اخلاق و سیرتِ رسولِ خدا ﷺ
🖋 بقلم: علی بن ابراھیم قمی
[٧٤٩/۱] فروع الكافي: عن ، بن يحيى عن أحمد بن محمد عن ابن فضال عن ابن بكير عن زرارة عن أبي جعفر ﷺ قال: كان رسول يعجبه الذراع.
امام باقر ع نے فرمایا کہ اللہ کے رسول ص کو کندھوں/بازوؤں کا گوشت بہت پسند تھا۔
[٢/٧٥٠]فروع الکافی: وعنه عن أحمد بن محمد عن ابن محبوب عن عبدالله بن سنان عن أبي عبدالله ﷺ قال: كانت لرسول الله ممشكة اذا هو توضأ أخذها بيده وهي رطبة فكـان اذا خرج عرفوا أنه رسول الله برائحته.
امام جعفر ع نے فرمایا کہ اللہ کے رسول ص کے پاس مشک ایک ڈبے/برتن میں تھا۔اپ ص وضو کرتے وقت گیلے ہو کر اسے ہاتھ میں لے لیتے۔ لوگو اس عطر اور خوشبو کی وجہ سے آپ ص کی آمد کو پہچان جاتے ۔
[٣/٧٥١] فروع الکافی :وعن علي عن أبيه عن ابن ابي عمير عن أبي أيوب الخزاز عن محمد بن مسلم قال: ان العقرب لدغت رسول الله فقال: لعنك الله فما تبالين مؤمناً أذيت أم copper، ثم دعا بالملح فدلكه فهدات. ثم قال أبو جعفر : لو يعلم الناس ما في الملح، ما بغوا معه در تر یاقا.
امام ع نے فرمایا ایک بار بچھو نے رسول ص کو کاٹا، آپ ص نے فرمایا: اللہ تم پر لع نت کرے۔ تم مومن اور copper میں تمیز نہیں کرتے اور نہیں جانتے کہ تم کس کو تکلیف پہنچا سکتے ہو۔‘‘ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نمک منگوایا اور اسے کاٹنے والی جگہ پر مالش کیا تو درد کم ہوا ۔ ابوجعفر ع نے پھر فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ نمک میں کیا ہے تو وہ دوسرا کوئی تریاق/دوا نہ ڈھونڈتے۔
[5/753] فروع الکافی :وعن علي عن أبيه ومحمد بن اسماعيل عن الفضل بن شاذان جميعا عن ابن أبي عمير وصفوان عن معاوية بن عمار عن أبي عبدالله ﷺ قال ان النبی ﷺ مديده إلى الحجر فلشعته عقرب فقال لعنك الله لا برأ تدعين ولا فاجرا.
امام جعفر ع فرماتے ہیں کہ ایک بار آپ ص کسی چیز کے لیے ایک سوراخ میں ہاتھ بڑھایا اور ایک بچھو نے آپ ص کو کاٹ لیا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اللہ تم پر لع نت کرے۔ تم گنہگار اور بے گناہ میں فرق نہیں کرتے۔
[٦/٧٥٤] روضة الكافي: عن محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد، عن علي بن الحكم، عن معاوية بن وهب، عن أبي عبدالله ﷺ قال: ما أكل رسول الله متكئاً منذ بعثه الله عزوجل الى أن قبضه تواضعا الله عزوجل وما رای رکبتیه امام جليسه في مجلس قط ولا صافح رسول الله رجلا قط فنزع يده من يده حتي يكون الرجل هو الذي ينزع يده ولا كافا رسول الله بسيئة قط قال الله تعالى له: «أدفع بالتي هي أحسن الشيئة، ففعل وما منع سائلا قط، إن كان عنده أعطي وإلا قال: ياتي الله به، ولا أعطي على الله عز وجل شيئاً قط إلا أجازه الله ان كان ليعطي الجنة فيجيز الله عزوجل له ذلك، قال: وكان أخوه من بعده والذي ذهب بنفسه ما اكل من الدنيا حرامـاً قـط حـتـى خـرج مـنـهـا والله ان كـان ليعرض له الامران كلاهما الله عزوجل طاعة فيأخذ بأشدهما على بدنه، والله لقد أعتق الف مملوك لوجه الله عزوجل دبرت فيهم يداه والله ما أطاق عمل رسول الله من بعده أحـد غيره، والله ما نزلت برسول الله نازلة قط إلا قدمه فيها ثقة مـنـه بـه، وان كـان رسـول الله ليبعثه برأيته فيقاتل جبرئيل عن يمينه وميكائيل عن يساره، ثم ما يرجع حتى يفتح الله عزوجل له.
