رسول ص کے جنازے و دفن پر شیخین موجود نہیں تھے انہوں نے سیاست کو مقدم رکھا گیا
📌 رسول خدا ﷺ کی تدفین میں ابوبکر و عمر کی غیر موجودگی اور سقیفہ میں بیعت کے لیے شرکت (سند صحیح کے ساتھ)
📗 حدیث نمبر 38201:
ابن نمیر نے روایت کی، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، اور انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے نقل کیا:
"ابوبکر اور عمر، رسول اللہ ﷺ کی تدفین میں موجود نہیں تھے؛ وہ انصار کے پاس (سقیفہ میں) تھے، اور جب بیعت لے چکے تو واپس آئے، اس وقت رسول اللہ ﷺ دفن ہو چکے تھے۔"
📘 یعنی: ابوبکر و عمر نے دفن رسول اللہ ﷺ کو نہ دیکھا، وہ انصار کے درمیان بیعت کے معاملے میں مشغول تھے، اور جب واپس لوٹے تو رسول اللہ ﷺ دفن ہو چکے تھے۔
📚 حوالہ: المصنف
1. عبد الله بن نمير الهمدانى الخارفى
📗 امام ذہبی کے نزدیک: حجة (قوی حجت)
2. هشام بن عروة بن الزبير بن العوام القرشى الأسدى
📗 امام ذہبی: أحد الأعلام
ابو حاتم: ثقة امام فی الحدیث
3. عروة بن الزبير بن العوام القرشى الأسدى
📗 ابن سعد: فقيہ، عالم، کثیر الحدیث، ثبت، مأمون
✔️ نتیجہ: سند صحیح ہے، اور یہ واضح ثبوت ہے کہ ابوبکر و عمر رسول اللہ ﷺ کی تدفین میں شریک نہ تھے بلکہ سقیفہ میں خلافت کے حصول کے لیے موجود تھے۔
اسکین آخر میں دیکھین
جنازہ رسول اللہ ص میں شیخین کی عدم شمولیت
(اہلسنت کی معتبر کتب کی روشنی میں)
آج 28 صفر المظفر شہادتِ رسول اللہ ﷺ ہے تو ہر شیعہ و سنی کے درمیان یہ بحث ہوتی ہے کہ جنازۂ رسول اللہ ﷺ پر شیخین شریک تھے یا نہیں؟
جب ہم تاریخی حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ شیخین خلافت کے حصول کی خاطر جنازۂ رسول اللہ ﷺ کو اہل بیتؑ کے درمیان چھوڑ کر سقیفہ بنی ساعدہ کا رخ کر چکے تھے اور ان کے واپس لوٹنے سے پہلے ہی رسالت مآب ﷺ کو سپردِ خاک کر دیا گیا تھا
اب میں کچھ لوگوں کے اطمینانِ قلب کے لیے اہل سنت کی معتبر کتب سے چند روایات پیش کروں گا جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ جنازۂ رسول اللہ ﷺ پر شیخین موجود نہیں تھے
مولا علی بن ابی طالبؑ کی گواہی
مولا امیرالمومنین علی بن ابی طالبؑ نے مہاجرین اور انصار سے مخاطب ہو کر فرمایا: أفكنت أدع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في بيته لم أدفنه، وأخرج أنازع الناس سلطانه؟
ترجمہ: علی بن ابی طالبؑ نے فرمایا: اے گروہِ مہاجرین و انصار! کیا میں بھی ان لوگوں کی طرح نبی کریم ﷺ کے جسدِ مبارک کو ان کے گھر میں بغیر تدفین کے چھوڑ کر حصولِ خلافت کے لیے باہر نکل آتا اور جھگڑنا شروع کر دیتا؟
حوالہ: اہل سنت کی معتبر کتاب الإمامة والسياسة المعروف تاریخ الخلفاء، جلد 1، صفحہ 30
جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی گواہی
رسالت مآب ﷺ کی رحلت کے بعد جب شیخین مولا علیؑ سے بیعت لینے کے لیے جناب فاطمہ زہراءؑ کے دروازے پر پہنچے تو جناب سیدہؑ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: فوقفت فاطمة على بابها فقالت: لا عهد لي بقوم حضروا أسوأ محضر منكم، تركتم رسول الله صلى الله عليه وآله جنازة بين أيدينا، وقطعتم أمركم بينكم، لم تستأمرونا، ولم تردّوا لنا حقًّا
ترجمہ: صدیقۂ کبریٰ جناب فاطمہ زہراءؑ دروازے پر کھڑے ہو کر ان سے مخاطب ہوئیں اور فرمایا: ہمارا تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، تم نے ہمارے ساتھ بہت برا سلوک کیا۔ تم لوگوں نے رسولِ خدا ﷺ کے جنازے کو ہمارے درمیان چھوڑ دیا اور خلافت کا معاملہ اپنے طور پر طے کر لیا، نہ ہم سے مشورہ کیا اور نہ ہی ہمارا حق دیا
حوالہ: الإمامة والسياسة المعروف تاریخ الخلفاء، جلد 1، صفحہ 30
محدث شاہ ولی اللہ دہلوی کا اعتراف
مسئلہ: نصبِ خلیفہ مسلمانوں پر قیامت تک کے لیے فرضِ کفائی ہے۔ اس کے لیے چند دلیلیں ہیں:
پہلی دلیل: یہ کہ صحابہ کرام آنحضرت ﷺ کی تجہیز و تکفین سے پہلے خلیفہ کے تعین اور تقرر کی طرف متوجہ ہوئے۔ پس معلوم ہوا کہ اگر صحابہ کرام کو شریعت کی طرف سے خلیفہ مقرر کرنے کی فرضیت اور اس کے مقرر کرنے میں تاخیر کی ممانعت معلوم نہ ہوتی تو وہ حضرات ہرگز خلیفہ کے تقرر کو آنحضرت ﷺ کے دفن پر مقدم نہ کرتے
حوالہ: اہل سنت کی معتبر کتاب إزالة الخفاء عن خلافة الخلفاء، صفحہ 30
سلطان المتکلمین تفتازانی کا اعتراف
علامہ تفتازانی مسئلہ امامت و خلافت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ولأن الأمة قد جعلوا أهمّ المهمات بعد وفاة النبي صلى الله عليه وآله نصب الإمام حتى قدموه على الدفن.
