Back to حضرت محمد بن عبد اللہ ص

أمير المؤمنين نے رسول الله ص کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا

أمير المؤمنين نے رسول الله ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا..

 

بِاَبِیْۤ اَنْتَ وَ اُمِّیْ یَا رَسُوْلَ اللهِ! لَقَدِ انْقَطَعَ بِمَوْتِكَ مَا لَمْ یَنْقَطِعْ بِمَوْتِ غَیْرِكَ مِنَ النُّبُوَّةِ وَ الْاَنْۢبَآءِ و اَخْبَارِ السَّمَآءِ، خَصَّصْتَ حَتّٰی صِرْتَ مُسَلِّیًا عَمَّنْ سِوَاكَ، وَ عَمَّمْتَ حَتّٰی صَارَ النَّاسُ فِیْكَ سَوَآءً، وَ لَوْلَاۤ اَنَّكَ اَمَرْتَ بِالصَّبْرِ، وَ نَهَیْتَ عَنِ الْجَزَعِ، لَاَنْفَدْنَا عَلَیْكَ مَآءَ الشُّؤُوْنِ، وَ لَكَانَ الدَّآءُ مُمَاطِلًا، وَ الْكَمَدُ مُحَالِفًا، وَ قَلَّا لَكَ! وَ لٰكِنَّهٗ مَا لَا یُمْلَكُ رَدُّهٗ، وَ لَا یُسْتَطَاعُ دَفْعُهٗ، بِاَبِیْۤ اَنْتَ وَ اُمِّیْ! اذْكُرْنَا عِنْدَ رَبِّكَ، وَ اجْعَلْنَا مِنْۢ بَالِكَ!.

 

یا رسول اللهﷺ ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں! آپؐ کے رحلت فرما جانے سے نبوت، خدائی احکام اور آسمانی خبروں کا سلسلہ قطع ہو گیا جو کسی اور (نبی) کے انتقال سے قطع نہیں ہوا تھا۔ آپؐ نے (اس مصیبت میں اپنے اہل بیت علیہم السلام کو) مخصوص کیا، یہاں تک کہ آپؐ نے دوسروں کے غموں سے تسلی دے دی اور (اس غم کو) عام بھی کر دیا کہ سب لوگ آپؐ کے (سوگ میں ) برابر کے شریک ہیں۔ اگر آپؐ نے صبر کا حکم اور نالہ و فریاد سے روکا نہ ہوتا تو ہم آپؐ کے غم میں آنسوؤں کا ذخیرہ ختم کر دیتے اور یہ درد منّت پذیر درماں نہ ہوتا اور یہ غم و حزن ساتھ نہ چھوڑتا، (پھر بھی یہ) گریہ و بکا اور اندوہ و حزن آپؐ کی مصیبت کے مقابلہ میں کم ہوتا۔ لیکن موت ایسی چیز ہے کہ جس کا پلٹانا اختیار میں نہیں ہے اور نہ اس کا دور کرنا بس میں ہے۔ میرے ماں باپ آپؐ پر نثار ہوں! ہمیں بھی اپنے پروردگار کے پاس یاد کیجئے گا اور ہمارا خیال رکھیے گا۔

 

وَ لَقَدْ وَاسَیْتُهٗ بِنَفْسِیْ فِی الْمَوَاطِنِ الَّتِیْ تَنْكُصُ فِیْهَا الْاَبْطَالُ وَ تَتَاَخَّرُ فِیْهَا الْاَقْدَامُ، نَجْدَةً اَكْرَمَنِی اللهُ بِهَا.

 

جب رسول الله ﷺ نے رحلت فرمائی تو ان کا سر (اقدس) میرے سینے پر تھا اور جب میرے ہاتھوں میں ان کی روحِ طیب نے مفارقت کی تو میں نے (تبرکاً) اپنے ہاتھ منہ پر پھیر لئے..

