بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

🔴 شق القمر 🔴

 

چاند کا شق ہونا معجزات حضر ت محمد ص میں نہایت اہم اور متواتر کی حثیت رکھتا ہے متواتر اس خبر کو کہتے ہیں جس کی گواہ اتنے افراد دیں کہ سب کا جھوٹ پر ہونا ممکن نا ہو. یہی دعوہ آیت اللہ محسن علی نجفی نے بلاغ القرآن میں، آیت اللہ محمد حسین نجفی نے تفسیر فیضان الرحمن میں، محقق ابن ابي الفتحفالاربلي المتوفى ٦٩٣ هجري نے كشف الغمة میں کیا ہے

 

ہم شق القمر کی تفصیل بتائیں گے اور پھر جس جس کتاب میں اس کا ذکر ہے وہاں سے اصل متن درج کریں گے

 

مکہ میں کچھ کفار اور مشرکین نے پیغمبر اسلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عر کیا آپ آپنے دعوہ میں سچے ہیں تو آپ چاند کے دو ٹکڑۓ کرکے دکھائیں آپ نے فرمایا اگر میں ایسا کرکے دکھا دوں تو ایمان لے آؤ گے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا. حضرت محمد ص نےاشارہ کیا تو چاند دو ٹکڑۓ ہوگیا اور پھر دونوں ٹکڑۓ باہم جڑگئے اور آنحضرت نام بنام لوگوں سے فرماتے جاتے اۓ فلاں اۓ فلاں گواہ رہنا مگر لوگوں نے کہا پیغمبر نے جادو کردیا ہےاور چلے گے.

 

ارشاد باری تعالی ہے

 

📜 "قیامت قریب آگی ور چاند پھٹ گیا"

 

📚 القمر آیت ۱

 

قیامت قریب یعنی چاند کے شق ہونے کو علامت قیامت گردانا گیا ہے چونکہ جب قیامت آۓ گی تو چاند شق ہوجاۓ گا اور نظام کائنات درہم برہم ہوجاۓ گا نشانی قیامت میں سے ایک نشانی شق القمر بھی ہے بعض اس آیت کو مستقبل کے صیغہ میں لیتے ہیں جو قابلے قبول نہیں شق القمر ماضی کا صیغہ ہے چونکہ پہلے نبی ص نے چاند شق کیا پھر آیت نازل ھوئی جیسا کہ آگے آۓ گا

 

اس واقع کو ہم تفسیر، حدیث تاریخ اور اقوال علما سے پیش کرتے ہیں

 

🔴 کتب تفاسیر:

 

۱:الامام المحدث و المفسر ابي الحجاج مجاهد بن جبر التابعي المتوفى ١٠٤ هجري

 

📜 انبأابو القاسم عبد الرحمن بن الحسن بن أحمد بن محمد الهمذاني قراءة عليه قال حدثنا إبراهيم بن لحسين بن علي الكسائي الرازي قال ثنا أدم بن ابي أياس قال ثنا ورقاء عن حصين بن عبد الرحمن عن محمد بن جبير بس مطعم عن ابيه عن جده في قوله اقتربت الساعة وانشق القمر قال انشق القمر ونحن بمكة

 

📃 جبیر بن مطعم آپنے آباواجداد سے مذکورہ آیت پر روایت بیان کرتے ہیں کہ جن چاند دو ٹکڑۓ ہوا تو ھم مکہ میں ہی تھے

 

📚 تفسیر المجاھد جلد ٢ صفحة ٦٣٥ مطبع اسلام أباد الباكستان

 

٢: امام عبد الرزاق

 

📜 امام عبد الرزاق بن همام قال انا معمر عن الكبي في قوله تعالى وانشق القمر قال كان ابن مسعود يقول انشق القمر حتى رأيت حراء بيبن شقيه

 

📃 معمر نے کلبی سے اللہ تعالی کے قول چاند کے دو ٹکڑۓ کا پوچھا تو کہا ابن مسعود نے کہا کہ چاند کے دو ٹکڑۓ ہوۓ اور ان ٹکڑوں کے درمیان سے مقام حرا دکھائی دیا

 

📚 الامام عبد الرزاق بن همام المتوفى ٢١١ هجري جلد: ٣ صفحة ٢٥٧

 

٣: ابوالليث السمرقندي

 

📜 قال السمر قندي (وانشق القمر) وذلك أن هل مكة سألوا رسول ص علامة لنبوته فانشق القمر نصفين وروي عن عبد الله بن مسعود أنه قال كنا مع رسول الله ص فانشق القمر نصفين فرأيت حرا بين فلقتي القمر

 

📃 مفسر سمرقندی چاند کے دو ٹکڑۓ والی آیت کی تفسیر میں لکھتا ہے کہ اہل مکہ اپ ص سے علام نبوت دیکھنے آۓ تو آپ نے چاند کے دو ٹکڑۓ کردیے جیسا کہ ابن مسعور سے روایت ہے کہ ھم نبی ص کے ساتھ تھے جب چاند کے دو ٹکڑۓ ہوۓ اور ان کے درمیان سے مقام حرا دیکھائی دۓ رہا تھا

📚 تفسير السمرقندي جلد ٣ صفحة ٣٤٩

مصنف ابوالليث السمرقندي المتوفى ٣٨٣ هجري

 

٤: السمعاني المتوفى ٤٨٩ هجري

 

