📜 عن أميرالمؤمنين علي (عليه السلام) قال : 

 

لمّا ولد صلى الله عليه واله وسلم انكبّت الاصنام من على الكعبة على وجوهها ، و لمّا حلّ الليل سُمع هذا النداء من السماء : 

 

جاء الحقُّ وزهق الباطلُ إنّ الباطلَ كان زهوقاً . 

 

وأشرقت الدنيا كلّها في هذه الليلة و ضحك الحجر والمدر و سبّح لله ما في السماوات و الأرضين و بكى إبليس و قال:

خير الأمة و أفضل الخلائق و أكرم العباد و أعظم العالمين محمّد (صلى الله عليه وآله وسلم) .

 

📃 امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: 

 

"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تو خانہ کعبہ پر نصب تمام بت اپنے چہروں کے بل گر گئے، اور جب رات ہوئی تو آسمان سے یہ آواز سنی گئی: 

 

'حق آیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا ہی تھا۔'

 

اس رات پوری دنیا میں روشنی پھیل گئی، پتھر اور مٹی نے خوشی سے اللہ کی تسبیح کی، آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز نے اللہ کی حمد کی۔ 

 

ابلیس رونے لگا اور کہا: 'اس امت کے بہترین، تمام مخلوقات میں سب سے افضل، سب سے معزز بندے اور پوری دنیا کے سب سے عظیم انسان، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا ہو گئے ہیں۔'"

 

📚 منتهى الآمال

 

📜 روى علي بن إبراهيم بن هاشم، عن أبيه، عن رجاله قال: «كان بمكّة يهودي يقال له يوسف، فلمّا رأى النجوم تُقذف وتتحرّك ليلة ولد النبي (صلى الله عليه وآله) قال: هذا نبي قد ولد في هذه الليلة؛ لأنّا نجد في كتبنا إنّه إذا ولد آخر الأنبياء رُجمت الشياطين وحُجبوا عن السماء .

فلمّا أصبح جاء إلى نادي قريش فقال: هل وُلد فيكم الليلة مولود؟ قالوا: قد ولد لعبد الله بن عبد المطّلب ابن في هذه الليلة، قال: فاعرضوه عليَّ. فمشوا إلى باب آمنة، فقالوا لها: أخرجي ابنك، فأخرجته في قماطه، فنظر في عينه وكشف عن كتفيه، فرأى شامة سوداء وعليها شعيرات، فلمّا نظر إليه اليهودي وقع إلى الأرض مغشياً عليه، فتعجّبت منه قريش وضحكوا منه.

فقال: أتضحكون يا معشر قريش؟ هذا نبي السيف، ليبرينكم، وذهبت النبوّة عن بني إسرائيل إلى آخر الأبد. وتفرّق الناس يتحدّثون بخبر اليهودي .

 

📃 علی بن ابراہیم بن ہاشم نے اپنے والد اور ان کے اصحاب سے روایت کی ہے کہ مکہ میں ایک یہودی تھا جس کا نام یوسف تھا۔ جب اس نے اُس رات آسمان کے ستاروں کو گرنا اور حرکت کرنا دیکھا، جس رات نبی کریم (صلى الله عليه وآله) کی ولادت ہوئی، تو وہ بولا: "آج رات ایک نبی کی ولادت ہوئی ہے، کیونکہ ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ جب آخری نبی کی ولادت ہوگی تو شیاطین کو آسمان سے رجم کیا جائے گا اور انہیں وہاں سے دور رکھا جائے گا۔"

 

صبح ہوتے ہی وہ قریش کے مجمع میں آیا اور پوچھا: "کیا آج رات کسی کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے؟" انہوں نے جواب دیا: "عبداللہ بن عبدالمطلب کے ہاں آج رات ایک بیٹا پیدا ہوا ہے۔" اس نے کہا: "مجھے وہ بچہ دکھاؤ۔" وہ لوگ آمنہ کے گھر گئے اور ان سے بچے کو باہر لانے کا کہا۔ آمنہ نے بچے کو کپڑوں میں لپیٹ کر باہر نکالا۔

 

یہودی نے نبی کریم کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر ان کے کندھوں سے کپڑا ہٹایا، جہاں اس نے ایک سیاہ تل دیکھا جس پر کچھ بال تھے۔ جیسے ہی اس نے نبی کو دیکھا، وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔ قریش کے لوگ اس پر ہنسنے لگے اور حیران ہوئے۔

 

یہودی نے کہا: "کیا تم قریش کے لوگ مجھ پر ہنس رہے ہو؟ یہ نبی تلوار کے ساتھ آئے گا اور تم پر غلبہ پائے گا۔ بنی اسرائیل سے ہمیشہ کے لیے نبوت ختم ہو چکی ہے۔"

 

اس کے بعد لوگ یہودی کی بات کو لے کر آپس میں گفتگو کرنے لگے۔

 

📚 اعیان الشیعہ، جلد 1، صفحہ 218.

 

تعلیماتِ اہلبیتؑ 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#بدر_علی