Back to حضرت محمد بن عبد اللہ ص

دفن رسول ص میں شیخین کی عدم موجودگی (شیعہ کتب)

دفن رسول ص میں شیخین کی عدم موجودگی (شیعہ کتب)

🔘 محدث قمی طاب ثراہ کی روایت سے امیرالمومنین علیہ السلام کے گھر پر ہجوم کی تاریخ

 

دفنِ رسول اللہ ﷺ میں زیادہ لوگوں کی عدم موجودگی

 

اہل سنت کے معروف عالم ابن عبدالبر اپنی کتاب الاستیعاب میں لکھتے ہیں:

 

📜 "جس دن رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا، اسی دن سقیفہ بنی ساعدہ میں ابوبکر سے بیعت کی گئی، لیکن عام بیعت اگلے دن، یعنی منگل کے روز ہوئی۔ سعد بن عبادہ (خزرج قبیلے کے سردار) اور کچھ انصار و قریش نے ابوبکر کی بیعت سے انکار کر دیا۔"

 

شیعہ کے جلیل القدر عالم شیخ مفید (متوفی 413 ہجری) اپنی کتاب الارشاد میں لکھتے ہیں:

 

📜 "مهاجرین اور انصار کی ایک بڑی تعداد خلافت کے مسئلے میں شدید اختلاف کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے دفن میں شریک نہ ہو سکی، اور اسی وجہ سے بہت سے لوگ آپ ﷺ کے جنازے کی نماز پڑھنے سے بھی محروم رہ گئے۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا صبح کے وقت پکارتی تھیں:

 

'وا اسوأ صباحا!' یعنی "ہائے! آج کتنا برا دن ہے کہ میں نے اپنے بابا کو کھو دیا۔"

ابوبکر نے جواب دیا: "ہاں، تمہارا دن برا ہے۔"

 

جلیل القدر عالم سید ابن طاووس (متوفی 664 ہجری) اپنی کتاب کشف المحجہ میں اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 

"اہل سنت کی کتابوں میں سب سے عجیب بات جو میں نے دیکھی، وہ یہ ہے جو طبری نے اپنی تاریخ میں لکھی ہے:

 

📜 رسول اللہ ﷺ کا وصال پیر کے دن ہوا لیکن انہیں بدھ کے دن (یا رات) دفن کیا گیا؛ یعنی دو یا تین دن تک جنازہ دفن نہ کیا گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کا جنازہ تین دن تک باقی رہا اور پھر دفن کیا گیا۔

 

ابراہیم ثقفی نے اپنی کتاب المعرفہ میں بھی لکھا ہے کہ جنازہ واقعی تین دن تک دفن نہیں کیا گیا، کیونکہ لوگ ابوبکر کو خلیفہ بنانے اور اس معاملے میں مشغول تھے۔ اور علی علیہ السلام آپ ﷺ کے جنازے سے الگ نہیں ہو سکتے تھے، نہ ہی جنازہ اس وقت دفن کر سکتے تھے جب تک لوگ نماز نہ پڑھ لیں۔ انہیں یہ بھی خدشہ تھا کہ اگر وہ دفن کر دیتے تو شاید انہیں قتل کر دیا جاتا، یا قبر کو کھود کر جنازے کو نکال لیتے اور الزام لگاتے کہ علی علیہ السلام نے جلد بازی کی یا غلط جگہ دفن کیا۔

 

خدا کی رحمت سے دور ہوں وہ لوگ جنہوں نے نبی ﷺ کو حالتِ بسترِ مرگ میں چھوڑ کر خلافت کے معاملے میں خود کو مصروف کر لیا، جبکہ خلافت کی اصل بنیاد تو نبوت اور رسالت ہی تھی۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ خلافت کو اہل بیت علیہم السلام سے باہر نکال دیں۔

 

اے میرے بیٹے! خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ کیسے ان کے ضمیر، غیرت اور عقل نے انہیں اجازت دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہ سلوک کریں، باوجود اس کے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان پر بے شمار احسانات کیے تھے۔ اور کیا ہی خوب فرمایا حضرت زید بن علی (بیٹے امام سجاد علیہ السلام) نے کہ:

"خدا کی قسم! اگر ان لوگوں کے لیے ممکن ہوتا کہ بغیر رسالت کے نام کا سہارا لیے حکومت حاصل کر لیتے، تو وہ نبوت سے منہ موڑ لیتے اور اس کا انکار کر دیتے۔"

 

📚 بیت الاحزان، شیخ عباس قمی، صفحہ 76

 

#بدر_علی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1