📜 قال وعن ابن عباس أن المشركين سألو ا من النبي أية وروي انهم قالواله ان كنت صادقا فشق القمر لنا حتى نرى قطعة منه على أبي قبيس و قطعة منه على فدعا الله تعالى و انشق القمر ما أرادوا ققال النبي ص اشهدوا اشهدوا

 

📃 حضرت عباس فرماتے ہیں کہ کچھ مشرکین جن میں ابی قیس بھی تھا رسول ص کے پاس آۓ اور کہا اگر آپ سچے ہیں تو چاند کے دو ٹکڑۓ کر دکھائے آپ ص نے دعا کی اور چاند کے دو ٹکڑۓ ہو گے اور آپ نے کہا اۓ افراد گواہ رہنا

 

📚 تفسير السمعاني جلد ٥ صفحة ٣٠٦

مصنف السمعاني

 

🔴 کتب احادیث:

 

١:حضرت علي ابن ابي طالب ع

 

📜 قال ابي جعفر محمد بن الحسن الطوسي المتوفى ٤٦٠ هجري في كتاب الامالي: اخبرنا ابن الصلت قال حدثنا ابن عقدة قال حدثني علي بن محمد بن علي الحسيني قال حدثنا جعفر بن محمد بن عيسى قال حدثنا عبيد الله ابن علي عن علي بن موسى ع عن ابيه عن جده عن ابائه عن علي ابن ابي طالب ع قال انشق القمر بمكة فلقتين فقال رسول الله ص اشهدوا اشهدوا بهذا

 

📃 حضرت علی ع فرماتے ہیں چاند کے دو ٹکڑۓ مکہ میں ہوۓ جب ٹکڑۓ ہوۓ تو آپ ص نے فرمایا گواہ رہنا

 

📚 امالي شيخ الطوسي صفحة ٢٤١مطبع قم ايران

 

٢: حضرت عبد الله بن مسعود

 

📜 حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا سفيان عن ابن ابي نجيح عن مجاهد عن ابي معمر عن ابن مسعود انشق القمر على عهد رسول الله ص شقتين حتى نظروا إليه فقال رسول الله ص اشهدوا

 

📃 حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں چاند کے دو ٹکڑۓ نبی ص کے عہد میں ہوۓ آپ نے اشارہ کیا کہ دو ٹکڑۓ اور گیا آپ ص نے فرمایا گواہ رہنا

 

📚 كتاب المسند امام احمد بن حنبل جلد١ صفحة ٢٧٧ مطبع بيروت لبنان 

 

٣) حضرت عبد الله بن عباس رض

 

📜 (سند) عن عبد الله بن عباس ان لقمر انشق على زمان رسول ص

ترجمة

 

📃 حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں چاند کے دو ٹکڑۓ نبی ص کے دور میں ہوۓ

 

الصحيح البخاري جلد ٤ صفحة ٢٤٤

 

٤: حضرت انس بن مالك 

 

📜 قال انس انشق القمر على عهد رسول الله ص

 

📃 حضرت انس فرماتے ہیں کہ چاند کے دو ٹکڑۓ عہد رسول ص میں ہوۓ

 

📚 المسند الطيالسي صفحة ٢٦٥

 

📜 وقال انس انه حدثهم أن اهل مكة سألوا رسول الله ص ان يريهم أية فاراهم انشقاق القمر

 

📃 حضرت انس فرماتے ہیں کہ اہل مکہ نے حضور ص سے معجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا تو اپ نے انہیں چاند کے دو ٹکڑۓ کر دکھاۓ

 

📚 صحیح بخاری جلد ۴ صفحہ ۱۸۶

 

یہ معجزہ اتنا تواتر ہے کہ بے شمار سند سے محدثین مورخین و مفسیرین نے اسے درج کیا

 

مصادر الحديث

 

امام احمد بن حنبل المتوفی۲۴۱ انے اس معجزہ کو ۱۱ اسناد کے سے درج کیا

 

📚 المسند امام احمد جلد ١ صفحة ٣٧٧،٤١٣، ٤٤٧، ٤٥٦

📚 المسند امام احمد جلد ٣ صفحة ١٦٥، ٢٧٥، ٢٧٨

📚 المسند امام احمد جلد ٤ صفحة ٨٢

📚 المسند امام احمد جلد ٥ صفحة ٢١٩

 

٢:امام بخاري المتوفی ۲۵۶ ھجری نے اسے ۱۲ اسناد کے ساتھ آپنی کتاب میں درج کیا ہے

 

📚 الصحيح البخاري جلد٤ صفحة ١٨٦، ٢٤٣، ٢٤٤

📚 الصحيح البخاري جلد ٦ صفحة ٥٢، ٥٣

 

٣: امام مسلم المتوفى ٢٦١ هجري نے اس معجزہ کو ۸ اسناد کے ساتھ درج کیا

 

📚 الصحيح امام مسلم جلد ٨ صفحة ١٣٢، ١٣٣

 

۴:امام ابو عيسى الترمذي ٧ اسناد كے ساتھ اس معجزہ کو درج کرتے ہیں

 

📚 السنن الترمذي جلد ٥ صفحة ٧١، ٧٢

 

۵:امام الحاكم المتوفى ٤٠٥ هجري اس معجزۓ کو ۷ اسناد کے ساتھ درج کرتے ہیں

 

📚 اللستدرک الحاکم جلد ۲ صفحہ ۴۷۱، ۴۷۲

 