امام جعفر صادق نے فرمایا کہ ہرگز بھی بھی رسول خدا نے اس دن جس دن سے خدا نے انہیں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے یہاں تک کہ اس دنیا سے چلے گئے حالت تکیہ میں کھانا نہیں کھایا اور اس وجہ سے کہ خدا کے لیے خشوع وخضوع کیا کرتے تھے اور ہر گز آپ ﷺ کو دوزانو آگے کی طرف کر کے بیٹھ کر ( بغل ) کر کھانا کھاتے نہ دیکھا گیا اور ہرگز کبھی بھی رسول خدا نے کسی شخص سے ہاتھ ملایا تو آپ ص اس وقت تک ہاتھ نہ چھوڑتے تھے جب تک وہ شخص خود چھڑوائے اور ہر گز بھی بھی بدی کو بدی کے مکافات میں نہ کیا خدا نے ان سے فرمایا ادفع بالتي هي أحسن السيئة (اے رسول) تم بدی کو اس چیز سے دفع کرو جو بہت ہی اچھی ہو ( سوره مؤمنون آیت نمبر ۹۲ ) اور نیز اس پر عمل پیرا رہے اور کبھی بھی کسی شخص کو کہ جس نے آپ سے کوئی چیز مانگی ہو تو اس سے انکار کیا ہو اس ترتیب سے اگر آپ کے پاس ہوتی تو اسے دے دیتے اور اگر نہ ہوتی تو اس سے فرماتے خدادے گا اور ہرگز خدا کی طرف سے کوئی چیز عطا نہ ہوتی تو پھر اس کا وعدہ نہ کر تے سواۓ اس کے کہ خدا وہ چیز آپ کو دے دیتا، اگر جنت کی کو بخشتے تو خدا اسے عطا کر دیتا۔ اور آپ کے بھائی علی بھی قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے ان کی جان و روح کو قبض کیا ہرگز انہوں نے دنیا کے مال سے حرام نہ کھایا یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے چلے گئے اور خدا کی قسم بھی بھی ان کے سامنے دو عمل آجاتے اور دو ہی اطاعت و فرما نبرداری خدا کیلئے ہوتے تو ان میں سے وہ جو آپ کے بدن کیلئے زیادہ سخت ہوتا اس کے انجام دینے کا انتخاب کرتے
اور خدا کی قسم ہزار غلاموں کو راہ خدا میں آزاد کیا تھا تو ان کے آزاد کرانے کے لئے پیسوں کے حصول کے لئے آپ کے ہاتھ وغیرہ مجروح ہو گئے تھے اور خدا کی قسم کوئی شخص بھی عمل کرنے کی تاب اور رسول خدا کے کاموں کو آنحضرت کے بعد سواۓ علی کے کوئی نہ کرسکتا تھا اور خدا کی قسم جب کبھی بھی رسول خدا کے لئے کوئی نا گوار واقعہ پیش آ تا تو سواۓ علی کے کسی پر اطمینان نہ تھا اور ان پر اعتماد رکھتے تھے اور ان کو اس کام کے لئے بلاتے اور ان کو روانہ کرتے تھے اور یہ اس طرح تھا کہ
رسول خدا جنگ کا پر چم ان کے ہاتھ میں دیتے تھے اور جبرائیل ان کے دائیں طرف اور میکائین ان کے بائیں طرف ہوتے تھے اور وہ جنگ کرتے تھے اور جنگ سے اس وقت تک واپس نہ آتے تھے یہاں تک کہ خدا انہیں فتح دیتا اور فاتح بناد یتا
[٧/٧٥٥] روضة الكافي: عن علي بن ابراهيم، عن أبيه، عن أحمد بن محمد بن أبي نصر، عن أبان بن عثمان، عن زرارة عن أبي جعفر : ان ثمامة بـن أثـال أسرته خـيـل النبي ﷺ وقد كان رسول الله قال: اللهم أمكني من ثمامة فقال له رسول الله: اني مخيرك واحدة من ثلاث: أقتلك، قال: اذا تقتل عظيماً أو أفاديك، قال: اذا تجدني غـاليا، أو أمـن عليك قال: اذا تجدني شاكرا، قال: فإني قد مننت عليك قال: فإني أشهد أن لا إله إلا الله وأنك محمد رسول الله وقد والله علمت أنك رسول الله حيث رأيتك وماكنت لأشهد بها وأنا في الوثاق.