ترجمہ: صحابہ کرام نے بعد از رحلتِ رسالت مآب ﷺ امامت و خلافت کے انعقاد کو اس قدر اہم سمجھا کہ اسے تدفینِ رسولِ خدا ﷺ پر بھی مقدم کر دیا
حوالہ: شرح العقائد النسفیة، صفحہ 176
سلطان المتکلمین جرجانی کا اعتراف
علامہ جرجانی مسئلہ امامت و خلافت پر لکھتے ہیں:
وبكروا إلى سقيفة بني ساعدة تركوا له أهم الأشياء وبودفن رسول الله صلى الله عليه وآله
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد شیخین اپنی بیعت کا راستہ ہموار کرنے کی خاطر جلدی سے سقیفہ بنی ساعدہ کی طرف چلے گئے، یہاں تک کہ تجہیز و تکفینِ رسول اللہ ﷺ کو بھی ترک کر دیا
حوالہ: شرح المواقف، جلد 4، صفحہ 346
علامہ وحید الزمان کا اعتراف
ابو بکر اور عمر کا خلافت کے معاملے میں جلدی کرنا اس وجہ سے تھا کہ وہ نہایت ضروری ہو گیا تھا، اور دیر کرنے میں ڈر تھا کہ کہیں کوئی اور فتنہ نہ اٹھ کھڑا ہو۔ اسی واسطے رسول اللہ ﷺ کے دفن پر بھی اسے مقدم کیا
حوالہ: صحیح مسلم شریف مع مختصر شرح نووی، مترجم علامہ وحید الزمان، جلد 5، صفحہ 34
جس رسول ﷺ نے ان کو پورا دین سکھایا، اچھے اور برے کی تعلیم دی، انہی کا یہ لوگ اپنی طرف سے جانشین مقرر کرنے میں لگ گئے لیکن سلطان الانبیاء ﷺ کے جنازے کو چھوڑ گئے۔ افسوس!
یہ تمام روایات اور اہل سنت علماء کے اقوال اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ شیخین جنازۂ رسول اللہ ﷺ میں شریک نہیں تھے
1 ربیع الاوّل
دفن بدن مطهّر پیامبر اکرم ﷺ
نیمہ شب اوّل ربیع، بدنِ پاک خاتم الانبیاء و المرسلین ﷺ کو امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ نے دفن فرمایا۔(1)
پیامبر اکرم ﷺ کی شہادت کا سانحہ ایک طرف اور لوگوں کی طرف سے آپؐ کی بے توجہی — یعنی آپؐ کے غسل، کفن اور دفن میں عدم دلچسپی — دوسری طرف، یہ سب امیرالمؤمنینؑ کے دل پر گہرے زخم بن گئے تھے۔(2)
حضرت علیؑ نے تلخ یادوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
> “کیا میں رسول اللہ ﷺ کے پاک بدن کو یوں ہی چھوڑ دیتا اور انہیں دفن کیے بغیر خلافت اور اقتدار کے لیے جھگڑتا؟”(3)
شیخ مفید لکھتے ہیں:
> “اکثر لوگ رسول اللہ ﷺ کے دفن میں شریک نہ ہوئے اور نہ ہی آپؐ پر نماز پڑھی، کیونکہ انصار اور مہاجرین کے درمیان خلافت کے مسئلے پر جھگڑا جاری تھا۔”(4)
اعمش کہتے ہیں:
> “رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوگیا، لیکن لوگوں کو کسی بات کی پرواہ نہ تھی سوائے اس کے کہ کچھ کہتے ‘حاکم ہمارا ہو’ اور کچھ کہتے ‘حاکم ہمارا ہو’.”(5)
پیامبر اکرم ﷺ کی وفات کے وقت مغیرہ نے ابوبکر اور عمر سے کہا:
> “اگر بعد میں لوگوں کے ساتھ کچھ معاملہ کرنا ہے تو ابھی انہیں سنبھال لو۔”(6)
اسی لیے ابوبکر اور عمر رسول اللہ ﷺ کے دفن کے وقت موجود نہ تھے؛ بلکہ وہ سقیفہ میں اپنے لیے امیر منتخب کرنے میں مصروف تھے، اور بدنِ مطہّر کو دفن کردیا گیا اس سے پہلے کہ وہ وہاں حاضر ہوتے۔(7)
عبداللہ بن حسن کہتے ہیں:
