نبی ص کے فضائل و مناقب (کتب شیعہ)
🖋 خاکسار: سید علی اصدق نقوی
[1/787] العیون: تین اسانید سے امام رضا ع تک۔۔۔ رسول الله ص نے فرمایا: میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اور اس پر مجھے کوئی فخر نہیں ہے۔
[2/788] اسانید سے آپ ص سے روایت ہے: موسی ع نے اپنے رب عز و جل سے سوال کیا اور کہا: اے میرے رب، مجھے محمد ص کی امت میں سے بنا دے۔ تو الله تعالی نے انکو وحی کی: اے موسی! تو وہاں (اس دور) تک نہیں پہنچ سکے گا۔
[3/789] الکافی: محمد بن یحیی سے جنہوں نے احمد بن محمد سے جنہوں نے حجال سے جنہوں نے حماد سے جنہوں نے امام صادق ع سے روایت کی جنہوں نے رسول الله ص کا ذکر کیا اور فرمایا: امیر المؤمنین ع نے فرمایا: الله نے محمد ص سے بہتر کوئی انسان نہیں خلق کیا۔
[4/790] روضہ الکافی: علی نے اپنے والد سے جنہوں نے ابن ابی عمیر سے جنہوں نے محمد بن ابی حمزہ وغیرہ سے جنہوں نے امام صادق ع سے روایت کی، فرمایا: رسول الله ص نے فرمایا: تمہارے لیئے میری حیات میں بھی بھلائی ہے اور میری موت میں بھی بھلائی ہے۔ پوچھا گیا: یا رسول الله! جہاں تک آپکی حیات کی بات ہے، تو ہم وہ جانتے، مگر آپکی وفات میں ہمارے لیئے کیا ہے؟ فرمایا: جہاں تک میری حیات کی بات ہے تو الله عز و جل نے کہا ہے: وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ، اور الله انکو عذاب نہیں دے گا جب تک آپ ان میں ہیں۔ اور جہاں تک میری وفات کی بات ہے، تو مجھ پر تمہارے اعمال پیش کیئے جاتے ہیں اور میں تمہارے لیئے استغفار کرتا ہوں۔
[5/791] محمد بن یحیی نے محمد بن علی سے جنہوں نے ابن مسکان سے جنہوں نے میسر سے جنہوں نے امام باقر ع سے روایت کی، کہا: میں (راوی) نے عرض کیا: الله عز و جل کا کہنا ہے: وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا، اور زمین پر اسکی اصلاح کے بعد فساد نہ کرو۔ راوی نے کہا: امام ع نے فرمایا: اے میسر! بلا شبہ زمین فاسد تھی، تو الله عز و جل نے اپنے نبی ص کے ذریعے اسکی اصلاح کی، پھر کہا: وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا، اور زمین پر اسکی اصلاح کے بعد فساد نہ کرو۔
[6/792] حمید بن زیاد، جس نے حسن بن محمد سے جس نے سماعہ سے جس نے محمد بن ایوب سے، اور علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے، ان سب نے احمد بن محمد بن ابی نصر سے جس نے ابان بن عثمان سے جس نے ابو بصیر سے جس نے امام صادق ع سے روایت کی، فرمایا: رسول الله ص ذات الرقاع کے غزوے میں ایک درخت کے نیچے (سواری سے) اترے وادی کے کنارے پر، تو ایک سیلاب آگیا جو آپ ص اور انکے اصحاب کے درمیان حائل ہوگیا۔ مشرکین میں سے ایک شخص نے یہ دیکھا جب مسلمان وادی کے کنارے پر کھڑے دیکھ رہے تھے جب سیلاب نے انکو منقطع کردیا۔ تو مشرکین میں سے ایک شخص نے اپنی قوم سے کہا: میں محمد کو قتل کردوں گا۔ تو وہ گیا اور رسول الله ص پر حملہ کیا تلوار سے، پھر کہا: تجھے مجھ سے کون بچائے گا اے محمد؟ آپ ص نے فرمایا: میرا رب اور تیرا رب۔ تو جبرائیل ع نے اس (مشرک) کو اسکے گھوڑے سے گرا دیا اور وہ کمر کے بل گرا۔ رسول الله ص کھڑے ہوئے، اسکی تلوار پکڑی اور اسکے سینے پر بیٹھ گئے، اور فرمایا: تجھے مجھ سے کون بچائے گا اے غورث؟ اس نے کہا: آپکی سخاوت و کرم اے محمد۔ تو آپ ص نے اسکو چھوڑ دیا۔ وہ کھڑا ہوا اور کہنے لگا: بخدا، آپ مجھ سے بہتر اور زیادہ کریم ہیں۔