زرارہ کہتے ہیں امام باقر نے فرمایا کہ ثمامہ بن اثال کوشکر پیغمبر اسلام کے سواروں نے اسیر کر لیا اس سے پہلے رسول خدا نے دعا کی تھی کہ خدایا مجھے ثمامہ پر مسلط کر دے پس رسول خدا نے اس سے فرمایا میں تمہیں تین چیزوں میں سے ایک کے اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہوں ایک یہ کہ میں تمہیں قتل کر دوں ثمامہ نے کہا اس صورت میں تو ایک
بزرگ شخص کو ق تل کرو گے دوسری یہ کہ تم سے فد میں لےلوں ( اور تمہیں آزاد کر دوں ) اس نے کہا اس صورت میں مجھے زیادہ قیمت والا بنا دو گے تیسری یہ کہ تم پر اسلام کو پیش کرتا ہوں تا کہ تمہیں آزاد کر دوں ثمامہ نے کہا اس صورت میں مجھے شکر گزار قدردان جانتے ہوحضرت نے فرمایا میں تم پر اسلام پیش کرتا ہوں اور آزاد کرتا ہوں ثمامہ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ سوائے خدائے واحد کے کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول
ہیں اور اسے حق جانتا ہوں کہ آپ خدا کے پیغمبر ہو اس وقت جبکہ میں آپ ص کو دیکھ رہا ہوں اور اس وقت کہ جب میں قید میں تھا اور نا طاقت گواہی دیتا ۔
[8/756] الكافي: عن علي عن أبيه عن ابن أبي عمير عن عمر بن أذينة عن زرارة عن أبي جعفر قال: كان رسول اللہ ﷺ يصنع بمن مات من بـنـي هـاشـم خـاصة شيئا لا يصنعه بأحد من المسلمين، كان اذا صلى على الهاشمي ونضح قبره بالماء وضع رسول الله كفه على القبر حتى ترى أصابعه في الطين فكان الغريب يقدم أو المسافر من أهـل المدينة فيرى القبر الجديد عليه أثر كف رسول الله فيقول: من مات من آل محمد ﷺ .
فرمایا ابوجعفر علیہ السلام نے کہ جب بنی ہاشم میں کوئی کرتا تھا تو رسول اللہ ایک بات ایسی کرتے تھے جو اور مسلمانوں کے لئے نہ تھی ۔ جب نماز جنازہ ہوجاتی اور پانی چھڑکا جاتا تو حضرت اپنا ہاتھ اس طرح قبر پر رکھتے کہ انگلیاں مٹی میں در آیتیں جب مدینہ کا کوئی مسافر ادھر سے گزرتا اور رسول اللہ کے دست مبارک کانشان دیکھتا تو کہتا آل محمد میں سے کوئی فوت ہوا ہے ۔
[٩/٧٥٧] فروع الكافي: عن محمد بن يحيى عن أحمد بن محمد عن علي بن الحكم عن أبي المغرى عن هارون بن خارجة عن أبي عبدالله الله قال: كان رسول الله يأكل أكل العبد ويجلس جلسة العبد ويعلم أنه عبد.
امام جعفر ع نے فرمایا اللہ کے رسول غلام کی طرح کھاتے(عاجزی کے طور پر )، غلام کی طرح بیٹھتے اور جانتے تھے کہ وہ اللہ کے غلام/بندے ہیں۔
[١٠/٧٥٨] فروع الکافی :عن أبي علي الاشعري عن محمد بن عبدالجبار عن صفوان عن معلى أبي عثمان عن المعلى بن خنیس قال: قال أبو عبدالله ﷺ: ما أكل نبي الله ﷺ و هو متكيء منذ بعثه الله جل وعز وكان يكره أن يتشبه بالملوك ونحن لا نستطيع ان نفعل.
