ولادت رسول اللّٰہ کی ایک روایت کہ مطابق یزید بن عبد اللہ بن زمعہ کی بہن کہتی ہیں: آمنہ بنت وہب کے بطن سے رسول اللّٰہ پیدا ہوئے تو آمنہ نے عبد المطلب کو خبر کرائی۔ خوش خبری لانے والا ایسے وقت میں ان کے پاس پہنچا کہ وہ حجر (وہ مقام جس پر حطیم شان ہے جو شمالی جانب سے کعبہ کو میط ہے) میں اپنے بیٹوں اور قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اطلاع دی کہ آمنہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔ عبدالمطلب خوش ہوئے اور ان کے ساتھ جتنے لوگ تھے سب اٹھے۔ آمنہ کے پاس آ ئے تو جو کچھ انہیں نظر آیا تھا ، جو ان سے کہا گیا تھا اور جس کا حکم ملا تھا عبد المطلب کو سب کچھ سنا دیا۔ عبدالمطلب آنحضرت کو لیے ہوئے کعبہ میں آئے ۔ وہاں کھڑے ہوکر خدا سے دعا کی اور خدا نے جو نعمت بخشی اس کا شکر کرتے رہے۔
محمد بن عمروالا سلمی کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ اس دن عبد المطلب نے یہ کہا تھا۔
الحمد اللہ الذی اعطانی ھذا الغلام الطیب الاردان
قد سادَ فی المھد علی الغِمان اُعیذہٗ بِاللہ ذی الارکاب
حق راہ بالغ البنیان اُعیذُہٗ من شر ذی شنئان
من حاسدٍ مضطرب الغنان
ترجمہ:
ہر طرح اور ہر قسم کی حمد و ثنا خدا کے لیے ہے جس نے مجھے یہ پاک دامن لڑکا عنایت فرمایا
یہ وہ لڑکا ہے کہ گہوارہ ہی میں تمام لڑکوں کا سردار ہو گیا ، اس کو اللہ تعالی کی پناہ میں دیتا ہوں اور اس کے لیے خدا سے پناہ مانگتا ہوں
میری خواہش ہے کہ اس کو تابہ بنیاد رسیدہ دیکھوں ، میں اس کی نسبت بغض رکھنے والے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں
میں اس حاسد سے پناہ مانگتا ہوں جو مضطرب العنان ہو یعنی ایک روش پر اسے قرار نہ رہے
📚 طبقات ابن سعد مصنف محمد بن سعد اردو ترجمہ علامہ عبد اللہ العمادی جلد اول صفحہ 122 اور 123
ایک اور روایت ہے کہ ولادت کے دوسرے روز احبار یہود نے عبدالمطلب سے پوچھا کہ گذشتہ رات تمہارے ہاں کوئی لڑکا پیدا ہوا ہے اس نے جواب دیا کہ ہماری ایک خاتون کو حمل ہے لیکن وضع حمل کا کوئی علم نہیں۔ انہوں نے کہا ہم نے توریت میں اس طرح دیکھا ہے کہ کل سیدالاولین والاخرين وادی مقدس جو زیارت گاہ عرب وعجم ہے کی ولادت ہوگی وہ علم رفیع اور سراج منیر گذشتہ رات منتقل ہو گیا ہے۔ عبدالمطلب نے کسی شخص کو آمنہ کے پاس بھیجا تاکہ صورت حالات معلوم کرے۔ آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا کل ختنہ کیا ہوا اور ناف بریدہ ایسا بچہ پیدا ہوا ہے گویا اسے غسل دیا ہوا ہے۔ وہ آلائش جو بچوں کے ساتھ ہوتی ہے سے بالکل پاک وصاف ہے۔ اس سے ایسا نور پیدا ہوتا ہے کہ دنیا اس سے منور ہوگی جیسا کہ اس سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا تھا مجھے کسی قسم کی تکلیف پہنچے بغیر متولد ہوا۔ اس نے انگشت اٹھائی اور آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ اس طرح آواز آئی کہ تین دن اسے لوگوں سے پوشیدہ رکھوں۔ جب یہ خبر عبدالمطلب کی مجلس میں پہنچی تو علما یہود نے کہا اللّٰہ اکبر توریت کی بات درست نکلی۔