۶:امام ابی داود الطیالسی المتوفی ۲۰۴ ھجری نے اس معجزہ کو ۵ اسناد کے ساتھ درج کیا ہے

 

📚 المسند الطيالسي صفحة٣٧، ٣٧، ٢٥٧، ٢٦٥

 

۷:ابي جعفر محمد بن الحسن الطوسي المتوفى ٤٦٠ هجري نے شق القمر کو درج کیا ہے

 

📚 الامالي شيخ الطائفة صفحة ٣٤١ مطبع قم

 

۸:الشيخ العلامة زين المحدثين محمد بن الفتال النيسابوري المتوفي ۵۰۸ هجري نے شق القمر کے معجزہ کو درج کیا ہے

 

📚 روضة الواعظين صفحة ٦٣ مطبع قم

 

۹:الشيخ محمد باقر مجلسي نے شق القمر کو درج کیا ہے

 

📚 بحارالانوار جلد ۳۵ صفحہ ۲۷۷

 

۱۰:امام اسماعيل الاصبهاني المتوفي ٥٣٥ هجري نے اسے ۲ اسناد کے ساتھ درج کیا ہے

 

📚 دلائل النبوةجلد ١صفحة ٢٤٢، ٢٤٧

 

🔴 مصادر تاريخ، سيرت و مناقب

 

۱۱:القاضي ابي الفضل عياض اليحصبي المتوفى ٥٤٤ هجري نے اسے ۴ اسناد کے ساتھ درج کیا ہے

 

📚 الشفا بتعریف حقوق المصطفی جلد ۱ صفحہ۲۸۱، ۲۸۲مطبع بيروت

 

۱۲:امام ابن عساکر۵۷۱ ھجری جنہوں نے ۷۰ جلدوں پر تاریخ مدینہ دمشق لکھی وہ اسے دس اسناد کے ساتھ اپنی تاریخ میں درج کیا جنکے حوالہ جات درج کردیتا ہو

 

📚 تاريخ مدينة دمشق جلد ٤ صفحة ٣٥٤

📚 تاريخ مدينة دمشق جلد ٤ صفحة ٣٥٥

📚 تاريخ مديبة دمشق جلد ٤ صفحة ٣٥٦

📚 تاريخ مدينة دمشق جلد ٤ صفحة ٣٥٧

📚 تاريخ مدينة دمشق جلد ٤ صفحة ٣٥٨

 

۱۳:الحافظ ابي بكر احمد بن علي الخطيب البغدادي المتوفى ٤٦٣ هجري اس معجرة كو آپنی کتاب تاريخ البغداد أو مدينة السلام ميں بیان کیا

 

📚 تاريخ بغداد أو مدينة السلام جلد ١٣ صفحة ٩٦ مطبع بيروت لبنان

 

۱۴:ابي عبد الله بن محمد بن جعفر بن حيان المتوفى ٣٦٩ هجري نے اسے سند کے ساتھ آپنی کتاب طبقاپ المحدثیں میں درج کیا ہے

 

📚 الطبقات المحدثین باصبھان جلد ۱ صفحہ ۶۲۰

 

۱۵:الامام الحافظ ابن شھر آشوب المتوفی ۵۸۸ ہجری نے شق القمر کے معجزہ کو درج کیا ہے

 

📚 مناقب آل ابی طالب جلد ۱ صفحہ ۱۰۶

 

۱۶:الشيخ زين الدين ابي محمد علي بن يونس العاملي المتوفى ٨٧٧ هجري نے شق القمر کے معجزہ کو درج کیا ہے

 

📚 الصراط المستقیم جلد ۱ صفحہ ۱۰۴

 

۱۷:قطب الدين سعيد بن هبة الله الراوندي نے اس معجزہ کو درج کیا ہے

 

📚 قصص الانبیا صفحہ ۲۷۴

 

🔴 کتاب علل و رجال

 

۱۸:الشيخ الحافظ أبي الحسن علي بن عمر ابن أحمد بن مهدي الدارقطني المتوفی ۳۸۵ ھجری نے اس معجزہ کو آپنی کتاب علل میں درج کیا ہے

 

📚 علل الدارقطنی جلد ۵ صفحہ ۱۶۹

 

۱۹:الحافظ ابي الوليد سليمان بن خلف بن سعد ابن أيوب الباجي المالكي المتوفى ٤٨٤ هجري نے اسی ثقہ راوی کے بیان میں درج کیا ہے

 

📚 التعديل والتجريح لمن خرج عنه البخاري في الجامع الصحيح جلد ٢ صفحة ٥٧٤

 

🔴 معجز شق القمر پر آئمہ محدثیں و مورخین کے اقوال

 

٢٠)الفقيه المحدث والمفسر الكبير قطب الدين الراوندي المتوفى ٥٧٣ هجري لكھتے ہیں شق القمر حضرت محمد ص کے معجزات میں سے ہے اور اس پر اجماع ہے

 

📚 الخرائج والجرائح جلد١ صفحة ١٩مطبع قم

 

٢١:الامام الحافظ ابن شهر أشوب المتوفى ٥٨٨ هجري لکھتے ہیں(مفہوم عبارت طویل ہے) مفسرین و محدثیں کا اجماع ہے کہ رسول ص نے چاند کے دو ٹکڑۓ کیے

 

📚 مناقب ابن شہر آشوب جلد ۱ صفحہ ۱۰۶

 

۲۳: قال ابو عیسی ترمذی المتوفی ۲۷۹ ھجری ھذا حدیث حسن صحیح

امام ترمذی شق القمر کو صحیح خبر قرار دیتے ہیں

 

