🔴 اول مخلوق نورِ نبی (ص) 🔴

 

📜 روى جابر بن عبد الله قال: قلت لرسول الله صلى الله عليه وآله: أول شيء خلق الله تعالى ما هو؟ فقال: نور نبيك يا جابر خلقه الله ثم خلق منه كل خير ثم أقامه بين يديه في مقام القرب ما شاء الله ثم جعله أقساماً, فخلق العرش من قسم والكرسي من قسم, وحملة العرش وخزنة الكرسي من قسم, وأقام القسم الرابع في مقام الحب ما شاء الله, ثم جعله أقساماً فخلق القلم من قسم, واللوح من قسم والجنة من قسم, وأقام القسم الرابع في مقام الخوف ما شاء الله ثم جعله أجزاء فخلق الملائكة من جزء والشمس من جزء والقمر والكواكب من جزء, وأقام القسم الرابع في مقام الرجاء ما شاء الله, ثم جعله أجزاء فخلق العقل من جزء والعلم والحلم من جزء والعصمة والتوفيق من جزء, وأقام القسم الرابع في مقام الحياء ما شاء الله, ثم نظر إليه بعين الهيبة فرشح ذلك النور وقطرت منه مائة ألف وأربعة وعشرون ألف قطرة فخلق الله من كل قطرة روح نبي ورسول, ثم تنفست أرواح الانبياء فخلق الله من أنفاسها أرواح الأولياء والشهداء والصالحين. 

 

 

📃 حضرت جابر بن عبد الله کہتے ہیں:

 

میں نے رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) سے پوچھا:

"یا رسول الله! سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی، وہ کیا ہے؟"

تو رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

 

"اے جابر! وہ تیرے نبی کا نور تھا،

اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا کیا،

پھر اسی نور سے ہر نیکی کو پیدا فرمایا۔

پھر اس نور کو اپنے سامنے، مقامِ قرب میں رکھا، جتنا اللہ نے چاہا۔

پھر اس نور کو چار حصوں میں تقسیم کیا:

 

ایک حصہ سے عرش کو پیدا کیا،

 

دوسرے حصہ سے کرسی کو پیدا کیا،

 

تیسرے حصہ سے عرش اٹھانے والے فرشتے اور کرسی کے خزانچی فرشتے کو پیدا کیا،

 

چوتھے حصہ کو اللہ نے مقامِ محبت میں رکھا، جتنا چاہا۔

 

پھر اس حصہ کو بھی چار حصوں میں تقسیم کیا:

 

ایک حصہ سے قلم کو پیدا کیا،

 

دوسرے حصہ سے لوح محفوظ کو پیدا کیا،

 

تیسرے حصہ سے جنت کو پیدا کیا،

 

چوتھے حصہ کو مقامِ خوف میں رکھا، جتنا اللہ نے چاہا۔

 

پھر اسے بھی چار حصوں میں تقسیم کیا:

 

ایک حصہ سے فرشتوں کو پیدا کیا،

 

دوسرے سے سورج کو،

 

تیسرے سے چاند اور ستاروں کو،

 

چوتھے حصہ کو مقامِ امید (رجاء) میں رکھا، جتنا اللہ نے چاہا۔

 

پھر اس کو بھی چار حصوں میں تقسیم کیا:

 

ایک سے عقل کو،

 

دوسرے سے علم اور حلم کو،

 

تیسرے سے عصمت اور توفیق کو،

 

اور چوتھے حصہ کو مقامِ حیا میں رکھا، جتنا اللہ نے چاہا۔

 

پھر اللہ نے اس نور کو ہیبت کی نگاہ سے دیکھا،

تو وہ نور پسینے کی صورت میں ٹپکا،

اس سے ایک لاکھ چوبیس ہزار قطرے ٹپکے،

اللہ تعالیٰ نے ہر قطرے سے ایک نبی یا رسول کی روح کو پیدا کیا۔

 

پھر ان انبیاء کی ارواح نے جب سانس لیا،

تو اللہ تعالیٰ نے ان کی سانسوں سے

اولیاء، شہداء اور صالحین کی ارواح کو پیدا کیا۔"

 

📚 بحار الأنوار جلد 25 صفحہ 21 (ریاض الجنان سے نقل)

📚 ينابيع المودة جلد 1 صفحہ 556

📚 تفسير الميزان جلد 1 صفحہ 121

 

۔

 

📜 قال: كنت في صلبه، وهبط بي إلى الأرض في صلبه، وركبت السفينة في صلب أبي نوح، وقذف بي في النار في صلب أبي إبراهيم، لم يلتق لي أبوان على سفاح قط، ولم يزل الله عزّ وجلّ ينقلني من الأصلاب الطيبة إلى الأرحام الطاهرة هادياً مهدياً حتى أخذ الله بالنبوة عهدي، وبالإسلام ميثاقي، وبين كل شيء من صفتي، وأثبت في التوراة والإنجيل ذكري.. 

 

📃 آپ نے فرمایا: "میں ان (آدم) کی صلب میں تھا، اور ان کے ساتھ زمین پر اترا، اور میں نوح علیہ السلام کے والد کی صلب میں سوار ہوا جب انہوں نے کشتی میں سوار کیا، اور میں ابراہیم علیہ السلام کے والد کی صلب میں تھا جب انہیں آگ میں ڈالا گیا۔ میرے والدین کبھی بھی غیر شرعی عمل نہیں کیا، اور ہمیشہ اللہ عز و جل نے مجھے پاکیزہ اصلاب سے پاکیزہ رحموں میں منتقل کیا، ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا کر، یہاں تک کہ اللہ نے نبوت کے ساتھ میرا عہد لیا، اور اسلام کے ساتھ میرا میثاق کیا، اور ہر چیز میں میری صفت کو بیان کیا، اور تورات اور انجیل میں میرا ذکر ثبت کیا۔"

 

📚 الأمالي (للصدوق)، ص: 624

 

تعلیماتِ اہلبیتؑ 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#طالب_دعا 

#بدر_علی