عبد المطلب گھر گئے اور خبر دریافت کی پھر کمرہ میں بیٹھ گئے۔ لوگوں نے مبارک باد دی۔ آپ نے اونٹ ذبح کیا اور لوگوں کی دعوت کی۔ لوگوں نے پوچھا کہ اپنے بیٹے کا تم نے کیا نام رکھا ہے؟ آپ نے کہا محمد (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم)۔ انہوں نے پوچھا یہ نام تم نے کیوں اختیار کیا باوجودیکہ تمہارے آباو اجداد میں سے کوئی بھی اس نام سے موسوم نہیں ہوا تھا۔ آپ نے کہا کہ زمین وآسمان میں اس کی تعریف کی جائے۔ تین روز کے بعد آمنہ کے گھر گئے ، حضرت رسالت مآب کو گود میں لیا اورکعبہ میں کھڑے ہو کر اپنے ہاتھوں سلا دیا اور یہ رجز پڑھا۔
الحمد اللہ الذی اعطانی ھذا الغلام الطیب الاردان
قد سادَ فی المھد علی الغِمان اُعیذہٗ بِاللہ ذی الارکان
حق راہ بالغ البنیان انت الذی سمیت فی القرآن
اُعیذُہٗ من شر ذی شنئان من حاسدٍ مضطرب العنان
جب آپ اس رجز سے فارغ ہوئے تو آنحضرت کو آمنہ کے گھرواپس لے گئے اور اس کی حفاظت کے لیے تاکید کی اور کہا یہ عظیم الشان فرزند ہوگا۔
📚 معارج النبوۃ فی مدارج الفتوۃ جلد مصنف ملا معین واعظ الہروی مترجمین علامہ اقبال احمد فاروقی ، حکیم اصغر احمد فاروقی جلد دوم صفحہ 101 اور 102
🖋 ruby abdi
۔
حضرت آمنه عليہا السلام کے ہاں ولادت کے موقع کی ایک روایت ...
كتاب «مناقب ديلمى» میں ذکر ہوا ہے: عمرو بن عوف ليثى نقل کرتے ہیں: میں نے اپنے والد گرامی -جو صاحبان علم میں سے تھے – سے سنا کہ انہوں نے کہا:
جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مادر گرامی حضرت آمنہ کے ہاں آپ کی ولادت کا وقت آیا تو آسمان کے دروازے کھل گئے اور فرشتہ نازل ہوئے اور زمین پر کوئی ایسا فرشتہ نہیں تھا جو آپ کی ولادت کے وقت آپ کی خدمت میں حاضر نہ ہوا ہو۔ فرشتوں نے آپ کے وجود مبارک کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔
جب پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم حضرت آمنہ کی گود میں تشریف لائے تو پوری دنیا پر نور چھا گیا، فرشتوں نے آسمان میں ایک دوسرے کو مبارک باد دی اور تمام بت گر گئے اور وہ کہہ رہے تھے:افسوس ہے قريش پر! ان میں امین، راست گو اور ہادی تشریف لائے ہیں مگر کوئی بھی ان کی مراد کو نہ سمجھ سکا۔
اسی وقت خانۂ خدا سے آواز سنی گئی کہ (منادی) یہ کہہ رہا تھا:اے میرے نور اب میری طرف پلٹ آ، اب میرے زوار آئین گے اور اب تمام نجاستیں پاک ہو گئی ہیں۔
اس کے بعد وہاں پر لوگوں نے تین دن تک زلزلہ دیکھا اور یہ وہ پہلی نشانی تھی جو قریش نے پيغمبر اسلام صلى الله عليه وآله وسلم کی ولادت با سعادت کے موقع پر مشاہدہ کی۔
📚 منبع: فضائل اہلبیت علیہم السلام کے بحر بیکران سے ایک ناچیز قطرہ : 2/65 ح 718
Gallery
Tap any image to view full screen