📚 سنن ترمذی جلد ۵ صفحہ ۷۲ مطبع بیروت

 

۲۶:الامام الحافظ ابی عبد اللہ الحاکم النیشاپوری المتوفی ۴۰۵ ھجری لکھتے ہیں ھذا حدیث صحیح الاسناد یعنی شق القمر کی حدیث صحیح ہے

 

📚 المستدرک الحاکم جلد ۲ صفحہ ۴۷۲ مطبع بیروت لبنان

 

۲۵:الشيخ باقر مجلسي لکھتے ہیں شق القمر نبی ص کے معجزات میں سے ہیں

 

📚 بحار الانوار جلد۳۹ صفحہ ۷۴

 

۲۶:قال مورخ ديار بكري في السنة التاسعة من البعث كان انشقاق القمر

مورخ دیار بکری آپنی تاریخ خمیس میں لکھتا ہے کہ مبعث کے نویں سال شق القمر کا معجزہ ہوا

 

۲۷:قال مورخ مواھب اللدنیة ان انشقاق القمر كان مكة قبك الهجرة بخو خمسين سنين

مواھب کا مورخ لکھتاھے شق القمر کا واقعہ مکہ میں ھجرت سے تقریبا پانچ برس پہلے ہوا تھا

 

۲۹: فضل اللہ بن روز بہان اصفہانی المتوفی۹۲۷ ھجری لکھتے ہیں اور رات میں چاند کے دو ٹکڑۓ ہوگے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ چاندنی رات میں قریش نے آپ ص نے درخواست کی کہ آپ ص ہمیں معجزہ دیکھاۓ آپ ص نے انگشت مبارک سے چودھویں کے چاند کی طرف اشارہ کیا اور چاند کے دو ٹکڑۓ ہوگے

 

📚 چہاردہ معصوم ع صفحہ ۱۱۵ مطبع ایران

 

۳۰:حجتہ الاسلام السید نجم الحسن کراروی لکھتے یہ واقع چودھویں رات کو ہوا تھا اور اسکا ذکر تاریخ فرشتہ میں بھی ہے

 

📚 چودہ ستارۓ صفحہ ۲۷

 

۳۱: آیت اللہ محمد حسین نجفی لکھتے ہیں شق القمر پیغمبر اسلام کے مشہور معجزات میں سے ایک ہے جس پر قریبا تمام اسلامی مسالک و فرق سے تعلق رکھنے والے مسلمان کا اتفاق ہے احادیث صحیحہ و صریحہ جس واقعہ کے ثبوت موجود ہیں بلکہ بعض علما اکرام نے ان کے تواتر ہونے کا دعوہ کیا ہے جود الفاظ قرآن اس کی صداقت کے آئنہ دار ہیں

 

📚 تفسیر الرحمن جلد ۹ صفحہ ۳۴۵

 

۳۲:آیت اللہ محسن علی نجفی لکھتے ہیں یہ واقع ہجرت سے پانچ سال قبل کا ہے مشرکین نے ایک دن اپ ص سے کہا اگر آپ سچے ہیں تو چاند کے دو ٹکڑۓ کرکے دکھائے آپ ص نے کہا تم ایمان لے آؤ گے؟ لوگوں نے کہاں ہاں چنانچہ چودھویں کا چاند تھا رسول ص نے دعا کی چاند دو ٹکڑۓ ہو گیا آپ ص نے فرمایا اۓ فلاں اۓ فلاں گواہ رہنا(بحار انوار جلد ۱۷ صفحہ ۳۴۷) اس واقعہ کو اجلہ اصحاب نے روایت کیا ہے بعض کا دعوہ ہے کہ یہ متواتر ہے

 

📚 بلاغ القرآن صفحہ ۷۲۰

 

۲۴:حافظ صلاح الدین یوسف لکھتے ہیں یہ وہ معجزہ ہے جو اہل مکہ کے مطالبے پر دکھایا گیا چاند کے دوٹکڑۓ ہوگے حتی کہ لوگوں نے حرا کو اس کے درمیان دیکھا یعنی اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اس طرف اور ایک ٹکڑا دوسری طرف ہوگیا اور جمہور سلف و خلف کا یہی مسلک ہے

 

📚 تفسیر احسن البیان صفحہ ۸۶۴

 

۲۵: تاریخ فرشتہ ہندوستان کی مشہور تاریخ اس میں ذکر ہے کہ ملیبار کے لوگوں نے جھ ہندوستان کا علاقہ ہے اس واقعہ کا مشاہدہ کیا ہے اور اس علاقے کا راجہ جو بت پرست تھا اس معجزہ کے بعد مسلمان ہوگیا

 

📚 تاریخ فرشتہ مقالہ ۱۱

 

الحمد للہ ابھی بہت سی کتب ہمارۓ پاس موجود نہیں ورنہ مزید حوالہ جات دیتے

 

🖋 وسلام محسن علی جعفری (ابو بصیر الکوفی)

 

۔

۔

🔴 کیا معجزہ رسول خدا (ص) "شقّ القمر” صرف اہل مکہ نے دیکھا؟

 

قرآن مجید میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس معجزہ کے متعلق سورہ قمر کی پہلی آیت ميں بیان ہوا ہے۔ "اقتربت الساعۃ وانشقّ القمر وان یروا ایۃ یعرضوا و یقولوا سحر مستمر”۔

قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا مگر ان لوگو ں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔

اہل مکہ گذشتہ امتوں کی طرح جب کسی معجزہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روبرو ہوتے تو کہتے تھے کہ یہ تو جادو و سحر ہے، ایک دن سرداران قریش نے مل کر پروگرام بنایا۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی آسمانی معجزہ طلب کیا جائے کیونکہ جادو اور سحر آسمان میں کارگر نہيں ہوتا ۔لہذٰا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ اگر تم واقعا اللہ کے رسول ہو تو ہمیں چاند دو ٹکڑوں میں کر کے دکھاؤ ہم سمجھ جائیں گے کہ آپ کے پہلے کام بھی جادو اور سحر نہیں بلکہ معجزے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میں اپنے رب سے چاہوں اور میرا پروردگار اس کو انجام دے دے تو کیا ایمان لے آؤ گے؟ کہنے لگے ہم ایمان لے آئیں گے۔

 

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی اور چاند دو حصوں میں بٹ گیا، سب نے مشاہدہ کیا، ابوجہل نے کہا ہم مطمئن نہیں ہیں کہ یہ سحر و جادو ہے یا معجزہ ہے لہذٰا ہو سکتا ہے یہ بھی تمہارا جادو ہو ہم انتظار کریں گے تاکہ جو لوگ صحرا میں گئے ہوئے ہیں وہ مکہ آئيں اور ہم ان سے سؤال کريں کہ کیا انھوں نے بھی یہ منظر دیکھا ہے۔ جب صحرا نشینوں سے سؤال کیا گیا تو انھوں نے کہا یہ منظر ہم نے بھی دیکھا ہے۔ سورہ قمر کی آیات بتا رہی ہیں کہ چاند میں ایک عظیم شکاف پڑا اور وہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور وہ شکاف اتنا بڑا تھا کہ اسکو آیت الھی کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ بعض محققین کا دعوی ہے کہ یہ معجزہ، قرآن کی طرح آج بھی موجود ہے اگر کسی یہودی سے یا کسی مسیحی سے سؤال کیا جائے، آیا تمہارے پاس تمہا رے پیغمبر کا کوئی معجزہ موجود ہے جس سے تم اپنے دین کی حقانیّت کو ثابت کر سکو ؟ تو جواب دیں گے نہ ہمارے پاس عصا موسٰی ہے کہ ہم تم کو دکھائیں کیسے اژدھا بنتا ہے، اور نہ ہی ہمارے پاس دست عیسٰی ہے کہ ہم تم کو دکھائیں کیسے مردہ کو زندہ کرتا ہے یا کیسے ایک مادر زاد اندھے کو بینا کرتا ہے، لیکن ایک مسلمان آج بھی یہ دعوی کر سکتا ہے آؤ اگر میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ دیکھنا ہے تو ہم تمہيں دکھائیں، قرآن کی صورت میں ہر ملک میں موجود ہے اور آج بھی تم سے اپنا مثل مانگ رہا ہے اور پکار رہا ہے ہمت ہے تو میری آیات جیسی ایک آیت لے آؤ آج بھی دانشمند اور خلا باز کہ جو چاند پر گئے ہیں وہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شق القمر والے معجزے کی تصدیق کرتے ہیں، جیسے ڈاکٹر "ڈیوڈ پیٹ کوک” جو کہ برطانیہ میں اب حزب اسلامی کے رئیس ہیں کہتے ہیں میں سورہ القمر کی پہلی آیات کے وسیلے سے مسلمان ہوا ہوں جو شق القمر کے بارے میں ہے۔

 

اب سؤال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معجزہ صرف اہل مکہ نے دیکھا؟ یا کہ مکہ کے علاوہ اور لوگوں نے بھی دیکھا ؟ ۔۔۔۔۔ کیا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعا چاند کو دو ٹکڑوں میں تقیسم فرمایا؟ یا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مکہ کے اذہان اور آنکھوں میں تصرف فرمایا جس کی وجہ سے ان کو چاند دو حصوں میں بٹا نظر آیا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاند کے وجود خارجی میں تصرف نہیں فرمایا! اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاند کے وجود خارجی میں تصرف فرمایا تھا تو پوری دنیا نے کیوں نہیں دیکھا؟ یا یہ معجزہ عام تھا یا فقط اہل مکہ والوں کیلئے تھا کیوں کہ صرف مکہ والوں نے طلب کیا تھا، دنیا کے دوسرے لوگوں کو تو شاید معلوم بھی نہیں تھا کہ آج چاند کو کیا ہو گیا ہے اور وہ کیوں دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔

 

ان سؤالات کے چند جواب ہو سکتے ہیں؛

1۔ اول یہ معجزہ فقط اہل مکہ نے نہیں بلکہ مکہ کے اطراف میں رہنے والوں صحرا نشینوں نے بھی دیکھا تھا، ابوجہل اور دوسرے مشرکین نے صحرا نشینوں سے اس بات کی تصدیق بھی کی تھی کہ کیا انھوں نے بھی چاند کو دو حصوں میں دیکھا ہے۔

2۔ اس نکتے پر بھی ہماری توجہ ہونی چاہیئے کہ چاند صرف نصف زمین پر دیکھا جا سکتا ہے باقی نصف زمین پر تو رات نہیں بلکہ دن ہوتا ہے، لہذٰا ساری دنیا کیلئے ممکن ہی نہيں ہے۔