 

وَ لَقَدْ وَلِیْتُ غُسْلَهٗ -ﷺ وَ الْمَلٰٓئِكُةُ اَعْوَانِیْ، فَضَجَّتِ الدَّارُ وَ الْاَفْنِیَةُ: مَلَاٌ یَّهْبِطُ، وَ مَلَاٌ یَّعْرُجُ، وَ مَا فَارَقَتْ سَمْعِیْ هَیْنَمَةٌ مِّنْهُمْ، یُصَلُّوْنَ عَلَیْهِ حَتّٰی وَارَیْنَاهُ فِیْ ضَرِیْحِهٖ. فَمَنْ ذاۤ اَحَقُّ بِهٖ مِنِّیْ حَیًّا وَّ مَیِّتًا؟ فَانْفُذُوْا عَلٰی بَصَآئِرِكُمْ، وَلْتَصْدُقْ نِیَّاتُكُمْ فِیْ جِهَادِ عَدُوِّكُمْ.

 

میں نے آپؐ کے غسل کا فریضہ انجام دیا، اس عالم میں کہ ملائکہ میرا ہاتھ بٹا رہے تھے۔ (آپؐ کی رحلت سے) گھر اور اس کے اطراف و جوانب نالہ و فریاد سے گونج رہے تھے، (فرشتوں کا تانتا بندھا ہوا تھا) ایک گروہ اُترتا تھا اور ایک گروہ چڑھتا تھا، وہ حضرتؐ پر نماز پڑھتے تھے اور ان کی دھیمی آوازیں برابر میرے کانوں میں آ رہی تھیں، یہاں تک کہ ہم نے انہیں قبر میں چھپا دیا تو اب ان کی زندگی میں اور موت کے بعد مجھ سے زائد کون ان کا حقدار ہو سکتا ہے؟ (جب میرا حق تمہیں معلوم ہو چکا) تو تم بصیرت کے جلو میں دشمن سے جہاد کرنے کیلئے صدق نیت سے بڑھو۔

 

📚 نهج البلاغة خطبة 195

 

۔

 

(1) الشيخ الصدوق ؓ فرماتے ہیں..

 

واعتقادنا في النبي صلى الله عليه وآله وسلم أنه سم في غزوة خيبر ، فما زالت هذه الأكلة تعاده حتى قطعت أبهره فمات منها..

 

ہمارا عقیدہ ہے کہ نبی کریمﷺ کو غزوہ خیبر میں زہر دیا گیا تھا اور وہ زہر برابر اثر کرتا رہا یہاں تک کے اس زہر کے اثر سے حضرت ﷺ کے قلب اطہر کی رگیں کٹ گئیں جس سے آپ نے شہادت پائی.... 

الاعتقادات في دين الإمامية - الشيخ الصدوق - الصفحة ٩٧

 

(2) الشيخ الطوسي ؓ فرماتے ہیں...

 

محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف سيد المرسلين وخاتم النبيين (صلى الله عليه وآله) الطاهرين

 

، وقبض بالمدينة مسموما يوم الاثنين لليلتين بقيتا من صفر سنة عشرة من الهجرة..

 

محمد ﷺ بن عبد الله ؑ 28 صفر پیر کے دن مدینہ میں مسموم (زہر آلود) ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئے...

 

تهذيب الأحكام - الشيخ الطوسي - ج ٦ - الصفحة ٢

 

(3) العلامة الحلي ؓ ...

 

وقبض بالمدينة مسموما يوم الاثنين لليلتين بقيتا من صفر سنة عشرة من الهجرة،

 

تحرير الأحكام - العلامة الحلي - ج ٢ - الصفحة ١١٨

 

(4) الشيخ المفيد ؓ....

 

 وقبض بالمدينة مسموما يوم الاثنين لليلتين بقيتا من صفر، سنة عشر من هجرته..

 

المقنعة - الشيخ المفيد - الصفحة ٤٥٦

 

(5) العلامة المجلسي ؓ ..

 

يحتمل أن يكون كلا السمين دخيلين في شهادته (صلى الله عليه وآله).

 

احتمال ہے کہ دو مواقع پر زہر کا دینا جانا پیغمبر اسلامﷺ کی شہادت میں موثر ثابت ہوا 

 

بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج ٢٢ - الصفحة ٥١٦