Back to حضرت محمد بن عبد اللہ ص

معجزہ شق القمر پہ اعتراضات کا جائزہ

*معجزہ شق القمر پہ اعتراضات کا جائزہ*

 

ایک اور اعتراض جو بعض بےخبر افراد شق القمر پر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر یہ واقعہ شق القمر کا اپنی اس اہمیّت کے ساتھ کہ جو وہ رکھتا ہے حقیقت پر مبنی ہوتا تو دُنیا کی تاریخوں میں اس کاذکر ملتا جب کہ ایسا نہیں ہوا ۔

 

یہ واضح کرنے کے لیے کہ اس اعتراض کی حقیقت کیا ہے اس مسئلہ کاتجزیہ اوراس کی تحلیل کی جاتی ہے ۔

 

(الف) یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ چاند ہمیشہ صرف آدھے کُرّئہ ارض سے نظر آ تا ہے اور سارے کُرّے ارض سے بیک وقت نظر نہیں آتا اسی وجہ سے زمین کے آدھے حصّہ کے لوگ تو اس حساب سے خارج ہیں یعنی ان کے اس واقعہ کے دیکھنے کا کوئی امکان نہی نہیں ہے ۔

 

(ب)اس نیم کُرّہ کے جو آدھے لوگ ہیں اُن میں کا سویا ہوا ہونا ممکن ہے ،چونکہ معاملہ آدھی رات کے بعد کا ہے اس لیے ساری دُنیا کے چھوتھائی افراد اس واقعہ سے باخبر ہوسکتے ہیں ۔

 

(ج) قابل رویت حصّہ میں بھی عین ممکن ہے کہ آسمان کاکوئی خاص حِصّہ ابرآلود ہو اور چاند کا چہرہ بادلوں میں پوشیدہ ہو ۔

 

(د) آسمانی حوادث افراد کی توجہ صرف اس صُورت میں اپنی طرف مبذول کرتے ہیں جب بجلیوں کی سی شدید کڑک اپنے اندر رکھتے ہوں یامکمل گرہن کی صُورت میں کہ جب چاند بالکل ہی غائب ہوجائے اور وہ بھی ایک طویل وقفہ کے لیے ،یہی وجہ ہے کہ اگر منجمین بے خبر رہتے ہیں ۔صرف وہ لوگ کہ جواجرامِ فلکی یعنی چاند وغیرہ کارصد گا ہوں میں مشاہدہ کرتے رہتے ہیں یا وہ لوگ کہ اتفاق سے جن کی نگاہ آسمان پر پڑجائے تو اُن کے لیے ممکن ہے کہ وہ ایسے واقعہ سے باخبر ہوں اور کچھ اورلوگوں کوبھی باخبر کر دیں یہی وجہ ہے کہ چاند کا مختصر وقت کے لیے رُو نما ہونے والا واقعہ جیسا کہ ابتدا میں سمجھا جاتا تھا، پُوری دنیا کے لوگوں کی توجہ تو جذب کرنے کاسبب نہیں بن سکتا ۔علی الخصوص اس زمانے کے لوگ کہ جو اجرامِ سمجھا جاتا تھا ،پُوری دنیا کے لوگوں کی توجہ تو جذب کرنے کاسبب نہیں بن سکتا ۔ علی الخصوص اس زمانے کے لوگ کہ جو اجرامِ سماوی کی اہمیّت کے اصولی طور پر بہت کم قائل تھے ۔

 

(ھ) علاوہ ازیں تاریخ میں مندرج مطالب اور ان کی نشرو اشاعت کے وسائل اس زمانے میں محدُود تھے ،یہاں تک کہ لکھے پڑھے افراد بہت کم تھے اور کتابیں صرف ہاتھ سے لکھی ہوئی ہوتی تھیں ۔اس وقت موجودہ دور کی کیفیّت نہیں تھی کہ اہم واقعات بجلی کی سی سُرعت کے ساتھ ریڈیو، ٹیلی ویژن اوراخبارات کے ذریعے تمام دنیا میں پھیل جاتے ہیں، اِن پہلوؤں کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو اس واقعہ کے غیر اسلامی تاریخوں میں مندرج نہ ہونے پر تعجب نہیں کرنا چاہیئے اور اس صُورتِ حال کو اس واقعہ کی نفی پر محمول نہیں کرنا چاہیئے ۔

 

اِس عظیم معجزہ کے وقوع کی تاریخ:-

 

راویانِ حدیث اورمفسّرین میں اس بات پر قطعاً کوئی اختلاف نہیں ہے کہ شق القمر کامعجزہ پیغمبراسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت سے پہلے قیام ِ مکّہ کے زمانے میں رُونما ہوا ۔لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ یہ واقعہ ابتدائے بعثت ِ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ہوا ہے(١)

 

جب کہ بعض دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ قیامِ مکّہ کے آخری دور میں ہجرت کے قریب ہوا اور وہ بھی کچھ حقیقت کے متلاشی افراد کے تقاضے پر ۔ وہ مدینہ میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عقبہ میں آپ کی بیعت کی (٢)

 

 بعض روایات سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے شق القمر کااعجاز دکھانے کی عِلّت یہ تھی کہ جادو اور سحر کے اثرات زمینی امور سے متعلق ہوتے ہیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ اس بات کااطمینان حاصل کرلیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات جادو نہیں ہیں(٣) ۔

