🔴 صفات رسول الله (ص) 🔴

 

 

📜 عن أمير المؤمنين (ع) قال: ما صافح رسول الله أحدا قط فنزع (ص) يده حتى يكون هو الذي ينزع يده، وما فاوضه أحد قط في حاجة أو حديث فانصرف حتى يكون الرجل هو الذي ينصرف، وما نازعه أحد الحديث فيسكت حتى يكون هو الذي يسكت، وما رئي مقدما رجله بين يدي جليس له قط، ولا خير بين أمرين إلا أخذ بأشدهما، وما انتصر لنفسه من مظلمة حتى ينتهك محارم الله فيكون حينئذ غضبه لله تبارك وتعالى، وما أكل متكئا قط حتى فارق الدنيا، وما سئل شيئا قط فقال لا، وما رد سائل حاجة قط إلا بها أو بميسور من القول، وكان أخف الناس صلاة في تمام، وكان أقصر الناس خطبة وأقلهم هذرا (هذر في منطقة: تكلم بما لا ينبغي)، وكان يعرف بالريح الطيب إذا أقبل، وكان إذا أكل مع القوم كان أول من يبدأ وآخر من يرفع يده، وكان إذا أكل أكل مما يليه، فإذا كان الرطب والتمر جالت يده (أي أخذت من كل جانب) وإذا شرب شرب ثلاثة أنفاس، وكان يمص الماء مصا ولا يعبه عبا (أي شربه شربا رقيقا مع جذب نفس بخلاف العب فإنه شرب الماء بلا تنفس)، وكان يمينه لطعامه وشرابه وأخذه وإعطائه، فكان لا يأخذ إلا بيمينه، ولا يعطي إلا بيمينه، وكان شماله لما سوى ذلك من بدنه، وكان يحب التيمن في كل أموره: في لبسه وتنعله وترجله، وكان إذا دعا دعا ثلاثا، وإذا تكلم تكلم وترا وإذا استأذن استأذن ثلاثا، وكان كلامه فصلا يتبينه كل من سمعه، وإذا تكلم رئي كالنور يخرج من بين ثناياه، وإذا رأيته قلت: أفلج الثنيتين وليس بأفلج (الفلج: فرجة بين الثنايا والرباعيات)، وكان نظره اللحظ بعينه، وكان لا يكلم أحدا بشئ يكرهه، وكان إذا مشى كأنما ينحط من صبب، وكان يقول: إن خياركم أحسنكم أخلاقا، وكان لا يذم ذواقا ولا يمدحه، ولا يتنازع أصحابه الحديث عنده، وكان المحدث عنه يقول: لم أر بعيني مثله قبله ولا بعده (ص)

 

📃 امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

 

رسول اللہ (ص) نے جب بھی کسی سے مصافحہ کیا، تو کبھی بھی پہلے خود اپنا ہاتھ نہیں کھینچا، بلکہ دوسرا شخص ہی پہلے ہاتھ ہٹاتا تھا۔

 

جب کوئی آپ سے کوئی بات یا حاجت بیان کرتا تو آپ کبھی پہلے بات ختم کر کے نہ اٹھتے، بلکہ دوسرا شخص ہی رخصت لیتا۔

 

اگر کوئی آپ سے گفتگو میں شریک ہوتا، تو آپ کبھی خاموش نہ ہوتے جب تک کہ دوسرا خود خاموش نہ ہو جاتا۔

 

آپ نے کبھی کسی کے آگے اپنے پاؤں بڑھا کر نہیں رکھے۔

 

جب دو کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب ہوتا، تو آپ ہمیشہ اس کام کو چنتے جو زیادہ دشوار اور سخت ہوتا۔

 

آپ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا، ہاں جب اللہ کی حرمت پامال ہوتی تو اللہ کے لیے غضبناک ہوتے۔

 

آپ نے کبھی ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھایا یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔

 

آپ نے کبھی کسی سائل کو "نہیں" نہیں کہا۔

 

آپ نے کسی مانگنے والے کو خالی ہاتھ واپس نہیں کیا، یا تو اس کی ضرورت پوری کرتے یا کم از کم نرمی سے بات کرتے۔

 

آپ نماز کو مکمل مگر مختصر پڑھتے اور خطبے کو مختصر مگر جامع رکھتے۔

 

آپ کے بدن سے خوشبو آتی تھی، لوگ آپ کو خوشبو سے پہچان لیتے تھے۔

 

جب آپ لوگوں کے ساتھ کھاتے تو سب سے پہلے کھانا شروع کرتے اور سب سے آخر میں ہاتھ کھینچتے۔

 

آپ اپنے سامنے سے کھاتے، لیکن اگر کھجور یا رطب ہوتا تو ادھر ادھر سے بھی لیتے۔

 

آپ تین سانسوں میں پانی پیتے تھے اور پانی کو دھیرے دھیرے پیتے، نہ کہ ایک ہی سانس میں۔

 

آپ دائیں ہاتھ سے کھاتے، پیتے، لیتے اور دیتے، بائیں ہاتھ سے صرف اپنے جسم کے دوسرے کاموں میں مدد لیتے۔

 

آپ ہر کام میں دائیں طرف کو پسند فرماتے: لباس، جوتا پہننا، کنگھی کرنا وغیرہ۔

 

جب دعا کرتے تو تین بار دہراتے، اور گفتگو بھی اکثر تین فقروں میں کرتے۔

 

اگر کسی کے دروازے پر اجازت طلب کرتے تو تین بار اجازت مانگتے۔

 

آپ کی گفتگو واضح اور بامعنی ہوتی، جو سنتا سمجھ لیتا۔

 

جب بولتے تو یوں لگتا جیسے آپ کے دانتوں کے درمیان سے نور نکل رہا ہو۔

 

جو آپ کو دیکھتا وہ کہتا: "آپ کے سامنے کے دانتوں میں تھوڑا فاصلہ ہے" حالانکہ ایسا نہیں تھا۔

 

آپ کی نظر ہمیشہ نرم ہوتی، آپ کسی کو ایسی بات نہ کہتے جو اسے بری لگے۔

 

جب چلتے تو ایسا لگتا جیسے نیچے ڈھلوان سے اُتر رہے ہوں۔

 

آپ فرمایا کرتے: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں سب سے بہتر ہو"۔

 

آپ نہ کسی کھانے کو برا کہتے، نہ کسی کھانے کی حد سے زیادہ تعریف کرتے۔

 

آپ کے صحابہ آپ کی مجلس میں ایک ساتھ بات چیت نہیں کرتے تھے، بلکہ ادب سے بات کرتے۔

 

جو بھی آپ کو بیان کرتا، کہتا: "میں نے آپ جیسا نہ پہلے کبھی دیکھا، نہ بعد میں"۔

 

📚 مکارم الأخلاق ص 23

📚 بحار الأنوار ج 16 ص 236

 

#بدر_علی 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد