بحیرا راہب کا واقعہ ابوطالب ؑ کے ہمراہ شام کا سفر :
ابوالحسن احمد بن محمد بن النقور البزار نے ابو طاہر محمد بن عبد الرحمن المخلص نے ۔۔۔۔۔یونس بن بکیر محمد بن اسحاق یہ روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دادا کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے چچا ابو طالب ؑ نے آپ کو اپنی کفالت میں لیا
اور آنحضرت ﷺ ہمہ وقت ابوطالب ؑ کے ساتھ رہنے لگے
ایک مرتبہ ابوطالب نے ایک تجارتی قافلہ کے ہمراہ شام کا قصد کیا
جب انھوں نے رخت سفر باندھ لیا اور چلنے لگے تو رسول اللہ ﷺ ابوطالب ؑ سے لپٹ گئے
آپ ﷺ نے اونٹنی کی مہارپکڑ لی اور فرمایا چچا جان ! آپ مجھے کس کے سہارے پر چھوڑ ے جارہے ہے میری تو نہ ماں ہے نہ باپ ہے
ابو طالب کا دل آنحضرت ﷺ کے لئے پگھل گیا اور فرمایا خدا کی قسم یہ ضرور میرے ساتھ جائے گا میں نہ اسے جدا کروں گا اور نہ اس سے جدا ہوں گا
ابوطالب ؑ آپ کو ساتھ لے کر چلے
قافلے شام کے علاقے بصری میں ڈیرہ ڈالا وہاں بحیرا راہب اپنے صومعےمیں رہتا تھا
وہ اس وقت عیسائیوں میں سب سے بڑا عالم تھا اس صومعے میں جو بھی راہب رہتا تھا
وہ اس کتاب کا عالم ہوتا جو ان کے پاس تھی یہ راہب اس کتاب کا علم یکے بعد دیگر ے اپنے اسلاف سے وارثتاً حاصل کرتے آرہے تھے اس سال قریشی قافلہ بحیرہ راہب کے پاس اترا وہ اس سے قبل بھی بارہا اس کے پاس گزرتے رہتے تھے لیکن راہب ان کبھی ہم کلام نہ ہوا تھا
اور نہ اپنے صومعے سے باہر آیا تھا
اس سال وہ صومعے کے قریب اترے
اس نے ان کے لئے کھانا پکوایا جب وہ اپنے صومعے میں تھا اس نے دیکھا کہ قافلے کے درمیان بادل کا ایک ٹکڑا سایہ فگن ہے
قافلہ اس کے قریب ایک درخت کے سایہ میں اترا
اس نے دیکھا کہ بادل کا سایہ درخت پر تھا اور درخت کے شاخیں رسول ﷺ پر جھکی ہوئی ہے بحیرا نے یہ منظر دیکھا تو وہ اپنے صومعے سے اترا اس نے کھانے کی تیاری کا حکم دے رکھا تھا
کھانا تیار ہواتو اس قافلے والوں کو پیغام بیجھا کہ گروہ قریش میں نے تمھارے لئے کھانا تیار کیا ہے میری خواہش ہے کہ آپ سب چھوٹے ،بڑے آزاد ،غلام میری دعوت میں شرکت کریں
بحیرا آپ کو غور سے دیکھنے لگا
آپ کے جسد مبارک کا جائزہ لیتا رہا
بحیرا نے کہا کہ میں آپ کو لات و عزی کی قسم دیتا ہوں جو پوچھو گا اس کا جواب دوں گے
آنحضرت نے فرمایا کہ میں لات و عزی سے بڑھ کر کسی چیز سے نفرت نہیں کرتا
مجھے ان کی قسم دے کر نہ پوچھو
اس نے کہا اللہ کی قسم دیتا ہوں آنحضرت نے فرمایا جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو
وہ پوچھتے رہے آنحضرت جواب دیتے رہے پھر اس نے آپ کی پشت مبارک پر مہر نبوت بھی دیکھ لی
پھر ابوطالب ؑ کے طرف متوجہ ہوا
کہ اس لڑکے سے آپ کا کیا رشتہ ہے
ابوطالب ؑ نے فرمایا کہ میرا بھتیجا ہے
بحیرا نے کہا اس کے باپ کو کیا ہوا ابوطالب نے کہا یہ ابھی بطن مادر میں تھا
اس باپ انتقال کر گیا
راہب نے کہا آپ نے سچ فرمایا
آپ اپنے بھتیجے کو اپنے وطن واپس لئے جائیں اور یہودیوں سے بچائیں
یہ بڑی عظمت والا ہے اگر یہودیوں نے دیکھ لیا اور علامتیں پہچان لیں تو اسے ضرر پہنچانے کی کوشش کریں گے
اس بارے میں یہ بھی روایتیں ہے کہ زبیر ،تمام ،دریا جو اہل لتاب میں سے تھے
انھوں نے بھی آپ کو چچا کے ہمراہ دیکھ لیا تھا
اور آپ کی شخصیت میں کچھ نشانات کا مشاہدہ کیا تھا
لیکن بحیرا نے ان کو اسے باز رکھا اور اللہ کی یاد دلائی اور یہ بھی بتایا کہ انتہائی کوششوں کے باوجود اس کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکیں گے
ابوطالب نے اس بارےمیں اشعار کہے ہے جن میں رسول اللہ کو اپنے ہمراہ لئے جانے ،یہودیوں کی چیرہ دستی اور بحیرا کے انتباہ کا ذکر ہے
السيرة النبوية سيرة ابن إسحاق
السيرة النبوية - ابن هشام الحميري - ج ١ - الصفحة ١١٦
كمال الدين وتمام النعمة - للشيخ الجليل الأقدم الصدوق - ج ١ - الصفحة ٢١٣
اس کے علاوہ یہ قصہ درج ذیل کتب میں کمی بیشی کے ساتھ مذکور ہے:
1۔ مصنف ابن ابی شیبہ 2۔ جامع ترمذی 3۔ مسند البزار 4۔ مستدرک الحاکم 5۔ اسد الغابہ 6۔ حلیۃ الاولیاء 5۔ دلائل النبوۃ 7۔زاد المعاد 8۔ مجوعۃ الفتاوٰی 9۔ البدایہ والنہایہ 10۔ تاریخ طبری 11۔ مواھب لدنیہ 12۔ الاصابہ فی تمیز الصحابہ 13
#طوسی