> “خدا کی قسم! نہ ابوبکر اور نہ ہی عمر نے رسول اللہ ﷺ پر نماز پڑھی، اور تین دن تک آپؐ کا بدن مبارک دفن نہ ہوا، لیکن اس دوران اہلِ سقیفہ اپنے معاملات میں لگے رہے۔”(8)
امام باقرؑ فرماتے ہیں:
> “لوگ دوشنبہ (پیر) اور منگل کی شب تک آپؐ کے بدن مبارک پر نماز پڑھتے رہے، اور عام لوگ بلکہ آپؐ کے خاص اصحاب اور قریبی رشتہ دار بھی نماز میں شریک ہوئے، لیکن اہلِ سقیفہ غسل، کفن اور دفن میں شریک نہ ہوئے۔ امیرالمؤمنینؑ نے بریدہ اسلمی کو ان کے پاس خبر دینے کے لیے بھیجا، مگر انہوں نے توجہ نہ دی، اور جب دفن مکمل ہوگیا تو ان کی بیعت بھی مکمل ہوچکی تھی۔”(9)
عائشہ کا اعتراف بھی قابلِ توجہ ہے۔(10)
وہ کہتی ہے:
> “خدا کی قسم! ہم رسول اللہ ﷺ کے دفن کی خبر سے بے خبر تھے، یہاں تک کہ بدھ کی شب حجرۂ رسول سے بیلچوں اور کلہاڑیوں کی آواز سنی، تب جا کر ہمیں دفن ہونے کا علم ہوا۔”
ان لوگوں سے پوچھا جانا چاہیے جو خلافت کے مسئلے میں ہر چیز بھول گئے تھے:
کیا سقیفہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی اور سفارش سے تھا یا غدیر کی سفارش سے؟
کیا سقیفہ کے لیے کوئی خدائی حکم آیا تھا یا غدیر کے لیے؟
کیا سقیفہ میں تمام شہروں کے نمائندے موجود تھے یا غدیر میں؟
کیا سقیفہ میں سب لوگ شریک ہوئے تھے یا غدیر میں، جہاں عورتوں تک نے بیعت کی تھی؟
مآخذ:
1. تقریب المعارف: ص 251
2. خصال: ص 372
3. احتجاج: ج1، ص96
4. ارشاد مفید: ج1، ص189
5. تقریب المعارف: ص 256
6. الهجوم علی بیت فاطمة: ص69؛ البدء و التاریخ: ج5، ص65
7. همان: ص69
8. تقریب المعارف: ص251
9. مناقب آل ابی طالبؑ: ج1، ص297
10. الهجوم علی بیت فاطمة: ص72
🔴 ابوبکر کا رسول ﷺ کی تدفین میں تاخیر اور لاپرواہی
اس روایت کے مطابق، ابوبکر حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کے وفات کے دن سے بھی واقف نہیں تھے!
🟦 ابوبکر نے عائشہ سے پوچھا:
"بیٹی، رسول اللہ ﷺ کس دن وفات پا گئے؟"
عائشہ نے جواب دیا: "پیر کے دن"
ابوبکر نے پھر پوچھا:
"آپ نے ان ﷺ کو کتنے کفن میں دفن کیا؟"
عائشہ نے کہا:
"اے ابا، ہم نے انہیں تین سفید کپڑوں میں کفن دیا..."
حوالہ:
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لَهَا: يا بُنَيَّةُ، أَيُّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِﷺ؟ قُلْتُ: " يَوْمَ الِاثْنَيْنِ "، قَالَ: فِي كَمْ كَفَّنْتُمْ رَسُولَ اللهِ ﷺ؟ قُلْتُ: " يَا أَبَتِ، كَفَّنَّاهُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيض... "
📚 مسند احمد، جلد 41، صفحہ 363
🛑 جیسا کہ آپ نے پڑھا، ابوبکر علیہ ما یستحق حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کے وفات کے دن سے بھی بے خبر تھے۔
✘ کیا ایک مومن اپنے عزیز کی موت سے بے خبر رہ سکتا ہے؟
✘ یہ لاپرواہی اور غفلت رسول اللہ ﷺ کی تدفین اور جنازہ میں کیا معنی رکھتی ہے؟
✘ ایسے شخص سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ گھرِ وحی میں صحیح طریقے سے عمل کرے؟
Gallery
Tap any image to view full screen