Back to حضرت محمد بن عبد اللہ ص

قرآن کی نظر میں انبیا اور حضرت محمد ص کا مقام

قرآن کی نظر میں انبیاء کرام (علیہم السلام)

 

اور مقامِ محمد (مصطفٰی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم) 

 

کلامِ الہی میں آدمِ علیہ السلام کے متعلق ارشاد باری ہے :

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

 

🌷و علم آدم الاسماء کلھا 

اور اللہ نے آدم ع کو تمام اسماء کا علم عطا کیا - 

 

جبکہ اپنے حبیب ص کا تعارف بطور " معلم کتاب و حکمت کرایا، 

 

و یعلمکم الکتٰب و الحکمۃ و

یعلمکم ما لم تکونو اتعلمون 

اور یہ (یہ رسول ص) تم کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمھیں ایسے علوم سکھاتا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے - 

(البقرۃ - 51)

 

🌷ابو البشر ع کے لیے فرمایا :

 

🌷اذ قلنا للملئکۃ ا سجدو ا لادم فسجدوا 

جب ہم نے فرشتوں سے کہا، 

آدم ع کو سجدہ کرو، 

پس انہوں نے سجدہ کیا

(البقرۃ - 34)

 

جبکہ وجہ تخلیقِ کائنات ص کے لیے ارشاد ہوا :

 

ان اللہ و ملئکۃ یصلون علی النبی، 

بے شک اللہ اور فرشتے نبی ص پر درود بھیجتے ہیں، 

(الاحزاب - 56)

 

🌷حضرت ادریس ع کے لیے فرمایا :

 

اِنہ کان صدیقا نبیا

بے شک وہ بہت راست گو نبی تھا، 

(مریم - 56)

 

جبکہ معلمِ کائنات کے لیے خداوندِ متعال نے ارشاد فرمایا، 

 

الذی جاء بالصدق 

وہ جو صدق کو لیکر آیا - 

 

🌷حضرت نوح ع کے متعلق فرمایا :

 

انا ارسلنا نوحاً الٰی قومہٖ 

بےشک ہم نے نوح ع کو اس کی قوم کی طرف بھیجا، 

(نوح - 1)

 

جبکہ مدینۃ العلم ص کے بارے ارشاد ہوا :

 

قل یا یھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا 

کہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں - 

 

🌷حضرت ابراہیم ع کے لیے فرمایا :

 

ان ابراھیم لا واہ حلیم 

بے شک ابراہیم بہت نرم دل اور بردبار تھے، 

 

جبکہ ختم المرسلین ص کو 

" صاحبِ خلقِ عظیم " کے درجے پر فائز کرتے ہوئے ارشاد ہوا :

 

انک لعلی خلق عظیم 

بے شک آپ ص اعلیٰ ترین اخلاق پر فائز ہیں

(القلم - 4)

 

🌷موسیٰ ع نے اپنے رب سے عطیہ نبوت کی خوش خبری پر عرض کیا :

 

ربِ اشرح لی صدری 

پالنے والے ! میرا سینہ کھول دے 

(طٰہٰ 25)

 

جبکہ امام الانبیا ص کے بارے فرمایا :

 

الم نشرح لک صدرک 

کیا ہم نے آپ ص کا سینہ کھول نہیں دیا؟ 

 

🌷موسیٰ ع بارگاہِ الہی میں عرض گزار ہیں :

 

و عجلت الیک رب لترضی 

اور تیری جانب آنے میں 

اے پالنے والے ! میں نے اس لیے جلدی کی کہ تو راضی ہو جائے، 

(طٰہٰ - 84)

 

جبکہ نبی کریم ص کو خود خلاقِ لم یزل و لم یزال نے اپنی " رضا " جان کر فرمایا :

 

ولسوف یعطیک ربک فترضی

تیرا رب تجھے اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ تو راضی ہو جائے گا، 

(الضحٰی - 5)

 

🌷حضرت داود ع کی شان میں فرمایا :

 

ولقد اتینا داود منا فضلا 

اور ہم نے اپنی طرف سے داود کو فضل عطا کیا 

(سبا - 10)

 

جبکہ نبی آخر الزمان ص پر 

" فضل اللہ عظیم " کے طور پر فرمایا :

 

و کان فضل اللہ علیک عظیما 

اور آپ پر اللہ کا فضل عظیم ہے 

(النساء - 113)

 

🌷حضرت سلیمان ع کی سفیرانِ سبا سے مذکورہ گفتگو کو قرآن اس طرح نقل کیا ہے :

 

اتمدونن بمال فما اتنی اللہ خیر مما اتکم 

کیا تم مال سے میری مدد کرتے ہو مجھے تو جو کچھ اللہ نے دیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم کو دیا ہے 

(النمل 36)

 

جبکہ محمد رسول اللہ ص کے بارے میں بحیثیت

 " غنی " شان بیان کرتے ہوئے قرآنِ حکیم گواہی دیتا ہے :

 

ووجدک عائلا فاغنی 

اور آپ ص کو تنگ دست پایا تو غنی کر دیا 

(الضحٰی - 8)

 

🌷حضرت زکریا ع کے متعلق فرمایا :

 

ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا 

یہ تیرے پروردگار کی رحمت کا ذکر ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی، 

(مریم - 2)

 

جبکہ اپنے محبوب کو عالمین کے لیے رحمت قرار دیا :

 

وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین 

اور ہم نے آپ ص کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، 

(الانبیاء - 107)

 

🌷حضرت یحییٰ ع کی بابت 

 

مصدقا بکلمۃ من اللہ 

اللہ کی جانب سے ایک کلمہ ہو گا اس کی تصدیق کرنے والا، 

(آلِ عمران - 39)

 

جبکہ نبی رحمت ص کو اللہ رب العزت نے بطورِ

 " مصدق " ارشاد فرمایا :

 

مصدقا لما بین یدیہ 

(یعنی اپنے سے پہلوں کی تصدیق کرنے والا، 

(المائدۃ - 46) 

 

🌷حضرت عیسٰی ع کے حق میں فرمانِ خدا ہے :

 

و ایدنہ بروح القدس 

اور ہم نے روح القدس سے اس کی مدد کی، 

(

 

جبکہ پیغمبرِ اکرم ص کے حق میں بطورِ

 " منصور من اللہ " فرمایا :

 

ھوالذی ایدک بنصرہ 

(اللہ نے) آپ کی تائید اپنی نصرت سے کی، 

(الانفال - 62)

 

🌷دیگر انبیاء کرام ع کو دین عطا کیا گیا مگر آپ کو 

" کمالِ دین " عطا کیا گیا :

 

الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا 

آج کے دن میں نے تمھارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمتیں تمام کیں اور تمھارے لیے اسلام کو بطورِ دین منتخب کرنے پر راضی ہوا 

( المائدہ - 3) 

 

🌷گزرے انبیاء و رسل حاملِ دین تھے مگر آپ ص 

" غالبِ دین " ہیں :

 

ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ 

وہی اللہ کی ذات ہے جس نے اپنا رسول بھیجا ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ تا کہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے 

(الصف - 9) 

 

📗ماحوذ :

 

فلسفہ اسماء النبی ص

 

بقلم :

طاھر عباس العصری -