امام جعفر ع نے فرمایا
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی چیز سے ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھایا، جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بادشاہوں کی طرح بیٹھنے کو ناپسند کرتے تھے لیکن ہم ایسا نہیں کر سکتے۔
[٧٥٩/۱۱] اصول الكافي: عن محمد بن يحيى عن ابن عيسى عن ابن فضال عن ابن بكير عن زرارة عن ابي جعفر ﷺ قال: إن رسول الله اتي باليهودية التي سمت الشاة للنبي. فقال لها: ما حملك على ما صنعت؟ فقالت: قلت: ان كان نبيأ لم يضره وان كان ملكاً أرحت الناس منه، قال فعفا رسول اللہ ﷺ عنها.
فرمایا ابو جعفر (ع) نے کہ جس یہودیہ نے بکری کے گوشت میں زہر پیوست کر کے حضرت رسول خدا ص کو کھلانا چاہا تھا۔ آپ نے اس سے کہا تو نے ایسا کیوں کیا اس نے کہا اس لئے کہ اگر نبی ہیں تو یہ زہر نقصان نہ دے گا اور اگر بادشاہ ہیں تو لوگوں کو آپ سے نجات مل جائے گی۔ فرمایا جا میں نے معاف کیا۔
[١٢/٧٦٠] وعن علي عن أبيه عن ابن أبي ء عمير عن عبدالرحمن بن الحجاج عن أبي عبدالله ﷺ قال: أفطر رسول الله عشية خميس في مسجد قبا فقال هل من شراب فآتاه أوس بن خولي الانصاري بعش مخيض بعسل فلما وضعه على فيه نگاه ثم قال: شرابان يكتفى بأحدهما من صاحبه لا أشربه ولا أحرمه ولكن أتواضع لله فان من تواضع لله رفعه الله ومن تكبر خفضه الله ومن إقتصد في معيشته رزقه الله ومن بذر حرمه الله ومن أكثر ذكر الموت أحبه الله.
فرمایا امام جعفر صادق (ع) نے شب پنجشنبہ میں رسول اللہ ص نے مسجد قبا میں افطار صوم کیا اور فرمایا کچھ پینے کے لئے بھی ہے؟ اوس بن خولی انصاری دہی میں شہد ملا ہوا لے آئے حضرت نے منہ سے لگا کر اسے الگ کر لیا اور فرمایا دو چیزوں کی کیا ضرورت ہے جب کہ ایک ہی کافی ہے۔ میں دونوں کو نہ پیوں گا۔ میں حرام نہیں کرتا۔ بلکہ بلحاظ تواضع خوشنودی خدا کے لئے ایسا کرتا ہوں جو تواضع پسند ہے خدا اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے اور جو تکبر کرتا ہے اس کو ذلیل کرتا ہے اور جو امور معاش میں کفایت شعاری سے کام لیتا ہے اللہ اس پر رزق زیادہ کرتا ہے اور جو فضول خرشی کرتا ہے اللہ اسے رزق سے محروم رکھتا ہے اور جو ذکر موت اکثر کرتا ہے اللہ اس کو دوست رکھتا ہے۔
[13/761] الکافی :وعن العدة عن البرقي عن ابن فضال عن العلاء بن رزين عن محمد بن مسلم قال: سمعت أبا جعفر يذكر أنه أتى رسول الله ملك فقال: ان الله تعالى يخيرك ان تكون عبداً رسولاً متواضعاً أو ملكاً رسولا؟ قال: فنظر الى جبرئيل وأومأ بيده أن تواضع، فقال عبداً متواضعاً رسولاً، فقال الرسول: مع أنه لا ينقصك مـمـا عـنـد ربك شيئا ومـعه (مفاتیح) خزائن الارض.
