صحیح بخاری میں کتاب الدیات (دیتوں کے بیان) میں باب باندھا گیا کہ
👈21. باب إذا أصاب قوم من رجل هل يعاقب أو يقتص منهم كلهم
یعنی : اگر کئی آدمی ایک شخص کو قتل کر دیں تو کیا قصاص میں سب کو قتل کیا جائے گا یا قصاص لیا جائے گا؟
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=1&hadith_number=6897
اور حیران کُن بات یہ ہے کہ اس باب میں یہ روایت نقل کی گئی 👇
📜 عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں آپ کے منہ میں زبردستی دوا ڈالی۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کرتے رہے کہ دوا نہ ڈالی جائے لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے (اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں) پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا۔ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ دوا نہ ڈالو۔ بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے دوا سے ناگواری کی وجہ سے ایسا کیا ہو گا؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا سوائے عباس کے کیونکہ وہ اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے۔
[صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6897]
آخر یہ کس بات کا اشارہ ہے ؟
Gallery
Tap any image to view full screen