سیدہ آمنہ (سلام اللہ علیہا) نے فرمایا:

 

جب رسول اللہ ﷺ کی ولادت کا وقت قریب آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک سفید پرندے کا پر میرے دل پر پھیرا گیا جس سے میرا خوف جاتا رہا۔ پھر مجھے ایک سفید مشروب دیا گیا، میں پیاسی تھی، وہ پی لیا تو میرے اندر بلند نور ظاہر ہوا۔ اس کے بعد میں نے لمبی قامت والی عورتیں دیکھیں جو کھجور کے درخت کی طرح تھیں، وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھیں۔ میں نے ایسا کلام سنا جو انسانوں کے کلام جیسا نہ تھا۔ پھر میں نے سفید دیباج دیکھا جس نے آسمان و زمین کے درمیان کو بھر دیا، اور ایک آواز آئی: "اسے سب سے عزت والے سے لیجیے۔"

 

میں نے ایسے مرد دیکھے جو فضا میں کھڑے تھے، ان کے ہاتھوں میں آبخورے تھے۔ میں نے مشرق و مغرب کو دیکھا۔ پھر ایک سبز دیباج کا جھنڈا یاقوت کی چھڑی پر نصب دیکھا جو آسمان و زمین کے درمیان کعبہ کے پیچھے لگا ہوا تھا۔

 

اسی وقت رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے، ان کی انگشتِ مبارک آسمان کی طرف اٹھی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ ایک سفید بادل آسمان سے نازل ہوا اور آپ ﷺ کو ڈھانپ لیا۔ پھر ایک آواز آئی: "محمد کو مشرق و مغرب اور سمندروں کا طواف کراؤ تاکہ سب ان کے نام، صفت اور صورت کو پہچان لیں۔"

 

جب بادل چھٹا تو میں نے دیکھا آپ سفید دودھ جیسے لباس میں ہیں اور آپ کے نیچے سبز ریشمی کپڑا ہے۔ آپ کے ہاتھ میں تازہ موتی کی تین کنجیاں تھیں۔ آواز آئی: "محمد نے نصرت، باد (ہوا) اور نبوت کی کنجیاں پکڑ لی ہیں۔"

 

پھر دوسرا بادل آیا اور آپ ﷺ کو پہلی بار سے زیادہ دیر تک ڈھانپے رکھا۔ پھر ندا آئی: "محمد کو مشرق و مغرب کا طواف کراؤ اور ان کو جن و انس، پرندوں اور درندوں کے ارواح کے سامنے پیش کرو۔ ان کو آدم کا صفا، نوح کی رقت، ابراہیم کی خلت، اسماعیل کی زبان، یوسف کا کمال، یعقوب کی بشارت، داؤد کی آواز، یحییٰ کا زہد اور عیسیٰ کا کرم عطا کرو۔"

 

پھر جب بادل ہٹا تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں سفید ریشمی کپڑا ہے جو سختی سے لپیٹا ہوا تھا۔ آواز آئی: "محمد نے ساری دنیا کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ کوئی چیز باقی نہ رہی جو ان کی گرفت میں نہ ہو۔"

 

پھر تین افراد آئے جن کے چہروں سے سورج کی طرح روشنی نکل رہی تھی۔ ایک کے ہاتھ میں چاندی کا آبخورہ اور مشک کا برتن تھا۔ دوسرے کے ہاتھ میں سبز زمرد کا طشت تھا جس کے چار کنارے تھے اور ہر کنارے پر سفید موتی۔ ایک نے کہا: "یہ دنیا ہے، اے حبیبِ خدا! اسے تھام لو۔" آپ ﷺ نے اس کے بیچ پر قبضہ کیا۔ ایک نے کہا: "یہ کعبہ ہے، اسے تھام لو۔"

 

تیسرے کے ہاتھ میں سفید ریشمی کپڑا تھا جس میں سے ایک انگوٹھی نکالی گئی جس کو دیکھ کر آنکھیں حیران رہ جائیں۔ پھر اس آبخورے کے پانی سے آپ کو سات مرتبہ غسل دیا گیا، پھر وہ انگوٹھی آپ کے دونوں کندھوں پر مہر کی طرح لگائی گئی اور آپ کے دہنِ مبارک میں پھونکا گیا جس سے آپ بول اٹھے۔ میں نے بس اتنا سنا کہ کہا گیا:

"تم اللہ کی امان، حفاظت اور نگرانی میں ہو۔ تمہارے دل کو ایمان، علم، یقین، عقل اور شجاعت سے بھر دیا گیا ہے۔ تم بہترین انسان ہو۔ خوش بخت ہے جو تمہاری پیروی کرے اور برباد ہے جو تمہارا ساتھ چھوڑے۔"

 

پھر آپ کچھ دیر ان کے پروں کے درمیان رہے۔ یہ کام کرنے والا رضوان تھا۔ اس نے جاتے ہوئے بار بار کہا: "خوش ہو جاؤ دنیا اور آخرت کی عزت سے!"

 

میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے سر سے نور نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا اور شام کے محلات کو روشن کر گیا جیسے آگ کی شعاع۔ پھر میں نے بہت بڑی تعداد میں قطا پرندوں کو دیکھا جنہوں نے اپنے پروں کو پھیلایا ہوا تھا۔

 

📚 حوالہ جات:

 

مناقب آل ابی طالب (آشوب) ج 1 ص 28

 

روضة الواعظین ج 1 ص 68

 

الدر النظيم ص 53

 

مرآة العقول ج 26 ص 363 (شرح)

 

بحار الأنوار ج 15 ص 272