فرمایا امام جعفر صادق (ع) نے کہ جبرئیل رسول اللہ ص کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ اللہ تعالی آپ سے کہتا ہے چاہے رسول متواضع ہو کر میرے بندہ ہو اور چاہے رسول رہ کر بادشاہ بنو، حضرت نے فرمایا جبرئیل نے میری طرف دیکھ کر فرمایا اور اشارہ کیا ہاتھ سے کہ تواضع اختیار کریں۔ حضرت نے فرمایا میں تو عبد متواضع کی صورت میں رسول ہوں۔ فرشتہ نے کہا آپ کے رب کے نزدیک اس صورت میں کوئی شے آپ کے مرتبہ سے کم نہ ہوئی امام نے فرمایا کہ فرشتہ کے پاس خزائن ارض کی کنجیاں تھیں (جو دینے آیا تھا۔)
[١٤/٧٦٢] فروع الكافي: عنهم عن البرقي عن موسى بن القاسم عن صفوان عن زرارة عن أبي عبدالله ﷺ: ان رسول اللہ ﷺ كان يكتحل قبل أن ينام أربعا في اليمنى وثلاثا في اليسرى.
امام جعفر ع نے فرمایا کہ رسول ص سونے سے پہلے سورما لگاتے چار بار دائیں اور تین بار بائیں طرف۔
[15/763]الکافی : عن محمد بن يحيى عن ابن عيسى عن ابن فضال عن ابن القداح عن أبي عبداللہ ﷺ قال: كان النبي ﷺ يعجبه الدباء ويلتقطه من الصحفة.
امام جعفر ع نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوکی، کچکول پسند تھی، اور اسے کھانے کے برتن سے اٹھا لیتے تھے ۔
[17/765] روضة الكافي: عن علي عن أبيه عن ابن ابي عمير عن هشام وغيره عن ابي عبداللہ ﷺ قال: ماكان شيء أحب الى رسول اللہ ﷺ من أن يظل خائفاً جائعاً في الله.
امام جعفر ع نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کے لیے بھوکے اور خوف زدہ رہنے سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں تھی۔
[١٨/٧٦٦] فروع الكافي: عن علي عن أبيه عن ابن أبي عمير عن علي بن عطية عن أبي عبداللہ ﷺ قال: ما تختم رسول الله إلا يسيراً حتى تركه.
امام جعفر ع نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انگوٹھی کو بہت کم استعمال کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ/اتار دیا۔
[19/767] فروع الکافی :عن العدة عن احمد عن ابن محبوب عن ابن سنان عن أبي عبدالله ﷺ:كان نقش خاتم النبیﷺ محمد رسول الله .
امام جعفر ع نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی پر نقش تھا کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ امیر المومنین علی علیہ السلام کی انگوٹھی پر نقش تھا کہ اللہ مالک ہے اور میرے والد کی انگوٹھی پر نقش تھا کہ تمام شان اللہ کے لیے ہے۔
[٢٠/٧٦٨] الکافی :وعن علي عن أبيه عن ابن ابي عمير عن هشام بن سالم عن أبي عبدالله ال قال: کان خاتم رسول الله من ورق.
امام جعفر ع نے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی درہم سے بنی تھی۔
[21/769] الکافی :وعن محمد بن يحيى عن أحمد بن محمد عن ابن محبوب عن عبدالله بن سنان ومعاوية بن وهب عن أبي عبدالله ﷺ:كان خاتم رسول الله من ورق، قال: قلت له كان فيه فص؟ قال: لا۔
امام جعفر ع نے فرمایا کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی درہم سے بنی ہوئی تھی،راوی کہتا ہے پھر میں نے پوچھا کہ کیا اس میں کوئی پتھر ہے، تو آپ (ع) نے فرمایا: نہیں، اس میں پتھر نہیں تھا۔
[۲۳/۷۷۱] علل الشرائع: عن العطار عن سعد عن عبدالله بن عامر عن ابن أبي نجران عن يحيى الحلبي عن أبيه عن أبي عبدالله ﷺ قال: سئل عن قول الله عزوجل: وأوحى إلى هذا القرءان لأنذركم به ومن بلغ ، قال: بكل لسان.
امام جعفر ع سے خدا کے اس قول ( اور یہ قرآن مجھے ہر اس لئے اتارا گیا کہ تم کو اور جس شخص تک یہ پہنچ سکے آگاہ کر دوں ) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ع نے فرمایا ، ہر زبان میں۔
[۷۷۲/٢٤] علل الشرائع : وعن ابن الوليد عن سعد عن ابن عيسى عن الحسين بن سعيد ومحمد البرقي عن ابن ابي عمير عن هشام بن سالم عن أبي عبدالله ﷺ قال: كان النبي ﷺ يقرؤ الكتاب ولا يكتب.
امام جعفر ع نے فرمایا کہ رسول ص پڑھا کرتے تھے لکھا نہیں کرتے تھے ۔
[٢٥/٧٧۳] الخصال وامالي الصدوق: عن أبيه عن علي عن أبيه عن ابن أبي عمير عن أبان الأحمر عن الصادق جعفر بن محمد ﷺ قال: جاء رجل الى رسول اللہ ﷺ وقد بليّ ثوبه فحمل اليه إثني عشر درهما فقال: يا علي خذ هذه الدراهم فاشترلي ثوباً ألبسه قال علي : فجئت الى السوق فاشتريت له قميصا باثني عشر درهما وجئت به الى رسـول الله فنظر اليه فقال: يا علي غير هذا أحب إلي أترى صاحبه يقيلنا؟ فقلت: لا أدري فقال: انظر فجئت الى صاحبه فقلت: إن رسول اللہ ﷺ قدكرة هذا يريد ثوباً دونه فأقلنا فيه فرد علي الدراهم وجئت بها إلى رسول الله فمشى معي (معه - خ) الى السوق ليبتاع قميصاً فنظر الى جارية قاعدة على الطريق تبكي فقال لها رسول الله: ما شأنك؟ فقالت: يا رسول الله إن أهل بيتي أعطوني أربعة دراهم لأشتري لهم بها حاجة فضاعت فلا أجسر أن أرجع إليهم. فأعطاها رسول الله أربعة دراهم وقال: ارجعي الى أهـلك ومـضـى رسـول الله الى السوق فاشترى قميصاً باربعة دراهم ولبسه وحمدالله وخرج فرأى رجلا عرياناً يقول: من كساني كساه الله من ثياب الجنة فخلع رسول الله قميصه الذي اشتراه كساه السائل ثـم رجع الى السوق فاشترى باربعة التي بقيت قميصا آخر فلبسه وحمدالله ورجع الى منزله وإذا الجارية قاعدة على الطريق فقال لها رسول اللہ ﷺ: مالك لاتأتين أهـلك، قـالت: يا رسول الله إني قد أبطأت عليهم وأخاف أن يضربوني فقال رسول الله: مـري بـيـن يـدي.ودليني على أهلك فجاء رسول الله حتى وقف على باب دارهم ثم قال: السلام علیکم یا أهل الدار فلم يجيبوه فأعاد السلام فلم يجيبوه فأعاد السلام فقالوا: عـليك السلام يا رسول الله ورحمة الله وبركاته فقال لهم: ما لكم تركتم إجابتي في أول السلام والثاني؟ قالوا: يا رسول الله سمعنا سلامك فاحببنا أن تستكثر مـنـه فـقـال رسـول الله: ان هـذه
الجارية أبطأت عليكم فلا تؤخذوها فقالوا: يا رسول الله هي حرة لممشاك فقال رسـول الله: الحمدالله ما رأيت اثني عشر درهما أعظم بركة من هذه كسى الله بها عريانين واعتق بها نسمة.
