کرسکتی ہے۔‘‘
امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا:
> ’’ایسا نہ کہو، بلکہ یوں کہو: کتنا بلند و برتر اور عظیم ہے وہ ذات جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے۔‘‘
پھر فرمایا:
> ’’قسم ہے اس ذات کی جس نے تمہیں نقش و نگار بخشے، میں صرف ان کی تعداد ہی نہیں جانتا بلکہ اللہ عزوجل کے اذن سے ان میں موجود نر اور مادہ کی تعداد بھی جانتا ہوں۔‘‘
📙 ترجمہ تأویل الآیات، جلد ۲، صفحہ ۶۳۹، سورۂ یٰسین کی آیت ۱۲ کے ذیل میں:
> وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ
’’اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح امام میں شمار کر رکھا ہے۔‘‘
📕 مدینة معاجز الأئمة، جلد ۲، صفحات ۱۳۲-۱۳۳
📗 ینابیع المودۃ لذوی القربیٰ، جلد ۱، صفحہ ۲۳۱
Gallery
Tap any image to view full screen