Back to حضرت محمد بن عبد اللہ ص

آنحضرت ص کے جسم اقدس کے چوبیس معجزات

آنحضرت ص کے جسم اقدس کے چوبیس معجزات
آنحضرت ص کے جسم اقدس کے چوبیس معجزات
آنحضرت ص کے جسم اقدس کے چوبیس معجزات
آنحضرت ص کے جسم اقدس کے چوبیس معجزات
آنحضرت ص کے جسم اقدس کے چوبیس معجزات

آنحضرت ص کے جسم اقدس کے چوبیس معجزات..........!!!

 

١.یہ کہ جب آپ دھوپ میں کھڑے ہوتے یا راستہ چلتے تو جسم اقدس کا سایہ نہ ہوتا.

 

٢.جو شخص آنحضرت ص کے ساتھ چلتا وہ کتنا ہی لمبا ہوتا لیکن حضرت کا سر اور گردن اس سے زیادہ بلند دکھائی دیتی.

 

٣.یہ کہ ابر ہمیشہ دھوپ میں آپ کر سر اقدس پر سایہ فگن رہتا تھا.اور آپ کے ساتھ چلتا رہتا تھا.

 

٤.یہ کہ کوئی پرندہ آپ کر سر کے اوپر سے پرواز نہیں کرتا تھا. اور کوئی جانور مثل مکھی و مچھر وغیرہ آپ کے جسم اقدس پر نہیں بیھٹتا تھا.

 

۵. آپ اپنی پشت کی جانب سے بھی اسی طرح دیکھتے تھے.جس طرح اپنے سامنے سے دیکھتے تھے.

 

۶۔ یہ کہ ہمیشہ آپ کی پیشانی مبارک سے نور سا طع رہتا اور چاند کے مانند اس معدن انوار کی جبین مبارک سے شعاع در و دیوار پر چمکتی تھی اور جب دست مبارک بلند کرتے تو حضرت کی انگلیاں دس شمعوں کے مانند روشنی دیتی تھیں۔۔

 

۷۔ آنحضرت ص کی خوشبوئے مبارک اور وہ ایسی تھی کہ حضرت جس راستے سے گزر جاتے تھے دو روز تک بلکہ زیادہ دنوں تک جو شخص اس راستہ سے جاتا وہاں کی خوشبو سے سمجھ جاتا کہ آنحضرت ص اس راہ سے گزرے ہیں۔ حضرت کا پسینہ لوگ جمع کرتے تھے جو بہترین خوشبو دار عطر ہوتا لوگ دوسرے عطروں میں اس کو داخل و شامل کرتے تھے۔ اور پانی کا ڈول حضرت کے سامنے لاتے اور حضرت اس میں ایک چلو پانی منہ میں لے کر مضمضہ کرکے اس ڈول میں ڈال دیتے تو تمام پانی مشک سے زیادہ خوشبو دار ہوجاتا۔۔

 

۸۔ یہ کہ آنحضرت ص کی نیند اور بیداری یکساں تھی۔ نیند آپ کے قوائے ادراک کو معطل نہیں کرتی تھی آپ فرشتوں کی آواز سنتے تھے۔ دوسرے لوگ نہیں سنتے تھے حضرت فرشتوں کو دیکھتے تھے اور دوسرے لوگ نہیں دیکھتے تھے جو کچھ لوگوں کے دلوں میں گزرتا تھا حضرے اس پر مطلع ہوجاتے تھے۔

 

۹۔ آپ کے مشام میں کبھی بدبو نہیں پہنچتی تھی۔

 

۱۰۔ حضرت ص اپنا آپ دہن جس کنوئیں میں ڈالتے اس کی برکت سے کنواں پانی سے بھرجاتا تھا اور جس درد والے کے جسم پر مل دیا جاتا وہ شفا پاتا تھا حضرت کا دست مبارک جس غذا کو مس کردیتا اس میں اس قدر برکت ہوجاتی کہ مختصر غذا کثیر آدمیوں کو سیر کردیتی تھی چنانچہ ایک بکری کے بچہ اور ایک صاع جو سے سات سو زیادہ افراد سیر ہوئے۔

 

۱۱۔ تمام زبانوں کو حضرت سمجھتے اور ہر زبان میں گفتگو کرتے تھے۔

 

۱۲۔ حضرت کی داڑھی میں سترہ سفید بال تھے جو آفتاب کے مانند چمکتے تھے۔

 

۱۳۔ حضرت کی پشت مبارک پر مہر نبوت تھی جس کا نور آفتاب کے نور پرچھا جاتا تھا۔

 

۱۴۔ حضرت کی مبارک انگلیوں سے پانی جاری ہوا جس سے جماعت کثیر سیراب ہوئے۔

 

۱۵۔ حضرت نے اپنی انگلی کے اشارہ سے چاند کے دو ٹکڑے کردیئے۔

 

۱۶۔ یہ کہ کنکریاں آپ کے دست مبارک میں تسبیح کرتی تھیں اور لوگ سنتے تھے۔

 