امام جعفر ع نے فرمایا کہ ایک شخص رسول خدا کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا در حالیکہ آپ کا لباس تر تھا۔ دو شخص 12 درہم لایا اور اور کہنے لگا: یہ درہم لے لیجئے اور ان سے لباس خرید کر پہن لیجئے ۔ حضرت علی فرماتے ہیں: میں بازار کی طرف گیا اور میں نے آپ کے لئے بارہ درہم کی ایک قمیض خرید لی اور لا کر رسول خدا کو دے دی ، جب آپ نے اس کو دیکھا تو فرمایا: اے علی ، اس کے علاوہ کوئی دوسری مجھے زیادہ پسند ہے، کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کا مالک اسے واپس لے لے گا؟ میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم تو آپ نے فرمایا: ذرا دیکھوتو ۔ لہذا میں اس کے مالک کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ رسول خدا کو یہ ناپسند ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی اور میر خرید میں تو تم اسے واپس لے لو۔ اس نے مجھے درہم واپس کر دیئے اور میں انہیں لے کر رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔ اب کی مرتبہ رسول خدا میرے ساتھ بازار کو چلے تا کہ ایک قمیض خرید فرمائیں لیکن جب آپ نے راستہ پر بیٹھی ایک لونڈی کو روتے دیکھا تو رسول خدا نے اس سے پوچھا کیا بات ہے؟ تم رو کیوں رہی ہو؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول میرے گھر والوں نے مجھے چار درہم دیئے
تھے تا کہ میں ان کی بتائی ہوئی چیز خریداؤں مگر وہ تملمجھ سے کھو گئے اور اب مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ ان کے پاس جاؤں ،رسول خدا نے اس کو چار
درہم عطا کیے اورفرمایا: اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ۔ رسول خدا بازار کی جانب گامزن ہوۓ ،وہاں جا کر آپ نے چار درہموں سے ایک قمیض خرید کر پہن لی اور اللہ عز وجل کی حمد بجالائے کہ آپ کی نگاہ ایک برہنہ شخص پر پڑی جو کہ رہا تھا: جوشخص مجھے لباس پہناۓ گا اللہ اس کو جنت کا لباس پہناۓ گا تو رسول خدا نے اپنی خریدی ہوئی قمیض اتار دی اور سائل کو پہنادی۔ اس کے بعد آپ بازار کی جانب گئے اور بقیہ چار درہم کی ایک کمی خرید کر پہن لی اوراللہ عزوجل کی حمد بجالاتے ہوئے اپنے گھر کی جانب روانہ ہوئے کہ وہی لونڈی ( پھر سے ) راستہ میں بیٹھی روتی نظر آئی تو رسول خدا نے فرمایا: کیا بات ہے تم اپنے گھر والوں کے پاس کیوں نہیں جائیں
؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ، کافی دیر ہو چکی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ مبادا وہ مجھے ماریں تو رسول خدا نے فرمایا: میرے آ گے آ گے چلو اور اپنے گھر
کی طرف میری رہنمائی کرو۔
رسول خدا اس کے گھر تک آکر دروازہ پر کھڑے ہو گئے اور کہا: السلام علیکم اے اہل خانہ! مگر ان لوگوں نے کوئی جواب نہ دیا، رسول خدا نے دو بار سلام کیا مگر کوئی جواب نہ ملنے پر ایک مرتبہ پھر آپ نے سلام کیا تو اس با رانہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول علیک السلام آپ عـلـيـه الـصلوة والسلام نے فرمایا: کیا بات ہے کہ تم لوگوں نے پہلی اور دوسری مرتبہ میرے سلام کا جواب نہیں دیا ؟ ان لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ، ہم نے آپ کے کلام کو سن لیا تھا مگر ہم چاہتے تھے کہ آپ مزید کلام فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: اس لونڈی کو کافی دیر ہوگئی ہے لہذا اسے اذیت مت دینا۔ تو ان لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول، آپ کی مبارک تشریف آوری کی بناء پر یہ لونڈی اب آ زاد ہے! رسول خدا نے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لئے مخصوص ہیں، میں نے ان 12 درہمون سے زیادہ برکتی درہم نہیں دیکھے کہ جن کی وجہ سے دو لوگوں کو لباس پہنایا گیا اور ایک مخلوق کو آزاد کروایا گیا ہو۔