3۔ اہل عرب، بیشتر لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے دوسرا انکو دوسری ساری زبانوں سے آشنائی نہیں تھی، تیسرا ہمارے زمانے کی طرح ٹی وی اور ریڈیو نہیں تھے، اگر کوئی عجیب بات عرب سرزمین میں ہوتی تو اس کو ہندوستان تک پہنچتے پہنچتے کئی ماہ لگ جاتے اسی طرح ساری دنیا کا حال تھا، اس کے باوجود شکاورتی نامی ایک شخص نے ہندوستان کے جنوب میں اس معجزے کو دیکھا اور اپنے خاندان والوں کو بھی بتایا جب مسلمان اس علاقہ میں آئے اور انھوں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس معجزے کے متعلق بتایا تو وہ خاندان فورا مسلمان ہو گیا اور تصدیق کی کہ یہ معجزہ تو ہم نے بھی دیکھا ہے مسلمان سچ کہہ رہے ہیں۔ and muhammad is his massangar کتاب کی مصنفہ نے بھی اپنی کتاب میں اس کے متعلق لکھا ہے۔ یہاں تک کہ راجپوتوں کے کسی دربار سے ایسی پینٹینگ ملی ہے جس میں چاند کو دو ٹکڑوں میں پینٹ کیا گیا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کچھ لوگوں نے یہ معجزہ دیکھا اور پھر اس کی عکاسی کی۔

4۔ جب بھی کوئی عجیب واقعہ رونما ہوتا ہے تو سب لوگوں کی توجہ اسکی طرف نہیں ہوتی مگر یہ کہ وہ عجیب واقعہ بہت زیادہ بلند آواز کے ساتھ ہو، یا بہت زیادہ روشنی کے ساتھ ہو، یا یہ کہ اچانک اندھیرا چھا جانے کے ساتھ ہو، یہ معجزہ رات کو رونما ہوا تھا اور رات کو بیشتر لوگ سو رہے ہوتے ہیں لہذٰا متوجہ نہیں ہوئے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کوئی عجیب چیز دیکھتے ہیں اور دوسرں کو بتاتے ہیں لیکن کوئی آپ کا یقین نہیں کرتا اور کہا جاتا ہے یہ آپ کا وہم ہے جبکہ آپ نے حقیقتا وہ چیز دیکھی ہوتی ہے دوسرے لوگ کیوں کہ متوجہ نہیں ہوئے ہوتے لہذٰا آپ کی بات رد کر دی جاتی ہے۔

5۔ اگر واقعا چاند دو حصوں میں تقسیم ہوا تھا تو چاند پر آج بھی اس کا نشان ہونا چاہیئے، اگر آپ میں سے کسی کا کوئی آپریشن ہوا ہے تو آپ کے اس آپریشن کا نشان آپ کے بدن پر کئی سال تک یا شاید ہمیشہ رہتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ چاند اتنی وسعت کے ساتھ دو نیم ہو گیا ہو اور پھر اس پر کوئی نشان نہ رہا ہو ؟

 

🔴 آیا چاند پر کوئی ایسا نشان کوئی زخم موجود ہے؟

 

آپولو 10 نے چاند کی قریب سے فوٹو لی جس میں چاند پر ایک بڑا نشان نظر آیا یہ تصویر 1969ء میں لی گئی پھر آپولو 11 کی مدد سے چاند کی سطح پر اتر کر اس نشان کا مشاہدہ کیا گیا ،یہ نشان 300 کلومیڑ تک لمبا ہے، اگر چھوٹا موٹا ہوتا تو میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بغض رکھنے والے ضرور کو شش کرتے چاند کے اس زخم کا مداوا کرنے کی۔ چاند کا کل قطر 3476 کلو میڑ ہے لیکن یہ دراڑ کا نشان صرف 300 کلومیڑ ہے۔ عربی زبان میں "شق القمر” شق دراڑ کے معنی میں آتا ہے ۔ 1986ء میں ایک فضائی ماہر نے کہ جس کا نام جوزف مورکن تھا اس نشان کے متعلق تحقیق کرنا شروع کی جس کے لئے وہ کیلفورنیا بھی گیا، اس نے اپنی تحقیقات کے نتیجے میں کہا کہ یہ وہی نشان ہے جو محمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چاند کو دو نیم کرنے اور پھر دوبارہ متصل کرنے کی وجہ سے وجود میں آیا تھا لیکن اس تحقیق کے ٹھیک دو ہفتے بعد ہی جوزف اپنی پوری فیملی کے ساتھ اپنے گھر میں مردہ حالت میں پایا گیا ظاہراً اس کے گھر کو آگ لگی تھی، لیکن حقیقت میں کیا ہوا اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہيں، سنا تھا جھوٹ کی سزا ضرور ملتی ہے لیکن کبھی کبھی سچ بولنے کی بھی اس طرح سزا ملتی ہے، اس بیچارہ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا

 

🔴 کیا معجزہٴ”شق القمر“ سائنس کے لحاظ سے ممکن ہے؟

 

ہم سورہ قمرکی پہلی آیت میں پڑھتے ہیں: <اقتربت الساعة و انشقّ القمر> (قیامت آگئی اور چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے)

اس آیہٴ شریفہ میں معجزہٴ شق القمر کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔

مشہور روایات میں کہ جن کے سلسلہ میں بعض لوگوں نے تواتر(1) کا دعویٰ بھی کیا ہے، بیان ہوا ہے کہ مشرکین مکہ پیغمبراکرم (ص) کے پاس آئے اور کہا: اگر آپ سچ کہتے ہیں کہ میں خدا کا رسول ہوں، تو آپ چاند کے دو ٹکڑے کردیجئے! آنحضرت (ص) نے فرمایا: اگر میں اس کام کو کردوں تو کیا تم ایمان لے آؤگے؟ سب نے کہا: ہاں ، ہم ایمان لے آئیں گے، (وہ چودھویں رات کا چاند تھا) اس وقت پیغمبر اکرم نے خدا کی بارگاہ میں دعا کی کہ جو یہ لوگ طلب کررہے ہیں وہ عطا کردے، چنانچہ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ چاند د و ٹکڑے ہوگیا، اس موقع پر رسول اللہ (ص) ایک ایک کو آواز دیتے جاتے تھے اور فرماتے تھے: دیکھو دیکھو!(2) 

اس طرح کے سوالات کا جواب دانشوروں اور نجومیوں کے مطالعات او ران کے انکشافات کے پیش نظر کوئی پیچیدہ نہیں ہے، کیونکہ جدید انکشافات کہتے ہیں: اس طرح کی چیز نہ صرف یہ کہ محال نہیں ہے بلکہ اس طرح کے واقعات بارہا رونما ہوئے ہیں، اگرچہ ہر واقعہ میں مخصوص عوامل کار فرما تھے۔

 

دوسرے الفاظ میں یوں کہیں 

نظام شمسی اور دوسرے آسمانی کرّات میں سے کسی آسمانی کرہ کا اس طرح شق ہوجانا اور پھر مل جانا ایک ممکن امر ہے، نمونے کے طور پر چند چیزیں درج ذیل ہیں:

الف۔ پیدائش نظام شمسی: اس نظریہ کو تقریباً سبھی ماہرین نے مانا ہے کہ نظام شمسی کے تمام کرّات ابتدا میں سورج کے اجزا تھے بعد میں سورج سے الگ ہوئے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں گردش کرنے لگا۔

مسٹر ”لاپلاس“ کا نظریہ یہ ہے کہ کسی چیز کے الگ ہونے کے اس عمل کا سبب مرکز سے گریز کی وہ قوت ہے جو سورج کے منطقہ استوائی میں پائی جاتی ہے وہ اس طرح کہ جس وقت سورج ایک جلانے والی گیس کے ٹکڑے کی شکل میں تھا، (اور اب بھی ویسا ہی ہے) اور اپنے گرد گردش کرتا تھا تو اس کی گردش کی سرعت منطقہ استوائی میں اس بات کا سبب بنی کہ سورج کے کچھ ٹکڑے اس سے الگ ہوجائیں اور فضا میں بکھر جائیں، اور مرکز ِاصلی یعنی خود سورج کے گرد گردش کرنے لگیں۔

 

لیکن لاپلاس کے بعد بعض دانشوروں نے تحقیقات کیں جس کی بنا پر ایک دوسرا فرضیہ پیش کیا کہ اس جدائی کا سبب سورج کے مقابل سمندر میں ہونے والے شدید مدر و جزر (1) ہے جوسورج کی سطح پر ایک بہت بڑے ستارے کے گزرنے کے سبب ایجاد ہوتا ہے۔

 

اس فرضیہ سے اتفاق کرنے والے اس وقت کی سورج کی حرکتِ وصفی کو سورج کے ٹکڑوں کے علیحدہ ہونے کی توجیہ کو کافی نہیں سمجھتے وہ اس مفروضہ کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذکورہ مدّ و جزر نے سورج کی سطح پر بہت بڑی بڑی لہریں اس طرح پیدا کیں جیسے پتھر کا کوئی بہت بڑا ٹکڑا سمندر میں گرے اور اس سے لہریں پیدا ہوں، اس طرح سورج کے ٹکڑے یکے بعد دیگرے باہر نکل کر سورج کے گرد گردش کرنے لگے، بہر حال اس علیحدگی کا سبب کچھ بھی ہو اس پر سب متفق ہیں کہ نظام شمسی کی تخلیق انشقاق کے نتیجہ میں ہوئی ہے۔

ب۔ بڑے شہاب: یہ بڑے بڑے آسمانی پتھرہیں جو نظام شمسی کے گرد گردش کررہے ہیں اور جو کبھی کبھی چھوٹے کرّات اور سیاروں سے مشابہت رکھنے والے قرار دئے جاتے ہیں، بڑے اس وجہ سے کہ ان کا قطر ۲۵ کلو میٹر ہوتا ہے لیکن وہ عموماً چھوٹے ہوتے ہیں، ماہرین کا نظریہ ہے کہ ”استروئید ہا“ (بڑے شہاب) ایک عظیم سیارے کے بقیہ جات ہیں جو مشتری اور مریخ کے درمیان مدار میں حرکت کررہا تھا اور اس کے بعد نامعلوم اسباب کی بنا پر وہ پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا، اب تک پانچ ہزار سے زیادہ اس طرح کے شہاب کے ٹکڑے معلوم کئے جاچکے ہیں اور ان میں سے جو بڑے ہیں ان کے نام بھی رکھے جاچکے ہیں، بلکہ اان کا حجم، مقدار اور سورج کے گرد ان کی گردش کا حساب بھی لگایا جاچکا ہے، بعض ماہرین فضا ان استروئیدوں کی خاص اہمیت کے قائل ہیں، ان کا 