۱۷۔ یہ کہ آپ ختنہ شدہ و ناف بریدہ اور خون وغیرہ کی آلائش سے پاک پیدا ہوئے اور ولادت کے وقت پیروں کی طرف سے پیدا ہوئے نہ کہ سر کی جانب سے۔ جب زمین پر آئے تو مشک سے بہتر خوشبو آپ کے جسم اقدس سے پھیل گئی اور دنیا کو معطر بنا دیا تھا پھر حضرت کعبہ کی جانب سجدہ میں گر پڑے جب سجدہ سے سر اٹھایا تو ہاتھ آسمان کی جانب بلند کئے اور خدا کی وحدانیت اور اپنی رسالت کا اقرار کیا۔پھر آپ کے جسم اقدس سے ایک نور ساطع ہوا جس نے مشرق و مغرب کو روشن کردیا۔

 

۱۸۔ ہرگز آپ محتلم نہیں ہوئے اور نہ کبھی شیطانی خواب دیکھا۔

 

۱۹۔ یہ کہ جو فضلہ حضرت سے جدا ہوتا۔ مشک کی خوشبو اس سے آتی اور کوئی اس کو دیکھنے نہ پاتا تھا بلکہ زمین مامور تھی کہ اس کو اپنے اندر چھپا لے۔

 

۲۰۔ یہ کہ جس چوپائے پر حضرت سوار ہوتے درست و صحیح ہوجاتا اور کبھی بوڑھا نہ ہوتا۔

 

۲۱۔ یہ کہ کوئی قوت میں آپ سے مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔

 

۲۲۔ یہ کہ تمام مخلوقات آپ کی حرمت کی رعایت کرتی تھی اور جس پتھر اور درخت کے پاس سے آپ گزرتے وہ حضرت کی تعظیم کے لیے خم ہوجاتا اور حضرت کو سلام کرتا تھا اور آپ کے بچپن میں چاند آپ کی گہوارہ جنبانی کرتا تھا۔

 

۲۳۔ یہ کہ حضرت نرم زمین پر سے گزرتے تو آپ کے پیروں کے نشانات نہیں پڑتے تھے اور جب پتھر پر چلتے تھے آپ کے پیروں کا نشان پڑتا تھا۔

 

۲۴۔ یہ کہ خداوند عالم نے لوگوں کے دلوں میں حضرت کی ہیبت ڈال دی تھی کہ باوجود آپ کی اس قدر تواضع و شفقت و مرحمت کے کوئی آپ کے چہرہ پر پورے طور سے نظر نہیں کرسکتا تھا اور جو کافر و منافق حضرت کو دیکھتا خوف سے کانپنے لگتا اور دو ماہ کی راہ کے فاصلہ سے آپ کا رعب کافروں کے دلوں میں اثر کرتا تھا۔

 

📚 حق الیقین علامہ مجلسی، ص،۳۳،۳۵

 

🔴 روایت (معجزہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ):

 

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

 

"بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف گفتگو اور دلیل کے ذریعے ایمان لے آتے ہیں، اور بعض ایسے ہیں جو ایمان نہیں لاتے مگر جب آنکھوں سے معجزہ دیکھ لیں۔

 

ایک مرتبہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا:

'مجھے کوئی نشانی (معجزہ) دکھا دیجیے۔'

 

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے قریب موجود دو درختوں سے فرمایا:

'آپس میں قریب ہو جاؤ۔'

پس وہ دونوں درخت آپس میں قریب ہو گئے۔

 

پھر آپ نے فرمایا:

'اب الگ ہو جاؤ۔'

پس وہ دونوں درخت ایک دوسرے سے الگ ہو گئے اور ہر ایک اپنی اپنی اصل جگہ پر واپس چلا گیا۔

 

یہ منظر دیکھ کر وہ شخص ایمان لے آیا۔"

 

📚 حوالہ:

 

محمد بن الحسن الصفار (م 290 ھ)، بصائر الدرجات، ص 273

تحقیق و تصحیح: حاج میرزا حسن کوچہ باغی،

چاپ: منشورات الاعلمی، تہران، 1404 ھ

 

🔍 بررسی سند (راویوں کی حیثیت):

 

1. احمد بن محمد اشعری قمی → ثقہ، معتبر محدث، صاحبِ کتب۔

(رجال طوسی، باب الهمزة، ص 351)

 

2. حسین بن سعید اہوازی → ثقہ، صاحبِ تصنیفات۔

(رجال طوسی، ص 355)

 

3. محمد بن ابی عمیر → اصحابِ اجماع میں سے، شیخ طوسی نے ان کی توثیق کی ہے۔

(رجال طوسی، ص 365)

 

4. حماد بن عثمان الناب → ثقہ، جلیل القدر۔

(الفہرست، ص 115)

 

لہٰذا سند بالکل صحیح اور معتبر ہے۔

 

#تعلیمات_اہلبیت

#طالب_دعا

#بدر_علی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5