[٢٧/٧٧٤] ويأتي من حديث الكافي بسند صحيح عن الباقر : دخل يه ودي على رسول اللہ ﷺ. فقال: السام علیکم فقال رسول الله: عليك، ثم دخل آخر فقال: مثل ذلك فرد عليه كما رد على صاحبه ثم دخل آخر فقال مثل ذلك فرد رسول الله كـمـا رد على صاحبيه... (وقوله لعائشة) ان ...... لوكان ممثلا لكان مثال سوء.............الخ
حضرت امام محمد باقر (ع) نے فرمایا کہ یہ ودی رسول اللہ (ص) کے پاس آئے حضرت عائشہ بھی حضرت کے قریب تھیں انھوں نے اس طرح سلام کیا۔ تمہارے اوپر سام ہو۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا علیکم (تمہارے اوپر ) اسی طرح دوسرے اور تیسرے یہ ودی نے سلام کیا رسول اللہ (ص) نے اسی طرح جواب دیا عائشہ کو غصہ آیا کہنے لگیں۔ تم پر ہلاکت ہو لع نت ہو اے یہودیو اے.... اور ..... کے بھائیو۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا اے عائشہ بری بات اگر مجسم ہوتی تو اس کی صورت بدی کی سی ہوتی اور نرمی باعث زینت ہوگی۔ جہاں ہو اور باعث عیب ہوگی جہان نہ ہو۔ عائشہ نے کہا کیا آپ نے ان کا قول ایسا علیکم نہیں سنا۔ فرمایا سنا تو کیا تم نے اس کا جواب جو میں نے علیکم دیا وہ نہیں سنا جب مرد مسلمان سلام کرے تو کہو السلام علیکم نہیں سنا۔ فرمایا سنا تو کیا تم نے اس کا جواب جو میں نے علیکم دیا وہ نہیں سنا۔ جب مرد مسلمان سلام کرے تو کہو السلام علیکم اور copper کرے تو فقط علیکم کہو۔
[٢٨/٧٧٥] الكافي: عن محمد بن يحيى عن ابن عيسى عن معمر بن خلاد عن ابي الحسن إن رسول اللہ ﷺ كان يأتيه الأعرابي فـيهدي له الهـديـة ثـم يـقـول مـكـانه: أعطنا ثمن هديتنا فيضحك رسول اللہ ﷺ وكان اذا اغتم يقول: ما فعل الأعـرابـي ليـتـه أتانا.
امام الرضا ع نے فرمایا رسول اللہ کے رسول (ص) کے پاس ایک اعرابی آیا کرتا تھا اور تحفے لاتا تھا پھر کہتا میرے ہدیہ کی قیمت دیجئے رسول اللہ (ص) اس بات پر ہنستے تھے اور جب رنجیدہ ہوتے تھے تو فرماتے تھے کاش اس وقت وہ اعرابی ہوتا اور اپنے ہدیہ کی قیمت مانگتا۔
[٢٩/٧٧٦]الکافی : عن محمد بن يحيى عن احمد بن محمد عن الوشاء عن جميل بن دراج عن أبي عبدالله ﷺ قال: كان رسول اللہ ﷺ یقسم لحظاته بين أصحابه فينظر الى ذاو ينظر الى ذا بالشوية قال: ولم يبسط رسول اللہ ﷺ رجـليـه بـيـن أصحابه قـط وان كـان ليصافحه الرجل فما يترك رسول الله يده من يده حتى يكون هو التارك فلما فطنوا لذلك كان الرجل اذا صافحه قال بيده فنزعها من يده.
امام جعفر ع نے فرمایا کہ رسول ص اپنے پر صحابی کو برابر وقت دیتے ، آپ ص کو صحابہ کی محفل میں کبھی ٹانگیں پھیلائے نہین دیکھا گیا ، جب آپ ص کسی سے ہاتھ ملاتے تو جب تک وہ شخص اپنا ہاتھ نہ کھینچ لے آپ ص اپنا ہاتھ نہ کھینچتے ۔ جب صحابہ کو یہ بات معلوم ہوگئی تو وہ اپنا ہاتھ جلدی واپس کھینچ لیتے ۔
[۳۰/۷۷۷] فروع الكافي: عن العدة عن أحمد بن محمد عن ابن محبوب عن العلاء عن محمد بن مسلم عن أبي جعفر ﷺ قال: قال النبي ﷺ : ما زال جبرئيل يوصيني بالسواك حتى خفت ان أخفى أوأذرد.
امام جعفر ع سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل ع مجھے دانت صاف کرنے کی تلقین کرتے رہے یہاں تک کہ میں اپنے دانت گرنے سے ڈرنے لگا۔
Gallery
Tap any image to view full screen