 

متعصّب اور ہٹ دھرم لوگوں کی ایک جماعت نے اس معجزہ کو دیکھ کر کہا کہ ہم اسے قبول کریں گے یہاں تک کہ شام اور یمن کے قافلے آن پہنچیں اور ہم اُن سے سوال کریں کہ کیا اُنہوں نے یہ واقعہ دیکھا ہے لیکن جب آنے والے مسافروں نے اس واقعہ کی تصدیق کی تب بھی وہ مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے (٤) ۔

 

آخری نکتہ کہ جس کا ذکر یہاں ضروری ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے اور بہت سے معجزات کی طرف یہ معجزہ بھی تاریخ اور ضعیف روایتوں کے خرافات میں آمیزش کاشکار ہوگیا ہے. جس کی وجہ سے اس کا چہرہ غور وفکر کرنے والوں کی نظر سے اوجھل ہوگیا ۔مثلاً یہ کہ چاند کے ایک ٹکڑے کا زمین پر آنا وغیرہ مناسب یہ ہے کہ ایسی خرافات کواس واقعہ سے جُدا رکھنا چاہییٔے تاکہ معجزہ کی اصل حقیقت اس میں ملوّث نہ ہو ۔

 

١۔"" بحارالا نوار "" جلد ٧١ صفحہ ٣٤٥(حدیث ٨) ۔

٢۔"" بحارالا نوار "" جلد ٧١ صفحہ ٣٥٢(حدیث ١) ۔

٣۔"" بحارالا نوار "" جلد ٧١ صفحہ ٣٥٥(حدیث ١٠) ۔

٤۔ درالمنثورجلد٦،صفحہ ١٣٣۔

 

از

آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی.

 

۔

 

۔

 

حجت الاسلام و المسلمین قبلہ شیخ محسن علی نجفی صاحب اپنے حاشیہ قرآن البلاغ المبین میں سورہ آل عمران کی آیت نمبر 49 کے ذیل میں راقم ہیں: 

 

ولایت تکوینی : انبیاء اور اولیاء علیہم السلام اظہار حجت و اثبات حق کے لیے باذن خدا عالم خلقت کے تکوینی امور میں تصرف کرتے ہیں۔وہ مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور شق القمر کرتے ہیں نیز بوقت ضرورت دیگر معجزات رکھتے ہیں جو عالم تخلیق و تکوین سے مربوط ہیں۔ البتہ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ یہ تصرف اور اختیار اللہ کے تصرف کے مقابلے میں نہیں بلکہ اللہ کے تصرف و اختیار کے ذیل میں آتا ہے۔ اس قسم کے تصرفات کے ساتھ عام طور پر باذن اللہ کا ذکر آتا ہے۔

 

۔

 

۔

 

شق القمر ایک ایسا معجزہ تھا جس کی گواہی خود قران کریم میں دی گئی ہے اور صحیح احادیث سے اس عظیم الشان معجزے کا ثبوت ملتا ہے.. اس پر ایمان رکھنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے شعب ابی طالب میں محصوری کے دن اسی طرح گزر رہے تھے مقاطعہ کا دوسرا سال تھا اور حج کے دن تھے.. آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض صحابہ کے ساتھ مِنیٰ میں تھے.. آسمان پر بدر کامل تھا.. ایسے میں کفّار نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو اس چاند کے دو ٹکڑے کرکے دکھائیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے اس مطالبہ کو پورا کرنے کی دعا فرمائی اور چاند کی طرف انگلی سے اشارہ کیا تو چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے ایک کوہ حرا کے اوپر اور دوسرا اس کے دامن میں تھا جب سب لوگوں نے صاف طور پر یہ معجزہ دیکھ لیا تو یہ دونوں ٹکڑے پھر آپس میں مل گئے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت چاند کے دو ٹکڑے ہوۓ تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے میدان میں موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگو ! گواہ رہنا اور چاند کا ایک ٹکڑا دوسرے سے الگ ہو کر پہاڑ کی طرف چلا گیا تھا

صحیح بخاری حدیث 3869

 

چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا یہ معجزہ بہت صاف تھا.. قریش نے اسے بڑی وضاحت سے کافی دیر تک دیکھا اور آنکھ مل مل کر اور صاف کر کرکے دیکھا اور ششدر رہ گئے لیکن پھر بھی ایمان نہیں لائے بلکہ کہا کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور حقیقت یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری آنکھوں پر جادو کردیا ہے.." اس پر بحث و مباحثہ بھی کیا.. کہنے والوں نے کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم پر جادو کیا ہے تو وہ سارے لوگوں پر تو جادو نہیں کر سکتے.. باہر والوں کو آنے دو دیکھو کیا خبر لے کر آتے ہیں بعد میں کچھ لوگ سفر سے واپس آئے اور تصدیق کی کہ ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا ہے لیکن پھر بھی کفار ایمان نہیں لائے اور اپنی ڈگر پر چلتے رہے.. صحابہ کرام میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت حُذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اس کے عینی شاہد ہیں قرآن مجید میں سورۂ قمر کی ابتدائی آیات میں شق القمر کا ذکر ہے قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا اور اگر کافر کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے.

 

۔

 

۔