 

(۳)مدر و جزر : دریا کے پانی میں ہونے والی تبدیلی کو کہا جاتا ہے ، شب وروز میں دریاکا پانی ایک مرتبہ گھٹتا ہے اس کو ” جزر“ کہا جاتاہے اور ایک مرتبہ بڑھتا ہے جس کو ”مد“ کہا جاتاہے ، اور پانی میں یہ تبدیلی سورج اور چاندکی قوہٴ جاذبہ کی وجہ سے ہوتی ہے(مترجم) 

 

نظریہ ہے کہ فضا کے د ور دراز حصوں کے جانب سفر کرنے کے لئے اولین قدم کے عنوان سے ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

 

آسمانی کرات کے انشقاق کا ایک دوسرانمونہ شہاب ثاقب ،یہ چھوٹے چھوٹے آسمانی پتھر ہیں جو کبھی کبھی چھوٹی انگلی کے برابر ہوتے ہیں، بہر حال وہ سورج کے گرد ایک خاص مدار میں بڑی تیزی کے ساتھ گردش کررہے ہیں، اور جب کبھی ان کا راستہ مدارِزمین کو کاٹ کر نکلتا ہے تووہ زمین کا رخ اختیار کرلیتے ہیں۔

یہ چھوٹے پتھر اس ہوا سے شدت کے ساتھ ٹکرانے کی وجہ سے کہ جو زمین کا احاطہ کئے ہوئے ہے او رتھرتھراہٹ پیدا کرنے والی اس تیزی کی وجہ سے کہ جو ان کے اندر ہے زیادہ گرم ہوکر اس طرح بھڑک اٹھتے ہیں کہ ان میں سے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ہم انھیں ایک پرنور اور خوبصورت لکیر کی شکل میں آسمانی فضا میں دیکھتے ہیں اور انھیں ”شہاب کے تیر“ کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور کبھی یہ خیال کرتے ہیں کہ ایک دور دراز کا ستارہ ہے جو گررہا ہے حالانکہ وہ چھوٹا شہاب ہے کہ جو بہت ہی قریبی فاصلہ پر بھڑک کر خاک ہوجاتا ہے۔

 

شہابوں کی گردش کا مدار زمین کے مدار سے دو نقطوں پر ملتا ہے اسی بنا پر ستمبر اور اکتو بر میں جو دو مداروں کے نقطہ تقاطع ہیں شہاب ثاقب زیادہ نظر آتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دمدار ستارے کے باقی حصے ہیں جو نا معلوم حوادث کی بنا پر پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ہیں۔

آسمانی کرات کے پھٹنے کا ایک اور نمونہ بہر حال آسمانی کرّات کا انشقاق یعنی پھٹنا اور پھٹ کر بکھر نا کوئی بے بنیاد بات نہیں ہے اور جدید علوم کی نظر میں یہ کوئی محال کام نہیں ہے کہ یہ کہا جائے کہ معجزہ کا تعلق امر محال کے ساتھ نہیں ہوا کرتا، یہ سب باتیں انشقاق یعنی پھٹنے کے سلسلہ کی ہیں، دو ٹکڑوں میں قوت جاذبہ ہوتی ہے اس بنا پر اس انشقاق کی بازگشت ناممکن نہیں ہے۔

اگرچہ ہیئت قدیم میں بطلیموس کے نظریہ کے مطابق نو آسمان پیاز کے تہہ بہ تہہ چھلکوں کی طرح ہیں اور گھومتے رہتے ہیں اور اس طرح یہ نو آسمان ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں جن کا ٹوٹنا اور جڑنا ایک جماعت کی نظر میں امر محال تھا، اس لئے اس نظریہ کے حامل افراد معراج آسمانی کے بھی منکر تھے اور ”شق القمر“ کے بھی، لیکن اب جبکہ ہیئت بطلیموسی کا مفروضہ خیالی افسانوں اور کہانیوں کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور نو آسمانوں کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا تو اب ان باتوں کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی۔

 

یہ نکتہ کسی یاد دہانی کا محتاج نہیں ہے کہ ”شق القمر“ ایک عام طبیعی عامل کے زیر اثر رونما نہیں ہوا بلکہ اعجاز نمائی کا نتیجہ تھا، لیکن چونکہ اعجاز، محال عقلی سے تعلق نہیں رکھتا ،لہٰذا یہاں اس مقصد کے امکان کو بیان کرنا تھا۔ (غور کیجئے )

 

(1) علم حدیث میں ”حدیث تواتر“ اس حدیث کو کہا جاتا ہے جس کے راویوں کی تعداد اس حد تک ہو کہ ان کے ایک ساتھ جمع ہوکر سازش کرنے کا قابلِ اعتماد احتمال نہ ہو (مترجم)

 

(2) ”مجمع البیان “اور دیگر تفاسیر ، مذکورہ آیت کے ذیل میں یہاں پر ممکن ہے اس طرح کے سوالات کئے جائیں کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اتنا عظیم کرہ (چاند) دو ٹکڑے ہوجائے، پھر اس عظیم واقعہ کا کرہ زمین اور نظام شمسیپر کیا اثر ہوگا؟ اور چاند کے دو ٹکڑے ہونے کے بعد کس طرح آپس میں مل گئے، اور کس طرح ممکن ہے کہ اتنا بڑا واقعہ رونما ہو جائے لیکن تاریخ بشریت اس کو نقل نہ کرے؟!