[7/793] امالی صدوق: دقاق سے جنہوں نے اسدی سے جنہوں نے نخعی سے جنہوں نے نوفلی سے جنہوں نے علی بن ابی حمزہ سے جنہوں نے یحیی بن ابی اسحاق سے جنہوں نے امام صادق ع سے روایت کی، جنہوں نے اپنے والد سے جنہوں نے اپنے جد سے جنہوں نے اپنے والد ع سے روایت کی، فرمایا: نبی ص سے پوچھا گیا: آپ کہاں تھے جب آدم ع جنت میں تھے؟ فرمایا: میں انکے صلب میں تھا، پھر وہ مجھ سمیت زمین میں اترے انکی صلب میں۔ اور میں کشتی پر سوار ہوا تو اپنے والد نوح ع کی صلب میں۔ مجھے آگ میں پھینکا گیا جب میں اپنے والد ابراہیم کی صلب میں تھا۔ کبھی بھی میرے کسی بھی والدین نے زنا نہیں کیا۔ الله عز و جل مجھے پاک اصلاب اور پاک ارحام سے منقتل کرتا رہا بطور ہادی اور ہدایت یافتہ حتی کہ میرا نبوت کا عہد لیا، اور اسلام کا میثاق لیا۔ اس نے میری صفت سے ہر چیز کھول کر بیان کردی، میرا ذکر تورات و انجیل میں ثابت کردیا، اور اپنے آسمان میں بھی۔ اس نے اپنے ناموں میں سے ایک نام مجھے دیدیا۔ میری امت حمد کرنے والی ہے، عرش والا محمود ہے، اور میں محمد ہوں۔
[-/8] عیون الاخبار: علی بن حسین بن شاذویہ مودب اور جعفر بن محمد بن مسرور رضی اللہ عنہما نے دونوں نے کہا: ہم سے محمد بن عبد اللہ بن جعفر حمیری نے بیان کیا، جنہوں نے اپنے والد سے جنہوں نے ریان بن صلت سے جنہوں نے امام رضا ع سے اسکے متعلق روایت کی جو مامون کے پاس پاک عترت کی فضیلت میں بیان ہوا۔ امام ع نے فرمایا: ”ذکر“ سے مراد رسول الله ہیں، اور ہم انکے اہل ہیں۔ اور اس وجہ سے الله نے اپنی کتاب میں کھول کر بیان کیا ہے جہاں اس نے کہا: الَّذِينَ آمَنُوا ۚ قَدْ أَنزَلَ اللَّـهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُولًا يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللَّـهِ مُبَيِّنَاتٍ، وہ جو ایمان لائے، الله تمہاری طرف ایک ذکر نازل کر چکا ہے، ایک رسول جو تمہیں واضح آیات پڑھ کر سناتا ہے۔ پس ذکر رسول الله ص ہیں اور ہم انکے اہل ہیں۔
[10/795] العیون: تین اسانید سے امام رضا ع سے جنہوں نے اپنے آباء ع سے روایت کی، فرمایا: علی بن حسین ع سے پوچھا گیا: نبی ص کو اپنے والدین سے یتیم کیوں کیا گیا؟ فرمایا: تاکہ کہیں ان پر (خالق کے حق سمیت) مخلوق کا کوئی حق لازم نہ ہوجائے۔
[11/796] العیون: تین اسانید سے انکے آباء و اجداد سے روایت کی، فرمایا: رسول الله ص نے فرمایا: میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور کہنے لگا: اے محمد! آپکا رب آپکو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: اگر آپ چاہیں تو میں آپ کیلئے مکہ کی پوری وادی سونے کی بنا دوں۔ تو آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا اور فرمایا: اے میرے رب، میں ایک دن اگر سیر ہونگا تو تیری حمد کروں گا، اور میں بھوکا ہونگا تو تجھ سے سوال کروں گا۔
[12/797] اسناد سے: امیر المؤمنین ع نے فرمایا: ہم نبی ص کے ساتھ خندق کے کنویں میں تھے، کہ فاطمہ ع روٹی کے ایک چھوٹے ٹکڑے کے ساتھ آئیں اور نبی ص کو دیدیا۔ نبی ص نے فرمایا: یہ ٹکڑا کیا ہے؟ فاطمہ ع نے فرمایا: یہ گول روٹی کا ایک ٹکڑا ہے حسن و حسین ع کیلئے، میں آپ کیلئے اس میں سے یہ ٹکڑا لائی ہوں۔ نبی ص نے فرمایا: اے فاطمہ! جان لو کہ یہ پہلا کھانا ہے جو آپکے والد کے پیٹ میں جا رہا ہے تین دن بعد۔
[13/798] الکافی: بہت سے اصحاب نے برقی سے جنہوں نے قاسم بن یحیی سے جنہوں نے اپنے جد حسن بن راشد سے جنہوں نے عبد اللہ بن سنان سے جنہوں نے امام صادق ع سے روایت کی، فرمایا: نبی ص غمگین حالت میں نکلے، تو انکے پاس ایک فرشتہ آیا جسکے پاس زمین کے خزانوں کی چابیاں تھیں۔ اس نے کہا: اے محمد، یہ زمین کے خزانوں کی چابیاں ہیں۔ آپ کا رب آپ سے کہتا ہے: اسکو کھولیں اور جو چاہیں اس میں سے لیلیں جسکے عوض میرے پاس سے آپکی (اجر کی) کوئی چیز کم نہیں ہوگی۔ رسول الله ص نے فرمایا: دنیا اسکا گھر ہے جسکا کوئی اور گھر نہیں۔ اور اس کیلئے وہ جمع کرتا ہے جسکے پاس عقل نہیں۔ فرشتے نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپکو حق کے ساتھ بطور نبی بھیجا! میں نے یہ کلام فرشتے سے سنا تھا جس نے چوتھے آسمان پر یہ کہا تھا جب مجھے چابیاں دی گئی تھیں۔
معجم الأحاديث المعتبرة // المجلد الأول // كتاب النبوة والأنبياء // احوال النبي الخاتم ﷺ // الباب 11 // آية الله آصف المحسني
خاکسار: سید علی اصدق نقوی